جو جگہ مجھ سے چھینی گئی تھی، وہ میری رہی
صبا نے رسیپشن کے پیچھے جھک کر گرے ہوئے رجسٹر کو ایک ہاتھ سے سنبھالا اور دوسرے ہاتھ سے پانی کا گلاس پکڑ کر بوڑھی خالہ کی طرف بڑھایا ہی تھا کہ حارث نے دروازے سے اندر آتے ہوئے کہا، “یہ ٹرے بھی اٹھالو، اور سامنے والی پلاسٹک کرسی خالی کر دو۔ مہمان بیٹھیں گے۔”
گلاس خالہ کے ہاتھ تک پہنچا، رجسٹر سیدھا میز پر آیا، اور صبا نے ٹھنڈی ہو چکی اپنے کھانے کی ڈبیہ ایک طرف سرکا دی۔ صبح سے وہ اسی سروس سیکٹر ٹریننگ آفس میں داخلہ فارم، فیس رسیدیں اور فون کالیں سنبھال رہی تھی؛ فریحہ باجی نے خود کہا تھا کہ آج شام کی کونسلنگ میں ہاتھ تنگ ہے۔ مگر حارث نے ایسے ہاتھ سے اشارہ کیا جیسے وہ گھر کی ملازمہ ہو، شریکِ کام نہیں۔ باہر کراچی کی نمی سے شیشے دھندلا رہے تھے، اندر ایئر کولر کی کچی ہوا میں کاغذی لفافوں کی خشک سرسراہٹ تیر رہی تھی۔
“میں رسیپشن نہیں چھوڑ سکتی،” صبا نے نگاہ اٹھائے بغیر کہا، “چھ بجے والے والدین کے فارم ابھی درج نہیں ہوئے۔”
حارث قریب آیا، مہنگی گھڑی کی چمک اس کے آستین سے نکلی۔ “دو منٹ کا کام ہے۔ اور ویسے بھی، آج گھر والے بھی آ رہے ہیں۔ ہر کسی کو ہر جگہ نہیں بٹھایا جاتا۔ سمجھا کرو۔”
یہ آخری جملہ دھیمے لہجے میں تھا، مگر زہر اسی میں تھا۔ خالہ نے پانی پیتے ہوئے نظر چرا لی۔ صبا نے ٹرے اٹھا کر دروازے کے پاس رکھی، مگر اپنی کرسی نہیں چھوڑی۔ رسیپشن میز کے کونے پر چھوٹا سا سفید کارڈ پڑا تھا: “صبا — داخلہ ڈیسک”۔ اس نے اسے انگلی سے سیدھا کیا اور رجسٹر اپنی طرف کھینچ لیا۔ حارث کے چہرے پر ایک پل کے لیے ناگواری آئی، پھر وہ ہنکارا بھر کر باہر چلا گیا۔ اتنا سا تھا، مگر پہلا وار خالی نہیں گیا: کم از کم اس کا نام ابھی اپنی جگہ پر تھا۔
مغرب کے بعد آفس اور اوپر والے گھر کا فرق کم ہو جاتا تھا۔ نیچے تربیتی کمرہ، سامنے رسیپشن، پچھلے دروازے سے تنگ سیڑھی جو فریحہ باجی کے گھر تک جاتی تھی۔ یہی ملا جلا انتظام تھا جس میں رشتہ بھی چلتا تھا اور کاروبار بھی۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا کہ صبا یہاں جز وقتی کام کرتی ہے، اور یہ بھی کہ حمزہ—فریحہ باجی کا چھوٹا بھائی—اسی ادارے کے حسابات اور نصاب دونوں دیکھتا ہے۔ اسی لیے ہر نظر سیدھی بات نہیں کرتی تھی، آدھی بات جگہوں سے سمجھائی جاتی تھی۔
سات بجے جب دو عورتیں اور ایک لڑکا نئے بیچ کے بارے میں پوچھنے آئے، صبا نے ان کے لیے بروشر نکالے۔ اسی وقت حارث اپنی ماں کے ساتھ اندر آیا۔ اس کی ماں نے ایک نظر صبا پر ڈالی، پھر میز کے سامنے پڑی دو کرسیوں میں سے ایک پر ہاتھ رکھ دیا۔ “یہ والی ندا کے لیے رکھو،” انہوں نے کہا، “وہ بھی آ رہی ہے۔ اس کو یہاں بیٹھنا ہوگا، سامنے۔”
صبا نے سر اٹھایا۔ سامنے والی کرسی کے پچھلے پائے پر ٹیپ سے چپکا چھوٹا سا کاغذ تھا، جو اکثر دن بھر کی ڈیوٹی میں صرف اسی کے لیے رہتا: “داخلہ”۔ اس نے کئی بار خود چپکایا تھا کیونکہ لوگ اٹھا لے جاتے تھے۔ حارث نے جھک کر وہ پٹی کھینچی، مروڑی، اور کچرے کی ٹوکری میں ڈال دی۔ “ندا زیادہ بہتر لگے گی یہاں،” اس نے ہلکی مسکراہٹ سے کہا، “پریزنٹ ایبل بھی ہے، اور گھر کی بھی۔”
وہ لمحہ اتنا چھوٹا تھا کہ کسی نے شور نہیں کیا، مگر صبا کے اندر کچھ اپنی جگہ سے ہٹ گیا۔ خالی کرسی اب صرف کرسی نہیں رہی تھی۔ اس نے آہستہ سے کہا، “میری نشست بدلنی ہے تو فریحہ باجی بتائیں گی۔”
“ارے نشست کیا، کام تو وہی رہے گا نا،” حارث نے رجسٹر اس کی طرف دھکیلا، “پیچھے بیٹھ کر اندراج کر لو۔ سامنے بس اچھا تاثر چاہیے۔”
پیچھے یعنی اسٹور کے ساتھ والا تنگ کونا، جہاں پلاسٹک کی ٹوٹی کرسی رکھی تھی اور پنکھا آدھا گھومتا تھا۔ صبا نے رجسٹر پر ہاتھ رکھا، پھر آہستہ سے بند کر دیا۔ “نہیں۔”
حارث نے سمجھا شاید وہ ضد دکھا رہی ہے۔ “صبا، مسئلہ نہ بناؤ۔ خالہ جان اوپر بیٹھی ہیں، ماموں بھی آنے والے ہیں۔”
“میں مسئلہ نہیں بنا رہی،” اس نے اپنی چابیوں کا چھوٹا حلقہ، جو رسیپشن دراز کی ایک نقل چابی تھی، نکال کر میز پر رکھا۔ “آپ نے میری جگہ ختم کی ہے۔ اب اندراج بھی آپ کر لیں۔”
اس نے اپنی ٹھنڈی ڈبیہ، موبائل اور دو قلم اٹھائے۔ خالہ کے ہونٹ ذرا کھلے رہ گئے۔ حارث کا چہرہ ایک دم سخت ہوا۔ “ڈرامہ مت کرو۔”
صبا نے پہلی بار سیدھی آنکھوں میں دیکھا۔ “ڈرامہ وہ ہوتا ہے جب کام کسی اور سے کروا کے نام کسی اور کا سامنے رکھا جائے۔ میں پیچھے نہیں بیٹھوں گی۔” پھر وہ مڑی اور باہر نکل گئی۔ دروازے کی گھنٹی ہلکی سی بجی، بس اتنا۔
باہر سڑک پر موٹر بائیکوں کی بھنبھناہٹ، چٹ پٹی چاٹ والے کے تیل کی بو، اور بس اسٹاپ کے پاس جمع لوگوں کا شور تھا۔ صبا نے دیوار کے ساتھ کھڑے ہو کر سانس برابر کی۔ اس کے ہاتھ میں چابی کا خالی حلقہ نہیں تھا؛ وہ میز پر چھوڑ آئی تھی۔ یہی اس کی صاف حد تھی۔ پانچ منٹ بھی نہیں گزرے تھے کہ اندر سے فون آیا۔ اس نے نہیں اٹھایا۔ پھر فریحہ باجی کا پیغام آیا: “کہاں گئی ہو؟” صبا نے ایک سطر لکھی: “میری نشست اگر پیچھے ہے تو میرا کام بھی پیچھے ہی رہے گا۔ آج نہیں۔”
اوپر والے گھر میں اس رات کھانے کی میز پر بھی بات اسی دفتر کی رہی ہوگی، صبا سوچ سکتی تھی۔ ایسے گھروں میں روٹی کے ساتھ فیصلے بھی توڑے جاتے ہیں۔ مگر وہ واپس نہیں گئی۔ اس نے بس پکڑی، کھڑکی کے ساتھ بیٹھی، اور ڈبیہ کھولی تو سالن کی اوپر والی تہہ جم چکی تھی۔ دو نوالے کھا کر بند کر دی۔ دل میں غصہ تھا، مگر غصے سے زیادہ ایک عجیب سی خالی جگہ: جیسے کسی نے نام پکارے بغیر صف سے باہر کر دیا ہو۔
اگلے دن فریحہ باجی نے خود فون کیا۔ “آج آ جاؤ۔ بس بچوں کا تعارفی سیشن ہے۔ حارث بھی ہوگا، مگر تم اپنے کام سے کام رکھنا۔”
صبا نے صرف اتنا پوچھا، “میری نشست؟”
فون کے دوسرے سرے پر لمحہ بھر خاموشی رہی۔ “دیکھو، آج رشتے والے بھی آ رہے ہیں۔ ذرا نرمی—”
“پھر نہیں آ سکتی۔”
اس نے فون رکھ دیا۔ اس مختصر انکار کے بعد دن لمبا ہو گیا، مگر شام زیادہ نہیں لگی۔ ساڑھے چھ بجے حمزہ کا فون آیا۔ اس کا لہجہ ہمیشہ سیدھا رہتا تھا، مگر آج کھردرا تھا۔ “چار والدین کھڑے ہیں، فارم غلط بھرے گئے ہیں، اور ندا کو آدھا نصاب معلوم ہی نہیں۔ میں تمہیں بلانے کے لیے نہیں کہہ رہا۔ بس پوچھ رہا ہوں: کل کے بیچ کی فیس فائل کس فولڈر میں ہے؟”
صبا نے فولڈر بتایا۔ پھر خاموشی۔ دوسری طرف کچھ آوازیں آئیں—بچے کے رونے کی، کسی کے تیز قدموں کی، کاغذ الٹنے کی۔ حمزہ نے آہستہ کہا، “اور داخلہ والا سبز رجسٹر؟”
“اوپر سے تیسرے خانے میں۔ بائیں طرف۔” صبا نے جواب دیا۔
“ٹھیک۔” وہ رکا۔ “تم نہ آنا اگر تمہیں پیچھے بٹھانا ہے۔”
یہ کسی وعدے کی طرح نہیں کہا گیا، بس حقیقت کی طرح۔ صبا نے کچھ نہیں کہا، مگر فون بند ہونے کے بعد اس کی انگلیاں دیر تک ساکت رہیں۔
اسی رات آٹھ بجے فریحہ باجی نے خود دروازہ کھولا تو صبا اوپر والے گھر نہیں، نیچے آفس کے بیرونی حصے میں کھڑی تھی۔ وہ کام مانگنے نہیں آئی تھی؛ حارث نے اس کی کتابیں اور دو دوپٹے وہیں رہنے دیے تھے، جو پچھلے کمرے کے ہک پر لٹکے تھے۔ “صرف اپنا سامان لینے آئی ہوں،” اس نے کہا۔
فریحہ باجی کے ماتھے پر پسینہ تھا، دوپٹے کا پلّو بار بار پھسل رہا تھا۔ “اندر آ جاؤ۔”
“اگر میری جگہ وہی ہے تو نہیں۔”
نیچے سے ایک عورت کی کھنچی ہوئی آواز آئی، “بھئی کوئی ہے؟ ہمیں فارم جمع کروانا تھا، یہ لڑکی کچھ بتا نہیں رہی۔” ساتھ ہی ندا کی گھبرائی ہوئی آواز، “ایک منٹ، آنٹی…”
صبا سیڑھی کے موڑ سے ہی دیکھ سکتی تھی: ندا رسیپشن کے سامنے کھڑی تھی، مگر اس کی انگلیاں رجسٹر کے صفحے ادھر ادھر الٹ رہی تھیں؛ غلط قطار میں نام درج، رسید نمبر خالی، اور سامنے والے باپ کے چہرے پر چڑچڑاہٹ۔ حارث ایک طرف فون کان سے لگائے کھڑا تھا اور بار بار ندا کو سرگوشی میں بتا رہا تھا، مگر جتنی دیر وہ بتاتا، اتنی دیر میں اگلا سوال آ جاتا۔ کمرے کے اندر پلاسٹک کرسیوں کی ایک قطار بھر چکی تھی؛ دو مائیں بچوں کے سر سہلا رہی تھیں، ایک لڑکا بار بار گھڑی دیکھ رہا تھا۔
حمزہ پچھلے کمرے سے نکلا، ہاتھ میں فیس فائل تھی، مگر غلط۔ عورت نے وہی وقت پکڑا۔ “کل آپ لوگوں نے کہا تھا نشستیں محدود ہیں، آج یہاں کوئی حساب ہی نہیں۔ کس پر بھروسہ کریں ہم؟”
ندا نے گھبرا کر حارث کی طرف دیکھا۔ حارث آگے آیا، “بس چھوٹا سا ابہام ہے—”
“ابہام نہیں، بدانتظامی ہے،” عورت نے رسید کی خالی نقل دکھائی۔
حمزہ کی نظر اسی وقت سیڑھی کے موڑ پر کھڑی صبا پر جا لگی۔ وہ ایک لمحہ رکا، پھر واپس رسیپشن میز کی طرف آیا۔ حارث نے جھنجھلا کر کہا، “اسے بلاؤ نا اندر۔ دو منٹ بیٹھ جائے، بعد میں—”
“بعد میں کیا؟” صبا نے اوپر سے ہی کہا۔ آواز بلند نہیں تھی، مگر صاف تھی۔ “پیچھے بیٹھ جائے؟ نام ہٹا دو، کام کروا لو؟ نہیں۔”
نیچے سب نے سنا، مگر کسی نے تبصرہ نہیں کیا۔ یہ وہ قسم کی شرمندگی تھی جسے لوگ آنکھیں جھکا کر سن لیتے ہیں۔ حارث کی گردن سرخ ہوئی۔ “یہ وقت نہیں ہے—”
“ہاں، یہی وقت ہے،” صبا نے جواب دیا۔ “کیونکہ اسی وقت میری جگہ ہٹائی گئی تھی۔”
حمزہ نے نہ اس سے معافی مانگی، نہ حارث کو ڈانٹا۔ وہ سیدھا رسیپشن کے پاس گیا، ندا کے سامنے پڑی کرسی ایک طرف کی، اور دراز کھول کر اندر سے سفید کارڈ نکالا۔ اس پر نیلی سیاہی سے پہلے ہی لکھا تھا: “صبا — داخلہ ڈیسک”۔ شاید وہ کل رات ہی کسی نے اندر رکھ دیا تھا، یا صبح سے وہیں پڑا تھا؛ مگر لکھا ہوا تھا، صاف، سیدھا۔ حمزہ نے کارڈ میز کے سامنے والی جگہ پر رکھا، پھر سبز رجسٹر وہیں لا کر رکھ دیا۔
حارث نے فوراً دبے غصے میں کہا، “ماموں ناراض ہوں گے۔ ندا کو یہاں بٹھانا تھا۔”
حمزہ نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا، “تو ناراض ہو جائیں۔ اندراج کی میز وہی سنبھالے گا جسے اس کا حساب آتا ہے۔” پھر اس نے صبا کی طرف سر اٹھایا۔ “اگر آؤ گی، تو یہیں بیٹھو گی۔ پیچھے نہیں۔”
یہ دعوت نہیں تھی، نہ منّت۔ صرف ایک دروازہ اپنی اصل چوڑائی پر کھول دینا تھا۔
صبا سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی۔ اس نے ندا کی طرف نہیں دیکھا، نہ حارث کی طرف۔ پہلے میز کے پاس پہنچی، اپنی رہ گئی چابیوں کا حلقہ دراز میں دیکھا—وہیں تھا۔ اس نے اٹھایا، پھر بیٹھنے سے پہلے اسی عورت سے رسید لی جس کا لہجہ سب سے تیز تھا۔ “آپ کا نام؟” اس نے پوچھا۔
عورت نے قدرے تھمی ہوئی آواز میں بتایا۔ صبا نے خالی نمبر پُر کیے، غلط قطار کاٹ کر صحیح اندراج کیا، بچے کے کورس کا نام درست کیا۔ دو منٹ میں لائن سیدھی چلنے لگی۔ پلاسٹک کرسیوں پر بیٹھے لوگ اب کھنکار کر جگہ بدل رہے تھے، بےصبری سے نہیں، انتظار کے ڈھنگ سے۔ حارث کچھ کہہ نہ سکا؛ اس کے ہاتھ میں فون تھا، مگر اب اس کی حیثیت صرف فون پکڑنے والے آدمی کی رہ گئی تھی۔ ندا آہستہ سے پیچھے ہٹ گئی۔
فریحہ باجی سیڑھی کے پاس آ کر رک گئیں۔ ان کے چہرے پر راحت بھی تھی اور خطرے کا حساب بھی۔ یہی اس گھر اور اس کاروبار کا اصل رنگ تھا: ایک شخص کو جگہ دینا، دوسرے کئی لوگوں کو ناگوار گزر سکتا تھا۔ مگر میز پر کارڈ بدلا نہیں گیا۔
کام کی روانی واپس آ گئی تو حمزہ نے چپچاپ پانی کی بوتل اس کے دائیں ہاتھ کے پاس رکھ دی۔ صبا نے اوپر دیکھے بغیر کہا، “میں صرف اسی میز پر کام کروں گی۔ جب چاہو صاف کہہ دینا اگر یہ پھر بدلنی ہے۔”
“نہیں بدلے گی،” حمزہ نے اتنا ہی کہا۔
وہ دو لفظ آہستہ تھے، مگر اس کمرے میں پہلی بار کسی نے اس کی موجودگی کو شرط نہیں، قاعدہ بنایا تھا۔ صبا نے سر ہلایا، قلم اٹھایا، اور اگلا فارم کھول لیا۔ کوئی اعلان نہیں ہوا، کوئی سمجھوتہ نہیں بولا گیا۔ بس اندراج کی میز پھر اسی کی رفتار سے چلنے لگی۔
رات زیادہ ہو گئی تھی جب آخری والدین چلے گئے۔ ندا جا چکی تھی، حارث اوپر ماموں کے پاس بلا لیا گیا تھا، اور نیچے آفس میں صرف پنکھے کی مسلسل گھرر تھی۔ صبا نے اپنی ڈبیہ، جو صبح سے پھر نہ کھلی تھی، بیگ میں ڈالی۔ پھر پچھلے کمرے میں گئی جہاں دیوار پر ہکس کی ایک قطار لگی تھی۔ ہر ہک کے اوپر چھوٹے نامی ٹیگ تھے، کچھ نئے، کچھ کناروں سے اکھڑے ہوئے۔
ایک ہک خالی تھا مگر اس پر پرانی نیلی سیاہی کے رگڑ کے نشان کے ساتھ لکھا تھا: “صبا”۔ کسی نے اسے اتارا نہیں تھا۔ اس کے نیچے اس کا ہلکا سا دوپٹے کا دھاگا ابھی تک اٹکا ہوا تھا۔ صبا نے اپنا بیگ کندھے پر درست کیا، چابیوں کا حلقہ اسی نام والے ہک پر ٹانگ دیا، اور ہک پر لگا “صبا” کا گھسا ہوا نشان ویسے ہی نمایاں رہ گیا۔