سب نے مجھے باہر رکھا، پھر؟
ویٹر نے گرم چائے کی ٹرے صائمہ کے ہاتھ میں تھمائی اور مومنہ بھابھی نے اسی لمحے بلند آواز میں کہا، “یہ ادھر نہیں، سروس لین کی طرف لے جاؤ، سامنے والی قطار میں جگہ مت گھیرنا۔” ڈراپ آف لین میں گاڑیوں کے دروازے دھڑادھڑ کھل رہے تھے، دلہن والوں کے رشتے دار پھولوں کی لڑیوں کے نیچے استقبال پا رہے تھے، اور صائمہ اپنی ہتھیلی میں دبی آدھی مڑی ہوئی رسید محسوس کر رہی تھی؛ وہی رسید جس پر دو دن پہلے ہال کے باقی ماندہ پیسے جمع کرا کے آئی تھی، اپنے مہینے بھر کے سروس سیکٹر والے اوورٹائم سے بچائے ہوئے نوٹوں سے۔ اسے اس دروازے پر نام سے بلایا جانا تھا، ٹرے اٹھوا کر نہیں۔
اس نے ٹرے سنبھالی، کندھے سیدھے کیے، اور سروس لین کی طرف مڑنے کے بجائے وہیں استقبالی قطار کے کنارے، ایک سفید پلاسٹک کرسی کے کونے کے پاس رک گئی جہاں ہمیشہ کم رتبے والے لوگ کھڑے چھوڑ دیے جاتے تھے۔ مومنہ بھابھی کا چہرہ فوراً سخت ہوا۔ “سمجھ نہیں آ رہی؟ مہمان آ رہے ہیں۔ بعد میں اندر آ جانا۔” بعد میں۔ جیسے وہ کوئی ڈلیوری لڑکی ہو، جیسے چھ مہینے سے گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والا رشتہ محض گلی کے نکڑ کی افواہ رہا ہو، جیسے حمزہ کی ہر جلدی، ہر وعدہ، ہر چھپا ہوا سہارا صرف صائمہ نے گھڑ لیا ہو۔
سامنے ایک سیاہ گاڑی رکی تو مومنہ بھابھی دوڑ کر پھولوں کی تھالی لے گئیں۔ صائمہ کے ہاتھ میں چائے کی پیالیاں بجیں۔ ایک خالہ نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا، پھر دوسرے کان میں سرگوشی کی، “لگتا ہے ہال والوں میں سے ہے۔” صائمہ نے ٹرے اتنی مضبوطی سے تھامی کہ کلائی کی رگ ابھر آئی۔ پہلی دراڑ تب پڑی جب دروازے پر کھڑا یاسر، جو اندر باہر کی قطار سنبھال رہا تھا، مومنہ سے آہستہ بولا، “بھابھی، یہ تو حمزہ بھائی کے ساتھ—” مومنہ نے اسے کاٹ دیا، “تم اپنا کام کرو۔ جو رشتہ اعلان کے بغیر ہو، وہ رشتہ نہیں ہوتا۔”
صائمہ نے چائے کی ٹرے قریب کھڑے ویٹر کو واپس نہیں دی۔ اس نے ایک قدم آگے رکھا اور صاف آواز میں پوچھا، “تو اعلان کون کرے گا، بھابھی؟ آپ؟” آواز زیادہ بلند نہیں تھی، مگر اتنی سیدھی تھی کہ آس پاس کھڑے تین آدمی ایک ساتھ مڑے۔ مومنہ بھابھی کے ہاتھ کی پھولوں والی تھالی ہلکی سی جھکی۔ صائمہ نے دوسرا جملہ اور بھی ہموار لہجے میں رکھا، “اگر مجھے سامنے کھڑے ہونے کا حق نہیں، تو یہ حکم آپ کو کس نے دیا؟ نام لے کر بتا دیں، میں خود ہٹ جاتی ہوں۔”
یہ سوال گالی نہیں تھا، اسی لیے زیادہ کاٹا۔ مومنہ بھابھی نے فوراً حمزہ کا نام لینا چاہا، مگر حمزہ وہاں تھا نہیں۔ خالہ رشیدہ، جو اب تک محض تماشا دیکھ رہی تھیں، ذرا نزدیک آئیں۔ “ہاں مومنہ، اگر بچی کو ہٹا رہی ہو تو کسی کے کہنے پر ہی ہٹا رہی ہوگی نا؟” دو ڈرائیوروں نے گاڑی کے دروازے بند کرتے ہوئے آدھا ہاتھ روک لیا۔ دروازے پر کھڑا یاسر سیدھا ہو گیا۔ مومنہ بھابھی نے ہونٹ بھینچے، “میں گھر کی بڑی بہو ہوں، مجھے پتہ ہے کس کو کہاں کھڑا کرنا ہے۔” جواب آیا، مگر نام نہیں آیا۔ بس یہی کافی تھا کہ مجمع کی پہلی پکی رائے ذرا ڈھیلی پڑ جائے۔
اگلی گاڑیوں کا سلسلہ ایک دم تھما جب سفید لینڈ کروزر آ کر عین قالین کے سرے پر رکی۔ ڈرائیور نے فوراً دروازہ نہیں کھولا؛ پہلے اندر سے کسی نے خود ہینڈل دھکیلا۔ حمزہ نکلا نہیں، تقریباً باہر آیا۔ ماتھے پر سفر کی گرد، بازو پر کُرتے کی شکنیں، جیسے دن بھر بھاگتے بھاگتے سیدھا یہاں پہنچا ہو۔ اس کی نظر پھولوں، تھالیوں، مہمانوں پر نہیں رکی۔ پہلے صائمہ پر گئی، پھر اس کے ہاتھ کی چائے کی ٹرے پر، پھر مومنہ بھابھی کے چہرے پر۔ یہی ترتیب سب نے دیکھی۔
مومنہ بھابھی نے فوراً مسکراہٹ اوڑھی۔ “لو آ گئے، ہم تو بس—” حمزہ نے اس کی بات کے اندر بات کی، “صائمہ کو ٹرے کس نے دی؟” یہ سوال بھی چیخ نہیں تھا، مگر اس میں وہ بےعزتی تھی جو حکم چھین لیتی ہے۔ یاسر نے نظریں جھکا لیں۔ مومنہ بھابھی نے ایک ہلکی ہنسی سے بات نرم کرنا چاہی، “ہال میں رش ہے، میں نے سوچا ابھی سامنے—” حمزہ اس کی طرف بڑھے بھی نہیں۔ وہ سیدھا صائمہ تک آیا اور استقبالی دروازے کے بیچ کھڑے ہو کر بولا، “پہلے انہیں وصول کیا جائے گا۔ باقی سب بعد میں۔”
بس اتنا نہیں ہوا۔ اس نے اپنے کندھے پر ڈلا شیروانی کا دوپٹہ درست کیا، پھر کھلے دروازے کی سمت آدھا مڑ کر بلند آواز میں کہا، “امّی کو خبر کر دو، میں صائمہ کے ساتھ اندر آ رہا ہوں۔ اور نکاح کے بعد کی بیٹھک میں میری جگہ کے ساتھ ان کی جگہ لگے گی۔” لفظ “ان کی” نے فضا کا رنگ بدلا۔ دلہن والوں کے دو رشتے دار، جو ابھی تک پھولوں کی لڑی کے نیچے پہلے آنے کے انتظار میں تھے، خود ایک قدم پیچھے ہٹ گئے۔ مومنہ بھابھی کے چہرے سے وہ مصروف بڑی بہو والی روانی اتر گئی؛ اب وہ صرف ایک عورت تھی جس کا دیا ہوا حکم سب کے سامنے الٹ چکا تھا۔
حمزہ نے صائمہ کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا۔ شاید وہ جانتا تھا، اب سہارا دینے کی نہیں، جگہ نامزد کرنے کی گھڑی تھی۔ اس نے فقط کہا، “صائمہ، آؤ۔” یہی وہ لمحہ تھا جہاں اکثر لڑکیاں نرم پڑ جاتی ہیں، آہستہ سے اندر چلی جاتی ہیں، بعد کی بات بعد میں رہنے دیتی ہیں۔ صائمہ نے نہیں کیا۔ اس نے ٹرے ایک ہاتھ میں زیادہ مضبوطی سے تھامی، دوسرے ہاتھ سے اپنی کلائی پر پڑی پرانی لینیارڈ سیدھی کی، جو آج بھی اس کے دفتر کے کارڈ سے خالی تھی مگر روزمرہ کی محنت کی طرح گھس چکی تھی، پھر ایک قدم آگے بڑھ کر عین استقبالی قالین کے سرے پر کھڑی ہو گئی۔
مومنہ بھابھی نے آخری وار کیا۔ “یہ شادی کا دروازہ ہے، کوئی ضد لگانے کی جگہ نہیں۔ عورت خود اپنا نام نہیں لگاتی، بڑوں سے لگوایا جاتا ہے۔” ان کی آواز اب اونچی تھی، کیونکہ اختیار نیچے آتے ہی لوگ حجم بڑھا لیتے ہیں۔ خالہ رشیدہ نے “ہائے ہائے” جیسا منہ بنایا، کچھ جوان لڑکیاں موبائل ذرا نیچے کر کے کھڑی ہو گئیں۔ سارے جسم سامنے تھے، مگر فیصلہ ایک جملے کا تھا۔
صائمہ نے مومنہ بھابھی کو نہیں، دروازے کو دیکھا؛ وہی دروازہ جس کے اندر اس نے پیسے دیے تھے، میزوں کی ترتیب دیکھی تھی، مہندی کے پھول سستے نہ لگیں اس لیے بحث کی تھی، اور پھر اسی دروازے پر اسے باہر کھڑا کر دیا گیا تھا۔ پھر اس نے رخ سیدھا حمزہ کی طرف موڑا اور اتنی صاف آواز میں کہا کہ گیٹ کے دونوں طرف سنائی دے، “میں بعد میں یا چھپ کر اندر نہیں جاؤں گی۔ اگر میں آپ کی منتخب کردہ ہوں تو میرے ساتھ نام لے کر چلیں۔ ابھی۔ سب کے سامنے۔” جملے کے آخر میں التجا نہیں تھی؛ وہ مطالبہ بھی نہیں تھا، فیصلہ تھا جس میں واپسی کی جگہ نہیں رکھی گئی۔
حمزہ نے ایک لمحہ بھی نہیں لیا۔ وہ صائمہ کے برابر آ کر کھڑا ہوا، مجمع کی طرف رخ کیا، اور کہا، “سن لیں سب۔ یہ صائمہ ہیں۔ میری منگیتر۔ آج کے بعد ان کے بارے میں کسی کو الگ سے بتانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔” اس نے یاسر کی طرف دیکھے بغیر حکم دیا، “سامنے والی نشستیں ادھر درست کرو۔ اور جو بھی استقبال کرے گا، ان کے ساتھ کرے گا۔”
ضرب وہیں نہیں رکی۔ مومنہ بھابھی نے آگے بڑھ کر کچھ کہنا چاہا، مگر خالہ رشیدہ نے پہلی بار انہیں روکا، “اب بس کرو۔ جب لڑکے نے نام لے دیا تو تم کس بات کی دیوار بنی ہوئی ہو؟” یہ خالہ رشیدہ کی مہربانی نہیں تھی؛ وہ صرف ہوا کا رخ پہچان گئی تھیں۔ لیکن یہی سب سے تلخ انصاف ہوتا ہے، جب لوگ سچ کے ساتھ نہیں، جیت کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ دو ویٹر، جو ابھی تک صائمہ کو پچھلے راستے دھکیلنے کے اشارے پا رہے تھے، فوراً سامنے کے گلدستے اٹھا کر راستہ بنانے لگے۔ یاسر نے جلدی سے پلاسٹک کرسی ایک طرف کھسکائی۔ مومنہ بھابھی کے ہاتھ کی پھولوں والی تھالی ٹیڑھی ہوئی، ایک گلاب زمین پر گرا اور گاڑی کے ٹائر کے پاس کچلا گیا۔
صائمہ نے وہیں اپنی جگہ بند کی۔ اس نے چائے کی ٹرے قریب آئے ویٹر کے حوالے نہیں کی۔ اس نے حمزہ کی طرف دیکھ کر کہا، “اعلان ہو گیا۔ اب میری جگہ کوئی اور طے نہیں کرے گا۔” پھر مومنہ بھابھی کی طرف پلٹ کر ایک مختصر، کاٹ دار نظر ڈالی۔ “اور آئندہ مجھے سروس لین سے اندر بھیجنے سے پہلے اپنا نام نہیں، میرا سن لیا کیجیے۔” یہ جملہ نہ چیخ تھا نہ لمبی ذلت کا بدلہ؛ بس اتنا کہ مقابلہ کرنے والی کے پاس رد کی کوئی صاف صورت نہ بچے۔
حمزہ نے دروازہ کھلا چھوڑ دیا اور ایک طرف ہٹ کر اسے راستہ دیا۔ یہی سب سے بڑا پلٹاؤ تھا: جسے ابھی تک کنارے پر دھکیلا جا رہا تھا، اب اس کے گزرنے کے لیے صاحبِ اختیار خود ہٹ رہا تھا۔ صائمہ نے قالین کے سرے پر پہلا قدم رکھا تو سامنے والے دو رشتے دار خود پیچھے ہو گئے۔ مومنہ بھابھی نے دوبارہ بولنے کی کوشش کی، مگر آواز اس وقت نکلی جب کوئی سننے کو باقی نہیں تھا۔
صائمہ اندرونی راہداری سے نہیں، اسی کنارے سے مڑی جہاں سروس لین ہال کے پچھلے حصے کو جا کر لگتی تھی۔ ایک لڑکے نے گھبرا کر پوچھا، “باجی، ٹرے میں دے دوں؟” اس نے سر ہلا دیا، “رہنے دو، میں لے جاؤں گی۔” موڑ پر پہنچتے ہی پچھلا دروازہ اب بھی کھلا تھا، اندر سے روشنی ایک لمبی پٹی کی طرح باہر گر رہی تھی۔ سامنے سے آتے لوگ، جو کچھ دیر پہلے اسے دیوار کے ساتھ چپکانا چاہتے تھے، خود کٹ کر راستہ دے گئے۔ اس کے ہاتھوں میں سروس ٹرے سیدھی ہو گئی، سروس لین کے موڑ پر پیالیوں کی کھنکھناہٹ ایک ایک کر کے بیٹھ گئی، اور کپ بالکل خاموش ہو گئے۔