Fast Fiction

سسٹم میرے بغیر چلا ہی نہیں

جیسے ہی تیسری گرم دیگچی والی ٹرالی لوڈنگ بے کے دروازے پر اٹکی، ماہرہ نے ہاتھ اٹھا کر کہا، “پہلے بے نمبر دو کھولو، یہ والی باہر نہیں مڑے گی،” مگر کامران نے اس کی طرف دیکھے بغیر ریڈیو کان سے لگا کر چیخا، “سب ایک لائن میں رکھو، میں بتا رہا ہوں کس گاڑی کو کیا جائے گا۔” نتیجہ یہ نکلا کہ دو ڈرائیور الٹے رستے پر آمنے سامنے پھنس گئے، بھاپ چھوڑتی ٹرے رک گئیں، اور بیک لین میں سالن، دھواں اور پسینے کی بو ایک ساتھ جم گئی۔

ماہرہ کو آج بھی وہی کنارے کی میز ملی تھی جہاں بیٹھنے کا مطلب تھا حساب لکھو، مگر حکم نہ دو۔ زندہ پاس، وہ پلاسٹک کا زرد کارڈ جس کے بغیر لوڈنگ بے کا شٹر اور اخراجی اندراج نہیں کھلتا تھا، کامران کے گلے میں لٹک رہا تھا۔ تین دن پہلے تک یہی پاس ماہرہ کے پاس رہتا تھا۔ پھر خالہ روبینہ نے، جو مالک کے گھر کی طرف سے ہر شادی والے ہفتے “نگرانی” کو آ بیٹھتی تھیں، سب کے سامنے کہا تھا، “لڑکی اچھی ہے، مگر سامنے کے کام میں مرد کی آواز بھاری لگتی ہے۔ اور ویسے بھی گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہو تو آدمی احتیاط کرتا ہے۔” اس احتیاط کا مطلب یہ نکلا تھا کہ ماہرہ کو سیٹ سے اٹھا دیا گیا، کامران کو بٹھا دیا گیا۔

دروازے کے پاس آدھا کھلا فریم تھا جہاں سے ثمن، اکاؤنٹس والی، بار بار جھانک رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ماہرہ کا ٹھنڈا پڑا ہوا کھانے کا ڈبہ تھا، صبح سے بند۔ شفقت، پرانا ڈرائیور، اپنی چابی انگلی میں گھماتے ہوئے بولا، “باجی، اگر بے دو نہ کھلا تو شاہراہ پر گاڑی پیچھے نہیں لے جا سکوں گا۔” ماہرہ نے سیدھا جواب دیا، “میں کہہ چکی ہوں۔” پھر اس نے خود بڑھ کر ٹرالی کا اگلا پہیہ اینٹ سے اڑایا، راستہ آدھا خالی کیا اور شٹر کے نیچے سے اندر جھک کر چلاّئی، “دہی بڑے والی پیٹی باہر نکالو، ورنہ گرمی میں پھٹ جائے گی۔” کامران نے اسے کاٹتے ہوئے کہا، “آپ سائیڈ پر رہیں، میں دیکھ رہا ہوں۔”

وہ “میں دیکھ رہا ہوں” زیادہ دیر نہ چلا۔ اس نے غلط بے کھول دی۔ خشک برتنوں والی خالی گاڑی پہلے چھوڑ دی گئی، جبکہ بریانی، قورمہ اور میٹھے کی ٹرالیاں اندر دبتی رہیں۔ نتیجے میں باہر کی خالی گاڑی لوڈنگ ریمپ پر آ کر ترچھی کھڑی ہو گئی، پیچھے والی مزدا نے ہارن پر ہارن دیا، اور اندر سے دو لڑکے جلتی ٹرے ہاتھوں میں لئے رک گئے۔ ایک کی کلائی پر چھینٹے پڑے تو وہ سسکارا۔ خالہ روبینہ نے یہ منظر دیکھ لیا۔ ان کے ساتھ ہال کی دلہن کی پھوپھی بھی کھڑی تھی، چمکتی ساڑھی میں، اور وہ سیدھا یہی دیکھ رہی تھی کہ کس کے ہاتھ میں نظام ہے۔

کامران نے فوراً غصہ نیچے کی طرف پھینکا۔ “تم لوگ سیکھتے کیوں نہیں؟” اس نے لڑکوں پر دھاڑا، حالانکہ غلط حکم اسی کا تھا۔ پھر ماہرہ کی طرف مڑ کر ایسا بولا جیسے احسان کر رہا ہو، “کاغذ چیک کر دو بس۔ بولنے کی ضرورت نہیں۔” ماہرہ نے رسیدی رجسٹر اس کی طرف دھکیلا نہیں۔ الٹا اپنی طرف کھینچا اور صفحہ کھول کر انگلی رکھ دی۔ “یہ گاڑی کورنگی جا رہی ہے۔ تم نے ناظم آباد والی پہلے چھوڑ دی۔ اب وہاں کھانا آدھا گھنٹہ پہلے پہنچے گا، یہاں دولہا سٹیج پر آ جائے گا اور سالن اندر ہوگا۔”

ریڈیو میں ایک ساتھ تین آوازیں پھٹیں۔ “بے تین بند ہے؟” “ڈرائیور کھڑا ہے، پرچی کہاں ہے؟” “قورمہ کس گاڑی میں جا رہا ہے؟” کامران نے ایک جواب دیا، دو چھوڑ دیے۔ وہ پاس گلے سے کھینچتا، ریڈیو ایک ہاتھ سے دوسرے میں بدلتا، مگر اس کے فیصلے ہر لمحے دیر سے پہنچ رہے تھے۔ ماہرہ نے دیکھا کہ پچھلی دیوار کے ساتھ برف والے دو کریٹ پگھلنے لگے ہیں۔ اگر پانچ منٹ اور لگے تو میٹھے کی ٹرے بیٹھ جائیں گی۔

شفقت نے اب آواز نیچی نہیں رکھی۔ “کامران بھائی، پرچی آپ نے خود غلط کاٹی ہے۔ میں گاڑی کہاں لگاوں؟” باہر دوسرا ڈرائیور موٹر سائیکل والوں سے الجھ رہا تھا۔ اندر ایک چھوٹا ملازم روتے روتے بولا، “ہاتھ جل گیا ہے، راستہ دو۔” اور اسی بیچ خالہ روبینہ نے ایسی آواز میں کہا جو صرف ایک آدمی کو نہیں، پورے ماحول کو ذلیل کرتی ہے، “شادی کا کام ہے، محلے کی دیگ نہیں۔”

کامران کے چہرے پر پہلی بار وہ دراڑ آئی جو آدمی کے ماتھے سے نہیں، اختیار سے پڑتی ہے۔ اس نے شٹر کا بٹن دبایا، غلط طرف والا۔ دروازہ آدھا نیچے آیا اور ریمپ پر پھنسی خالی گاڑی کا کونہ اس میں اٹک گیا۔ دھات چیخی۔ اندر موجود سب ہاتھ ایک لمحے کو رکے، پھر شور دوگنا ہو گیا۔ ماہرہ سیدھی اس بٹن باکس تک پہنچی اور اس کا ہاتھ ہٹا دیا۔ “بس۔” اس ایک لفظ میں نہ چیخ تھی نہ درخواست۔

کامران نے پہلے ریڈیو سینے سے چپکایا، جیسے چیز بچانے سے عزت بچ جائے گی۔ پھر باہر سے ایک اور ہارن لمبا بجا۔ دلہن کے ہال سے فون آیا؛ ثمن نے سکرین کی روشنی ہتھیلی میں چھپا کر کہا، “اوپر سے پوچھ رہے ہیں میٹھا کیوں نہیں نکلا۔” اس کے بعد جو ہوا وہ سب نے دیکھا۔ شفقت نے آگے بڑھ کر کہا، “اگر ابھی نہ دیا تو میں گاڑی چھوڑ کر جا رہا ہوں۔” پیچھے سے لڑکے نے جلتا کپڑا پانی کے ٹب میں پھینکا۔ خالہ روبینہ دروازے کے چوکھٹ میں آ کر رک گئیں۔ کامران نے ماہرہ کی طرف دیکھا، ایک لمحہ اور سہارنا چاہا، پھر زرد پاس اپنے گلے سے جھٹکے سے نکالا۔ پلاسٹک کی ڈوری اس کی کالر میں اٹکی، اس نے کھینچ کر چھڑائی، ریڈیو اس کے ساتھ ماہرہ کے ہاتھ میں ٹھونس دیا۔ “لو پھر۔ چلا لو۔”

ماہرہ نے چیزیں پکڑ لیں، مگر فوراً حکم نہ دیا۔ پہلے اس نے پاس اپنی کلائی پر لپیٹا، پھر بٹن باکس کے سامنے والی سیٹ پر بیٹھ گئی، وہی سیٹ جس سے اسے ہٹایا گیا تھا۔ سیٹ کی پشت ابھی تک کامران کی گرمی سے نیم گرم تھی۔ اس نے رجسٹر اپنی طرف کھینچا، ایک پرچی پھاڑی، دوسری پلٹی، اور ریڈیو میں صاف آواز میں کہا، “بے دو کھلے گا۔ خالی گاڑی پہلے ہٹاؤ، بریانی والی ٹرالی ریمپ کے بائیں۔ شفقت، تم کورنگی۔ عمران، ناظم آباد روکو۔ میٹھا ابھی اسی گاڑی میں جائے گا۔”

فرق فوراً پڑا۔ شٹر اس بار پورا اوپر گیا۔ دو لڑکے جنہیں ابھی ڈانٹ پڑی تھی، سیدھے ماہرہ کی آواز پر مڑے۔ اس نے خود ریمپ کے کنارے کی لکڑی کھینچ کر سیدھی لگائی، پھر دہی بڑے کی پیٹی غلط لائن سے نکال کر درست گاڑی کی طرف دھکیلی۔ “وہ نیلا کریٹ نہیں، سرخ۔ اس میں فالودہ ہے۔” ایک ڈرائیور نے بغیر سوال کئے گاڑی دو فٹ پیچھے لی۔ اندر کی جامد بھاپ چلنے لگی۔ ٹرالیاں ایک ایک کر کے مڑنے لگیں۔ خالہ روبینہ نے کچھ کہنا چاہا، مگر اسی وقت دلہن کی پھوپھی نے اپنی ساڑھی سمیٹی اور راستے سے خود ہٹ گئیں۔ جو لوگ ابھی تک کامران کی طرف دیکھ کر حکم لیتے تھے، اب آنکھ گھما کر ماہرہ کی انگلی کے اشارے پر حرکت کر رہے تھے۔

کامران وہیں کھڑا رہا، نہ مکمل باہر، نہ اندر۔ اس نے ایک بار کہا، “میں ڈرائیورز سنبھال لیتا ہوں۔” ماہرہ نے سر اٹھائے بغیر جواب دیا، “جو کہا جائے، وہی کرو۔ بے تین کے سامنے سے کریٹس ہٹواؤ۔” یہ پہلا حکم تھا جو اس نے براہِ راست کامران کو دیا۔ شفقت نے چابی پکڑتے پکڑتے نظر اٹھا کر دیکھا، پھر خاموشی سے گاڑی آگے بڑھا دی۔ سماجی فاصلے کے کئی برس کبھی کبھی ایک جملے میں الٹتے ہیں۔

پانچ منٹ میں پہلی دو گاڑیاں نکل گئیں۔ چھٹی ٹرالی کے ساتھ مسئلہ آیا؛ قورمے کی دیگچی والی پلٹ پٹی ٹوٹی ہوئی تھی۔ ماہرہ نے فوراً متبادل لکڑی منگوائی، وزن تقسیم کرایا، پھر بے ایک بند کر کے بے دو سے مسلسل اخراج شروع کر دیا تاکہ اندر جمع چیزیں باہر بہہ جائیں۔ اب بیک لین میں شور تھا، مگر بے ترتیبی نہیں۔ ہر حرکت کسی اگلے حکم سے جڑی تھی۔ اور یہی وہ جگہ تھی جہاں کامران کی اصل کمی کھل گئی: اسے سامان کا راستہ معلوم نہ تھا، صرف اپنی آواز کی عادت تھی۔

تب آخری دھچکا آیا۔ سب سے بڑی گاڑی، جس میں دلہا والوں کے مرکزی ہال کا پورا گرم کھانا جانا تھا، ریمپ پر آ کر رک گئی۔ سامنے دوسری طرف سے برف والا رکشا گھس آیا تھا، پیچھے دو خالی ٹرالیاں ترچھی رہ گئی تھیں، اور گاڑی کا پچھلا دروازہ شٹر کے فریم میں پھنس گیا۔ اگر یہ گاڑی نہ نکلتی تو اوپر ہال میں بیٹھے چار سو مہمانوں کے سامنے دسترخوان کھلنے میں تاخیر ہوتی۔ فون ایک ساتھ بجنے لگے۔ ریڈیو چیخا۔ اندر سے کسی نے کہا، “اب کچھ نہیں ہو سکتا، پہلے والی واپس ہٹواؤ!”

کامران نے موقع دیکھا کہ شاید پاس ہاتھ سے نکل جائے۔ وہ فوراً بولا، “ماہرہ، مجھے دو، میں خود کراتا ہوں۔ ڈرائیور میری بات مانتے ہیں۔” اس نے ہاتھ بڑھایا بھی۔ زرد پاس ابھی ماہرہ کی کلائی پر لپٹا ہوا تھا۔ اس نے ہاتھ پیچھے کر لیا۔ “نہیں۔” ایک لفظ، اس بار اور ٹھنڈا۔ “جب تک آخری اخراج نہیں نکلتا، پاس نہیں جائے گا۔”

وہ سیٹ سے اٹھی نہیں؛ سیٹ اس نے اپنے قبضے کی طرح تھامی رکھی۔ ریڈیو منہ کے پاس لا کر بولی، “سب سنو۔ بے ایک مکمل بند۔ برف والا رکشا پیچھے۔ شفقت، اپنی گاڑی آدھا فٹ دائیں، پھر سیدھا نہیں، کٹ دے کر نکالو۔ کامران، ریمپ خالی کراو۔ بات کم، ہاتھ زیادہ۔” اس نے خود بٹن دبایا، شٹر دو انچ اوپر چڑھایا، اتنا کہ پچھلا دروازہ رگڑ کھا کر آزاد ہو سکے۔ پھر دو لڑکوں کو اشارہ کیا، “یہ خالی ٹرالیاں دیوار سے چپکاؤ، ابھی۔”

کامران نے پہلا مزاحمتی قدم یہی لیا کہ برف والے کو سامنے سے ہٹانے کے بجائے اس پر چیخنے لگا۔ برف والا بھی ضدی نکلا۔ رستہ پھر رکا۔ ماہرہ نے ریڈیو بند کیا، سیدھی چل کر ریمپ کے کنارے پہنچی، اور بغیر کامران کی طرف دیکھے برف والے سے کہا، “چچا، آپ کے پیسے ابھی ثمن لکھ دے گی، مگر گاڑی ابھی پیچھے جائے گی۔ دو منٹ۔” پھر اس نے ثمن کو دیکھا۔ “پرچی بناو۔” ثمن نے وہیں دروازے کے چوکھٹ پر رجسٹر رکھا اور لکھنا شروع کر دیا۔ برف والا ایک لمحہ ہچکچا کر پیچھے ہوا۔ کامران کے منہ سے آدھا جملہ نکلا، پورا نہ ہوا۔

اب اصل جَماؤ صرف مرکزی ٹرک کا تھا۔ شفقت نے اسٹیرنگ موڑا، مگر زاویہ کم پڑا۔ گاڑی پھر اٹکی۔ گرم دیگچی اندر سے سرکی اور دھات سے ٹکرائی۔ ایک ڈھکن لڑھک کر ریمپ پر آیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب اگر فیصلہ دگمگاتا تو سب کچھ سامنے گر جاتا۔ ماہرہ نے ایک قدم آگے بڑھ کر خود پچھلے فریم پر ہاتھ رکھا، آنکھ سے فاصلہ ناپا، پھر تیزی سے پاس بٹن کے سامنے آ کر شٹر مزید ایک انچ اٹھایا۔ “اب۔ دائیں۔ بس اتنا۔” شفقت نے اسی لمحے کٹ مارا۔ پہیہ ریمپ کے کونے سے نکلا، پچھلا دروازہ فریم سے چھوٹا، اور پوری گاڑی ایک جھٹکے سے آزاد ہوئی۔

مگر ابھی آخری رکاوٹ باقی تھی: اخراجی اندراج اور حتمی اجازت۔ بغیر اس زرد پاس کے اسکین کے دروازہ پوری طرح خارج نہیں مانا جاتا تھا، اور خالہ روبینہ نے فوراً کہا، “پاس واپس کرو۔ اب نکل گئی نا گاڑی۔” ان کی آواز میں وہی پرانی ملکیت تھی، جیسے ابھی سب کچھ صرف ایک عارضی رعایت ہو۔ ماہرہ نے ان کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ اس نے رجسٹر اپنی طرف کیا، اخراجی سطر پر وقت لکھا، پاس بٹن پر رکھا، سبز چراغ جلایا، اور ریڈیو میں صاف، کٹی ہوئی آواز بھیجی، “مرکزی گاڑی جاری۔ آخری اخراج میری اجازت سے۔ گیٹ کھولو۔”

شٹر پورا اٹھا۔ مرکزی گاڑی ریمپ سے نکل کر بیک لین کی بند سانس چیرتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔ اس کے پہیوں کے ساتھ جمع پانی کی پتلی لکیر دونوں طرف چھٹکی۔ خالی ٹرالیاں جو ابھی تک بے کار زاویوں میں پھنسی تھیں، اب خود بخود راستہ دینے لگیں کیونکہ سب کو معلوم ہو گیا تھا کس آواز پر مڑنا ہے۔ کامران ایک طرف رہ گیا، اس کے ہاتھ خالی، اور اس کے منہ پر وہ عجیب سا ٹھہرا ہوا رنگ آ گیا جو آدمی کو تب آتا ہے جب اسے پہلی بار پتہ چلتا ہے کہ اس کی جگہ اصل میں کسی اور کے ہاتھ کی حرکت میں تھی۔

مرکزی گاڑی کے جاتے ہی ماہرہ واپس سیٹ پر نہ گری، جیسے تھک کر مالک مل جائے۔ وہ سیدھی بیٹھی رہی، پاس کلائی پر، ریڈیو ہاتھ میں۔ اس نے بے تین کے لئے دو مختصر حکم دیے، پھر پچھلی کراس لین کی طرف مڑی جہاں چھوٹی ٹرالیاں اب برابر فاصلے سے گزر رہی تھیں۔ آدھے کھلے دروازے کے پاس اس کا ٹھنڈا کھانے کا ڈبہ اب بھی پڑا تھا، مگر اس نے اسے نہیں اٹھایا۔ اس نے صرف ریڈیو کو ہونٹوں کے قریب لا کر آخری بار بٹن دبایا۔ “کراس لین صاف رکھو۔ اگلا اخراج میرے اشارے پر۔” کلک ہوئی، پھر بیک اسٹیج کراس لین میں چلتی ٹرالی کے پہیوں کے ساتھ ریڈیو کی کھڑکھڑاہٹ دھیرے دھیرے صاف ہو کر بجھ گئی۔