Fast Fiction

مجھ پر ڈال کر پھر مجھے ہی پکارا

زویہ نے کاؤنٹر پر کھلی رپورٹ فائل سے غلط رسید کھینچ کر واپس درست خانے میں رکھی ہی تھی کہ حارث نے اس کی کلائی کے پاس ہاتھ لا کر فائل بند کر دی۔ “تم ہر چیز میں ہاتھ ڈال دیتی ہو۔” اس نے دھیمی مگر کاٹتی ہوئی آواز میں کہا، جیسے غلطی سسٹم کی نہیں، زویہ کی حیثیت کی ہو۔ سامنے دو والدین اپنی بیٹی کے داخلے کا نمبر پوچھ رہے تھے، پچھلے شیشے میں لفٹ کے دھندلے آئینے پر انگلیوں کے پرانے نشان جھلملا رہے تھے، اور زویہ کا ٹھنڈا ہو چکا کھانے کا ڈبہ رجسٹر کے نیچے دھرا تھا۔ ایک لمحہ دیر ہوتی تو شام کی پوری فہرست الٹ جاتی۔ زویہ نے کچھ کہے بغیر فائل دوبارہ کھولی، رسید سیدھی کی، اور داخلے کی پرچی والدہ کی طرف سرکا دی۔ “آپ کا بیچ کل سے نہیں، آج سے لگا ہے۔ کمرہ تین، اوپر۔” والدہ نے شکر گزاری سے پرچی تھامی تو فریحہ باجی، جو اندر حساب کے کاغذات ملا رہی تھیں، ایک نظر اٹھا کر بولیں، “اچھا ہوا تم نے پکڑ لیا، ورنہ دوبارہ اندراج بنتا۔” یہ اتنا ہی تھا، مگر کاؤنٹر پر فائل ایک لمحے کے لیے زویہ کی طرف ہی رہ گئی۔ پہلی بار نہیں، پھر بھی یہی معمولی سا ٹھہراؤ اس کے حق میں آیا ہوا واحد حصہ تھا۔

یہ کراچی کے گلشن والے اس نجی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کی شام تھی جہاں اوپر کلاسیں چلتی تھیں اور نیچے سروس سیکٹر کے شارٹ کورسز، داخلے، فیس کی قسطیں، شکایات، سب ایک ہی ڈیسک سے نمٹتے تھے۔ زویہ دن میں اپنی کلاس کرتی، شام کو فریحہ باجی کے کہنے پر کاغذ سنبھالتی، قطار توڑنے والوں کو روکتی، اور وہ چھوٹی خرابیاں پکڑتی رہتی جن سے پورا بہاؤ بگڑتا ہے۔ حارث یہاں نئے نہیں تھا، مگر آج کل اپنے آپ کو زیادہ سامنے رکھتا تھا، کیونکہ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ سطح کی وہ منگنی کی بات چل رہی تھی جسے ابھی رسمی نام نہیں ملا تھا، اور اسی آدھے رشتے نے اسے پورا اختیار دے دیا تھا۔ وہ جب بھی زویہ کو دیکھتا، لہجہ ایسا رکھتا جیسے اسے یہاں جگہ اسی کے اشارے سے ملی ہو۔

مغرب کے بعد رش بڑھا تو اس نے سامنے کی کرسی دانش کو دے دی اور زویہ سے کہا، “تم پچھلے کمرے میں جا کر بقایا رقوم ملاؤ۔ اور ہاں، خالہ شمیم آئیں تو پانی بھی تم ہی دینا۔” زویہ نے کرسی کی طرف دیکھا۔ دانش ابھی پچھلے ہفتے آیا تھا، نام لکھنا بھی آہستہ آہستہ سیکھ رہا تھا۔ “بقایا کی فہرست کون بند کرے گا؟” زویہ نے سیدھا پوچھا۔ “ہم کر لیں گے۔ تم بس جو کہا ہے وہ کرو۔ ہر وقت سامنے بیٹھنا ضروری نہیں ہوتا۔” سامنے والے دروازے کے پاس واقعی خالہ شمیم کھڑی تھیں، حارث کی ماموں زاد، وہی جن کی زبان پر ہر رشتے کی قیمت رکھی رہتی تھی۔ انہوں نے زویہ کو اوپر سے نیچے تک دیکھا، پھر پوچھا، “یہی لڑکی ہے؟” حارث نے ہنسی میں کہا، “ہاں، کام سیکھ رہی ہے ابھی۔”

کام سیکھ رہی ہے۔ یہ وہ جملہ تھا جو ہر اضافی بوجھ کے ساتھ زویہ کے حصے آتا تھا۔ بقایا رقوم ملانا، وہ ناراض والدین جنہیں غلطی کسی اور کی ہو تو بھی سمجھانا اسی نے ہوتا، اور پھر دروازے پر خالہ شمیم کی موجودگی میں ٹرے اٹھانا بھی۔ زویہ نے رجسٹر کے پاس رکھی دیر سے لوٹائی گئی چابی اٹھا کر پچھلے کمرے کی میز پر رکھی۔ “یہ اوپر والے سٹور کی چابی تھی، دو گھنٹے بعد ملی ہے۔” حارث نے دیکھا بھی نہیں۔ “رکھ دو کہیں۔” “کہیں” زویہ نے کبھی نہیں رکھا تھا۔ اس نے چابی دیوار والے کیل پر ٹانگی، پھر بقایا کی فائل اٹھا لی۔ دروازے سے گزرتے ہوئے خالہ شمیم ایک انچ ہٹی بھی نہیں تھیں؛ زویہ کو اپنا بازو سمیٹ کر تنگ جگہ سے نکلنا پڑا۔ پیچھے سے ان کی آواز آئی، “گھر میں بھی ایسی ہی جلدی میں پھرتی ہے کیا؟”

پچھلا کمرہ تنگ تھا، ایک پنکھا چیختا ہوا چل رہا تھا، اور کھڑکی کے نیچے پرانی فیس رسیدوں کا ڈھیر رکھا تھا۔ زویہ نے دو کالم سیدھے کیے، تین طلبہ کے نام ملائے، پھر باہر کے شور میں وہ ٹھہرا ہوا وقفہ سنائی دیا جو تب آتا ہے جب سامنے بیٹھا شخص جواب نہ دے پائے۔ پہلے ایک والد کی سخت آواز، پھر دوسری عورت کا جملہ، “ہم نے آن لائن جمع کرائی تھی، ریکارڈ میں کیوں نہیں؟” اس کے بعد دانش کی دبی ہوئی ہکلاہٹ، “وہ… ابھی… دیکھتے ہیں…” فریحہ باجی کا کرسی کھسکانے کا شور آیا۔ “حارث، فائل کہاں ہے؟” “میرے پاس تھی—” “تھی؟”

زویہ فائل اٹھائے بغیر باہر آئی۔ کاؤنٹر کے سامنے پانچ آدمی ہو چکے تھے، ایک لڑکی رونے کے قریب تھی، دانش نے غلط رجسٹر کھول رکھا تھا، اور حارث کی انگلیاں بے معنی صفحے پلٹ رہی تھیں۔ فریحہ باجی نے ایک نظر زویہ کو دیکھا، پھر بغیر کسی نرمی کے رجسٹر دانش کے ہاتھ سے نکال کر زویہ کی طرف بڑھا دیا۔ “یہ لو۔ سامنے بیٹھو۔ ابھی۔” حارث نے فوراً کہا، “ایک منٹ، میں کر رہا ہوں۔” “تم کر رہے ہوتے تو قطار نہ رکی ہوتی۔” فریحہ باجی نے رپورٹ فائل بھی اٹھا کر کاؤنٹر پر زویہ کے سامنے رکھ دی۔ زویہ نے کرسی کھینچی، بیٹھتے ہی لڑکی سے رسید لی، اوپر لگی فہرست میں بیچ کوڈ ڈھونڈا، پھر والد سے کہا، “آپ نے فیس صحیح جمع کرائی ہے۔ اندراج دوبارہ نہیں ہو گا۔ صرف غلط بیچ کھلا ہے۔ دو منٹ دیں۔” اس کے ہاتھ چلنے لگے تو قطار کے لوگوں کی گردنوں کا تناؤ ڈھیلا ہوا۔ دانش کنارے ہٹ گیا۔ حارث وہیں کھڑا رہا، مگر اب اس کے پاس بولنے کا مقام نہیں، صرف سایہ تھا۔

دس منٹ میں دو شکایات بند ہوئیں، ایک قسط کی پرچی کٹی، اور ایک غلط نام درست ہوا۔ زویہ نے آخری والدین کو اوپر بھیجا تو فریحہ باجی نے آہستہ سے کہا، “فائل یہی رہنے دو۔” یہ حکم کم، تسلیم زیادہ تھا۔ مگر حارث نے اسی وقت جھک کر دھیمی آواز میں کہا، “بات بڑھانے کی ضرورت نہیں۔ خالہ بھی بیٹھی ہیں۔ تم بعد میں گھر پر—” زویہ نے اس کی طرف دیکھے بغیر قلم بند کیا۔ “گھر پر کیا؟” “جو بھی تاثر بنا ہے، اسے سیدھا کر لیں گے۔ تم سامنے رہو، مگر نام میرا رہے۔ ابھی ماحول اچھا نہیں۔” یہ وہ نرم پڑنا تھا جو صرف اپنی آبرو بچانے کے لیے آتا ہے۔ زویہ نے رجسٹر بند نہیں کیا۔ “میں کام کر دوں، اور غلطی یا رشتہ دونوں تمہارے نام کے نیچے چلے جائیں؟ نہیں۔ جو فائل سنبھالے گا، وہی سامنے بیٹھے گا۔” حارث نے ہونٹ بھیچے۔ “تم ہر چیز کو ضد بنا دیتی ہو۔” “میں صرف وہی اٹھاتی ہوں جو میرے ہاتھ میں دیا جائے۔ جھوٹ نہیں اٹھاؤں گی۔”

بات وہیں ختم نہیں ہوئی، بس شکل بدل گئی۔ اوپر کی کلاسیں ختم ہونے لگیں، بچوں کے جوتوں کی آوازیں سیڑھیوں سے اترنے لگیں، اور خالہ شمیم چائے کا کپ تھامے کاؤنٹر کے پاس ایسی جگہ آن بیٹھیں جہاں سے ہر آتا جاتا انہیں دیکھے۔ وہ کسی سے بھی آہستہ بات نہیں کرتی تھیں۔ “دیکھو بھئی، رشتہ اپنی جگہ، کام اپنی جگہ۔ مگر لڑکی کو حد میں رہنا چاہیے۔” فریحہ باجی نے ان کی طرف دیکھ کر صرف اتنا کہا، “یہاں حد وہ ہے جس سے کاغذ درست نکلیں۔” خالہ شمیم کے چہرے پر ناپسندیدگی کا رنگ آیا، مگر اسی لمحے بیرونی دروازہ زور سے کھلا۔ بارش شروع ہو چکی تھی، اور تین لوگ ایک ساتھ اندر آئے: ایک عمر رسیدہ آدمی، اس کے ساتھ دو نوجوان، سب کے ہاتھ میں ادائیگی کی سلپس اور غصہ۔ انہوں نے بتایا کہ کل کے انٹرویو لسٹ میں ان کے نام غائب ہیں حالانکہ فیس جمع ہے۔ یہی وہ فہرست تھی جو آج کی رات بند ہونا ضروری تھی۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں اگر غلطی رہ جاتی تو اگلے دن پورا ادارہ ان کے سروں پر ہوتا۔

حارث فوراً آگے بڑھا، جیسے اختیار واپس لینے کا یہی وقت ہو۔ “دیں، میں دیکھتا ہوں۔” اس نے زویہ کے سامنے سے فائل کھینچنے کی کوشش کی۔ زویہ نے ہاتھ فائل پر رکھے رکھا۔ “یہ فہرست ابھی میں بند کر رہی ہوں۔” “تمہیں اندازہ ہے کون لوگ ہیں؟” اس نے دانتوں کے بیچ سے کہا۔ “ہاں۔ وہ لوگ جن کے نام تمہاری بند کی ہوئی فائل سے غائب ہیں۔” دونوں نوجوانوں میں سے ایک نے میز پر رسید پٹخی۔ “بھائی، ہمیں بس نام چاہیے۔ کل صبح دوبارہ نہیں آ سکتے۔” دانش گھبرا کر پیچھے ہوا۔ فریحہ باجی اٹھ کھڑی ہوئیں، لیکن اس بار انہوں نے مداخلت نہیں کی۔ کمرہ اتنا چھوٹا ہو گیا کہ ہر سانس سنائی دے رہی تھی۔

حارث نے فائل چھوڑنے کے بجائے آواز نیچی کی، “زویہ، اب ڈرامہ مت کرو۔ خالہ سامنے ہیں۔” یہی اس کی اصل گھبراہٹ تھی: غلطی نہیں، منظر۔ زویہ نے آہستہ سے فائل اپنی طرف کھینچی، رسیدیں کھولیں، اور ایک ہاتھ سے رجسٹر دانش کی طرف دھکیلا نہیں بلکہ اپنے دائیں جانب جما لیا۔ “تم ایک طرف ہو جاؤ۔” “میں انچارج ہوں۔” “تو پھر جواب دو، ان کے تینوں رسید نمبر کہاں درج ہیں؟” حارث چپ۔ اس نے صفحہ پلٹا، پھر دوسرا، پھر غلط سال کی شیٹ نکال لی۔ نوجوان نے کڑک کر کہا، “اگر نہیں آتا تو جسے آتا ہے، اسے کرنے دیں۔” یہ جملہ کمرے میں کسی اعلان کی طرح نہیں، کسی حساب کی طرح گرا۔ فریحہ باجی نے کاؤنٹر کی بتی کے پاس پڑا چھوٹا مہر خانہ اٹھا کر زویہ کے سامنے رکھ دیا۔ “نام یہی بند کرے گی۔”

پھر رفتار بدل گئی۔ زویہ نے رسید نمبر ملائے، پچھلے ہفتے کی ادائیگیوں کا الگ پلندہ نکالا، وہاں سے وہ پتلا صفحہ کھینچا جس پر حارث نے غلطی سے دو نام اگلے بیچ میں ڈال دیے تھے۔ بوڑھے آدمی کے ماتھے کی شکن ذرا ڈھیلی ہوئی۔ “ہاں، یہ ہماری ہی رسید ہے۔” “آپ کے نام شامل ہو جائیں گے۔ صبح انٹرویو میں آئیں، گیٹ پر مسئلہ نہیں ہو گا۔” زویہ نے مہر لگائی، فہرست میں اندراج کیا، پھر دانش سے کہا، “اوپر والوں کو فون کرو، نئی لسٹ ابھی بھیجنی ہے۔” دانش نے پہلی بار بنا ہکلاہٹ کے “جی” کہا۔ حارث اب بھی وہیں تھا، مگر اس کے ہاتھ بےکار تھے۔ وہ کبھی خالہ شمیم کی طرف دیکھتا، کبھی فریحہ باجی کی طرف، جیسے کسی سے اپنی کرسی واپس مانگنا چاہتا ہو۔ خالہ شمیم نے کپ نیچے رکھا اور نظریں چرا لیں۔

قطار کم ہوئی تو حارث نے آخری کوشش کی۔ وہ کاؤنٹر کے کنارے پر جھک آیا، آواز میں وہی بناوٹی نرمی واپس تھی۔ “دیکھو، ابھی رات بہت ہو گئی ہے۔ میں تمہیں چھوڑ دوں گا۔ فائل دے دو، میں کل کے لیے ترتیب کر لوں گا۔ اور خالہ کے سامنے یہ سب… اچھا نہیں لگتا۔” زویہ نے سر اٹھایا۔ اس کے گال پر بارش سے آئی نمی ابھی تک سوکھی نہیں تھی۔ “مجھے چھوڑنے کی نہیں، چھوڑ دینے کی عادت ہے تمہیں۔” حارث کا چہرہ سخت ہوا، پھر فوراً بدلا۔ “میں صرف یہ چاہ رہا ہوں کہ بات باہر نہ جائے۔” “کام باہر جا چکا ہے۔ بات تم بچانا چاہتے ہو۔” فریحہ باجی نے پچھلی میز سے روز کی شفٹ شیٹ اٹھائی، اس پر نظر دوڑائی، پھر سب کے سامنے نہیں، صرف اسی چھوٹے دائرے میں، زویہ کے پاس آ کر وہ شیٹ اور رپورٹ فائل دونوں اس کے ہاتھ میں رکھ دیں۔ “آج کی رات یہ بند کرے گی۔ کل صبح بھی یہی کھولے گی۔” یہ جملہ کسی فتح کا شور نہیں لایا؛ بس حارث کے لیے جگہ کم اور زویہ کے لیے میز پوری کر گیا۔

اسی وقت سیڑھیوں سے نیچے دانش اترا، اس کے پیچھے وہی بوڑھا آدمی لوٹا جس نے ابھی شکایت کی تھی۔ اس نے کاؤنٹر پر ہاتھ رکھا اور سیدھا فریحہ باجی سے کہا، “صبح اگر کوئی مسئلہ ہوا تو ہم انہی سے بات کریں گے۔” اس کی ٹھوڑی زویہ کی طرف اٹھی۔ نہ تعریف، نہ شکرگزاری کی بڑھوتری۔ صرف سمت بدل گئی۔ فریحہ باجی نے مختصر جواب دیا، “انہی سے ہو گی۔” حارث نے جیسے کچھ کہنا چاہا، مگر آواز ہی نہیں نکلی۔ خالہ شمیم نے دوپٹہ درست کیا، پھر پہلی بار زویہ سے نظریں نہ ملا سکیں۔ اس چھوٹے سے دائرے میں اتنا ہی کافی تھا: نام پکارا نہیں گیا، مگر کام کے ساتھ شخص جڑ گیا۔

رات اور نیچے اتر آئی۔ آخری والدین جا چکے تھے، شٹر آدھا گرا دیا گیا تھا، بارش کی بوندیں باہر سائن بورڈ کے نیچے مسلسل ٹپک رہی تھیں۔ زویہ نے فائل اپنے بازو کے نیچے لی، رجسٹر بند کیا، اور دانش سے صرف اتنا کہا، “کل آدھا گھنٹہ پہلے آنا۔ ادھوری فہرستیں پہلے ملائیں گے۔” پچھلے کمرے میں جاتے ہوئے اسے اپنا ٹھنڈا کھانے کا ڈبہ ویسے ہی ملا، ڈھکن پر پرانا نیلا قلم کا نشان، کنارے پر بھاپ کا کوئی نشان باقی نہیں۔ اس نے اسے نہیں اٹھایا۔ پہلے دیوار کے ساتھ لگے اوزاروں کے ریک تک گئی جہاں صفائی کے دستانے، ٹیپ اور مہر کے خانے رکھے جاتے تھے۔ رپورٹ فائل اس نے اپنے ساتھ ہی رہنے دی۔ پھر دستانوں کی جوڑی، جو حارث نے جلدی میں کہیں اور پھینک دی تھی، اٹھا کر ریک کے سائے میں واپس ٹکا دی۔ ربڑ آہستہ سے چٹخا۔