Fast Fiction

جس کی جگہ پیچھے تھی، وہ آگے بیٹھی

گاڑی کا دروازہ ابھی پورا کھلا بھی نہیں تھا کہ خالہ روبینہ نے مہر کی کلائی پکڑ کر اسے ایک طرف کھینچ دیا۔ “پیچھے ہٹو، پہلے دلہن والی گاڑی لگے گی۔” اگلے ہی لمحے سفید کار سے ثنا اتری، جس کے سر پر دو لڑکیاں دوپٹہ پھیلا کر کھڑی ہو گئیں، اور گیٹ پر موجود ہوسٹ نے جھک کر کہا، “خوش آمدید بھابھی صاحبہ، اِدھر سے آئیے۔”

مہر کے ہاتھ میں پکڑا ٹھنڈا کھانے کا ڈبہ اس جھٹکے سے تقریباً گر گیا۔ دوپہر سے کچھ کھایا نہ تھا؛ بیوٹی پارلر، مہندی، پھر ندیم صاحب کی دوائیں لانا، پھر کراچی کے ٹریفک میں پھنس کر یہاں پہنچنا۔ اس کی آستین پر لمبی ڈیوٹی کی شکنیں جمی تھیں، جیسے سروس سیکٹر کی نوکری آج بھی اس کے جسم سے الگ ہونے کو تیار نہ ہو۔ مگر چبھن کپڑوں میں نہیں تھی۔ چبھن یہ تھی کہ اس شادی ہال کی روشنیوں کے نیچے، دونوں خاندانوں کے سامنے، حارث نے ایک بار بھی سر اٹھا کر نہیں دیکھا کہ جس لڑکی کے ساتھ اس کے بارے میں گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا، وہ سڑک کے کنارے یوں دھکیلی جا رہی ہے جیسے ڈرائیور کے ساتھ آئی کوئی اضافی عورت ہو۔

مہر نے کلائی چھڑائی اور سیدھی ہو کر کھڑی ہوگئی۔ “میں خود چل سکتی ہوں، خالہ۔” آواز اونچی نہیں تھی، مگر اتنی سیدھی تھی کہ دروازہ پکڑے ہوئے لڑکے نے ایک لمحے کو ہاتھ روک لیا۔ پھر حارث خود آگے بڑھا، اپنی شیروانی سیدھی کرتے ہوئے، جیسے سارا منظر اسی نے ترتیب دیا ہو۔ “مہر، پلیز سین نہ بناؤ۔ ابو کی طبیعت ویسے ہی خراب ہے۔ اندر جا کر بیٹھو۔”

“بیٹھوں کہاں؟” مہر نے پوچھا۔

حارث نے ثنا کی طرف دیکھ کر مسکراہٹ سنبھالی، پھر مہر کی طرف دیکھے بغیر بولا، “جہاں خالہ کہہ رہی ہیں۔ ابھی رسپشن لائن پہلے ادھر بنے گی۔”

رسپشن لائن۔ جیسے انسان نہیں، سامان ترتیب پا رہا ہو۔

مہر مڑ کر جا سکتی تھی، مگر اسی وقت پچھلی گاڑی سے ندیم صاحب کو اتارا گیا۔ سانس پھولی ہوئی، ایک ہاتھ سینے پر، دوسرا ڈرائیور کے کندھے پر۔ وہی ندیم صاحب جنہوں نے پچھلے مہینے سب کے سامنے کہا تھا، “نکاح کی تاریخ ہم تب رکھیں گے جب لڑکے کا دل صاف ہو۔ کھیل نہیں ہوگا لڑکی کے ساتھ۔” آج وہی باپ اس ہال کے دروازے تک لایا گیا تھا، کیونکہ آخری بات اسی کے منہ سے ہونی تھی؛ خاندان کے بڑے کی موجودگی کے بغیر اندر کا خاندانی استقبال شروع نہیں ہو سکتا تھا۔ اگر مہر اب پلٹتی، تو روبینہ خالہ کل سے یہی سناتیں کہ لڑکی نے بیمار باپ کی عزت مٹی میں ملا دی۔

اسی لیے وہ وہیں رکی رہی۔ گیٹ کے ساتھ لگی دھاتی ریلنگ کے پاس، جہاں روشنی کم تھی اور فون کی ہلکی سی چمک اس کی ہتھیلی میں دبی ہوئی تھی۔ اس نے سکرین روشن کی، پھر بجھا دی۔ کوئی ثبوت دکھانے کے لیے نہیں، خود کو قابو میں رکھنے کے لیے۔ سامنے ثنا کو پھولوں کے ہار پیش کیے جا رہے تھے، اور ہوسٹ کے ماتحت لڑکے اس کے گرد نیم دائرہ بنا رہے تھے۔ حارث نے ایک بار پھر اپنے خاندان کی طرف وہی چہرہ پھینکا جو مرد تب بناتے ہیں جب وہ غلطی کو انتظام کہتے ہیں۔

ندیم صاحب کو وہیل چیئر پر بٹھا کر گیٹ کے قریب لایا گیا۔ ان کی آنکھیں تلاش کرتی ہوئی مہر پر ٹھہریں، پھر ثنا پر، پھر حارث پر۔ روبینہ خالہ فوراً جھکیں، “بھائی صاحب، پہلے ثنا اندر جائے گی۔ بات ہو چکی ہے۔ بعد میں مہر کو بھی سمجھا لیں گے۔”

“بعد میں؟” ندیم صاحب کی آواز کمزور تھی مگر صاف۔ “کیا سمجھائیں گے؟”

حارث جھٹ سے آگے آیا۔ “ابو، آپ بس پریشان نہ ہوں۔ آپ کی طبیعت—”

“میں تم سے طبیعت نہیں پوچھ رہا۔” ندیم صاحب نے اس کی بات کاٹ دی۔ وہیل چیئر کے ہینڈل پر ان کی انگلیاں کانپ رہی تھیں۔ “جس لڑکی کے ساتھ تمہاری منگنی کے کارڈ چھپ چکے تھے، جس کے گھر جا جا کر تم نے یقین دلایا، جس کے بارے میں گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا، وہ گیٹ کے پاس کیوں کھڑی ہے؟”

فضا اچانک اتنی پتلی ہوگئی کہ ہال کے باہر کھڑے دو ویلیٹ لڑکوں نے بھی نظریں چرا لیں۔ ثنا کے چہرے سے رنگ ایک ذرا سا اترا، مگر روبینہ خالہ پھر بھی سنبھل گئیں۔ “بھائی صاحب، زمانہ بدل گیا ہے۔ دل کہیں اور لگ جائے تو زبردستی تھوڑی ہوتی ہے۔ اب جو فیصلہ ہو چکا—”

گیٹ پر کھڑا ہوسٹ، جو اب تک صرف ثنا اور حارث کی سمت جھکا ہوا تھا، فوراً سیدھا ہوا۔ اس نے ایک نظر ندیم صاحب پر ڈالی، پھر احترام میں لہجہ بدل گیا۔ “جی، آپ جس مہمان کو پہلے لے جانا چاہیں، ہم اسی حساب سے لے چلیں گے۔”

یہ پہلا شگاف تھا۔ چھوٹا، مگر سب نے دیکھا۔

حارث کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔ “بھائی، آپ اپنا کام کریں۔ نام لسٹ میں ہے، بس انٹری کرنی ہے۔”

ہوسٹ نے اب جواب حارث کو نہیں، ندیم صاحب کو دیا۔ “جی، بزرگ کی ہدایت ہوگی تو راستہ اسی حساب سے کھلے گا۔ اندر خاندانی استقبال کے لیے الگ راستہ رکھا ہے۔”

اور پھر وہ مہر کی طرف مڑا۔ “بی بی، آپ ادھر سائے میں کیوں کھڑی ہیں؟ آپ قریب آجائیے۔”

بی بی۔

یہ وہ لفظ تھا جو چند منٹ پہلے ثنا کے لیے محفوظ تھا۔ ایک چھوٹا سا لفظ، مگر اس کے ساتھ جسم بھی ہلے۔ دو لڑکے جو ثنا کے آگے کھڑے تھے، ایک قدم سرک گئے۔ راستے کی رسی ڈھیلی ہوئی۔ روبینہ خالہ کے چہرے پر ایسا لگا جیسے کسی نے ان کے ہاتھ سے تھال کھینچ لیا ہو۔

مہر نے آہستہ آہستہ قدم بڑھائے۔ ایڑیوں میں دن بھر کی سختی تھی، کندھوں میں تھکن، مگر چلنے کا انداز بدل گیا۔ وہ ریلنگ کے سائے سے نکل کر روشنی میں آ گئی۔ ثنا نے فوراً حارث کے بازو کو پکڑا۔ “کچھ کہو نا۔ سب دیکھ رہے ہیں۔”

“دیکھنے دو،” مہر نے پہلی بار سیدھا ثنا کو جواب دیا، “تمہیں تو سامنے آنا پسند ہے۔”

حارث نے جھنجھلا کر آواز نیچی رکھی، مگر زہر کھل گیا۔ “مہر، ضد مت کرو۔ تمہیں اندر لا رہے ہیں، یہی بہت ہے۔ عزت سے رہو۔”

“مجھے اندر لا رہے ہو؟” مہر نے اس کی طرف دیکھا۔ “اس دروازے تک پہنچنے کے لیے میں نے تمہارے کہنے پر اپنے گھر والوں کو چپ کرایا، اپنے دفتر میں چھٹیاں جھوٹ بول کر لیں، تمہارے باپ کی رپورٹیں لے کر ہسپتال دوڑی، اور آج بھی دوائیں میں لے کر آئی ہوں۔ تم مجھے اندر لا رہے ہو؟”

روبینہ خالہ فوراً بیچ میں آئیں۔ “لو جی، اب حساب کتاب شروع ہوگا؟ شادی کے دروازے پر؟ لڑکیوں کو یہی سکھایا جاتا ہے؟”

“نہیں خالہ،” مہر نے کہا، “لڑکیوں کو عام طور پر چپ رہنا سکھایا جاتا ہے۔ اسی لیے آپ کو عادت ہے۔”

ندیم صاحب نے آنکھیں بند کیں، جیسے ایک لمحے کے لیے سانس جمع کر رہے ہوں، پھر کھول کر صاف کہا، “حارث، ایک بات یہیں ہوگی۔ اگر تم نے اس لڑکی کو پیچھے رکھا، تو میں اندر نہیں جاؤں گا۔”

یہ دوسرا شگاف نہیں تھا۔ یہ سیدھا دھماکہ تھا۔

حارث کے چہرے سے رنگ اڑا۔ ہال کے دروازے کے شیشے میں سب کے عکس ہل رہے تھے؛ اس پر پرانے صاف کپڑے کی لکیریں اور انگلیوں کے دھبے تھے، اور انہی دھبوں کے بیچ حارث نے خود کو پہلی بار بےترتیب دیکھا۔ “ابو، پلیز۔ اتنے لوگ کھڑے ہیں۔ یہ ڈرامہ—”

“ڈرامہ تم نے کیا ہے،” ندیم صاحب نے کہا۔ “فیصلہ بھی تم نے کیا۔ اب ترتیب میں کروں گا۔”

ثنا نے خفگی میں سر اٹھایا۔ “انکل، اگر دل نہیں تھا تو پہلے بتانا چاہیے تھا۔ اب جب سب ہو گیا—”

“سب ہوا نہیں،” مہر نے اس کی بات کاٹ دی، “سب دکھایا گیا ہے۔ ابھی دروازہ بھی پار نہیں ہوا۔”

ہوسٹ کے ہاتھ میں دو گیٹ ٹوکن تھے؛ ایک سنہری، ایک سفید۔ سنہری ٹوکن خاندانی استقبال والے راستے کا تھا، جس کے بعد اندر سامنے والی قطار، اسٹیج کے قریب بیٹھک اور بزرگوں سے تعارف ہوتا۔ سفید ٹوکن عام مہمانوں کے لیے تھا۔ ابھی تک سنہری ٹوکن ثنا کی سمت اٹھا ہوا تھا۔

روبینہ خالہ نے فوراً آخری چال چلی۔ “بھائی صاحب، نام کی بات ہے تو بعد میں اندر مائیک پر اعلان کرا دیجیے گا کہ مہر بھی ہمارے لیے عزیز ہے۔ ابھی مہمان رکے ہوئے ہیں، لڑکی کی رسوائی نہ کریں۔ پہلے ثنا کو لے جانے دیں۔”

عزیز ہے۔ جیسے مرحمت ہو۔ جیسے برابر کا حق خیرات بن گیا ہو۔

مہر نے ایک قدم آگے بڑھ کر خالہ روبینہ اور حارث کے بیچ جگہ لے لی۔ اب وہ سب کے سامنے، بالکل گیٹ کی رسی کے پاس تھی۔ “نہیں، خالہ۔ بعد میں کچھ نہیں ہوگا۔ جس کا حق دروازے پر کاٹا جائے، اس کے لیے اندر کا اعلان صدقہ ہوتا ہے۔”

حارث نے دانت بھینچے۔ “تم کیا چاہتی ہو؟”

یہی لمحہ تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ سب کی نظریں ایک سیدھی لکیر بن کر اس کے چہرے پر آ ٹھہری ہیں؛ ویلیٹ لڑکا، ہوسٹ، دو پھوپھیاں، ثنا کی میک اپ والی کزن، روبینہ خالہ، اور وہ مرد جس نے اسے مہینوں اپنے نام کے قریب رکھ کر آخری ہفتے میں پرے دھکیل دیا تھا۔

مہر نے ہوسٹ کے ہاتھ میں موجود سنہری ٹوکن کی طرف دیکھا، پھر ندیم صاحب کی وہیل چیئر پر رکھا کمبل درست کیا، جیسے ترتیب کا حق اسی حرکت سے نکل رہا ہو۔ “پہلا راستہ ان کے ساتھ میرا ہوگا۔” اس نے ندیم صاحب کی طرف اشارہ کیا۔ “جس لڑکی کو آپ کے بیٹے نے سب کے سامنے وعدہ دے کر لٹکایا، وہ پیچھے نہیں کھڑی ہوگی۔ اگر خاندان کو آج بھی کسی نام کی لاج رکھنی ہے، تو میں ان کے ساتھ خاندانی استقبال کے راستے سے جاؤں گی۔ حارث اور جسے وہ لے کر آیا ہے، وہ میرے بعد آئیں گے۔”

ہوا ایک دم نہیں رکی؛ مگر کئی جسم رک گئے۔ ہوسٹ نے سنہری ٹوکن تھاما ہوا ہاتھ ذرا سا نیچے کیا، پھر سیدھا مہر کی طرف بڑھا دیا۔ “جی بی بی، آپ بزرگ کے ساتھ۔ ادھر سے۔”

یہ اختیار کی کھلی منتقلی تھی۔ دکھائی دینے والی، چبھتی ہوئی۔

حارث نے فوراً ہاتھ بڑھا کر راستہ روکنا چاہا۔ “ایک منٹ۔ یہ نہیں ہوگا۔ ثنا کو سب نے اسی حیثیت سے بلایا ہے۔”

“کس حیثیت سے؟” مہر نے پلٹ کر پوچھا۔ “جس حیثیت کو تم ابھی تک ایک جملے میں نام نہیں دے پا رہے؟” وہ قریب آئی، اتنی کہ حارث کو اپنی آواز نیچی کرنی پڑی۔ “مجھے پیچھے رکھ کر تم نے سمجھا تھا دروازہ بھی تمہارا ہے۔ نہیں۔ آج تم صرف دیر سے بولنے والے آدمی ہو۔”

روبینہ خالہ نے ہوسٹ پر آواز چڑھائی، “تمہیں سمجھ نہیں آ رہی؟ جسے دلہا ساتھ لایا ہے، پہلے وہی جائے گی۔”

ہوسٹ اس بار جھکا نہیں۔ “بی بی، بزرگ اور نامزد مہمان کا راستہ اب مقرر ہو چکا ہے۔ رسی ادھر کھولو۔”

رسی کھولنے والے لڑکے نے فوراً کلپ نکالا۔ سفید کار کے آگے سے بنائی گئی ترتیب ایک لمحے میں بدل گئی۔ سنہری رسی مہر اور ندیم صاحب کی وہیل چیئر کے لیے ہٹ گئی، اور ثنا کو پہلی بار اس جگہ کھڑا ہونا پڑا جہاں سے عام مہمان موڑ لے کر اندر جاتے تھے۔ اس کے ہاتھ میں پکڑا پھولوں کا ہار بے جوڑ لگنے لگا، جیسے غلط شخص پر پہنایا گیا ہو۔

ثنا کی آنکھوں میں غصے سے زیادہ بے یقینی تھی۔ “حارث!”

مگر حارث اب دو طرف سے پھنسا ہوا تھا؛ ایک طرف بیمار باپ، دوسری طرف وہ عورت جسے وہ خاموش کھڑا سمجھتا تھا، اور تیسری طرف وہ سارے لوگ جو اب اس کی بات نہیں، ترتیب دیکھ رہے تھے۔ یہی سب سے بڑی توہین تھی: جب کمرہ تمہارے لفظوں پر نہیں، تمہارے کھوئے ہوئے اختیار پر یقین کرے۔

وہ ایک قدم مہر کے قریب آیا، آواز نرم کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے۔ “مہر، ٹھیک ہے، تم ابو کے ساتھ چلی جاؤ، مگر اندر جا کر کوئی بات مت کرنا۔ پلیز۔”

مہر نے سنہری ٹوکن اس کے سامنے اس طرح اٹھایا کہ وہ بھی دیکھ لے، روبینہ خالہ بھی، ثنا بھی۔ “اب ‘پلیز’ دیر سے آیا ہے۔ اور بات بھی میں وہیں کروں گی جہاں تم نے مجھے خاموش سمجھا تھا—لوگوں کے سامنے۔”

ندیم صاحب نے دھیرے سے کہا، “چلو، بیٹا۔”

مہر نے وہیل چیئر کے ہینڈل پکڑے۔ ایک لمحے کو حارث نے پھر رکاوٹ ڈالنی چاہی، مگر ہوسٹ خود ایک طرف ہو کر مہر کے لیے راستہ بنانے لگا۔ “ادھر، بی بی۔ خاندانی گیٹ کھول دو۔” اس کی آواز اب اتنی بلند تھی کہ اندر کھڑے سکیورٹی والے نے بھی سر گھما لیا۔

یہ صرف راستہ نہیں کھلا تھا؛ جگہ کا مطلب بدل گیا تھا۔

مہر ندیم صاحب کو لے کر گیٹ لین میں آ گئی۔ دائیں طرف دھاتی فریم تھا، جس کے پاس سکینر لگا تھا اور نیچے ربڑ کی پٹی پر روشنی کی باریک لکیر چل رہی تھی۔ اس نے ایک لمحہ پیچھے دیکھے بغیر کہا، “میرے بعد۔” یہ لفظ حارث کے لیے تھا یا سب کے لیے، اس نے واضح نہیں کیا۔ اسے کرنے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔

ہوسٹ نے ٹوکن لینے کو ہاتھ بڑھایا، مگر مہر نے خود آگے کر کے سکینر کے سامنے رکھا۔ سنہری چپ نے مشین کو چھوا۔ سبز روشنی جل اٹھی۔ اس نے وہیل چیئر کو آگے دھکیلا اور اسی سبز اشارے کے ساتھ اندر کا راستہ اس کے لیے کھل گیا۔