اس انجام نے دو لوگوں کو روکے رکھا
حریم نے رجسٹریشن میز پر رکھے فیس واؤچرز کا گچھا ایک جھٹکے سے سنبھالا اور ساتھ ہی اس لڑکے کی ماں کو گرنے سے بچانے کے لیے پلاسٹک کرسی کا کونہ پاؤں سے آگے کھسکا دیا۔ ابھی عورت نے بیٹھ کر دو سانس بھی نہیں لی تھیں کہ ندیم آپا کی آواز لابی میں چابک کی طرح لگی، “تمہیں کس نے کہا تھا فرنٹ پر آنے کو؟ تم پانی رکھو، کاغذ مت چھیڑو۔” تین قطاروں میں کھڑے والدین نے ایک ساتھ ادھر دیکھا۔ حریم کے ہاتھ میں رسیدوں کی پَتلی کاپی تھی، دوسرے ہاتھ میں آدھی بھری بوتل، اور اس کی آستینوں پر شام سے دوڑنے پھرنے کی شکنیں جم گئی تھیں۔ اس نے رسید واپس میز پر رکھی، عورت کے سامنے پانی رکھا، اور کہا، “انکل کا ٹوکن چھوٹ گیا تھا، میں نے بس—” “بس کچھ نہیں،” ندیم آپا نے اس کے ہاتھ سے فائل لے کر اپنی بھانجی عائشہ کے سامنے رکھ دی، “سامنے وہی بیٹھے گی جسے طریقہ آتا ہے۔”
حریم نے جواب نگل لیا۔ کراچی کے اس نجی کالج میں شام کی یہ ایڈمن ڈیوٹی ویسے ہی سروس سیکٹر کی مزدوری لگتی تھی: داخلہ سیزن، والدین کے سوال، پرنسپل کی فون کالیں، اوپر سے رات کی اسکالرشپ میٹنگ۔ اسے دو ماہ پہلے عارضی بنیاد پر رکھا گیا تھا، اس شرط پر کہ “خاموش رہو، کام کرو، نام مت بناؤ۔” گھر میں چھوٹے بھائی کی کوچنگ فیس اور کرائے کے درمیان کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اس لیے وہ بس میز کے دائیں کونے سے گرے ہوئے ٹوکن اٹھا کر دوبارہ ترتیب دینے لگی۔ اسی دوران پرنٹر نے ایک کھڑکھڑاتی آواز نکالی اور بند ہو گیا۔ عائشہ کے ہاتھ کانپ گئے۔ والدین میں بے چینی پھیلنے لگی۔
حریم نے نیچے جھک کر تار دیکھی، پلگ ڈھیلا تھا، اور یو پی ایس کی سوئچنگ پھنسی ہوئی۔ اس نے پلگ درست کیا، مشین کو دوبارہ چلایا، اور پہلی رسید نکلتے ہی اسے عائشہ کی طرف بڑھا دیا، جیسے یہ اسی کا کام ہو۔ ندیم آپا نے ایک لمحہ کو بھی شکریہ نہ کہا؛ الٹا اتنا کہا، “آئندہ اجازت کے بغیر ہاتھ مت لگانا۔” مگر اسی لمحے، لابی کے ستون کے پاس کھڑا ارسلان، جو پورا وقت خاموشی سے والدین کی قطار سنبھال رہا تھا، آگے آیا اور رجسٹر حریم کی طرف کھسکا دیا۔ “ٹوکن یہی دیکھے گی،” اس نے اتنا ہی کہا، پھر والدین کی طرف مڑ کر بولا، “جس کا نمبر ہے، وہی آئے۔” یہ اعلان نہیں تھا، بس ایک سیدھی سی جگہ بدلنا تھی، مگر پہلی بار کسی نے خطرہ اس کے ساتھ بانٹا تھا۔
دو گھنٹے بعد لابی میں پسینے، کاغذ، اور ٹھنڈی ہو چکی بریانی کے ڈبے کی بو اکٹھی ہو گئی تھی۔ حریم نے اپنا ڈبہ کھولا بھی نہیں تھا؛ چمچ اوپر رکھا تھا، چاول جم گئے تھے۔ اسی وقت پتا چلا کہ اسکالرشپ والے لفافوں میں ایک پوری فہرست کم ہے۔ ندیم آپا کا رنگ اڑ گیا مگر آواز اور تیز ہو گئی۔ “جس نے پچھلی ترتیب کی تھی وہ نکالے۔ کل کو والدین کہیں گے کالج نے غفلت کی۔” سب کو معلوم تھا آخری بار کس نے ترتیب درست کی تھی، مگر الزام جس سمت دھکیلا جا سکتا تھا، وہی کمزور سمت تھی۔ حریم نے ایک لمحے کو ارسلان کی طرف دیکھا؛ وہ کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ اس نے سر ہلا کر روک دیا۔ پھر بولی، “میں نکال لیتی ہوں۔ شاید اسٹور کے ڈبوں میں رہ گیا ہو۔”
وہ اکیلی بیسمنٹ تک گئی، جہاں پرانے بینر، اضافی ڈیسک اسٹینڈ، اور کارٹن پڑے تھے۔ اوپر لابی میں والدین اب بھی تھے؛ نیچے صرف گرد اور بند ہوا۔ اس نے موبائل کی ہلکی روشنی ہتھیلی میں چھپا کر کارٹن کھولنے شروع کیے۔ تیسرے ڈبے میں اسے لفافے مل گئے، اور ساتھ ایک اور مسئلہ بھی: رات کے سیمینار ہال سے کرسیوں کے کور اور رجسٹریشن کا بقیہ سامان اب تک واپس نہیں آیا تھا۔ مطلب اوپر کی غلطی چھپانے کے لیے اسے نیچے کا سارا بوجھ بھی اٹھانا تھا۔ جب وہ دونوں بازوؤں میں لفافوں اور رسیوں کا الجھا ہوا پلندہ لیے اوپر پہنچی تو ندیم آپا نے سب کے سامنے لفافے لے کر عائشہ کے سامنے رکھ دیے، جیسے سب کام وہی کرتی رہی ہو۔ “اچھا ہوا مل گئے۔ جلدی چلاو، لوگ انتظار میں ہیں۔” حریم کے ہاتھوں پر کارٹن کی دھول لگی تھی، کلائی پر رسی کا سرخ نشان ابھرا ہوا تھا، مگر وہ پھر قطار سنبھالنے لگی۔
ارسلان نے اس بار اسے روکا نہیں۔ وہ سیدھا ندیم آپا کے سامنے گیا۔ “غلطی اوپر سے ہوئی تھی، اسٹور میں کچھ نہیں تھا۔ میں نے چیک کیا ہے۔” ندیم آپا نے اس کی طرف گھور کر دیکھا، “تم اپنے کام سے کام رکھو۔” “میرا کام یہی ہے کہ جو رہ گیا ہے وہ ختم ہو،” ارسلان نے کہا، اور اجازت کا انتظار کیے بغیر سیمینار ہال کی چابیاں میز سے اٹھا لیں۔ پھر اس نے رجسٹریشن کا بڑا رجسٹر کھول کر عین حریم کے سامنے رکھ دیا۔ “باقی نام تم بولو، میں رسیدیں دے دیتا ہوں۔” والدین کی قطار میں کھڑے ایک باپ نے فوراً کاغذ اس کی طرف بڑھا دیا، گویا فیصلہ وہیں ہو گیا ہو۔ حریم نے لمحہ بھر کو اسے دیکھا؛ وہ پہلی بار اس کی ہدایات سننے کے لیے نہیں، ماننے کے لیے کھڑا تھا۔ نئی خطرناکی یہی تھی۔
آدھے گھنٹے میں ہال خالی ہونے لگا، مگر دباؤ ختم نہیں ہوا۔ باہر برآمدے میں خالہ شمیم، جو کالج بورڈ کے ایک رکن کی بڑی بہن تھیں اور ہر سال ایسے موقعوں پر نگرانی کے نام پر آ بیٹھتی تھیں، تسبیح گھماتے ہوئے بولیں، “لڑکی کو اب رات گئے لڑکوں کے ساتھ اوپر نیچے مت دوڑاؤ۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والی عمر ہے، بدنامی پل میں لگتی ہے۔” ان کی آواز اتنی بلند تھی کہ جاتے ہوئے دو والدین نے پلٹ کر دیکھا۔ ندیم آپا نے فوراً یہی لکیر پکڑ لی۔ “بالکل۔ حریم نیچے اسٹور بند کرے گی، ارسلان مین بلاک کی طرف جائے گا۔ الگ الگ۔” مسئلہ یہ تھا کہ سیمینار ہال سے بچا ہوا سامان الگ الگ جانے لائق رہا ہی نہیں تھا: ایک بڑا کینوس بیگ جس میں رجسٹریشن فائلیں، وائرز، اسٹیپنی یو پی ایس، اور اسٹینڈ کے لوہے کے جوڑ بھرے تھے؛ اور ایک بیٹری والی لالٹین جو ہال کی پچھلی سیڑھیوں کے لیے رکھی گئی تھی۔
حریم نے بیگ کا پٹہ اٹھا کر وزن آزمایا۔ پٹہ فوراً اس کی ہتھیلی میں دھنس گیا۔ ارسلان نے بے اختیار ہاتھ بڑھایا مگر خالہ شمیم کی نگاہ پہلے پہنچی۔ “بس۔ حد چاہیے ہر چیز کی۔ لڑکی اپنا کام کرے، لڑکا اپنا۔” حریم کے اندر کچھ سخت ہو گیا۔ ساری شام وہ دوسروں کی غلطیاں سنبھالتی رہی تھی، اور ہر بار اس کے حصے میں خاموشی آئی تھی۔ اس نے بیگ دوبارہ زمین پر رکھا اور سیدھا ندیم آپا کو دیکھا۔ “میں اکیلی اٹھا لوں گی تو سیڑھی پر گرے گا۔ نیچے کا راستہ اندھیرا ہے۔ اگر سامان سلامت چاہیے تو ایک ہی بار میں جائے گا، اور دونوں سروں سے پکڑ کر جائے گا۔ ورنہ آپ کسی اور کو بھیج دیں، لیکن بعد میں ٹوٹ پھوٹ میرے نام مت کیجیے گا۔”
یہ التجا نہیں تھی، حساب تھا۔ ندیم آپا کو ایک لمحہ لگا کہ ڈانٹ کر بات ختم کر دیں، مگر اسی وقت مین بجلی ایک بار جھپکی اور لابی کا آدھا حصہ بجھ گیا۔ صرف برآمدے کی ٹیوب اور حریم کے موبائل کی دبکی ہوئی روشنی باقی رہ گئی۔ آخری والدین بھی اپنے بچوں کو ساتھ لیے نکل رہے تھے۔ ارسلان نے فوراً بیٹری والی لالٹین جلائی۔ زرد روشنی میں خالہ شمیم کی تسبیح کے دانے چمکے، پھر مدھم پڑ گئے۔ ندیم آپا نے ہونٹ بھیچے، “جلدی کرو۔ اور سیدھے جاؤ۔”
سیدھا راستہ وہی پچھلی سیڑھی تھی جہاں بیک اپ لائٹ اکثر دم توڑ دیتی تھی۔ اوپر سے ہال کی طرف جاتے ہوئے ارسلان نے لالٹین ایک ہاتھ میں لی، دوسرے سے بیگ کا ایک سرا پکڑا۔ حریم نے دوسرا سرا تھاما اور وزن ایک دم دونوں کے کندھوں میں جا بسا۔ وہ لوگ کسی جوڑے کی طرح نہیں لگ رہے تھے، نہ کوئی نرم فاصلہ گھٹ رہا تھا؛ صاف دکھ رہا تھا کہ ایک بھاری چیز دو آدمیوں کے درمیان ہے اور دونوں اس کے حساب سے قدم رکھ رہے ہیں۔ پھر بھی یہی منظر سب سے زیادہ مہنگا تھا۔ برآمدے کے سرے پر کھڑی خالہ شمیم دیکھ رہی تھیں، ندیم آپا بھی۔ حریم نے نظر اٹھا کر کسی کو کچھ نہ سمجھایا۔ “دائیں طرف، وائر پھنس رہی ہے،” اس نے کہا۔ ارسلان نے فوراً بیگ گھما دیا۔
ہال میں کرسیوں کے آخری کور، خالی پانی کی بوتلیں اور ٹوٹا ہوا اسٹینڈ پڑا تھا۔ انہوں نے ایک ایک چیز چنی۔ ارسلان نے خود لوہے کے اسٹینڈ کا وزن لیا، مگر جب اس نے بیگ دوبارہ پورا اپنے کندھے پر ڈالنا چاہا تو حریم نے روک دیا۔ “نہیں۔ ایک طرف تم لو گے تو نیچے مڑتے ہوئے جھٹکا آئے گا۔ ساتھ۔” اس کے لہجے میں شکر گزاری نہیں، کام کی آخری حد تھی۔ ارسلان نے بس “اچھا” کہا اور پٹہ دوبارہ درمیان سے اس کی طرف بڑھا دیا۔ نیچے اترتے ہوئے دوسری منزل کے موڑ پر اچانک بیک اپ لائٹ بھی بجھ گئی۔ لالٹین کے سوا کچھ نہ بچا۔ ایک لمحے کو سیڑھی نے اپنے تنگ ہونے کا اصل مطلب دکھا دیا: ایک ہاتھ روشنی، ایک ہاتھ وزن، اور درمیان میں پھسلتا کنارہ۔
حریم نے رک کر لالٹین ارسلان کے ہاتھ سے لے لی۔ “روشنی میں آگے چلوں گی، وزن ایک ساتھ۔” وہ ایک سیڑھی نیچے اتری، لالٹین کو ذرا نیچا رکھا تاکہ روشنی قدموں پر پڑے، پھر بیگ کے پٹے کا درمیانی حصہ اپنی مٹھی میں لیا۔ “اب چھوڑنا مت۔” ارسلان نے جواب میں بات نہیں بنائی۔ اس نے دوسرے سرے سے پٹہ مضبوطی سے لپیٹا اور اپنے قدم اس کے قدم کے برابر کر لیے۔ اب راستہ واقعی تبھی کھل سکتا تھا جب دونوں ایک ہی رفتار سے چلتے۔ بیگ کبھی اس کی ران سے لگتا، کبھی اس کے گھٹنے سے، لالٹین کی زرد روشنی دیوار پر دونوں کے سائے کو ایک ساتھ جھٹک دیتی۔ نیچے خالی لابی سے ہلکی جراثیم کش دوا کی بو آ رہی تھی، اور دور گیٹ پر کسی موٹر بائیک کے اسٹارٹ ہونے کی آواز۔
سیڑھی کے آخری حصے پر ارسلان کی سانس بھاری ہوئی۔ “صبح سے کچھ کھایا؟” سوال چھوٹا تھا، مگر بیچ راستے میں آیا۔ حریم نے نگاہ نیچے رکھے رکھے کہا، “بریانی کا ڈبہ اب بھی میز کے نیچے ہے۔” اگلی سیڑھی پر ارسلان نے پٹہ ذرا اوپر اٹھایا تاکہ وزن اس کی طرف زیادہ نہ آئے۔ “واپس جاتے ہوئے لے لینا۔” وہ ہنس نہیں سکی، مگر اس کی گرفت ڈھیلی بھی نہیں ہوئی۔ نیچے پہنچ کر دونوں نے بیگ اسٹور کے دروازے کے پاس رکھا۔ اندر اندھیرا، باہر نیم روشن برآمدہ، اور اوپر سے اب کوئی آواز نہیں آ رہی تھی۔ سارا ہنگامہ آخرکار دو لوگوں کے کندھوں میں آ کر ٹھہر گیا تھا۔
چابی گھمانے سے پہلے حریم نے دروازے کے پاس پڑے چھوٹے کارٹن کو پاؤں سے اندر دھکیلا، پھر بیگ دوبارہ اٹھانے کو جھکی۔ “یہ بھی اوپر والے ریک تک رکھنا ہے، ورنہ صبح پھر میرے نام ہو گا۔” ارسلان نے اس بار “میں کر لیتا ہوں” نہیں کہا۔ وہ اس کے مقابل آ کر بیگ کے دوسری طرف جھکا اور پٹہ تھام لیا، جیسے اب طریقہ یہی طے ہو چکا ہو۔ اوپر والے تنگ اسٹور ریک تک جانے والی اندرونی سیڑھی صرف ایک آدمی کی چوڑائی کی تھی؛ پھر بھی بیگ اسی طرح درمیان میں لٹکا رہا، دونوں ہاتھوں کے بیچ۔ ایک قدم وہ، ایک قدم وہ۔ لالٹین حریم کے ہاتھ میں تھی، روشنی کبھی پٹہ پر، کبھی دیوار کے چونے پر، کبھی ان کے جوتوں پر پڑتی۔
اوپر والے موڑ پر پہنچ کر حریم پہلے رکی۔ اس نے لالٹین کو ذرا سا بلند کیا اور بیگ کا پٹہ اپنی ہتھیلی سے کھینچ کر بیچ میں جما لیا، جیسے اس آخری وزن کی جگہ خود مقرر کر رہی ہو۔ “یہیں سانس لے لو,” اس نے آہستہ کہا۔ ارسلان نے کچھ نہیں پوچھا، بس اپنا ہاتھ اسی پٹے پر اس کے ہاتھ کے سامنے جما دیا۔ سیڑھی کے موڑ پر دونوں ایک ہی بیگ کے دو سروں کے بجائے ایک ہی پٹہ کے دو حصوں پر تھے۔ لالٹین ان کے درمیان ہلکی سی جنبش سے جھولی، زرد روشنی نے دیوار پر ایک مشترک سایہ کھینچا، اور وہیں ٹھہر گئی۔