Fast Fiction

میرے لیے گڑھا کھودا، خود اتر گئی

“ماہم! اوپر نہیں، یہیں رکو۔” سعدیہ بھابھی نے دوسری منزل کی لینڈنگ پر کھڑے ہو کر ہاتھ ایسا اٹھایا جیسے پوری سیڑھی انہی کی جاگیر ہو۔ نیچے سے کیٹرنگ والے دو بڑے دیگچے اٹھائے چڑھ رہے تھے، اوپر سے خالہ نسرین اور دو کزن منگنی کے کپڑوں کے تھیلے سنبھالتے اتر رہے تھے، اور بیچ کی اس تنگ موڑ دار جگہ پر ماہم کو عین درمیان روک لیا گیا۔ لینڈنگ کے ساتھ رکھی چھوٹی میز پر چائے کا کپ ٹھنڈا ہو کر ہلکا سا حلقہ چھوڑ چکا تھا، اس کے پاس ایک چیک لسٹ کلپ میں دبی پڑی تھی۔ “مہمانوں کا رُوٹ تم نے خراب کیا تو نیچے ابو کے سامنے جواب بھی تم دو گی، دفتر کی لڑکی ہو، ترتیب تمہی سمجھتی ہو۔”

ماہم کے ہاتھ میں ابھی تک آفس کی چابیاں تھیں؛ رات کی شفٹ کے بعد سیدھی یہی آئی تھی۔ آنکھوں کے نیچے نیند کا نیلا پن، دوپٹے کے کونے پر پرانا سیاہی کا داغ، اور موبائل پر لگاتار آتے پیغامات—سونے کے سیٹ کا باقی پیسہ، ہال والے کی ایڈوانس، اور فراز کا ایک مختصر سا سوال: “پہنچ گئی؟” گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا کہ بات چل رہی ہے، مگر اعلان منگنی کے بعد ہونا تھا؛ اس سے پہلے بھی ماہم ہی ہر خلا بھرتی آئی تھی۔ آج بھی وہی ہو رہا تھا، بس فرق یہ تھا کہ سعدیہ بھابھی نے مدد کو حکم بنا دیا تھا۔

“میں اوپر امی کے کمرے میں کپڑے دے کر آتی ہوں، پھر—”

“پھر کچھ نہیں۔” سعدیہ نے چیک لسٹ اٹھا کر ہوا میں ہلائی۔ “دیکھو سب لوگ، میں نے واضح لکھا ہے۔ نیچے سے آنے والوں کو پہلے راستہ، پھر اوپر سے اترنے والے، آخر میں سامان اٹھانے والا۔ اور تم”—انہوں نے قلم کی نوک ماہم کی طرف کی—“تمہارا خانہ یہی ہے، ‘لینڈنگ کنٹرول’۔ ہلو گی تو سارا بہاؤ ٹوٹے گا۔ بعد میں مت کہنا بتایا نہیں تھا۔”

خالہ نسرین سیڑھی کے موڑ پر رک گئیں۔ “بیٹا، بس آج کا دن ہے، برداشت کر لو۔ بہو لوگوں کی عزت بھی رہنی چاہیے۔”

ماہم نے ایک لمحہ میز کی طرف دیکھا۔ چیک لسٹ کے خانوں میں پہلے ہی کئی نشان لگے تھے؛ وقت بھی لکھا تھا، اور ہر نکتے کے آگے سعدیہ کے دستخط۔ مگر ایک بات فوراً چبھ گئی—نیچے سے دیگچے چڑھانے والوں کے لیے پہلے راستہ، اوپر سے اترنے والی خواتین کے لیے بھی پہلے راستہ، اور خود سعدیہ عین اوپر والے کنارے پر کھڑی تھیں، جیسے وہ کسی اصول سے باہر ہوں۔ اس ترتیب میں جو بیچ میں رکے گا، وہی سب کا رستہ روکے گا، اور الزام اسی کے حصے آئے گا۔

پہلا جھٹکا تب لگا جب نیچے سے آئے لڑکے نے کہا، “باجی، ایک سائیڈ دیں، گرم ہے۔” ماہم دیوار سے لگی تو سعدیہ نے فوراً بلند آواز میں کہا، “دیکھا؟ میں نہ سنبھالتی تو ابھی گر جاتا۔ ماہم، سیدھی کھڑی رہو، اپنے طور پر عقل نہ لڑاؤ۔” خالہ نسرین نے کپڑوں کے تھیلے ایک کزن کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے بس اتنا دیکھا کہ قصور ماہم ہی کا بتایا جا رہا ہے۔ اسی لمحے اوپر سے فراز آتا دکھائی دیا؛ وہ شاید ابو کو بلانے جا رہا تھا، مگر سعدیہ نے اسے بھی ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔ “فراز، تم ادھر سے نہیں، پچھلی سیڑھی سے جاؤ۔ یہاں سسٹم چل رہا ہے۔”

فراز نے نیچے کھڑی ماہم پر نظر ڈالی۔ نظر مختصر تھی، مگر اس میں ایک ناگواری صاف تھی۔ “پچھلی سیڑھی بند ہے، وہاں سجاوٹ والے کھڑے ہیں۔”

“تو رک جاؤ۔ سب کچھ تم لوگوں کی مرضی سے نہیں ہوگا۔” سعدیہ نے یہ جملہ اتنی اونچی آواز میں کہا کہ اوپر والے دروازے کے پاس کھڑی دو خواتین بھی پلٹ کر دیکھنے لگیں۔

ماہم کی تھکن میں غصہ چمکا، مگر اس نے زبان نہیں کھولی۔ اس نے صرف ایک قدم پیچھے لینا چاہا تاکہ دیگچے والے گزر جائیں۔ سعدیہ فوراً نیچے جھکیں، میز سے چیک لسٹ اٹھائی، اور اس میں ایک نیا نشان لگا دیا۔ “نوٹ کر رہی ہوں، اپنی جگہ چھوڑنے کی کوشش۔ بعد میں کسی کو شک نہ رہے کہ مسئلہ کہاں سے شروع ہوا تھا۔”

یہ پہلا انعام تھا—چھوٹا مگر صاف۔ ماہم نے کلپ کے نیچے سے کاغذ کا کونا دیکھا جہاں کاربن کی دوسری پرت جھلک رہی تھی۔ یعنی یہ ایک ہی نقل نہیں تھی؛ نیچے دبے ہوئے صفحے پر ہر نشان منتقل ہو رہا تھا۔ سعدیہ صرف سنبھال نہیں رہیں، ریکارڈ بھی بنا رہی تھیں۔

نیچے سے ایک اور لڑکا بڑی ٹرے میں شربت کے گلاس لیے چڑھا۔ اوپر سے خالہ نسرین اترنے لگیں۔ سعدیہ نے فوراً اپنی آواز اور بلند کی، “سب لوگ ترتیب سے! ماہم، تم یہی بیچ میں کھڑی رہو، اوپر والوں کو پہلے اترنے دو، نیچے والوں کو رکاؤ۔” حکم ایسا تھا کہ دونوں سمتوں کا بوجھ ایک ہی جگہ آ کر ماہم پر گرے۔ شربت والی ٹرے والے نے پاؤں سمیٹے، خالہ نسرین اپنی ساڑھی بچاتے رُک گئیں، اور پیچھے لوگوں کی قطار بن گئی۔ لینڈنگ تنگ پڑ گئی۔ چائے کے کپ کا حلقہ میز پر پھیلتا جا رہا تھا۔

“بھابھی، اگر میں ہٹ جاؤں تو دونوں گزر جائیں گے،” ماہم نے بہت سیدھی آواز میں کہا۔

“اور بعد میں بولو گی میں نے کہا نہیں تھا؟ نہیں، تم ادھر ہی رہو۔” سعدیہ نے خود اوپر والے کنارے پر پاؤں پھیلا کر جگہ گھیر لی۔ “آج ہر چیز لکھ کر ہوگی۔ جس نے بھی بہاؤ توڑا، نام آئے گا۔”

یہ جال اب کھل کر نظر آنے لگا تھا۔ اگر ماہم رکی رہتی تو نیچے والے گرم دیگچے اور اوپر والی خواتین دونوں اس کے سبب رکتے۔ اگر ہٹتی تو “اپنی جگہ چھوڑنے” کا نشان پہلے ہی لگ چکا تھا۔ دو کزن لڑکیاں سرگوشی کرتی نیچے دیکھ رہی تھیں۔ خالہ نسرین کے چہرے پر وہی پرانی بےبسی تھی جس میں ہمیشہ سہولت بھی ہوتی تھی—جس سے کام نکلے، اس پر بوجھ ڈال دو۔

ماہم نے دیوار کے ساتھ چھوٹے دروازے کی چوکھٹ کے پاس خود کو سمیٹا۔ ایک پل کا توقف۔ پھر اس نے سیدھا سعدیہ کی آنکھوں میں دیکھا اور اپنی جگہ، جسے سعدیہ “لینڈنگ کنٹرول” کہہ رہی تھیں، لینے سے انکار کر دیا۔ “میں بیچ میں نہیں کھڑی ہوں گی۔ جس نے رُوٹ بنایا ہے، وہ خود کھڑی ہو۔”

یہ جملہ اونچا نہیں تھا، مگر قدم واضح تھا۔ ماہم دیوار کے ساتھ سے پھسل کر ایک طرف ہو گئی، اتنی جگہ چھوڑ دی کہ نیچے سے شربت والا آدھا چڑھ سکے۔ اب بیچ کی تنگی میں خود سعدیہ آ گئیں۔ اوپر سے خالہ نسرین اتر رہی تھیں، نیچے سے ٹرے والا چڑھ رہا تھا، اور سعدیہ کا پھیلا ہوا قدم ان دونوں کے درمیان پھنسا۔ انہوں نے فوراً ساڑھی سمیٹ کر ایک طرف ہونے کی کوشش کی، مگر پیچھے ان کی اپنی رکھی ہوئی میز تھی، سامنے آتا ہوا لڑکا، اور اوپر سے اترتی خالہ نسرین۔

“بھابھی، ذرا ہٹیں، گلاس گر جائیں گے،” لڑکے نے دانت بھیچ کر کہا۔

“خالہ جان، ایک منٹ!” سعدیہ کی آواز پہلی بار حکم سے زیادہ گھبراہٹ میں بدلی۔ انہوں نے نیچے ہاتھ بڑھا کر ماہم کو واپس اپنی جگہ کھینچنا چاہا، مگر ماہم پہلے ہی چوکھٹ کے پاس جم چکی تھی۔ اب جس بیچ والی جگہ میں وہ اسے پھنسانا چاہتی تھیں، وہی جگہ انہیں خود نگل رہی تھی۔

دو گلاس ٹرے کے کنارے سے ٹکرائے۔ سرخ شربت کا ایک ہلکا چھینٹا سعدیہ کے آستین پر پڑا۔ اوپر سے ایک کزن نے فوراً تھیلا پیچھے کھینچا۔ فراز، جو دو سیڑھیاں اوپر رکا تھا، اب سب کچھ صاف دیکھ رہا تھا۔ اس نے نیچے والے لڑکے سے کہا، “رکو مت، بس سیدھا وزن سنبھالو۔” یہ سعدیہ کے خلاف پہلا کھلا جملہ نہیں تھا، مگر ان کے اختیار کے خلاف ضرور تھا۔

سعدیہ نے اس لمحے اپنا توازن لفظوں سے واپس لینے کی کوشش کی۔ وہ جھک کر میز سے چیک لسٹ اٹھانے لگیں۔ “ٹھیک ہے، سب کے سامنے لکھ دیتی ہوں۔ ماہم نے ہدایت ماننے سے انکار کیا، اسی لیے رکاوٹ ہوئی۔” انہوں نے قلم کھولا، تیزی سے خانہ ڈھونڈا، اور زور سے بولیں تاکہ اوپر نیچے سب سن لیں، “گواہ رہنا، میں ابھی نشان لگا رہی ہوں۔”

ماہم نے پہلی بار آگے بڑھ کر ان کے ہاتھ کو نہیں روکا، نہ کاغذ چھینا۔ بس اتنا کیا کہ میز کے دوسرے کنارے پر رکھا اپنا چابیوں کا چھلا اٹھایا اور دھات کی ٹھنڈی آواز کے ساتھ چیک لسٹ کے پاس رکھ دیا۔ وہی چابیاں جو صبح دفتر بند کر کے لائی تھی، دیر سے واپس ہونے والی چابیاں، جن پر سب کا کام چلتا تھا۔ پھر اس نے کاغذ کی اوپری پرت دو انگلیوں سے پکڑی اور آہستہ سے پلٹ دی۔

کلپ کے نیچے دبی دوسری نقل سامنے آ گئی۔

اس نیچے والے صفحے پر سعدیہ کے پہلے سے لگائے گئے سارے نشان الٹے دباؤ کے ساتھ صاف منتقل تھے، اور وقت کے ساتھ وہ ترتیب بھی دکھ رہی تھی جو انہوں نے لوگوں کو سنائی تھی: “نیچے سے سامان پہلے”، اس کے نیچے “اوپر سے خواتین پہلے”، پھر “لینڈنگ پر ماہم مستقل موجود”، پھر ایک اور لائن: “سعدیہ نگرانی پر اوپر کنارے پر۔” چاروں باتیں ایک ساتھ پڑھی جائیں تو سیدھا مطلب یہی نکلتا تھا کہ بیچ کی جگہ صرف ایک شخص کو قربان کرنے کے لیے بنائی گئی تھی—اور اوپر والا کنارے پر خود لکھنے والی محفوظ کھڑی رہنے والی تھی۔ مگر اب وہیں پھنس چکی تھی۔

“پڑھ لیجیے، بھابھی،” ماہم نے نہایت ہموار آواز میں کہا۔ “اوپر بھی آپ، پہلے گزرنے والے بھی دونوں طرف، اور بیچ میں قصور وار بھی میں؟ یہ راستہ میں نے نہیں بنایا۔”

سعدیہ نے فوراً کاغذ سیدھا کر کے واپس اپنی طرف موڑنا چاہا۔ اسی وقت نیچے سے دیگچہ اٹھائے دوسرا لڑکا چڑھا اور بولا، “باجی، سائیڈ دیں نا، ہاتھ جل رہا ہے۔” وہ سائیڈ صرف سعدیہ کے پاس تھی، مگر ان کے پیچھے میز، بائیں دیوار، دائیں اترتی خالہ نسرین۔ ان کی اپنی بنائی ہوئی جگہ اب ان کے خلاف بند ہو چکی تھی۔ انہوں نے جھنجھلا کر ماہم کو حکم دیا، “تم لے لو یہ کاغذ، نیچے کھڑی ہو کر نام پکارو، جلدی!”

یہ وہ ایک قدم زیادہ تھا۔

ماہم نے کاغذ لیا، مگر نیچے نہیں اتری۔ اس نے ایک نظر کاغذ پر، ایک نظر سعدیہ پر ڈالی، پھر پورا چیک لسٹ بورڈ میز پر گھما کر اس طرح رکھا کہ لکھائی سیدھی سعدیہ کے رخ ہو جائے اور اوپر نیچے کھڑے سب کی نظر بھی ایک زاویے سے اس پر پڑے۔ کاربن کی دبائی ہوئی نقل میں ان کے اپنے نشان، اپنے وقت، اپنے دستخط، اپنی ترتیب۔ چائے کے کپ کے چھوڑے ہوئے حلقے کے پاس کاغذ ہلکا سا نم تھا، جس سے نیلے نشان اور گہرے دکھنے لگے۔

“نام آپ ہی پڑھیں،” ماہم نے کہا۔ “جو نام اس میں پھنسا ہے، وہ میرا نہیں۔”

اس نے اپنی چابیاں بورڈ کے کنارے سے اٹھائیں، ایک قدم سیدھا نیچے کی طرف رکھا، اور دیوار سے سٹے شربت والے کے لیے راستہ کھول دیا۔ لڑکا گزر گیا۔ فراز اوپر سے ایک طرف ہٹ گیا۔ خالہ نسرین نے ساڑھی سمیٹ کر آخری سیڑھی اتری۔ اب لینڈنگ کے عین بیچ، اپنی میز اور اپنے لکھے ہوئے راستے کے درمیان، سعدیہ ہی کھڑی تھیں—نہ اوپر چڑھ سکیں، نہ نیچے اتر سکیں، کیونکہ نیچے سے دیگچہ والا ان کے سامنے آ چکا تھا اور اوپر کی طرف میز کا کونا ان کے گھٹنے سے لگا تھا۔

ماہم نے بورڈ کو آخری بار انگلی سے دھکیلا۔ وہ میز پر ذرا سا گھوما اور چیک مارک سیدھے سعدیہ کی طرف مڑ گئے؛ “سعدیہ نگرانی پر اوپر کنارے پر” والی سطر چائے کے حلقے کے برابر آ کر ٹھہر گئی، اور اس کے نیچے دبے ہوئے نشان ان کی اپنی تحریر کو انہی کی طرف لوٹاتے رہے۔