Fast Fiction

جنہوں نے مجھے روکا تھا، آج خود کٹ گئے

“مہرین، یہ پرچی ادھر دو۔ تم آج لائن نہیں چلا رہیں،” دانش نے اس کے ہاتھ سے نیلی رُوٹ سلِپ جھٹکے سے کھینچی اور اگلے ہی لمحے دو موٹر سائیکل سواروں کو ہاتھ کے اشارے سے آگے گزار دیا۔ ڈسپیچ بے کے موڑ پر ہارن، پسینے اور گرم ڈیزل کی بو کے بیچ مہرین یوں روک دی گئی جیسے وہ یہاں کی ملازم نہ، دروازے پر کھڑی کوئی اضافی عورت ہو۔ اس کی انگلیوں پر پرانی سیاہی کا دھبہ ابھی تک تھا؛ وہی دھبہ جو روزانہ سلِپیں لکھتے ہوئے لگتا تھا۔ دانش نے آواز ذرا اور بلند کی، “جن کی شادی کی تاریخ تک طے نہ ہو، وہ اپنے معاملات گھر میں سنبھالیں۔ یارڈ کی جلدی مجھ پر چھوڑ دو۔” دو لوڈر ہنسنے سے بچے، مگر ہنسی روکنے کا انداز بھی رسوا کر دینے والا تھا۔

مہرین نے پرچی واپس نہیں کھینچی۔ اس نے صرف دیکھا کہ دانش نے اسے اپنی کلپ بورڈ کے نیچے دبا لیا ہے، اور وہی کلپ بورڈ اب اس کے سامنے ایک بند دروازہ ہے۔ تین سال سے اسی یارڈ میں وہی رُوٹیں اس نے بنائی تھیں، اسی نے سپلائروں کے نمبر جوڑے تھے، اسی نے تاخیر والے پیکٹ بچائے تھے؛ مگر آج رشید، جو کیش کھڑکی کے پاس بیٹھتا تھا، دانش کے ایک اشارے پر نئے سواروں کے نام لکھ رہا تھا اور اس کا نام کٹ چکا تھا۔ یہ صرف شفٹ نہ تھی، یہ اس کے ماہانہ حصے، اس کے کرائے کے گھر، اور اس منگنی کی آخری باقی عزت کا مسئلہ تھا جسے سب “گھر والوں اور دوستوں کو پتہ” کہہ کر آدھی بات سمجھ لیتے تھے اور آدھی چبھنے کو چھوڑ دیتے تھے۔

“خالی کیوں کھڑی ہو؟ پیکنگ والوں کے پاس جاؤ،” دانش نے پھر کہا، اس بار لوگوں کے سامنے نہیں، اس کے شانے کے قریب آ کر، مگر اتنی اونچی آواز میں کہ سب سن لیں۔ “اور آج شام خالہ نسرین کے ہاں سیدھی بات کر لینا۔ میں بھی یہی کہوں گا کہ بندہ اتنا انتظار نہیں کرتا۔”

مہرین کی آستین پر پوری رات کی شکنیں جمی تھیں۔ اس نے جیب سے آدھی تہہ شدہ رسید نکالی، اس کے پیچھے لکھا نمبر سیدھا کیا اور بغیر دانش کی طرف دیکھے عادل کو پکارا، “کورنگی والا فریزر لوڈ کھڑا ہے نا؟ ڈرائیور افتخار؟ اسے کہنا میں نے نثار آئس والوں سے بات کی ہے، ان کا ریلیز کوڈ میرے پاس ہے۔ کوئی اور گاڑی نہیں اٹھا سکتی۔” عادل ٹھٹھکا۔ دانش نے فوراً پلٹ کر کہا، “جھوٹ مت سنو۔ کوڈ اب میرے چینل سے نکلے گا۔”

اسی لمحے عادل کا فون بجا۔ اس نے اسپیکر پر کیا۔ دوسری طرف سے کرخت آواز آئی، “بھائی، مہرین باجی نے جو نشان والا رجسٹر رکھا تھا، وہی چلے گا۔ کل رات دانہ کم آیا تھا، ہم بغیر ان کے مارک کے فریزر نہیں کھولیں گے۔” عادل نے ایک بار دانش کو دیکھا، ایک بار مہرین کو۔ پیچھے کھڑی سفید سوزوکی میں منجمد مال پگھلنے کے ڈر سے ڈرائیور نے بے صبری میں دروازہ پٹخا۔ دانش نے ہاتھ بڑھا کر فون بند کرانا چاہا، مگر عادل نے فون پیچھے کر لیا۔ پہلا دراڑ وہیں پڑا؛ چھوٹا، مگر سب کی آنکھ کے سامنے۔

دوپہر سے ذرا پہلے، جب یارڈ کی دھوپ کنکریٹ سے پلٹ کر چہرے جلا رہی تھی، ڈسپیچ بے کے موڑ پر اچانک افراتفری مچی۔ اندر والی لین میں کھڑی بڑی وین کا ٹائر بیٹھ گیا، باہر والی لین میں تین بائیکیں ایک دوسرے سے اٹک گئیں، اور کیش کھڑکی کے سامنے رشید چیخا، “ریلیز ٹوکن کس کے پاس ہے؟ فریزر والا لوڈ لیٹ ہو رہا ہے!” دانش نے فوراً دائیں ہاتھ کی لین کھلوانے کو کہا، “سب گاڑیاں اِدھر! جلدی! میں دیکھ رہا ہوں—”

“اِدھر نہیں،” مہرین کی آواز اس شور کو چیرتی ہوئی نکلی۔ وہ موڑ کے بیچ جا کھڑی ہوئی، ہاتھ میں وہی چھوٹی سرخ مہر تھی جو مالک کے سٹور سے صرف ایک ہی شخص کو دی جاتی تھی جب فریزر ریلیز خطرے میں ہو۔ “دائیں لین بند۔ ٹائر والی گاڑی ہلے گی نہیں۔ بائیں طرف شٹر کھولو۔ عادل، دو بائیکیں پیچھے لو۔ شاہد، ٹرالی ہٹاؤ۔ افتخار سیدھا بائیں موڑ سے اندر آئے گا، اور جس کے پاس میری مارک شدہ سلِپ نہیں، وہ کیش کھڑکی سے ٹوکن نہیں لے گا۔”

“تم ہو کون کھلوانے والی؟” دانش چلایا اور اس کی طرف بڑھا، مگر اسی وقت اندر کے گیٹ سے مالک کے بڑے بھائی، سیٹھ جمیل، پسینے میں بھیگے نکلے۔ “مہرین!” انہوں نے دور سے ہی کہا، “فریزر لوڈ ابھی نکالو۔ نثار والوں نے مجھ سے بات کی ہے۔ جس کے پاس اصل نشان ہو، وہی چلائے۔” بات ختم ہوئی اور بدن حرکت میں آ گئے۔ ایک لوڈر نے دانش کے اشارے کو ادھورا چھوڑ کر ٹرالی موڑ دی۔ بائیکیں پیچھے ہٹیں۔ بائیں شٹر کی زنجیر کھڑکی۔ افتخار کی سفید گاڑی جھٹکے سے نئی کھلی لین میں آ گئی۔ موڑ، جسے دانش اپنی ملکیت سمجھتا تھا، ایک لمحے میں مہرین کے ہاتھ چلا گیا۔

دانش نے کلپ بورڈ زور سے بند کیا۔ “یہ وقتی ہے، سمجھیں سب۔ ایک لوڈ سے کوئی وارث نہیں بن جاتا۔” مگر اس کی آواز میں پہلی بار وہ جھنجھلاہٹ تھی جو حکم کے ناکام ہونے کے بعد آتی ہے۔ مہرین نے اسے جواب نہیں دیا۔ وہ صرف سلِپوں پر سرخ مہر لگاتی رہی، ایک، دو، تین۔ ہر مہر کے ساتھ ایک گاڑی بائیں لین سے نکلتی، اور دائیں طرف کھڑے لوگ رک کر اس کی طرف دیکھتے جیسے ابھی ابھی یارڈ کا نقشہ بدلا ہو۔

شام کو خالہ نسرین کے گھر دسترخوان بچھا تھا۔ دال، کباب، سلاد، اور بیچ میں وہ احتیاط جس کے ساتھ کراچی کے گھروں میں رشتے والی باتیں کی جاتی ہیں۔ مہرین سیڑھیوں کے موڑ پر لگی دھندلی دھاتی شیٹ میں اپنا عکس دیکھ کر اندر آئی؛ انگلیوں کے نشان اور پچھلے پونچھے کے دھبے اس پر صاف تھے۔ ڈرائنگ روم میں اسے صوفے کے کونے پر بٹھایا گیا، دانش کو درمیان کی جگہ ملی، جہاں سے وہ خالہ سے، ماموں سے، سب سے ایک ہی وقت میں بات کر سکتا تھا۔ نشست بھی ایک ہتھیار تھی۔

خالہ نسرین نے پانی کا گلاس مہرین کی طرف نہیں، دانش کی طرف بڑھایا۔ “بیٹا، ہم نے بہت صبر کیا۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والی بات کو لٹکانا بھی اچھی چیز نہیں ہوتی۔ تم کہہ رہے تھے دفتر میں بھی کچھ مسئلہ ہے؟”

دانش نے ہلکی سی آہ بھری، جیسے کسی اور کی بے ترتیبی برداشت کر رہا ہو۔ “میں نے آج بھی کوشش کی۔ لیکن یارڈ میں ڈسپلن چاہیے۔ بندہ اگر ذاتی دباؤ ساتھ لے آئے تو کام بکھر جاتا ہے۔ میں عزت سے بات ختم کرنا چاہتا ہوں تاکہ کل کوئی انگلی نہ اٹھائے۔”

مہرین نے گلاس کو ہاتھ نہیں لگایا۔ “یارڈ میں آج فریزر لوڈ کس کے نشان سے نکلا، خالہ؟” اس نے سیدھا خالہ سے نہیں، دانش سے پوچھا۔ “اور نثار والوں کا کھاتا کس نام سے چل رہا ہے؟”

دانش کا چہرہ سخت ہوا، مگر وہ گھر کی زبان میں نرم دکھنے کی کوشش کرتا رہا۔ “کام کی بات گھر میں اچھا نہیں لگتی۔”

“گھر میں ہی اچھی لگتی ہے،” مہرین نے کہا۔ “کیونکہ آپ نے کام کی بات سے ہی رشتہ ناپا ہے۔ پھر پوری بات ہو۔ اگر میرا نشان ہٹ گیا ہے تو کل سے آپ کی فریزر رُوٹ بھی ہٹ جائے گی۔ سپلائر مجھے چھوڑ کر آپ کے نام پر نہیں جا رہا۔”

ماموں نے اب پہلی بار سر اٹھا کر دیکھا۔ خالہ نسرین کی انگلی پلیٹ کے کنارے پر رک گئی۔ دانش نے ہنسی میں بات نرم کرنے کی کوشش کی، “یہ دھمکی ہے؟”

“یہ اطلاع ہے۔” مہرین کی آواز ہموار تھی۔ “اور ایک اور بات۔ عزت سے بات ختم کرنے کا جملہ مت بولیں جب صبح پورے یارڈ کے سامنے میری نشست اور میرا موڑ آپ نے چھینا تھا۔”

دانش نے فوراً آخری چال چلی۔ “خالہ، پھر سیدھی بات کر لیتے ہیں۔ اگلے جمعے تاریخ رکھ دیتے ہیں۔ جو خرچ ہے، میں اٹھا لوں گا۔ بس دفتر میں بھی تعاون ہو، تاکہ دونوں طرف کی شکل بنی رہے۔” یہ پیشکش رشتے کی نہیں، دباؤ کی تھی؛ سب سمجھ گئے۔ بیٹھک میں خاموشی نہیں، ایک سخت قسم کی کھنچاؤ آ گیا۔ مہرین نے اسی لمحے جان لیا کہ اب اس کے پاس صرف ایک جواب رہ گیا ہے: کام والی جگہ پر آخری کٹ۔

اگلی صبح یارڈ کھلتے ہی خبر آ گئی: شہر کے دوسرے سرے پر دو گاڑیاں پھنس گئی ہیں، فریزر مال کم ہے، اور دوپہر تک تین واجب الادا روانگیاں ہر حال میں نکلنی ہیں ورنہ پورا حساب الٹ جائے گا۔ کیش کھڑکی کے سامنے رشید کا چہرہ زرد تھا۔ سیٹھ جمیل خود آئے ہوئے تھے، سفید شلوار کے پائنچے پر دھول جمی تھی۔ ان کے ہاتھ میں روٹ شیٹ تھی، مگر خالی؛ آخری نام بھرنا باقی تھا۔ “ایک ہی چینل سے نکلے گا،” انہوں نے سختی سے کہا۔ “دو الگ سلِپیں نہیں چلیں گی۔ جو شخص نثار، کیش اور ڈرائیور تینوں کو باندھ سکتا ہے، وہ ابھی سامنے آئے۔”

دانش فوراً آگے بڑھا۔ “میں سنبھال لیتا ہوں۔ کل کی بات کو مسئلہ نہ بنائیں۔ رشید، میری لائن—”

“آپ کی لائن پر کل دو ادھار ٹوکن واپس آئے تھے،” رشید کے منہ سے بے اختیار نکل گیا، پھر وہ خاموش ہو گیا۔

مہرین نے اپنی آدھی تہہ شدہ رسید سیدھی کی۔ اس کے پیچھے وہی بقایا نمبرز، وہی دستخط، وہی نشان تھے جو مہینوں سے اصل حساب کو جوڑتے آئے تھے۔ اس نے سیٹھ جمیل سے روٹ شیٹ لی، انگلی کے سیاہی والے دھبے کے ساتھ آخری خانے پر اپنے مختصر حرف رکھے، پھر سرخ مہر روٹ شیٹ کے کونے پر جما دی۔ “بائیں لین۔ پہلے افتخار کا فریزر لوڈ۔ اس کے بعد صدر والی دو بائیکیں۔ کیش کھڑکی سے ٹوکن صرف میری مہر والی سلِپ پر نکلے گا۔ دانش صاحب کی طرف سے کوئی آخری درخواست آئے تو روک دیجیے؛ ان کا چینل اس رن میں شامل نہیں۔”

یہ جملہ ختم ہوتے ہی یارڈ کا بہاؤ بدل گیا۔ عادل نے آواز لگائی، “بائیں لین خالی کرو! مہرین باجی کی سلِپ پہلے!” دو لوڈر جو صبح تک دانش کے گرد تھے، اب مہرین کے ہاتھ سے کاغذ لے کر بھاگے۔ ایک ڈرائیور نے دانش کی بڑھائی ہوئی پرچی لینے سے انکار کر دیا، “بھائی، کیش سے یہی نہیں چل رہی۔” دانش نے روٹ شیٹ پکڑنے کو ہاتھ بڑھایا مگر سیٹھ جمیل نے وہ کاغذ اپنے سینے سے لگا لیا۔ “اب نہیں،” انہوں نے مختصر کہا۔

“مہرین، ایک منٹ سنو،” دانش نے پہلی بار نام کے ساتھ وہ لہجہ اختیار کیا جس میں حکم نہیں، جلدی چھپی ہوئی تھی۔ وہ اس کے برابر آ کر آہستہ بولا، “یہ ذاتی نہ کرو۔ ایک ٹوکن میری طرف بھی کھلوا دو۔ کم از کم بیرونی کلائنٹ والی گاڑی نکل جائے۔”

مہرین نے اس کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ “رشید، میری مہر کے بغیر کوئی سکہ نہ چھوڑنا۔ اور جو بائیک غلط کھڑکی پر آئے، اسے دائیں طرف لگا دو۔” پھر وہ موڑ کی طرف مڑی۔ “عادل، اگلا نام پڑھو۔”

دانش نے ایک اور کوشش کی، اس بار ذرا اونچی آواز میں کہ لوگ سن لیں، “میں منگیتر ہوں تمہارا، یہ تماشا مت بناؤ۔”

مہرین رک گئی، مگر پلٹی نہیں۔ “منگنی وہیں رہتی ہے جہاں عزت بچی ہو۔ یارڈ میں آپ نے جو کٹا تھا، آج وہی کاغذ آپ پر بند ہوا ہے۔” اس نے ہاتھ اٹھا کر بائیں لین کی طرف اشارہ کیا۔ “اگلا لوڈ نکالو۔”

کیش کھڑکی کے نیچے رکھی دھاتی سکہ دان کھڑکی کے ہونٹ سے آدھی باہر نکلی، رشید کے ہاتھ کے دھکے سے ذرا اور سرکی، پھر مہرین کے کہے ہوئے “بس، اس طرف بند” کے ساتھ وہیں رُک گئی۔