ڈسپیچ کی کرسی واپس ہوئی
تیسری وین کے ڈرائیور نے ہارن پر ہاتھ جما رکھا تھا اور لوڈنگ بے میں پھولوں کے کریٹ، گرم دیگوں کے ڈبے اور کولڈ باکس ایک دوسرے کے پیچھے اٹک کر سانس لے رہے تھے کہ کامران نے مہرین کے سامنے چابیوں والی الماری بند کر کے کنڈی چڑھا دی۔ “تم ہاتھ نہیں لگاؤ گی۔ آج ریلیز میں میں بیٹھوں گا۔” اس نے رجسٹر اپنی بغل میں دبایا اور ایسے مڑا جیسے راستہ بھی اسی کی جاگیر ہو۔
مہرین دروازے کے چوکھٹے پر ایک آدھ سانس رکی۔ اندر فون ایک ساتھ بج رہے تھے، باہر مزدور پہیوں والی ٹرالیاں زور لگا کر گھما رہے تھے، مگر غلط لین میں کھڑی ایک وین سب کا گلا گھونٹ رہی تھی۔ اس نے مڑا ہوا آدھا رسیدی پرچہ جیب سے نکالا، ایک نظر وقت پر ڈالی، پھر ارسلان سے کہا، “پہلی گاڑی کو الٹا نہ کاٹنا۔ دولہا سائیڈ کا سامان لین دو سے نکلے گا، لین ایک میں میٹھا ہے۔” کامران نے سنا تو ہنس کر رجسٹر ہوا میں ہلایا۔ “آرڈر اب میرے ہاتھ میں ہے۔ جس کو تنخواہ چاہیے، وہ میری سنے گا۔”
یہ بات صرف دفتر کی نہ تھی۔ پچھلی رات گھر کی میز پر خالہ نے صاف کہا تھا کہ “کامران اب مالک کے بہنوئی کے برابر ہے، اس کے ساتھ بنا کر رکھو، کراچی میں سروس سیکٹر میں چڑھائی ایسے ہی ہوتی ہے۔” گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا کہ مہرین نے اس ہب کے رات دن جوڑے ہیں، مگر رشتے اور سفارش کے سامنے محنت کا نام ہلکا پڑ جاتا ہے۔ آج دو بڑی شادیاں تھیں؛ ایک ڈیفنس میں، ایک گلشن میں۔ ایک غلط ریلیز صرف دیر نہ بنتی، خاندانوں کے سامنے بے عزتی بنتی۔
کامران نے پہلی کال خود لگائی اور پہلی غلطی وہیں کر دی۔ “لین ایک کھولو، بارات ہال والا پہلے نکالو!” اس کے حکم پر شفیق نے میٹھے کی ٹرالی دروازے کی طرف دھکیلی، جبکہ اسی دروازے پر بریانی کے گرم ڈبے آنے تھے۔ دو ٹرالیاں منہ کے بل آمنے سامنے پھنس گئیں۔ ایک کولڈ باکس کا ڈھکن ٹکر سے کھلا اور برف کے پانی کی پتلی لکیر فرش پر دوڑ گئی۔ مہرین نے صرف اتنا کہا، “رکو۔” مگر کامران اس پر چڑھ آیا۔ “تم خاموش رہو۔ تمہیں آج سامنے کھڑا رہنا ہے، چلانا نہیں۔”
سامنے سے دلہن کے ماموں خود آ گئے، سفید شلوار قمیص پر استری کی کڑک باقی تھی مگر چہرے سے اتر چکی تھی۔ ان کے ہاتھ میں کاغذی لفافہ بار بار مڑ رہا تھا۔ “بی بی، قوالی والے پہنچ گئے، ہال میں برف کم ہے، اور آپ لوگوں کی گاڑی ابھی تک نہیں نکلی؟” مہرین نے جواب دینے کو منہ کھولا ہی تھا کہ کامران بیچ میں کودا۔ “بس نکل رہی ہے، انکل، آپ فکر نہ کریں۔” ماموں کی نظر اس کی طرف نہ ٹکی؛ وہ سیدھی مہرین پر جا کر رکی، جیسے اصل جواب وہیں پڑا ہو۔ یہ ایک چھوٹا سا جھکاؤ تھا، مگر لوڈنگ بے میں کھڑے سب نے دیکھا۔
پھر غلط ریلیز نے دروازہ بند کرا دیا۔ کامران نے میٹھے کی ٹرالی پہلے دھکیلنے کو کہا، پیچھے سے گرم ڈبوں والا رکشہ اندر آ گیا، دروازہ آدھا کھلا رہ گیا، پہیہ چوکھٹ میں پھنسا، اور دو آدمی ایک دوسرے پر چیخنے لگے۔ فون پھر بجا۔ اس بار نادیہ، جو فرنٹ ڈیسک پر تھی، دوڑتی آئی۔ “گلشن والوں کی پھوپھو لائن پر ہیں۔ کہہ رہی ہیں، ‘گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہے ہم نے یہ آرڈر کہاں سے رکھا، اگر سامان نہ پہنچا تو ہم سیدھا مالک کو کال کریں گے۔’” نادیہ نے یہ آہستہ کہنا چاہا تھا، مگر ہڑبونگ میں سب نے سن لیا۔
کامران نے غصے میں رجسٹر کھولا، دو صفحات الٹے، پھر غلط نمبر پر انگلی رکھ دی۔ “یہ نکالو، یہ پہلے ہے۔” مہرین نے ایک قدم آگے بڑھایا۔ “وہ ولیمے کا ہے، رات آٹھ بجے۔ ابھی جو کھڑا ہے وہ عصر والی روانگی ہے۔” اس نے ہاتھ بڑھا کر رجسٹر پکڑنا چاہا تو کامران نے کھینچ لیا۔ “یہی مسئلہ ہے تم لوگوں کا۔ دو سال میز کے پاس کھڑی رہ کر اپنے آپ کو مالک سمجھنے لگتی ہو۔” بات سیدھی اس کی پیشانی پر نہیں ماری گئی تھی، مگر اتنی اونچی ضرور تھی کہ مزدوروں کے کانوں میں چبھ جائے۔ شفیق نے نظریں جھکا لیں۔ ارسلان نے ٹرالی کا ہینڈل چھوڑ کر ہاتھ پونچھے اور کسی کی طرف نہ دیکھا۔
پھر گھڑی نے ان سب کی زبانیں کاٹ دیں۔ مسجد سے ظہر سے پہلے کی اذان کی تیاری کی ہلکی آواز آ رہی تھی، اور مہرین جانتی تھی کہ اگر یہ گلشن والی گاڑی اگلے سات منٹ میں نہ نکلی تو شاہراہ پر جمعہ سے پہلے کا دباؤ اس کا وقت چبا جائے گا۔ اسی لمحے پچھلی طرف والے کولڈ روم کی چابی نہ ملنے پر ایک لڑکا چیخا، “آئس کریم پگھل رہی ہے!” یہ وہ نقطہ تھا جہاں کاغذ، رعب اور خاندانی نسبت سب بیکار ہو جاتے ہیں۔
مہرین نے کامران کے جواب کا انتظار نہیں کیا۔ وہ سیدھی بند الماری تک گئی، اوپر کے خانے سے لٹکی اضافی پتلی چابی نکالی جو لوگ اکثر بھول جاتے تھے، کنڈی کے نیچے سے اسے گھمایا اور الماری کھول دی۔ دھات کی انگوٹھی میں لگی ماسٹر چابیاں اس کی ہتھیلی میں آ گریں۔ “ارسلان، کولڈ روم کھول۔ شفیق، لین دو خالی کر۔ حبیب، وہ رکشہ ریورس لے جا، ابھی۔” اس کی آواز نہ اونچی تھی نہ کانپتی ہوئی۔ بس سیدھی تھی، اور سیدھی آوازیں ہنگامے میں سب سے پہلے راستہ بناتی ہیں۔
کامران لپکا۔ “میں نے منع کیا تھا—” مہرین نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا، “منع سے گاڑی نہیں نکلتی۔” پھر اس نے خود جا کر پھنسے پہیے کے نیچے لکڑی کی پٹی ٹھونکی، ٹرالی کو ایک جھٹکے سے دائیں موڑا، اور میٹھے کا راستہ بدل دیا۔ “پہلے برف، پھر رائتہ، پھر گرم ڈبے۔ پھول آخر میں۔” شفیق نے ایک پل کامران کی طرف دیکھا، پھر مہرین کی طرف، اور اس بار اس نے اس کے حکم پر ہاتھ چلایا۔ دو منٹ کے اندر بند دروازہ کھلا، کولڈ باکس سیدھا وین میں گیا، اور گلشن والا سامان، جسے کامران رجسٹر میں غلط جگہ پڑھ رہا تھا، واقعی باہر کی طرف سرکنے لگا۔
پہلی گاڑی کے پچھلے دروازے بند ہوئے تو نادیہ نے فرنٹ ڈیسک سے چیخ کر کہا، “نکال دو! راستہ مل گیا!” ڈرائیور نے بغیر دوسری بات کے اگنیشن گھمایا۔ وین جھٹکے سے آگے بڑھی، پھولوں کے دو ڈنٹھل پیچھے گر کر ٹائر تلے دب گئے، اور لوڈنگ بے میں ایک ایسا خلا بنا جس میں سب کو ایک حقیقت دکھائی دے گئی: حرکت اس کے ہاتھ سے ہوئی تھی جسے ابھی ابھی روکا گیا تھا۔
اسی خلا میں شفقت صاحب آ گئے۔ وہ مالک کے پرانے شریک تھے، دُبلا سا جسم، مگر آنکھ وہ جو نقصان کو دور سے سونگھ لیتی ہے۔ ان کے ساتھ دو آدمی اور تھے، شاید دلہن سائیڈ کے رشتے دار، کیونکہ ان کے لباس دفتر کے آدمیوں جیسے نہ تھے۔ انہوں نے ایک نظر فرش پر پگھلتی برف، کچلی ہوئی پھولوں کی پتیوں اور غلط دروازے میں پھنسی خالی ٹرالی پر ڈالی، پھر سیدھا کامران سے پوچھا، “ابھی تک دوسری گاڑی کیوں کھڑی ہے؟”
کامران نے رجسٹر کھولا، مگر الفاظ اس کے ہاتھ میں پھنس گئے۔ “سر، میں… ترتیب بدل رہی تھی…” “ترتیب تم نے بگاڑی ہے،” مہرین نے کہا اور اگلی ٹرالی خود پکڑ کر کھینچی۔ “ڈیفنس والی وین کو پچھلے گیٹ سے نکالنا ہو گا۔ سامنے والی گلی میں جنازہ جا رہا ہے، راستہ بیٹھ جائے گا۔” یہ بات صرف وہ جانتی تھی کیونکہ صبح بس سے اترتے ہوئے وہ اسی موڑ سے آئی تھی۔ ارسلان نے فوراً ڈرائیور کو ہاتھ دیا۔ “پیچھے لو، باجی کہہ رہی ہیں۔”
کامران نے آخری زور لگایا۔ “سر، ایک عورت کو ڈاک پر کھڑا کر کے آپ—” شفقت صاحب کی نگاہ اس پر یوں گری جیسے کسی نے سستا ڈھکن مہنگی دیگ پر رکھ دیا ہو۔ “عورت کو نہیں۔ کام جاننے والے کو۔” انہوں نے ہاتھ بڑھایا۔ “چابیاں۔” کامران ایک سانس بھر کے لیے جمود میں کھڑا رہا۔ دھات کی انگوٹھی اس کی انگلی میں نہ تھی؛ وہ پہلے ہی مہرین کی مٹھی میں تھی۔ یہ اس کی دوسری ہار تھی، پہلی سے زیادہ بری، کیونکہ اس بار سب کے سامنے ہاتھ خالی تھا۔ اس نے رجسٹر سینے سے لگایا رکھا مگر کسی نے اس کی طرف دیکھا تک نہیں۔
دوسری روانگی سب سے سخت تھی۔ ڈیفنس والے آرڈر میں سیخوں کے کیس، ڈیزرٹ چِلر، سجاوٹی محراب کے پیکٹ اور الگ سے خاندان کی بھیجی ہوئی خشک میوے کی پلیٹیں تھیں جن پر نامی لفافے چسپاں تھے۔ ایک غلط بکسہ غلط ہال پہنچتا تو صرف شکایت نہ بنتی؛ دونوں خاندان ایک دوسرے پر انگلی اٹھاتے۔ فون پر کسی بزرگ خاتون کی آواز اسپیکر سے پھٹ رہی تھی، “بیٹا، مہندی ہمارے گھر سے نکل چکی، سامان ابھی تک کیوں نہیں؟” مہرین نے نادیہ سے فون لیا نہیں؛ بس ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش رہنے کو کہا اور خود ڈرائیور کے دروازے تک گئی۔
“پچھلا گیٹ۔ شاہراہ نہیں، اندرونی گلی۔ حبیب آگے موٹر سائیکل پر جائے گا۔” “وہاں جگہ کم ہے،” ڈرائیور بولا۔ “جگہ کم ہے، وقت کم تر ہے۔ چلو۔” اس نے پھر مڑ کر زور سے کہا، “محراب کے ڈبے اوپر نہیں، بائیں دیوار کے ساتھ۔ خشک میوے کی ٹرے الگ رکھو، نام باہر کی طرف۔ اور سنو—” اس نے شفیق کے ہاتھ سے رجسٹر لے کر صحیح صفحہ کھولا، انگلی رکھ دی، “یہ دستخط یہاں ہوں گے، روانگی کے بعد۔ پہلے لوڈ۔”
کامران نے ایک بار پھر حکم چلانے کی کوشش کی۔ “نہیں، پہلے رسید—” مگر اس کی آواز اسی لمحے دب گئی جب دو مزدور اس کے قریب سے نکلتے ہوئے اس کے کندھے سے بچ کر مہرین کے اردگرد جا کھڑے ہوئے۔ کوئی اعلان نہ ہوا، کوئی بیعت نہ ہوئی، بس جسموں کی سمت بدل گئی۔ لوڈنگ بے میں یہی اصل ووٹ ہوتا ہے۔ وہ حکم جس پر پہیے گھومیں، وہی اختیار۔
تیسرا جھٹکا تب آیا جب پچھلے گیٹ کی سلائیڈنگ شٹر اٹک گئی۔ زنجیر اوپر جا کر واپس لٹک آئی اور ڈیفنس والی وین آدھی اندر آدھی باہر پھنسی رہی۔ باہر سے بارات کے ڈھول کی مدھم تھاپ سنائی دے رہی تھی؛ اندر ہر سیکنڈ پیسے اور عزت دونوں کھا رہا تھا۔ کامران نے فوراً کہا، “میں دیکھتا ہوں، سب ہٹو!” اس نے غلط کُنڈی پر زور ڈالا، زنجیر اور پھنس گئی۔ شٹر کے اوپر کی پلیٹ چِرکی، دھات نے بدصورت چیخ ماری۔ یہی وہ لمحہ تھا جس پر نقصان آنکھ سے نظر آتا ہے۔
“ہٹو,” مہرین نے کہا۔ ایک لفظ۔ اس نے ماسٹر چابیوں میں سے چھوٹی لمبی دانت والی چابی چھانی، سائیڈ لاک میں لگائی، آدھا موڑ دائیں، پھر بائیں۔ “ارسلان، جب میں کہوں، تب کھینچنا۔ زور ابھی نہیں۔” اس نے کامران کے ہاتھ سے زنجیر الگ کرائی، اس کی انگلیاں خود بخود ڈھیلی پڑ گئیں۔ “اب۔” شٹر ایک جھٹکے سے اوپر گیا۔ وین کی چھت نے آہستہ سے سانس لی اور راستہ کھل گیا۔
شفقت صاحب اب بالکل پاس کھڑے تھے۔ ان کے ساتھ آئے رشتے داروں میں سے ایک، غالباً دلہن کا چچا، بےساختہ بول اٹھا، “پہلے اسی کو بٹھانا چاہیے تھا نا رجسٹر پر۔” وہ تعریف نہ تھی؛ وہ حساب تھا، سب کے سامنے، غلط آدمی کے خلاف۔ کامران کے چہرے کا رنگ ایسا ہوا جیسے کسی نے ایک دم سے بتی مدھم کر دی ہو۔
آخری رکاوٹ سب سے قیمتی نکلی۔ خشک میوے کی نام والی ٹرے غائب تھیں۔ نادیہ نے گھبرا کر کہا، “فرنٹ میں نہیں، کولڈ روم میں نہیں!” کامران فوراً بولا، “میں نے تو صبح ہی کہا تھا—” مہرین نے اسے کاٹ دیا۔ “جھوٹ بعد میں بولنا۔” اس نے ایک نظر پھولوں کے خالی کریٹ پر ڈالی، پھر پچھلی دیوار کے ساتھ رکھے کاغذی لپیٹ والے پتلے ڈبوں کی طرف گئی۔ ایک ڈبہ ہلایا؛ اندر پلیٹوں کی ہلکی ٹکر سنائی دی۔ “یہ میٹھے کے ساتھ کس نے رکھے؟” شفیق نے کان کھجاتے ہوئے ہاتھ اٹھایا، “بھائی نے کہا تھا ایک ساتھ….” “اٹھاؤ۔ ابھی۔” اس نے ڈبے خود کھول کر نام باہر کیے، کاغذ کی خشک سرسراہٹ تیز ہوئی، لفافے سیدھے کیے، پھر ٹرے وین کے اگلے حصے میں رکھوا دیں۔ “اب بند کرو دروازہ۔”
ڈرائیور نے مہرین کے اشارے پر دروازہ پٹخا۔ لَچک کی آواز آئی، پھر لاک بیٹھ گیا۔ باہر موٹر سائیکل پر حبیب نے ہاتھ اٹھایا۔ مہرین نے دو قدم پیچھے ہٹ کر راستہ صاف کیا اور کہا، “نکالو۔” وین چلی۔ اس بار بغیر ہارن، بغیر جھٹکے، سیدھی۔ اس کے پچھلے ٹائروں نے گیلے فرش پر ایک لمحے کو سیاہ لکیر چھوڑی اور پچھلے گیٹ سے باہر نکل گئی۔ جو بوجھ آدھے گھنٹے سے سب کے سینے پر دبا تھا، وہ گاڑی کے ساتھ باہر گیا—اور اس کے ساتھ کامران کی بچی ہوئی آواز بھی۔
شفقت صاحب نے مہرین کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ اس میں رجسٹر نہ تھا، نہ کوئی کاغذ۔ صرف چابیوں کی دھاتی انگوٹھی لینے اور واپس دینے کی صاف نیت تھی۔ مہرین نے اپنی مٹھی کھولی۔ انہوں نے چابیاں ایک لمحے کو ہاتھ میں لیں، پھر وہیں لوڈنگ ڈاک کے کنارے، سب کے سامنے، دوبارہ اس کی ہتھیلی پر رکھ دیں۔ “اب سے ریلیز تم کرو گی۔ رجسٹر بھی۔” کامران کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر لفظ پہلے ہی اس کے خلاف گواہی بن چکے تھے۔ اس کے پاس کھڑا رہنے کی جگہ تھی، حکم دینے کی نہیں۔ نادیہ خاموشی سے رجسٹر اٹھا کر مہرین کی طرف لے آئی اور میز کے اس حصے پر رکھ دیا جہاں وہ ہمیشہ رکھا کرتی تھی۔
مہرین نے فوراً کرسی نہ لی۔ پہلے اس نے اگلی دو روانگیوں کے نمبر بولے، غلط لین خالی کرائی، اور کھڑے مزدوروں کو یوں کاٹا جیسے بند سانس میں راستہ بنایا جاتا ہے۔ “یہاں سے صرف کولڈ باکس۔ پھول بعد میں۔ اور کوئی میرے کہے بغیر شٹر نہیں کھولے گا۔” پھر اس نے رجسٹر کھولا، صفحہ سیدھا کیا، ایک نظر وقت پر ڈالی، اور بیٹھ گئی۔ اس ایک بیٹھنے میں جتنی بات تھی، اتنی سارا دن بول کر بھی نہ بنتی۔
دوپہر ڈھلتے ڈھلتے لوڈنگ بے کا شور بکھر کر معمول کی محنت میں بدل گیا۔ فرش دھل چکا تھا، کچلی ہوئی پتیوں کا نشان بھی ہلکا پڑ گیا تھا۔ دیوار کے ساتھ لگی چابیوں والی الماری کھلی تھی۔ مہرین نے ماسٹر چابیاں انگوٹھی سمیت اندر ٹانگیں، دروازہ بند کیا۔ دھات ایک بار بجی، ہلکی سی جھولی، پھر بالکل ساکت ہو گئی۔