کاؤنٹر کا پورا منظر اسی پر پلٹ گیا
“اسے ابھی روکو،” ندا بھابھی نے رجسٹر پر اپنی نیل پالش والی انگلی ٹکا کر کہا، اور مہرین کا پرانا، تہہ پڑا لینیارڈ کاؤنٹر پر بے حرک پڑا رہا جبکہ اس کے پیچھے کھڑا لڑکا اپنی گاڑی کا ٹوکن لے کر اندر نکل گیا۔
کاؤنٹر کے اوپر پڑی چائے کی پیالی اتنی دیر سے ٹھنڈی ہو چکی تھی کہ اس کے نیچے میز پر بھورا سا دائرہ بن گیا تھا۔ مہرین نے وہی دائرہ دیکھا، پھر اپنا لینیارڈ۔ دھاگہ کئی بار کے استعمال سے چمک کھو چکا تھا، کناروں سے روئیں نکل رہے تھے۔ کراچی کے اس نجی شادی ہال کے داخلی حصے میں روشنی سفید تھی، مگر تماشہ خاندانی تھا؛ پیچھے خالہ صائمہ، دو کزن، اور لڑکے والوں کی طرف کے تین لوگ واضح دیکھ رہے تھے کہ جس نے سارا ہفتہ سروس سیکٹر کے ٹھیکیداروں، پھول والوں اور کیٹرنگ والوں کے بیچ بھاگ دوڑ کی، اسی کو دروازے پر روک دیا گیا ہے۔
“ندا بھابھی، یہ وینڈر پاس ہے،” عمران کلرک نے ہلکے سے کہا، “دلہن والے فلور کی فہرست—”
“مجھے مت سمجھاؤ، عمران۔” ندا نے بات کاٹ دی۔ “گھر کے مہمان پہلے جائیں گے۔ باہر کے لوگ اپنی باری سے۔ اور یہ”—اس نے مہرین کو سر سے پاؤں تک دیکھا، جیسے کسی کرائے کے کام والے کو ناپ رہی ہو—“ابھی لائن سے ہٹ کر کھڑی رہے۔”
باہر کے لوگ۔ لفظ سستا تھا، ضرب مہنگی۔ خالہ صائمہ کے ہونٹ ذرا سخت ہوئے، مگر انہوں نے کچھ نہ کہا۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا کہ مہرین پچھلے دو مہینوں سے اسی شادی کے انتظام میں لگی ہوئی ہے، یہ بھی کہ وہ حیدر کے ساتھ برسوں سے ایک سنجیدہ حد پر کھڑی ہے جہاں نام ابھی زبان پر نہیں آیا مگر انکار بھی ممکن نہیں رہا۔ اسی لئے ندا کا یہ لہجہ صرف کاؤنٹر کا نہیں، رتبے کا تھا۔
مہرین نے کاؤنٹر سے اپنا آدھا مڑا ہوا رسیدی پرچہ سیدھا کیا۔ اس پر ڈراپ آف گاڑیوں کے نمبر، پھول والوں کی پیشگی، اور آخری ادائیگی کی رقم لکھی تھی۔ “مجھے اندر جانا ہے۔ دلہن کے کمرے کے دو حساب ابھی میرے پاس ہیں۔”
ندا ہنسی نہیں، صرف مسکرائی؛ وہ بدترین قسم تھی۔ “بس یہی مسئلہ ہے۔ ہر کسی کو لگتا ہے ہال اسی کے زور پر چل رہا ہے۔ مہرین، تمہیں سمجھ نہیں آ رہی؟ تم مہمان نہیں ہو۔ تمہیں جب بلایا جائے گا تب جاؤ گی۔ سامنے کھڑے ہو کر گھر کی عورتوں کے برابر مت آؤ۔”
عمران نے ایک اور پاس آگے بڑھایا۔ ندا نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔ “جو میں کہہ رہی ہوں وہ لکھو۔ اس کا پاس ہولڈ پر۔” پھر اس نے رجسٹر کھول کر مہرین کے نام کے سامنے سرخ قلم سے ایک دائرہ بنایا اور نیچے لکھا: “صرف ہدایات پر داخلہ، ڈراپ آف روکنا۔” آخر میں اس نے اپنے دستخط جمائے، اتنے بڑے کہ دور کھڑی خالہ بھی دیکھ سکیں۔ “اب ٹھیک ہے۔ بعد میں کوئی بحث نہ ہو۔”
مہرین نے وہی لمحہ پکڑ لیا۔ دستخط سب کے سامنے ہوئے تھے۔ ندا نے خود ایک زندہ رجسٹر پر پابندی لکھی تھی، صرف زبان سے نہیں۔ کاؤنٹر کے پاس لفٹ کے سٹیل والے پینل میں پرانی صفائی کے دھبے تھے؛ ان دھبوں میں ایک لمحے کو مہرین نے اپنا چہرہ دیکھا، بے آواز، سیدھا۔ دوسری زندگی کا احساس ایسے ہی آتا ہے، شور کے بیچ ایک ٹھنڈی لکیر کی طرح—یہ منظر وہ پہلے بھی جھیل چکی تھی۔ پچھلی بار اس نے سمجھانے کی کوشش کی تھی، آنکھیں نم کی تھیں، اور آخر میں اسے ہی “ہنگامہ کرنے والی” کہا گیا تھا۔ اس بار نہیں۔
اس نے بیگ سے فون نکالا، اسکرین پر صرف ایک نمبر کھولا، اور عمران سے نہیں، ندا سے نظریں ہٹائے بغیر کہا، “عمران، ایک منٹ۔ رجسٹر وہیں رکھو۔” پھر اس نے کال ملا دی۔ “جی، سلیم بھائی؟ میں مہرین۔ ہاں، سامنے کاؤنٹر پر۔ جی، اب۔ آپ باسط صاحب کو صرف اتنا کہہ دیں: دلہن والے فلور کی ریلیز لسٹ روکی گئی ہے، اور سپلائر انٹری پر غلط پابندی دستخط کے ساتھ لگ گئی ہے۔ جی، ابھی کے ابھی چیک کر لیں۔”
ندا نے گردن ذرا ٹیڑھی کی۔ “واہ۔ اب ڈرائیوروں سے حکم چلواؤ گی؟”
مہرین نے فون بند کیا۔ “نہیں۔ بس صحیح آدمی تک صحیح بات پہنچا دی ہے۔”
ردعمل فوراً شور کی شکل میں نہیں آیا۔ پہلے عمران کی آنکھیں دروازے کی طرف گئیں، پھر اس نے سیدھا کھڑا ہونا شروع کیا۔ دو منٹ بھی نہیں گزرے تھے کہ اندر سے ہال منیجر باسط تیز قدموں سے آیا۔ اس کے ساتھ واکی ٹاکی والا حفاظتی نگران بھی تھا۔ باسط نے کاؤنٹر تک پہنچتے ہی رجسٹر کھولا، سرخ دائرہ دیکھا، پھر اوپر چھپا ہوا چھوٹا سا کوڈ دیکھا جو صرف سپلائر رسائی اور ڈراپ آف ریلیز کے لئے ہوتا تھا۔
“یہ کس نے لگایا؟” اس نے پوچھا، مگر سوال خالی نہیں تھا؛ اس کی نگاہ دستخط پر تھی۔
ندا نے فوراً کندھے سیدھے کئے۔ “میں نے۔ گھر کی بڑی بہو ہوں۔ آج کے اندرونی بندوبست میرے سپرد ہیں۔ کچھ لوگ اپنی حد بھول رہے تھے، میں نے بس—”
“یہ کوڈ آپ استعمال نہیں کر سکتیں، میڈم۔” باسط کی آواز خشک ہو گئی۔ “یہ صرف آپریشنل ہولڈ کے لئے ہے۔ اس پر دستخط ہوتے ہیں تو گاڑی، مال، اور متعلقہ داخلہ سب ایک ساتھ جَم جاتے ہیں۔ غلط لگ گیا تو پورا فلور رک سکتا ہے۔”
اب پہلی بار لائن نے سانس روکی۔ عمران نے رجسٹر ندا کی طرف سے کھینچ کر مہرین کے سامنے رکھ دیا، جیسے میز ہی اپنی سمت بدل گئی ہو۔ باسط نے صاف الفاظ میں کہا، “اگلی کارروائی مہرین صاحبہ کی ہدایت سے ہوگی۔ دلہن والے فلور کے سپلائر اور ڈراپ آف انہی کے ذریعے کھلیں گے۔ عمران، ان کا پاس جاری کرو۔ ابھی۔ اونچی آواز میں نام لے کر۔”
“مہرین صاحبہ، آپ کا پاس تیار ہے،” عمران نے سننے والوں کے سامنے کہا، اور وہی کارڈ جو چند لمحے پہلے بے جان پڑا تھا، اب اس نے دونوں ہاتھوں سے اٹھا کر مہرین کی طرف بڑھایا۔
ندا کا چہرہ ایک دم سخت نہیں، ڈھیلا پڑا۔ یہی زیادہ خطرناک ہوتا ہے؛ جب آدمی کو یقین ہو کہ اس کا لفظ حکم ہے، اور ایک چھوٹی سی تصدیق آ کر اس لفظ کی ہڈی نکال دے۔ خالہ صائمہ نے پہلی بار سیدھا مہرین کو دیکھا، پھر ندا کو نہیں۔ اس ایک نظر میں پورا رشتہ نام نہیں، مگر درجہ پا گیا۔
مہرین نے پاس گلے میں ڈالا۔ “دلہن کے کمرے کی دو ٹرالیاں باہر کھڑی ہیں۔ پہلے وہ اندر جائیں گی۔ پھر بزرگوں کی گاڑیاں۔” اس نے جملہ ایسے کہا جیسے وہ شروع سے یہی کر رہی تھی، جیسے بحث کبھی ہوئی ہی نہ ہو۔
باسط نے فوراً واکی ٹاکی پر احکامات دے دیے۔ دروازے کے باہر ڈراپ آف ٹرن کی طرف شور ہلنے لگا۔ گلاب کے ڈبے، پانی کے کریٹ، میک اپ ٹرنک، سب نئی ترتیب میں آنے لگے۔ عمران نے رجسٹر بند نہیں کیا؛ اسے کھلا رکھا، اور کاؤنٹر کے کنارے پر مہرین کی سمت موڑ دیا۔ وہ موڑنا کافی تھا۔ ندا نے دیکھ لیا کہ اب نام کون لے رہا ہے، اور کس لہجے میں۔
مگر ندا پیچھے ہٹنے والی عورتوں میں سے نہیں تھی۔ وہ تیزی سے کاؤنٹر چھوڑ کر باہر کی طرف بڑھی، جہاں ڈراپ آف کی چھوٹی سی مڑتی گزرگاہ بولارڈوں اور زنجیر سے بندوبست میں رکھی جاتی تھی۔ مہرین بھی پیچھے نکلی۔ باہر شام کے نیلے میں ہیڈلائٹس کی روشنی چپک رہی تھی، اور موڑ پر ایک سفید کار آدھی گھسی، آدھی رکی کھڑی تھی۔ ڈرائیور سلیم ایک طرف کھڑا فون کان سے لگائے تھا۔
ندا نے اونچی آواز میں کہا، “یہ لین ابھی بند رہے گی۔ کوئی گاڑی آگے نہیں جائے گی جب تک میں نہ کہوں۔ خاص طور پر یہ وین—اسے گھماؤ واپس۔”
حفاظتی نگران فوراً رکا، کیونکہ الفاظ اب بھی زور سے کہے گئے تھے، اور زور بعض اوقات سچ جیسا لگتا ہے۔ مگر باسط نے اس کے ہاتھ سے رجسٹر لے لیا، وہی کھلا صفحہ، وہی سرخ دائرہ، وہی دستخط۔ “بند رہے گی؟” اس نے صرف اتنا کہا، اور ندا کے سامنے تحریر پر انگلی رکھ دی۔ “آپ نے خود آپریشنل ہولڈ لگایا ہے۔ کوڈ کے مطابق جس کے دستخط ہوں، اضافی مداخلت پر اسی کا راستہ روکا جاتا ہے جب تک کلیئرنس نہ ہو۔ ابھی آپ اسی پابندی کے تحت ہیں، میڈم۔ آپ ڈراپ آف کنٹرول ایریا میں داخل نہیں ہو سکتیں۔”
ندا ایک قدم اور آگے بڑھی، شاید عادت سے، شاید یقین کے آخری زور سے۔ “تم مجھے روکو گے؟ میرے اپنے گھر کے فنکشن میں؟”
مہرین نے سلیم سے کہا، “دلہن والی ٹرالی آگے لاؤ۔”
یہی آخری دھکا تھا۔ ندا نے ہاتھ اٹھا کر زنجیر کی طرف اشارہ کیا۔ “اسے کھولو مت۔ میں نے کہا نا، پہلے یہ نہیں جائے گی—”
حفاظتی نگران نے ضابطے کے مطابق بولارڈ کے سرے میں زنجیر کا ہک پلٹ دیا، مگر کھولنے کے لئے نہیں؛ روکنے کے لئے۔ ندا جس سمت جھپٹی تھی، اسی سمت زنجیر ایک جھٹکے سے کھنچی، لوہے کے دو ستونوں کے بیچ تنی، اور ڈراپ آف ٹرن پر اس کے سامنے کٹ کر جم گئی۔ اسی لمحے مہرین نے اپنا پاس اوپر اٹھایا، سلیم کو اندر کا اشارہ دیا، اور دلہن والے سامان کے ساتھ زنجیر کے دوسرے راستے سے پروسیسنگ لین میں قدم رکھ دیا۔