Fast Fiction

فرنٹ رو اس کے نام ہو گئی

فراز صاحب نے اپنی بازو سے راستہ روکا اور کہا، “آپ نہیں، آپ پیچھے۔ یہ وی آئی پی لفٹ ہے۔ سروس لفٹ سے جائیں۔” لفٹ لابی میں کانچ کی دیواروں پر دوپہر کی روشنی چمک رہی تھی، قالین پر جوتوں کی قطار رگڑ کھا رہی تھی، اور سامنے وقاص—جو پچھلے مہینے تک ماہرہ سے پریزنٹیشن کا فونٹ پوچھتا تھا—فراز صاحب کے اشارے پر سیدھا اندر چلا گیا۔ ماہرہ کے ہاتھ میں نیلا فولڈر تھا، کنارے پر پرانے قلم کا داغ، اور دوسری انگلیوں میں ایک بھورا لفافہ اس خشکی سے چرچرا رہا تھا جیسے کاغذ بھی اس تذلیل کو سن رہا ہو۔ بائیں طرف چائے کی ٹرالی پر ایک کپ دیر سے ٹھنڈا ہو کر ہلکا سا چھلکا باندھ چکا تھا۔

ماہرہ نے راستہ نہیں مانگا۔ بس ایک قدم دائیں ہٹ کر لابی کے درمیان کھڑی ہو گئی، تاکہ جس کسی کو اوپر جانا ہو، اسے اس کے پاس سے ہو کر گزرنا پڑے۔ یہی فراز صاحب نے نہیں سوچا تھا۔ وہ اسے دیوار کے ساتھ چپکی، خاموش، شکر گزار قسم کی لڑکی سمجھتے تھے؛ وہی لڑکی جو کراچی کی بسوں میں دھکے کھا کر بھی دفتر پہنچے، پھر بھی کریڈٹ کسی اور کے نام پر جاتا دیکھ کر صرف فائل سنبھال لے۔

“آپ کو سمجھنا چاہیے موقع کیا ہے،” فراز صاحب نے اتنی اونچی آواز میں کہا کہ رجسٹریشن کاؤنٹر پر جھکی ہوئی عالیہ باجی نے بھی سر اٹھا لیا۔ کاؤنٹر کے کنارے پر بکھرے بیج، پن، مہمانوں کی فہرستیں اور نیم کھلا اسٹیپلر اس طرح پڑے تھے جیسے صبح سے کسی کو چین نہ آیا ہو۔ “اوپر ایوارڈ تقریب ہے۔ آپ کا کام پس منظر میں رہنا ہے۔ اسپیکر نوٹس، ناموں کی ترتیب، سیٹنگ—یہ سب۔ سامنے آنے والے لوگ الگ ہوتے ہیں۔”

الفاظ میں نوکری تھی، نشانہ عزت تھی۔ لابی کے دوسری طرف سعد اپنی خالہ کے ساتھ کھڑا تھا۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا کہ بات چل رہی ہے، نام ابھی بند کمروں سے باہر نہیں آیا تھا۔ ایسی صورت میں ایک غلط منظر کافی ہوتا ہے؛ لوگ رشتہ نہیں دیکھتے، مرتبہ دیکھتے ہیں۔

خالہ نے سعد کے کان کے قریب سر کیا۔ آواز آہستہ تھی، مگر لفظ “پیچھے” اور “کام والی لڑکی جیسا” ماہرہ تک صاف آیا۔ سعد کی انگلیاں اپنی گاڑی کی چابی سے کھیلتے کھیلتے رک گئیں۔ ماہرہ کے گلے میں کچھ سخت سا اترا، مگر چہرہ نہیں بدلا۔

فراز صاحب نے وقاص کو پکارتے ہوئے کہا، “اوپر جا کر اسٹیج ٹیم کو بتا دیں، ماہرہ بس نیچے سے چیزیں بھجوا دے گی۔ اس کے بغیر بھی پروگرام چلتا ہے۔” یہ پہلا جھوٹ تھا جو بہت لوگوں کے سامنے بولا گیا۔ اور جھوٹ کا فائدہ یہ تھا کہ اسے اگر فوراً نہ روکا جائے تو وہ حکم بن جاتا ہے۔

ماہرہ نے پہلی بار سیدھا جواب دیا۔ آواز ہموار تھی، “اچھا، چونکہ میرے بغیر بھی پروگرام چلتا ہے، تو ایک بات ابھی یہیں بتا دیجیے۔” فراز صاحب نے ابرو اٹھائے۔ “کیا؟” “افتتاحی سیشن کے بعد جو کلائنٹ سائننگ ہے، اس کی ترمیم شدہ شرائط کس ڈرافٹ میں گئیں؟ تیسرے میں یا پانچویں میں؟ اور پہلے قطار کے نام کس ترتیب سے بدلائے گئے؟ آپ نے ابھی اوپر جا کر اعلان کرنا ہے نا—تو یہیں بتا دیجیے۔”

لفٹ کے دروازے ایک بار کھل کر بند ہوئے، مگر اندر جانے والے دو لوگ باہر ہی رک گئے۔ سوال معمولی نہ تھا؛ یہی وہ معیار تھا جس سے فراز صاحب اسے نیچے دھکیل رہے تھے۔ اب وہی معیار ان کے سامنے رکھ دیا گیا تھا۔

انہوں نے ہلکی سی ہنسی نکالی۔ “یہ تکنیکی باتیں لابی میں کھڑے ہو کر نہیں ہوتیں۔” ماہرہ نے فوراً پلٹایا، “پھر لابی میں کھڑے ہو کر یہ کیسے طے ہو گیا کہ میں سروس لفٹ سے جاؤں اور اوپر وہ لوگ جائیں جنہیں اپنی نشستوں کی ترتیب تک معلوم نہیں؟”

سعد کی خالہ کی گردن ایک جھٹکے سے سیدھی ہوئی۔ وقاص، جو لفٹ کے اندر تھا، باہر قدم رکھ کر موبائل اس طرح دیکھنے لگا جیسے شاید جواب اسکرین پر مل جائے۔ فراز صاحب کے چہرے پر پہلی بار وہ خالی پن آیا جو تب آتا ہے جب آدمی طاقت کے عادی لہجے میں ہو مگر مواد اس کے پاس نہ ہو۔

انہوں نے جلدی سے کہا، “ناموں کی ترتیب تو کمیٹی نے بھیجی ہے۔ آپ نے بس لکھا ہوگا۔” “تو کمیٹی کے بھیجے ہوئے نام کا اصل پرنٹ آؤٹ آپ کے پاس ہے یا میرے فولڈر میں؟” ماہرہ نے بھورا لفافہ اوپر کیا۔ کاغذ نے خشک آواز کی۔ “اور اگر میں نے بس لکھا ہے، تو آج کے پروگرام کی آخری منظوری پر آپ کے دستخط کے نیچے میرے ابتدائیے کیوں ہیں؟”

اب لابی صرف لابی نہیں رہی تھی؛ یہ وہ جگہ بن گئی تھی جہاں اوپر جانے کا حق اور سامنے بیٹھنے کی حیثیت ایک ساتھ تولی جا رہی تھی۔

اسی وقت سائیڈ کے دروازے سے عالیہ باجی تیز قدموں سے آئیں۔ ان کے پیچھے ہوٹل کا ایک سکیورٹی سپروائزر اور ایونٹ کے مرکزی منتظم جناب کامران تھے، جو عام طور پر صرف مائیک پر نام لیتے دکھائی دیتے تھے۔ عالیہ باجی کے ہاتھ میں مہمانوں کی فہرست والا بورڈ تھا، اوپر کلپ میں تازہ پرچی لگی ہوئی۔

“فراز صاحب، آپ یہاں کیوں روکے ہوئے ہیں انہیں؟” عالیہ باجی کی آواز کاٹ دار تھی۔ “کامران صاحب اوپر ماہرہ کو ڈھونڈ رہے تھے۔” کامران نے ماہرہ کے فولڈر کی طرف دیکھا، پھر لابی میں کھڑے سب لوگوں کی طرف۔ “یہی ہیں نا ماہرہ صاحبہ؟” “جی۔” انہوں نے بورڈ سے پرچی نکال کر سب کے سامنے پڑھی، “افتتاحی اعزاز اور پہلی قطار کی ترتیب ماہرہ یوسف کی حتمی ترتیب کے مطابق ہوگی۔ آج کی کلیدی پیشکش کا مواد اور نشستوں کی ازسرنو ترتیب انہی کی تیار کردہ ہے۔ ان کے بغیر اسٹیج کال نہیں کھلے گی۔”

فراز صاحب نے بات کاٹنے کی کوشش کی، “اصل میں میں صرف—” کامران نے انہیں دیکھا تک نہیں۔ “اوپر سے تین بار پوچھا گیا ہے کہ ماہرہ کہاں ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جناب ریحان ملک کے خاندان والے پہنچ چکے ہیں، نشستوں کی غلطی برداشت نہیں ہوگی۔”

ریحان ملک نام سن کر سعد کی خالہ نے فوراً اپنی دوپٹہ کی پلیٹیں درست کیں۔ سعد نے پہلی بار سیدھا ماہرہ کی طرف دیکھا؛ اس نظر میں ہچکچاہٹ کم، حساب زیادہ تھا۔ لابی میں کھڑے کئی لوگ جو ابھی تک فراز صاحب کی سمت دیکھ رہے تھے، اب ماہرہ کے ہاتھ میں موجود نیلے فولڈر اور بورڈ پر لگی پرچی کی طرف دیکھ رہے تھے۔ اتنا ہی کافی تھا۔ کمرے کی سمت بدلنے کے لیے اکثر ثبوت نہیں، صرف صحیح شخص کے نام کا صحیح وقت پر بلند ہو جانا چاہیے۔

فراز صاحب نے جلدی سے قدم بڑھایا، جیسے اب مہربانی کر کے راستہ دینا ان کے اختیار میں ہو۔ “جی، تو پھر آئیے، ہم سب ساتھ چلتے ہیں۔ میں اوپر آپ کا تعارف—”

“رک جائیے۔” ماہرہ نے پہلی بار حکم کے لہجے میں کہا۔

لفٹ دوبارہ نیچے آ رہی تھی۔ اشارے کی روشن لکیر ایک ایک منزل گنتی ہوئی نیچے سرک رہی تھی۔ ماہرہ نے عالیہ باجی کے ہاتھ سے بورڈ لے لیا۔ اس پر مہمانوں کی فہرست، پہلی قطار، خصوصی نشستیں سب درج تھیں۔ اوپر دائیں کونے پر پرانے قلم سے کسی نے صبح جلدی میں ایک نام کا ہجّا درست کیا تھا؛ نیلا داغ پھیل کر ہلکی لکیر بن گیا تھا۔

“چونکہ بات سب کے سامنے ہوئی ہے، ترتیب بھی سب کے سامنے واضح ہو جائے،” ماہرہ نے کہا۔ اس نے بورڈ ذرا اونچا کیا تاکہ لابی میں رکے لوگ پڑھ سکیں۔ “پہلے اوپر وہ لوگ جائیں گے جنہیں پروگرام کھولنا ہے، نہ کہ وہ جو دوسروں کے کام پر کھڑے ہو کر راستہ روکیں۔ عالیہ باجی، آپ اور کامران صاحب۔ پھر میں۔”

فراز صاحب کا چہرہ سخت ہو گیا۔ “یہ حد سے بڑھنا ہے۔” “حد آپ نے بنائی تھی،” ماہرہ نے ان کی طرف دیکھے بغیر کہا۔ “میں صرف صحیح دروازہ صحیح نام کے لیے کھول رہی ہوں۔”

لفٹ کھلی۔ اندر کی آئینہ دار دیواروں میں سب کے چہرے ایک ساتھ دوہرے ہو گئے۔ ماہرہ نے قدم بڑھایا مگر اندر جانے سے پہلے مڑی۔ سعد اور اس کی خالہ اب واضح طور پر اسی منظر کے گواہ تھے، کوئی آدھی بات نہیں بچی تھی۔ “اور ایک بات،” اس نے صاف آواز میں کہا، “پہلی قطار میں محفوظ نشست میرے نام ہے۔ جسے اس پر بٹھا کر اپنا حق ثابت کرنا تھا، وہ آج کھڑا رہے۔”

یہ چوٹ سیدھی وہاں لگی جہاں فراز صاحب اب تک کھیل رہے تھے—صرف اوپر جانے پر نہیں، سامنے دکھائی دینے پر۔ انہوں نے ہاتھ بڑھا کر بورڈ لینا چاہا۔ ماہرہ نے نہیں دیا۔ کامران صاحب پہلے ہی اندر ہو چکے تھے، عالیہ باجی دروازہ تھامے کھڑی تھیں، اور لابی میں موجود سکیورٹی سپروائزر نے فراز صاحب کے بازو کے آگے اپنا جسم رکھ دیا، ایک معمولی سا ادارہ جاتی اشارہ، مگر بےرحم۔

“آپ سمجھ نہیں رہیں—” فراز صاحب نے دھیمی، دبی ہوئی آواز میں کہا، اب اتنی اونچی نہیں کہ سب سنیں۔ ماہرہ نے کاٹ دیا، مگر اتنی اونچی کہ سب سنیں، “میں بہت اچھی طرح سمجھ رہی ہوں۔ اسی لیے تاخیر سے ملنے والی پہچان نہیں لے رہی۔ ترتیب ابھی ہوگی، میرے نام سے ہوگی، اور سب کے سامنے ہوگی۔”

وہ لفٹ میں داخل ہو گئی۔ دروازے بند ہونے لگے تو فراز صاحب نے آخری کوشش کی، “کم از کم اوپر اسٹیج پر میرا نام—” ماہرہ نے بٹن کے پاس کھڑے ہو کر صرف اتنا کہا، “جس نے روکا تھا، وہ اعلان نہیں کرے گا۔”

اوپر ہال کے باہر پھر ایک چھوٹی سی رکاوٹ آئی، مگر اب رکاوٹ اس کے لیے نہیں، اس کے راستے میں دوسروں کے لیے تھی۔ استقبالیہ کے سامنے مہمان اکٹھے تھے، روشنی گرم تھی، مائیک چیک کی دھیمی گونج آ رہی تھی، اور سامنے پہلی قطار کی کرسیوں پر سنہری ربن بندھے تھے۔ ایک کرسی کی پشت پر سفید کارڈ لگا تھا: “ماہرہ یوسف”۔

کامران صاحب نے مائیک تھاما، مگر ماہرہ نے ان کے ہاتھ سے لینے کے بجائے صرف قریب کھڑے اسٹیج اسسٹنٹ کو اشارہ کیا۔ “اعلان میں ترمیم،” اس نے کہا۔ “افتتاحی ترتیب یہی پڑھی جائے گی جو بورڈ پر ہے۔ اور پہلی قطار کی محفوظ نشست کسی اور کے لیے جاری نہیں ہوگی۔”

اسٹیج اسسٹنٹ نے فوراً سر ہلایا۔ ہال کے دروازے پر چند لوگ، جن میں سعد بھی تھا، اب اندر آنے کی رفتار بھول کر ادھر دیکھ رہے تھے۔ ماہرہ نے قدم بڑھایا، پہلی قطار تک گئی، اپنی نام والی کرسی پر ہاتھ رکھا، پھر سب کے سامنے وہ سفید کارڈ نکال کر مڑا نہیں—اسی کے ساتھ سامنے والی خالی جگہ کے پہلو میں لگی دوسری محفوظ کرسی کی طرف دیکھا، جس پر جلدی میں چپکایا گیا دوسرا کارڈ ٹیڑھا پڑا تھا۔ اس نے وہ کارڈ اتار کر استقبالیہ میز پر رکھ دیا۔

“یہ محفوظ نہیں ہے،” ماہرہ نے کہا۔ “غلط نام پر کوئی جگہ نہیں رکھی جائے گی۔”

وہ اپنی کرسی پر نہیں بیٹھی۔ بورڈ عالیہ باجی کے ہاتھ میں واپس دیا، مائیک کی سمت نہیں دیکھا، اور سیدھی اس راہداری کی طرف مڑ گئی جہاں سے اسٹیج انٹری تھی۔ پہلی قطار میں اس کے نام والی کرسی کے ساتھ والی محفوظ کرسی خالی رہ گئی، درمیان میں ایک صاف سا خلا کھل گیا، اور اس خلا میں وہ اترا ہوا کارڈ میز کے کنارے پڑا تھا، پرانے قلم کے داغ کے برابر۔