رقم نہیں، پوری لائن الٹ گئی
کامران نے مہرین کے ہاتھ سے سنہری کنارے والا داخلی کارڈ کھینچ کر نعیم کو دے دیا۔ “یہ وی آئی پی لائن کے لیے نہیں ہے، اسے سائیڈ دروازے سے بھیج دو۔ اور جو سامنے والی گاڑی تھی نا—اس کی نشست حنا آپا کے دیور کے لیے رکھو۔”
شادی ہال کے باہر کراچی کی نمکین ہوا بھی اس لمحے جلی ہوئی لگ رہی تھی۔ ڈراپ آف لین میں ایک کے پیچھے ایک گاڑیاں رینگ رہی تھیں، ڈرائیور ہارن دبانے سے پہلے شیشے نیچے کر کے خاندان کے نام پوچھ رہے تھے، اور اوپر روشن دروازے کے نیچے رشتے دار اس طرح کھڑے تھے جیسے کس کو پہلے اتارا جائے، اسی سے عزت کا ترازو سیدھا ہوگا۔ مہرین کے ہاتھ میں آدھا موڑا ہوا رسیدی پرچہ تھا جس پر وہ صبح سے گاڑیوں کی ترتیب لکھتی مٹاتی آئی تھی۔ اس کی چائے پلاسٹک کی میز پر ٹھنڈی ہو کر حلقہ چھوڑ چکی تھی۔ تین ہفتے اسی تقریب کے لیے اس نے سروس سیکٹر کے اپنے پرانے رابطے جھونکے تھے، مگر کامران، جو دانیال بھابھی کا بھائی تھا، آج ایسے حکم دے رہا تھا جیسے یہ سارا نظام اس کے باپ کی جاگیر ہو۔
مہرین نے صرف اتنا کہا، “وہ گاڑی دلہن کے نانا کے لیے رکھی گئی تھی۔”
کامران نے مڑ کر اتنی اونچی آواز میں جواب دیا کہ دروازے کے پاس کھڑی خالائیں بھی سن لیں۔ “آپ بس فہرست اٹھانے تک رہیں۔ فیصلے بڑوں کے ہوتے ہیں۔ اور وی آئی پی رِنگ میں وہی جائے گا جس کا نام میں کہوں۔” پھر اس نے نعیم کے ہاتھ سے ریڈیو لے کر ایک اور حکم جھونک دیا، “سامنے والی لین بند رکھو۔ ان کے لوگ عام قطار سے آئیں گے۔”
یہ پہلا وار تھا، اور آنکھوں کے سامنے تھا: نشست گئی، راستہ گیا، داخلی کارڈ گیا۔ شفقت چچا، جنہوں نے کبھی مہرین کو اپنے دفتر کے ایک چھوٹے سے استقبالیہ منصوبے میں کام دلوایا تھا، دروازے کے ستون کے پاس رک گئے۔ ان کی بھنویں تو اٹھیں مگر زبان نہیں ہلی۔ خاندان وہی دیکھتا ہے جو آسان ہو؛ اس وقت آسان یہ تھا کہ جس کے ہاتھ میں ریڈیو ہے، طاقت اسی کے پاس ہے۔
ایک سفید کرولا جھٹکے سے آ کر رکی۔ اندر سے لڑکے والے بزرگ اترنے لگے۔ کامران فوراً جھکا، دروازہ خود کھولا، پھر مہرین کی طرف دیکھے بغیر بولا، “تم پیچھے والی گلی سے میک اپ ٹیم کی وین لو۔ سامنے جگہ نہیں ہے۔”
مہرین نے اپنے پرس سے بس کارڈ نکالتے ہوئے اس کا گھسا ہوا کنارہ انگوٹھے کے نیچے محسوس کیا۔ صبح وہ یہی کارڈ لے کر گلشن سے بس بدلتی آئی تھی، اس کے بعد موٹر بائیک پر سپلائر کے گودام گئی، پھر ہال۔ اس نے وین والے شاہد کو کال ملائی۔ “کہاں ہو؟”
جواب آیا، “باجی، ہمیں روکا ہوا ہے۔ کہتے ہیں بکنگ دوسری طرف کر دی گئی ہے۔ سامنے والی لین میں داخلہ نہیں۔”
کامران نے یہ سن بھی لیا اور دانت دکھا کر بولا، “ہاں، کر دی۔ بڑی پارٹی آ رہی ہے۔ چھوٹے کام بعد میں۔ پہلے نام والے لوگ۔”
چھوٹے کام۔ تین گھنٹے بعد نکاح تھا۔ میک اپ وین رکی تو دلہن کا کمرہ رکنا تھا، کمرہ رکا تو اوپر کی سیڑھیوں میں رکاوٹ، پھر پورا وقت بگڑنا تھا۔ دروازے کے اندر سے راہداری کی سفید روشنی کی بھنبھناہٹ آ رہی تھی، اور اسی شور میں مہرین کو اپنے ہی سانس کی کٹاہٹ سنائی دی۔ لیکن اس کے چہرے پر کچھ نہ بدلا۔ اس نے صرف آدھا موڑا ہوا پرچہ سیدھا کیا اور دوسری جیب سے ایک چھوٹی سی چابی نکالی۔
“نعیم بھائی، پچھلا اسٹور کس کے حکم سے بند ہے؟” اس نے پوچھا۔
نعیم جھجھکا۔ “کامران صاحب نے کہا تھا، وین وہیں موڑ دیں گے جب آگے جگہ خالی ہو گی۔”
مہرین نے چابی اس کی ہتھیلی پر رکھ دی۔ “اسٹور نہیں، اندرونی راستہ کھولو۔ جو فولڈنگ ریمپ دوپہر میں میں نے رکھوایا تھا، وہی استعمال ہو گا۔ شاہد کو کہو عقبی گیٹ سے نہیں، باورچی خانے کے پہلو والے سروس راستے سے گھمائے۔ وہ جگہ میری بکنگ میں شامل ہے۔ رسید پر میرا نام ہے، تمہارے دفتر کی مہر بھی۔ ابھی کھولو۔”
کامران نے قہقہہ مارا، مگر پورا نہ نکل سکا۔ “تمہارا نام؟”
مہرین نے آدھا موڑا ہوا رسیدی پرچہ اس کی طرف نہیں، نعیم کی آنکھوں کے سامنے کھولا۔ نیچے سپلائر کی مہر تھی، اوپر ہال کے مینیجر کے دستخط۔ “پچھلا سروس راستہ میں نے الگ رقم دے کر رکھا تھا، جب آپ لوگوں نے آخری ہفتے میں مہمان بڑھا دیے تھے۔ سامنے کی لائن تم نے روکی، یہ راستہ تمہارا تھا ہی نہیں۔ کھولو۔”
نعیم نے ایک لمحہ کامران کو دیکھا، پھر چابی مٹھی میں لے کر دوڑ پڑا۔ دو لڑکے رسی ہٹا کر پیچھے کی طرف بھاگے۔ پانچ منٹ کے اندر نیلی وین ہال کے پہلو سے نکل کر اس جگہ آ لگی جہاں ابھی خالی پنکھے کے ڈبے رکھے تھے۔ اس کا پچھلا دروازہ کھلا، میک اپ کے بکس اترے، اور اوپر والی سیڑھی کی بند نبض دوبارہ چل پڑی۔ کامران وہیں کھڑا دیکھتا رہا۔ جو راستہ اس نے بند سمجھ رکھا تھا، وہ مہرین کی ایک سادہ سی کال پر کھل گیا تھا۔
پہلا دراڑ یہی تھی۔ دلہن کی خالہ، جو اب تک کامران کے اردگرد سوال لے کر گھوم رہی تھیں، سیدھی مہرین کے پاس آئیں۔ “بیٹا، نانی اماں کی گاڑی بھی بیس منٹ میں پہنچے گی۔ وہ سیڑھی نہیں چڑھ سکتیں۔”
مہرین نے ریڈیو مانگے بغیر نعیم کے دوسرے لڑکے کو آواز دی، “وہیل چیئر سامنے مت رکھنا، سائیڈ ریمپ پر رکھو۔ نانی اماں سیدھا لفٹ میں جائیں گی۔” پھر ڈرائیوروں کی قطار کی طرف پلٹی، “جو سوزوکی بولان پھولوں والی آ رہی ہے، اس کو دائیں نہ گھسانا، پچھلے چکر سے لاؤ۔”
اب دیکھنے والی چیز یہ نہیں رہی تھی کہ کس کے پاس آواز اونچی ہے۔ دیکھنے والی چیز یہ تھی کہ کس کے کہنے سے گاڑی مڑتی ہے، کون سا دروازہ کھلتا ہے، کون پہلے وصول ہوتا ہے۔ دو ڈرائیور کامران کی بجائے مہرین کے اشارے دیکھنے لگے۔ ایک لڑکا جو ابھی تک اس کے لیے پانی بھی نہیں لا رہا تھا، اب اس کے سامنے کھڑا اگلا حکم سننے لگا۔ شفقت چچا ستون چھوڑ کر قریب آ گئے۔ “مہرین، لڑکے والوں کے بزرگوں کے بعد ہماری طرف سے کون آ رہا ہے؟”
“دلہن کے نانا نہیں، پہلے نانی اماں۔ نانا صاحب اپنی گاڑی سے چل کر آ جائیں گے، وہ ضد کریں گے۔” مہرین نے جواب دیا، جیسے برسوں سے یہی ترتیب سنبھالتی آئی ہو۔
کامران نے یہ پھسلتی ہوئی زمین محسوس کر لی۔ اس نے فوراً ایک اور چال چلی۔ سامنے والی وی آئی پی لین پر زنجیری رکاوٹ پھر سے نیچے کروا دی اور نعیم کے معاون کو ڈانٹ کر بولا، “آخری بڑا قافلہ ادھر ہی آئے گا۔ کسی اور کو مت کھولنا۔ یہ لائن صرف قریبی خاندان کے لیے ہے۔” پھر وہ مہرین کے قریب آ کر دھیمی مگر زہریلی آواز میں بولا، “زیادہ آگے مت بڑھو۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ جتنا ہے، اتنا ہی رہنے دو۔ تمہیں اندر نام سے نہیں، کام سے جانتے ہیں۔”
مہرین نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں سیدھا دیکھا۔ “کام سے جاننا کافی ہوتا ہے، جب کام واقعی تمہارے ہاتھ میں نہ ہو۔”
اس سے پہلے کہ کامران جواب دیتا، تین فون ایک ساتھ بجے۔ ایک دلہن کی والدہ کا، ایک حارث کا، اور ایک ہال کے مرکزی دفتر کا۔ حارث کی آواز ہانپتی ہوئی آئی، “ایئرپورٹ سے ابا کے بڑے بھائی، تایا زبیر، اور ان کے ساتھ دو گاڑیاں نکل چکی ہیں۔ آگے ٹریفک پھنس گئی ہے۔ ہال نے کہا ہے صرف ایک زندہ پک اپ لین کھلے گی، ورنہ باہر سارا راستہ بند ہو جائے گا۔ کامران کہہ رہا ہے وہ ان کو سامنے لے لے گا۔”
یہی وہ لمحہ تھا جس پر سارے کاغذ، ساری منّتیں، سارے جھوٹ آ کر ٹکے تھے۔ تایا زبیر بیرون ملک سے آئے تھے؛ ان کی گاڑی جس لین میں لگتی، اسی طرف خاندان کا وزن جھکتا۔ اور ایک ہی لین کھل سکتی تھی۔
کامران نے ریڈیو چھین کر حکم چلایا، “زنجیر اوپر کرنے کو تیار رہو۔ تایا زبیر کی گاڑی آتے ہی سیدھا سامنے۔ باقی سب کو روکو۔” پھر اس نے مہرین کی طرف ایسی نظر سے دیکھا جیسے اب اصل میدان اس کے ہاتھ میں آ گیا ہو۔ “اب دیکھتے ہیں کس کا نام چلتا ہے۔”
مہرین نے دفتر کی کال اٹھائی۔ دوسری طرف ہال کا مینیجر تھا، جس سے اس نے ایک مہینہ پہلے اضافی ریمپ، سروس راستہ اور ایمرجنسی وصولی کا حق لکھوا کر رکھا تھا، کیونکہ لڑکی والوں کی بوڑھی خواتین تھیں اور کراچی کے ہال آخری گھڑی میں بات بدل دیتے ہیں۔ مینیجر نے صرف ایک سوال کیا، “آخری لین کس آرڈر پر کھولوں؟ آپ کی بکنگ نوٹ میں دونوں اختیارات لکھے ہیں: مرکزی وصولی یا بزرگوں کی محفوظ اتاری۔ فیصلہ ابھی چاہیے۔”
یہاں سے وہ اگر چاہتی تو کامران کی عزت بچا سکتی تھی۔ تایا زبیر کی گاڑی بھی سامنے لیتی، کامران پھر اپنے آپ کو مالک سمجھتا رہتا، اور بعد میں سب کہہ دیتے کہ چلو گھر کی بات گھر میں رہی۔ مگر کامران نے ابھی چند منٹ پہلے زنجیر نیچے کر کے اس کے لیے سامنے کی زمین ختم کی تھی۔ اس نے مہرین سے راستہ نہیں لیا تھا، اس کی جگہ کا اعلان کیا تھا۔
مہرین نے بہت ہلکی آواز میں کہا، “مرکزی وصولی منسوخ۔ آخری کھلی لین بزرگوں کی محفوظ اتاری پر منتقل کریں۔ پہلی ترجیح نانی اماں کی ایمبولیٹ لفٹ گاڑی، دوسری دلہن کی پھوپھی کی وین۔ سامنے والی زنجیر صرف ان دو کے لیے اٹھے گی۔ باقی قافلہ بیرونی چکر میں روکے رکھیں۔”
مینیجر نے فوراً کہا، “سمجھ گیا۔”
کامران کے چہرے پر پہلی دفعہ رنگ ہٹا۔ “کیا کیا تم نے؟” وہ تقریباً پھٹ پڑا۔ “تایا زبیر باہر رہ جائیں گے!”
“باہر نہیں، بیرونی چکر میں رہیں گے، جب تک دوسری لین خالی نہ ہو۔” مہرین نے اس کی طرف دیکھے بغیر نعیم کو اشارہ کیا۔ “زنجیر پر میرے اشارے کے بغیر ہاتھ نہیں لگے گا۔”
سامنے سے سبز لائٹ کے ساتھ ایک بڑی گاڑی کا قافلہ رینگتا نظر آیا۔ ایک طرف نانی اماں کی سفید ہائی ایس، دوسری طرف ایئرپورٹ سے آنے والی سیاہ پراڈو جس کے آگے ایک اور گاڑی راستہ بناتی آ رہی تھی۔ دونوں ایک ہی وقت پر موڑ پر پہنچے۔ ہارنوں کی تیز لہریں، دروازے کے باہر جمع نوجوانوں کی بے قرار گردنیں، اوپر بالکنی میں جھکتی عورتیں—پورا منظر ایک سانس پر اٹک گیا۔
کامران دوڑ کر زنجیر کی طرف گیا۔ “اٹھاؤ! یہ تایا زبیر ہیں!”
نعیم نے اس کی طرف دیکھا، مگر ہاتھ نہ بڑھایا۔ اس کے پیچھے کھڑا لڑکا زنجیر پکڑے رہا۔ اب فیصلہ آواز سے نہیں، اختیار کی جگہ سے ہونا تھا۔
پراڈو آگے چڑھی، مگر سامنے زنجیر نیچی رہی۔ ڈرائیور نے جھنجھلا کر ہارن دیا۔ اندر سے کسی نے شیشہ آدھا نیچے کیا۔ اسی لمحے مہرین نے بازو اٹھا کر بائیں طرف اشارہ کیا۔ “ہائی ایس آگے۔ ابھی۔”
نانی اماں کی گاڑی سائیڈ سے مڑی، سیدھی خالی جگہ میں لگی۔ زنجیر اوپر ہوئی، بس اتنی کہ وہ اندر سرک سکے۔ دو لڑکے بھاگ کر دروازہ کھولنے گئے، وہیل چیئر ریمپ پر آ گئی، لفٹ کا دروازہ پہلے سے کھلا تھا۔ پراڈو کو روکے ہوئے ٹریفک والا سپاہی ہاتھ گھما کر اسے بیرونی چکر کی طرف موڑنے لگا۔
کامران نے مہرین کے بازو کے قریب آ کر، اب پہلی بار اونچی نہیں بلکہ دبی ہوئی آواز میں کہا، “ایک منٹ کے لیے کھلواؤ۔ بس تایا زبیر کی گاڑی اندر لے لو۔ سب دیکھ رہے ہیں۔”
“ہاں، سب دیکھ رہے ہیں۔” مہرین نے ریڈیو اس کے ہاتھ سے لے کر نعیم کو دیا۔ “بیرونی چکر والی گاڑی کو انتظار پر رکھو۔ اندر صرف محفوظ اتاری۔”
“مہرین، یہ ضد مت کرو۔” اس کی آواز لڑکھڑا گئی۔ “خاندان میں میری بھی—”
“لین تمہاری نہیں تھی، کامران صاحب۔”
پراڈو اب زنجیر کے دوسری طرف ٹھہری ہوئی تھی۔ اس کے پیچھے دو اور گاڑیاں جم گئیں۔ سامنے نانی اماں کو آہستہ آہستہ ریمپ پر لایا جا رہا تھا، اور دروازے کے اندر جو استقبال کا دائرہ پہلے صرف بڑے ناموں کے لیے رکھا گیا تھا، وہ ان کے لیے کھل گیا۔ اوپر سے پھولوں والا لڑکا بھاگتا ہوا اسی سمت آیا جہاں مہرین نے اشارہ کیا تھا۔ شفقت چچا نے بغیر کچھ کہے اپنی پگڑی سنبھالی اور نانی اماں کے ساتھ چل دیے۔ تایا زبیر کی پراڈو اب بھی باہر کے گھیرے میں تھی، اس کا ڈرائیور گردن نکال نکال کر راستہ مانگ رہا تھا، مگر سامنے کی جگہ بند تھی۔
کامران نے آخری بار ہاتھ بڑھا کر زنجیر خود اٹھانے کی کوشش کی۔ نعیم نے اس کا ہاتھ روک لیا۔ “حکم آ چکا ہے، صاحب۔”
مہرین نے ہائی ایس کے پیچھے بنتی خالی درز میں قدم رکھا، نعیم کے لڑکے سے زنجیر لی، اور کہا، “یہ خلا کھلا رکھو۔ اگلی گاڑی ہماری طرف کی پھوپھی جان کی آئے گی۔” پھر اس نے زنجیر اوپر کر دی تاکہ صرف ان کی لین کھلے، اور دوسری طرف کھڑی پراڈو کو پیچھے رکتے راستے کے ساتھ وہیں چھوڑ دیا۔