Fast Fiction

پہلے وہ ہنسے تھے

“شمیمہ بی بی، اندر آ جائیں—اور نبیل، آپ بھی ساتھ۔”

مہرین نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔ اس کا نام رجسٹریشن ونڈو کے سامنے رکھے کاغذ پر سب سے اوپر تھا، مگر استقبالیہ کلرک نے کاغذ ارمغان صاحب کی طرف دیکھ کر موڑا، اور پلاسٹک کی کرسی کے کونے پر بیٹھی شمیمہ بی بی کو اٹھا دیا۔ مہرین پھر کھڑی رہ گئی—وہی دیوار کے ساتھ، جہاں سستی نیلی کرسی کا ٹوٹا ہوا بازو ہر بار اس کے شلوار کے پائنچے سے اٹکتا تھا۔ سامنے بینچ پر خالہ صبیحہ بھی بیٹھی تھیں، اور ان کے ساتھ دو خواتین جنہیں مہرین نے پچھلے مہینے رضا کی پھوپھی کے گھر دیکھا تھا۔ سب نے دیکھا کہ جس لڑکی نے صبح سے فائلیں بنائیں، مریضوں کی تصدیق کی، اسپیشلسٹ کے آنے کا وقت ملایا، اسی کو پڑھنے والی جگہ سے ہٹا دیا گیا۔

ارمغان صاحب نے رجسٹر بند کرتے ہوئے کہا، “مہرین، آپ پیچھے رہیں۔ آج وی آئی پی دن ہے، غلطی کی گنجائش نہیں۔”

غلطی۔ یہ لفظ جان بوجھ کر اونچی آواز میں کہا گیا تھا۔ مہرین نے اپنی انگلیوں کے بیچ دبا ہوا وہی پرانا قلم سیدھا کیا جس کے جسم پر نیلا داغ جما ہوا تھا۔ صبح فجر سے پہلے وہ نارتھ ناظم آباد سے بس بدلتی ہوئی یہاں پہنچی تھی، کیونکہ آج کے اسپیشلسٹ سیشن کا پورا بندوبست اسی نے کیا تھا۔ اور یہ صرف نوکری کا دن نہیں تھا۔ رضا کی خالہ صبیحہ کو بھی پتہ تھا، گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا، کہ اگر آج کلینک میں مہرین کی جگہ بنی رہتی تو اگلے مہینے اس کی مستقل تقرری کی فائل آگے بڑھنی تھی۔ اگر آج اسے سب کے سامنے ہلکا دکھا دیا جاتا، تو صرف کاؤنٹر نہیں چھننا تھا۔

اس نے آہستہ سے پوچھا، “میرا نام اوپر تھا۔”

“نام بہت ہوتے ہیں، ذمہ داری سب کے بس کی نہیں ہوتی۔” ارمغان صاحب نے رجسٹر اپنی بغل میں دبا لیا اور نبیل کو اشارہ کیا، “آپ ادھر آئیں۔ مریضوں کی ترجیحی فہرست یہی دیکھیں گے۔”

یہ پہلی دراڑ تھی۔ بینچ پر بیٹھی خالہ صبیحہ نے گردن ذرا سا موڑی۔ “ارے، یہ تو وہی لڑکی ہے نا جو پچھلے ہفتے بھی ڈاکٹر صاحب کے کاغذ سنبھال رہی تھی؟”

ارمغان صاحب نے مصنوعی مسکراہٹ سے جواب دیا، “جی، چھوٹے موٹے کام کر لیتی ہیں۔ اصل رابطہ ہم دیکھتے ہیں۔”

مہرین نے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ وہ سیدھی کاؤنٹر کے اندر والے دروازے تک گئی، جیب سے چابی نکالی، اور شیشے کے نیچے سے اندر سرکا دی۔ یہ وہی اسٹور کی چابی تھی جو کل رات ارمغان صاحب نے “بس صبح واپس دے دینا” کہہ کر دیر سے بھجوائی تھی، تا کہ صبح فائلیں نکالنے میں تاخیر ہو۔ چابی شیشے سے ٹکرائی تو چھنک سنائی دی۔ “یہ بھی واپس،” مہرین نے کہا، “تاکہ بعد میں کوئی نہ کہے رسائی میرے پاس تھی۔”

استقبالیہ پر کھڑی لڑکی نے بے اختیار ارمغان صاحب کو دیکھا۔ ایک لمحے کے لیے ان کے چہرے کی نرم افسرانہ تہہ ہلی، مگر وہ فوراً سنبھل گئے۔ “ڈرامہ نہ کریں۔ باہر کھڑی رہیں، جب بلایا جائے گا تب آئیں۔”

کلینک کی چھوٹی سی لابی میں چائے کے کاغذی کپوں سے ٹھنڈی ہوتی چائے کی جھلی اٹھ رہی تھی۔ ایک کپ کی گیلی گولائی رجسٹر کے پاس میز پر بن چکی تھی۔ لوگ اپنی باری کے مارے بیٹھے تھے، اس لیے ہر حرکت قید ہو رہی تھی۔ مہرین پیچھے ہٹی، مگر گئی نہیں۔

تھوڑی دیر بعد خود ڈاکٹر فہد کی آمد کی خبر شور بن کر دروازے تک پہنچی۔ باہر سے دو اور مریض، ایک معمر جوڑا، اور ایک نوجوان اپنی ماں کو سہارا دیتا ہوا اندر آ گیا۔ جگہ اور تنگ ہو گئی۔ ارمغان صاحب نے فہرست نبیل کے ہاتھ میں تھمائی۔ “نام پکارو۔ پہلے اسپانسر والے، پھر باقی۔”

مہرین نے صاف دیکھا کہ نبیل کاغذ الٹا پکڑے ہوئے تھا۔ وہ وہی لڑکا تھا جسے ارمغان صاحب نے دو ہفتے پہلے اپنی بھانجی کے سسرالی حلقے سے “سیکھنے” کے لیے لگوایا تھا۔ اصل کام وہ کبھی جانتا ہی نہیں تھا۔ پھر بھی وہ مہرین کے سامنے کھڑا تھا، جیسے اس کے ہاتھ کا سارا بندوبست اب اسی کی میراث ہو۔

“یہ ترتیب غلط ہے،” مہرین نے کہا۔

ارمغان صاحب نے مریضوں کے سامنے ہنس کر کہا، “آپ کو ہر چیز پر بولنے کی عادت ہے۔ خاموش رہیں۔”

“غلط ہے،” اس نے دوبارہ کہا، اس بار اتنا کہ سامنے بینچ تک سنائی دے۔ “اسپیشلسٹ کے خاص مریضوں کی آواز والی ہدایت میرے فون پر ہے۔ اور اصل ترجیحی فہرست کی کاپی میرے پاس ہے، کیونکہ رات کو میں نے ہی چھاپی تھی جب پرنٹر اٹک رہا تھا۔”

یہ سن کر چند چہرے اس کی طرف مڑے۔ نبیل کے ہاتھ میں کاغذ ہلکا سا کانپا۔ ارمغان صاحب کی آواز سخت ہوئی، “فون کوئی ثبوت نہیں ہوتا۔ یہاں جو فائل میرے ہاتھ میں ہے وہی چلے گی۔”

معمر شخص، جو اپنی بیوی کے ساتھ کھڑا تھا، جھنجھلا کر بولا، “بھائی صاحب، کون چلے گا یہ بعد میں دیکھیں، پہلے یہ بتائیں کس کی باری ہے؟ ہم ایک گھنٹے سے بیٹھے ہیں۔”

دباؤ نے کمرہ تنگ کر دیا۔ مہرین نے اپنا فون نکالا۔ “سب کے سامنے سنا دیتی ہوں۔ پھر جو جھوٹا ہو، وہ پیچھے ہٹ جائے۔”

ارمغان صاحب ایک قدم آگے بڑھے، “فون نیچے رکھیں۔”

مگر اب وہ لمحہ ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ خالہ صبیحہ نے اپنی چادر ٹھیک کرتے ہوئے صاف کہا، “سنا دو بیٹا۔ جب اتنے لوگ کھڑے ہیں تو بات بھی صاف ہو جائے۔”

مہرین نے ریکارڈنگ کھولی۔ ڈاکٹر فہد کی پہچانی ہوئی تھکی مگر واضح آواز لابی میں پھیل گئی: “مہرین، کل والی ترجیحی فہرست وہی رہے گی۔ پہلے شمیمہ بی بی نہیں—پہلے مسز ہارون، پھر بابر حسین کی والدہ، پھر خاص بچوں کے دو کیس۔ نبیل کو صرف باہر بٹھانا، اندر کی ترتیب مہرین دیکھے گی۔ اور ارمغان صاحب، پلیز کسی نئے لڑکے کے ہاتھ میں لسٹ نہ دیں، پچھلی بار گڑبڑ ہو گئی تھی۔”

آخری جملے پر جیسے کسی نے لابی کی ہوا کا رخ موڑ دیا۔ نبیل نے فوراً کاغذ نیچے کیا۔ استقبالیہ کلرک نے بے ساختہ مہرین اور پھر ارمغان صاحب کو دیکھا۔ معمر عورت کے بیٹے نے سیدھا سوال کیا، “تو پھر جھوٹ کون بول رہا تھا؟”

مہرین نے اسی لمحے اپنی فائل سے وہ چھپی ہوئی کاپی نکالی۔ اوپر اس کے اپنے ہاتھ کی سیاہی تھی، وہی نیلا داغ کنارے پر لگا ہوا۔ “یہ اصل کاپی ہے۔ دیکھیے، اوپر میرے ابتدائی حروف ہیں، اور ڈاکٹر صاحب نے وقت کے ساتھ نشان لگایا تھا۔”

ارمغان صاحب نے ہاتھ بڑھا کر کاغذ لینا چاہا، مگر خالہ صبیحہ پہلے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ “رہنے دیجئے۔ ابھی تک تو آپ کہہ رہے تھے اصل رابطہ آپ دیکھتے ہیں۔”

یہ دوسرا وار تھا، اور اس بار سیدھا عزت پر۔ لابی میں بیٹھے لوگ اب ارمغان صاحب کو محفوظ افسر نہیں، پکڑے گئے آدمی کی طرح دیکھ رہے تھے۔ ان کی ناک کے پاس پسینہ چمکا۔ انہوں نے آواز نرم کی، “مہرین، ذرا ادھر آئیں۔ بات کر لیتے ہیں۔”

“یہیں ہوگی،” مہرین نے کہا۔

“یہ انتظامی معاملہ ہے۔”

“نہیں۔ یہ وہی معاملہ ہے جس میں آپ نے سب کے سامنے کہا تھا کہ میں غلطی کرتی ہوں۔ تو درستگی بھی سب کے سامنے ہوگی۔”

استقبالیہ کی لائن اب پوری طرح رک گئی تھی۔ پیچھے سے ایک بچے کے کھانسنے کی آواز آئی، ایک عورت نے اپنے پرس کی پٹی مضبوطی سے پکڑی، اور نبیل آہستہ آہستہ سائیڈ پر سرک گیا جیسے اس کے پاؤں کے نیچے سے جگہ نکل رہی ہو۔ ارمغان صاحب نے آخری کوشش کی۔ “آپ جذباتی ہو رہی ہیں۔ بعد میں بیٹھ کر—”

“بعد میں آپ فائل بدل دیں گے، یا کہیں گے بات سمجھ میں نہیں آئی۔” مہرین نے ان کی بات کاٹ دی۔ “سامنے مائیک ہے۔ اعلان وہیں سے ہوگا۔”

کاؤنٹر کے اوپر لگا چھوٹا سا مائیک عام دنوں میں صرف نام پکارنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ آج تک مہرین نے اسے صرف ارمغان صاحب کے ہاتھ میں دیکھا تھا۔ وہ شیشے کے دروازے کے اندر سے گھومی، استقبالیہ کلرک کے برابر جا کھڑی ہوئی، اور رجسٹر اپنی طرف کھینچ لیا۔ ارمغان صاحب نے فوراً ہاتھ مارا، مگر دیر ہو چکی تھی۔ کاغذ ان کی انگلیوں سے پھسل کر مہرین کے سامنے آ گیا۔

“رکیں، آپ کو اختیار نہیں—” وہ بولے۔

مہرین نے مائیک کا بٹن دبایا۔ چرر کی آواز آئی، پھر ہلکی سی سیٹی۔ پوری لابی ایک ہی سمت مڑ گئی۔

“توجہ فرمائیے،” اس کی آواز مائیک میں پہلے ہلکی لرز کر پھر سیدھی ہو گئی، “ڈاکٹر فہد کے صبح کے سیشن کی ترتیب اصل ہدایت کے مطابق دوبارہ پڑھی جا رہی ہے۔ مسز ہارون پہلے اندر جائیں گی۔ بابر حسین کی والدہ دوسری۔ بچوں کے دو کیس اس کے بعد۔ شمیمہ بی بی آپ کی باری چوتھی ہے۔ نبیل صاحب انتظار گاہ کے باہر فائلیں پکڑیں گے، اندرونی ترتیب نہیں دیکھیں گے۔”

لفظ صرف اعلان نہیں تھے، قبضہ تھے۔ استقبالیہ کلرک نے بے اختیار اگلا ٹوکن مہرین کے سامنے رکھا۔ “مسز ہارون؟” اس نے اسی ترتیب میں پکارا۔

سامنے سے سفید دوپٹے والی عورت جھٹ سے اٹھیں اور سیدھی مہرین کی طرف آئیں، ارمغان صاحب کی طرف نہیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جب کمرے نے اپنا فیصلہ بدل دیا۔ جو لوگ ابھی تک ارمغان صاحب کی طرف دیکھ کر اپنی نشست سنبھال رہے تھے، اب اپنی باری مہرین کی آواز سے باندھ رہے تھے۔

ارمغان صاحب نے دانت بھیچ کر کہا، “یہ زیادتی ہے۔ آپ خود کو کیا سمجھتی ہیں؟”

مہرین نے اگلا نام پڑھا، “بابر حسین کی والدہ، تیار رہیں۔”

وہ مزید قریب آئے، آواز نیچی مگر بدحواس، “میں کہہ رہا ہوں ایک منٹ ادھر آئیں۔ معاملہ خراب ہو جائے گا۔”

“ہو چکا ہے۔” مہرین نے رجسٹر کے دائیں کونے پر انگلی رکھ کر استقبالیہ کلرک سے کہا، “اس خانے میں آج کی تبدیلی لکھیں: ‘اصل ہدایت کے مطابق ترتیب بحال۔’ نیچے وقت لگائیں۔”

کلرک نے قلم اٹھا لیا۔

یہ دیکھ کر ارمغان صاحب کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ “آپ کو پتا ہے میں یہاں کتنے سال سے ہوں؟”

“جی،” مہرین نے مائیک کے قریب جھک کر کہا، “اسی لیے سب کے سامنے کہہ رہی ہوں کہ اب سے اسپیشلسٹ سیشن کی اندرونی ترتیب میں میرا نام رابطہ کار کے طور پر درج ہوگا۔ جو بھی ہدایت آئے گی، وہ میرے ذریعے چلے گی۔ اور جب تک ڈاکٹر فہد خود کچھ اور نہ کہیں، ارمغان صاحب انتظار گاہ کے باہر رہیں گے۔”

ایک پل کو ان کی آنکھیں پھیل گئیں۔ یہ صرف صفائی نہیں تھی؛ یہ لائن کے اس پار دھکیل دینا تھا۔ نبیل نے فوراً فائلوں کا پلندہ اپنے سینے سے لگایا اور ایک قدم پیچھے ہو گیا۔ خالہ صبیحہ نے اس بار کھلم کھلا اپنی ساتھ بیٹھی عورت کے کان میں کہا، “کام والی یہی ہے۔”

باہر دروازے پر رضا آ کر رک گیا تھا۔ شاید کسی نے خبر کر دی تھی، یا وہ خود خالہ صبیحہ کو لینے آیا تھا۔ اس نے منظر دیکھا—مہرین مائیک کے پاس، ارمغان صاحب باہر کی طرف کٹے ہوئے—اور بس اتنا کہا، “جو ترتیب یہ پڑھ رہی ہے، وہی رہے گی۔ ڈاکٹر فہد مجھے بھی یہی کہہ چکے ہیں۔”

یہ تائید تھی، مگر مہرین کو سہارا دینے نہیں؛ اس کے قبضے کو اور سخت کرنے کے لیے۔ ارمغان صاحب فوراً رضا کی طرف مڑے، “دیکھیں، یہ لڑکی حد سے بڑھ رہی ہے—”

“آپ کی حد ابھی مقرر ہوئی ہے،” مہرین نے بیچ میں کاٹ دیا۔ اس نے مائیک اپنے قریب کر لیا۔ “باہر والی لکیر کے بعد کوئی اندرونی فائل ہاتھ نہیں لگائے گا۔ استقبالیہ، دروازہ کھلا رکھو۔ اگلا نام پکارو۔”

کلینک میں حرکت نئے حکم کے مطابق چل پڑی۔ مسز ہارون اندر گئیں۔ بابر حسین کی والدہ کو بیٹا سہارا دے کر سامنے لایا۔ نبیل نے پہلی بار بغیر پوچھے راستہ چھوڑا۔ ارمغان صاحب نے آخری حربہ آزمایا، “مہرین، ایک غلط اعلان تمہاری نوکری—”

“میری نوکری میری محنت سے کھڑی ہے، آپ کے احسان سے نہیں۔” اس نے رجسٹر کی خالی سطر پر اپنا نام صاف لکھا: مہرین، رابطہ کار۔ پھر استقبالیہ کی لڑکی کی طرف دیکھے بغیر کہا، “یہ اندراج ابھی کی مہر کے ساتھ بند کرو۔”

وہ شاید پھر کچھ کہنے والے تھے، کوئی دیر سے آئی ہوئی معذرت، کوئی الگ لے جا کر بات کرنے کی کوشش، مگر مہرین نے مائیک بند نہیں کیا۔ اس نے اپنا ہاتھ اسی پر رکھا، سامنے قطار کی سیدھ دیکھی، اور آخری بار صاف، کاٹتی ہوئی آواز میں کہا، “ارمغان صاحب باہر انتظار کریں۔ اگلا نام میں خود پکاروں گی۔”

مائیک میں ہلکی سی کڑک اٹھی، پھر آواز لمبی دھات کی لکیر کی طرح سکڑتی ہوئی مر گئی۔