پہلا حق اچانک میرا ہوا
"میڈم، آپ یہاں نہیں—ادھر کونے میں بیٹھیں۔"
استقبالیہ میز کے لڑکے نے مہرین کے ہاتھ سے سنہری ربن والا دعوتی کارڈ لے کر ایسے الٹا جیسے اس پر غلطی چھپی ہو، پھر دروازے کے پاس رکھی سفید پلاسٹک کی کرسی کے کونے کی طرف اشارہ کر دیا۔ اس کے پیچھے سے جوڑے، منیجر، ان کی بیویاں، حتیٰ کہ ایک جونیئر اکاؤنٹنٹ اپنی منگیتر کے ساتھ سیدھے اندر جاتے رہے۔ مہرین کے کندھوں میں دن بھر کی دوڑ کی اکڑن تھی، آستین کے کنارے پر پرانے نیلے قلم کا دھبہ ابھی تک لگا ہوا تھا، اور اس کے ہاتھ میں دوپہر کا ٹھنڈا پڑا کھانے کا ڈبہ تھا جو وہ دفتر سے سیدھا یہاں آتے ہوئے ساتھ لے آئی تھی۔ سب نے دیکھ لیا کہ اسے روک لیا گیا ہے۔
اس نے کرسی کی طرف نہیں دیکھا۔ "میرے نام پر کارڈ نہیں ہے، ان کے ساتھ اندراج ہے۔"
لڑکے نے سامنے لگی فہرست پر انگلی ماری۔ "حماد صاحب کے ساتھ ایک مہمان درج ہیں، مگر اوپر والی نشستوں کے لیے گھر والوں کی تصدیق چاہیے۔ ابھی ہدایت یہی ہے۔"
حماد بس تین قدم دور کھڑا تھا، اپنی خالہ صائمہ کے بیٹے فائزان سے ہاتھ ملا رہا تھا۔ اس نے آواز سن کر مڑ کر دیکھا بھی، مگر فوراً اپنی ٹائی سیدھی کرنے لگا۔ خالہ صائمہ کی نظریں پہلے مہرین کے چہرے پر، پھر اس پلاسٹک کی کرسی پر گئیں جس پر اسے بٹھایا جا رہا تھا۔ یہی اصل چوٹ تھی۔ ان کے گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا کہ ایک کاغذی نکاح، چند ماہ کی ضرورت، ایک بیمار ماں کی تسلی اور رہائش کے مسئلے نے انہیں باندھ رکھا ہے۔ مگر آج اس تعلق کو ایسے دبایا جا رہا تھا جیسے مہرین کوئی غلط پارسل ہو۔
مہرین نے اپنا کھانے کا ڈبہ اسی استقبالیہ میز پر رکھ دیا۔ "ٹھیک ہے۔ میرا نام اوپر نہیں، تو یہ بھی اوپر نہیں جائے گا۔" ڈبے کے ساتھ حماد کے لیے لایا ہوا چھوٹا سا تحفہ بھی رکھ دیا—گھڑی کے ڈبے پر ربن بندھا تھا۔ "جو شریک نہیں، وہ مبارک بھی نہیں دے گا۔"
یہ پہلا کٹ تھا۔ استقبالیہ لڑکا ہکا بکا رہ گیا۔ فائزان نے ہونٹ سکیڑے۔ حماد فوراً آگے آیا مگر آہستہ بولا، "ڈرامہ مت کرو، مہرین۔ ابھی بہت لوگ ہیں۔"
"لوگ تو ابھی سے ہیں،" وہ اسی ٹھنڈی آواز میں بولی، "اسی لیے کھڑی ہوں۔"
حماد نے ایک لمحہ اس کی آنکھوں میں دیکھا، پھر وہی کیا جس سے اسے سب سے کم نقصان ہوتا۔ اس نے استقبالیہ لڑکے سے کہا، "انہیں فی الحال نیچے ہی بٹھا دیں۔ میں اوپر انتظام دیکھ لوں۔" پھر مہرین کی طرف رخ کر کے ایسی زبان اختیار کی جو رشتہ کم اور بوجھ زیادہ لگے، "آپ تھوڑی دیر انتظار کر لیں۔"
آپ۔
وہ لفظ ہلکے سے نہیں لگا؛ سیدھا سب کے سامنے حد کھینچ گیا۔ اسی وقت ایک کم درجے کا سپروائزر اپنی بیوی کو لے کر آیا، نام بولا، اور اسے اوپر جانے والی فہرست میں نشان مل گیا۔ عورت نے جاتے ہوئے مہرین کو سرسری نظر سے دیکھا، جیسے درجہ بندی سمجھ گئی ہو۔ حماد نے راستہ چھوڑ دیا، وہ دونوں اس کے سامنے سے گزر گئے۔
مہرین نے کرسی کے کونے پر بیٹھنے کے بجائے اپنی ایڑی موڑی اور سیڑھیوں کی طرف چل دی۔ پیچھے سے استقبالیہ لڑکا گھبرایا، "میڈم، اوپر منع ہے۔"
"منع مجھے کیا گیا تھا، میرے قدموں کو نہیں،" وہ بولی اور پہلی سیڑھی چڑھ گئی۔
اوپر ہال تک جانے والی سیڑھیاں دو موڑ لیتی تھیں۔ پہلے موڑ پر نیچے سے لوگ چڑھ رہے تھے، اوپر سے میزبان خاندان کے چند لوگ اتر رہے تھے، بیچ کا لینڈنگ تنگ تھا۔ مہرین وہاں جا کر رک گئی، نہ بالکل ہٹی، نہ دیوار سے چپکی۔ اسی لمحے خالہ صائمہ اوپر سے اپنی سہیلی کے ساتھ اترتی دکھائی دیں، اور نیچے سے حماد تیز قدموں سے چڑھتا آیا۔ دونوں طرف کے لوگ ایک دوسرے کو راستہ دینے کے حساب میں سست پڑ گئے۔ سارا بہاؤ اس تنگ چوکور جگہ پر پھنس گیا۔
"مہرین، نیچے آؤ،" حماد نے دبے غصے سے کہا۔
"مجھے نیچے بٹھا کر تم اوپر جا سکتے ہو۔ یہی ترتیب ہے نا؟" اس نے سر ذرا سا اٹھا کر کہا، اتنا کہ خالہ صائمہ صاف سن لیں۔
خالہ صائمہ کی سہیلی نے فوراً پوچھ لیا، "ارے یہ وہی ہیں نا؟"
سوال کا جواب حماد کو دینا تھا۔ اگر وہ خاموش رہتا تو سب سمجھ جاتے کہ مہرین کو واقعہً باہر رکھا گیا ہے۔ اگر مان لیتا، تو اوپر کی نشست، خاندان، درجہ—سب کی ترتیب ہلتی۔ وہ ایک پل کو رک گیا۔ اسی رکنے نے کام کیا۔ پیچھے سے چڑھنے والوں کو ٹھہرنا پڑا، اوپر سے اترنے والوں نے ریلنگ پکڑ لی۔ مہرین نہ ہٹی۔ حماد آخر ایک طرف ہوا۔ "پہلے آپ گزریں۔"
یہ عام جملہ نہیں تھا۔ لینڈنگ اتنی تنگ تھی کہ کسی ایک کے گزرنے کے لیے باقی سب کو کمر سکیڑنی پڑتی۔ خالہ صائمہ دیوار سے لگ گئیں، فائزان دو سیڑھیاں نیچے رکا، اور مہرین ان سب کے بیچ سیدھی اوپر چڑھ گئی۔ اس کے دوپٹے کا کنارہ حماد کی گھڑی سے ہلکا سا چھوا اور وہیں سے ترتیب بدل گئی—سب نے اپنے جسم سے راستہ دیا۔
ہال کے باہر ایک اور میز تھی جہاں سامنے کی قطاروں کے نامی کارڈ رکھے تھے۔ مہرین نے ابھی اندر قدم رکھا ہی تھا کہ حماد جلدی سے اس کے برابر آ کر بولا، "بس ہو گیا۔ اندر آ گئی ہو۔ اب ادھر سائیڈ والے لاؤنج میں بیٹھ جاؤ۔ شور کم ہے، بہتر رہے گا۔"
وہ لاؤنج نہیں، پردے کے پیچھے والا کم درجے کا حصہ تھا جہاں اضافی کرسیاں رکھی تھیں، بچوں کے جوس کے ڈبے اور خالی ٹرے پڑی تھیں۔ مہرین نے ایک نظر وہاں ڈالی، پھر اس کی طرف۔ "تم مجھے اندر لائے نہیں۔ میں خود آئی ہوں۔ اور اب مجھے ہٹانا چاہتے ہو؟"
حماد کے جبڑے سخت ہوئے۔ "بات بڑھاؤ مت۔ یہ تقریب آفس کی ہے، گھر کی نہیں۔"
"غلط،" مہرین نے فوراً کہا، "یہی وجہ ہے کہ تم نے مجھے نیچے بٹھایا۔ آفس میں تمہاری ترقی دکھانی ہے، اور گھر والوں کے سامنے یہ بھی کہ کون ساتھ کھڑا ہونے کے قابل ہے۔"
فائزان قریب آ گیا۔ اس کے ہاتھ میں رینک بورڈ اپڈیٹ کرنے والا چھوٹا ریموٹ تھا؛ دیوار پر لگے ڈیجیٹل بورڈ پر آج کے اعزازی نام اور کارکردگی کے نمبروں کی ترتیب بدل رہی تھی۔ سامنے والوں کو اسی کے مطابق اسٹیج کے قریب جگہ مل رہی تھی۔ فائزان نے حماد کو بچانے کے انداز میں کہا، "بھائی، میں سنبھال لیتا ہوں۔ بھابھی کو ابھی ادھر بٹھا دیتے ہیں، بعد میں دیکھ لیں گے۔"
بھابھی لفظ منہ سے نکلا، مگر لہجہ عارضی چیز اٹھا کر ایک طرف رکھنے والا تھا۔
مہرین نے سائیڈ پر ہونے سے انکار کرتے ہوئے وہیں سامنے کھڑے ہو کر کہا، "بعد میں کیا؟ جب تصویریں ہو جائیں؟ جب نام پکارے جائیں؟ جب میں غائب ہو چکی ہوں؟"
حماد نے پہلی بار دانت بھینچ کر کہا، "میری بات مانو۔"
"تمہاری کون سی؟ نیچے والی یا اب والی؟"
اندر سے اعلان ہوا کہ اعزازی مہمان اور ان کے شریکِ حیات پہلے قطار بنائیں۔ یہ بدترین وقت تھا۔ خالہ صائمہ، عمّی نازیہ، چند سینئر افسر، سب دروازے کے آس پاس جم گئے۔ جسے بھی جو سمجھنا تھا، اب اسی لمحے سمجھنا تھا۔ استقبالیہ لڑکا بھی اوپر آ گیا تھا، ہاتھ میں وہی کارڈ اور مہرین کا چھوڑا ہوا تحفہ۔
عمّی نازیہ نے صاف آواز میں پوچھ لیا، "حماد، بہو کہاں بیٹھے گی؟"
لفظ بہو کمرے میں جا کر ٹکا۔ حماد کا چہرہ ایک لمحے میں دو حصوں میں بٹ گیا—ایک طرف وہ احتیاط جس نے مہرین کو دروازے پر روکا تھا، دوسری طرف وہ شرمندگی جو اب سب کے سامنے اس کی اپنی بن رہی تھی۔ فائزان نے فوراً مداخلت چاہی۔ "خالہ، اصل میں نشستوں—"
"فائزان،" مہرین نے اس کی بات کاٹ دی، "وہ ریموٹ دو۔"
وہ ہنسا، "یہ کھیل نہیں ہے۔"
"نہیں،" اس نے حماد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، "یہ جگہ کی گنتی ہے۔ اور آج تم نے گنتی سب کے سامنے کی ہے۔"
حماد نے ہاتھ بڑھا کر فائزان سے ریموٹ لینا چاہا، شاید خود بورڈ سنبھال کر معاملہ نرم کرے، مگر تب تک عمّی نازیہ ایک قدم آگے بڑھ چکی تھیں۔ "حماد، ایک لفظ میں بتاؤ۔ یہ تمہارے ساتھ ہیں یا نہیں؟"
یہ وہ دائرہ تھا جہاں چپ رہنا ناممکن تھا۔ استقبالیہ لڑکا ابھی بھی تحفہ اور کھانے کا ڈبہ پکڑے کھڑا تھا۔ خالہ صائمہ کی ناک کے پاس غرور کی باریک لکیر سخت ہو گئی۔ سامنے قطار بنانے والے جوڑے آہستہ پڑ گئے۔ حماد نے مہرین کی طرف دیکھا؛ پہلی بار ایسے جیسے اس کے پاس سے گزر کر نہیں، اس کے سامنے کھڑے ہو کر بولنا پڑے گا۔
"ہیں،" اس نے کہا، مگر آواز پھنس گئی۔
مہرین نے ہلکی سی بھنو اٹھائی۔ "کون؟"
یہ چھوٹا سوال اس کے لیے پھندا بن گیا۔ اگر نام نہ لیتا تو دوبارہ دھندلا دیتا۔ اگر لیتا تو سب کچھ واضح ہو جاتا۔ حماد نے اپنے ہی گلے پر ہاتھ پھیرا، پھر سیدھا، بلند اور اتنا صاف بولا کہ دروازے کے دونوں طرف والے سن لیں، "مہرین میری بیوی ہیں۔ پہلی قطار میں میرے ساتھ بیٹھیں گی۔ کوئی انہیں الگ نہیں کرے گا۔"
ضرب یہی تھی۔ استقبالیہ لڑکے کے ہاتھ میں کارڈ جھک گیا۔ فائزان کا ہاتھ ریموٹ پر ڈھیلا پڑا۔ خالہ صائمہ کی سہیلی نے ایک قدم پیچھے لیا۔ اور حماد، جو ابھی تک ترتیب بچا رہا تھا، خود اس ترتیب کو سب کے سامنے کاٹ چکا تھا۔
فائزان نے پھر بھی بچانے کی کوشش کی۔ "بھائی، بورڈ پر جگہیں پہلے سے—"
"ریموٹ،" مہرین نے کہا۔
اس بار حماد نے خود فائزان کے ہاتھ سے ریموٹ لے کر مہرین کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔ "تم کرو۔"
یہ دوسرا وار تھا، پہلا سے بڑا۔ اب صرف نام نہیں بولا گیا تھا؛ نشانِ اختیار بھی اس کے ہاتھ آ گیا تھا۔ مہرین نے ریموٹ مضبوطی سے پکڑا۔ اس کی انگلی پر قلم کے پرانے دھبے کے پاس پلاسٹک کی ٹھنڈی کنار چبھ گئی۔ وہ رینکنگ وال کے سامنے گئی جہاں اسکرین پر ترتیب روشن تھی: سینئر مہمان، ایوارڈ یافتہ، شریکِ حیات۔ حماد کا نام اوپر تھا، اس کے ساتھ جگہ خالی رکھی گئی تھی، مگر فائزان نے نیچے اپنی کزن ثنا کا عارضی کارڈ اس قطار کے سامنے ٹکا دیا تھا تاکہ خاندان کے حساب سے تصویر اچھی لگے۔
مہرین نے سب کے سامنے ثنا کا کارڈ اٹھایا اور ایک طرف رکھ دیا۔ نہ پھاڑا، نہ چھپایا—صرف ہٹایا۔ پھر نیچے سے "مہرین حماد" والا کارڈ نکالا، جو شاید فائل کے پچھلے حصے میں رکھا تھا، اور اسے حماد کے نام کے برابر نہیں بلکہ اس قطار کے بائیں، پہلے خانے میں ٹکا دیا جہاں سے قطار شروع ہونی تھی۔ اس کے بعد ریموٹ سے بورڈ کی ترتیب بدلی۔ نمبروں نے ایک لمحہ جھپک کر نئی قطار بنائی: شریکِ حیات کی ترجیح اوپر چلی گئی، ثنا کا خانہ نیچے سرک گیا، فائزان کے خاندان کی خود بنائی گئی ترتیب سب کے سامنے الٹ گئی۔
فائزان آگے بڑھا، "یہ مجاز—"
"رک جاؤ،" حماد کی آواز اس بار اس کے لیے نکلی، تیز اور کاٹتی ہوئی۔ "جو جگہ میری طرف سے ہے، وہ مہرین رکھیں گی۔"
فائزان وہیں تھم گیا۔ اس کے چہرے پر وہی رنگ آیا جو کسی سے عین مجمع میں قلم چھین لینے پر آتا ہے۔ خالہ صائمہ نے کچھ کہنا چاہا مگر عمّی نازیہ نے فقط اپنی ٹھوڑی اٹھا کر مہرین کی طرف اشارہ کر دیا—آگے۔
مہرین نے قطار کے آغاز کی جگہ لے لی۔ جوڑے ازخود پیچھے سرک گئے۔ ایک لمحہ پہلے جسے دروازے پر پلاسٹک کی کرسی دکھائی گئی تھی، اب اسی کے پیچھے سب کو قدم جوڑنے پڑ رہے تھے۔ استقبالیہ لڑکا دوڑ کر آیا، اس نے تحفہ اور کھانے کا ڈبہ دونوں اس کی طرف بڑھائے۔ مہرین نے تحفہ نہیں لیا، صرف ڈبہ لے کر قریب کی میز پر رکھ دیا۔ "یہ اب بھی ٹھنڈا ہے،" اس نے حماد سے کہا، "مگر میں نہیں۔"
اس کے بعد وہ پل بھر کو اس کے اتنا قریب آیا کہ صرف وہ سن سکے۔ "میں نے غلط کیا۔"
"تم نے حساب کیا تھا، غلطی بعد میں ہوئی،" مہرین نے جواب دیا، اور پھر سب کے سننے کے قابل آواز میں کہا، "قطار شروع کریں۔ پہلے میں جاؤں گی۔"
وہ چلی تو واقعی سب کو راستہ بدلنا پڑا۔ سامنے والی نشست تک پہنچنے کے لیے رسی کھولی گئی، نامی کارڈ دوبارہ پڑھے گئے، اور جنہوں نے اسے نیچے چھوڑا تھا، وہی اب اس کے بعد چل رہے تھے۔ حماد ایک قدم پیچھے، مگر اسی قطار میں۔ یہی اس کی قیمت تھی۔
رینکنگ وال پر آخری ترتیب روشن تھی۔ "مہرین حماد" پہلے خانے میں جم گیا، اس کے نیچے پہلے روکے جانے والوں کے نام سرک کر نیچے آ گئے، اور ریموٹ پر اس کے انگوٹھے کے آخری دباؤ کے بعد نمبروں کی چمک ایک بار ٹھہری، پھر وہیں منجمد ہو گئی۔