Fast Fiction

وہی سب کے سامنے استثنا بنی

ثمنہ خالہ نے مہر کے ہاتھ سے فائل چھین کر دروازے کے پاس رکھے پھولوں کے کارٹن پر دے ماری اور اونچی آواز میں بولیں، “یہ اندر نہیں جائے گی، یہ باہر کھڑی رہ کر گاڑیوں کی پرچی پکڑائے گی۔” صحن سے ملتے ہال کے دہانے پر کھڑے دو ویٹر، ایک ڈرائیور اور دلہن کی پھوپھی نے ایک ساتھ ادھر دیکھا۔ مہر کے بازو پر دن بھر کی دوڑ دھوپ کی شکنیں جمی تھیں، آستین کہنی کے پاس سخت ہو گئی تھی، اور سینڈل کے تسمے میں سڑک کی گرد اٹکی ہوئی تھی۔ وہ صبح سے سروس سیکٹر والے اپنے دفتر کی چھٹی لے کر اسی گھر کے کام میں لگی تھی؛ مہمانوں کی فہرست، تحفوں کے لفافے، منگنی کی انگوٹھی، سب اس کے ہاتھ سے گزرے تھے۔ مگر دہانے پر آ کر وہ پھر وہی تھی: کام کی، مگر قابلِ بیٹھک نہیں۔

ثمنہ خالہ نے ذرا گردن ٹیڑھی کی، “اور سنو، سامنے سے نہیں، سائیڈ والے راستے سے جاؤ۔ جوتے بھی دیکھے ہیں اپنے؟” مہر نے کارٹن پر گری فائل اٹھائی، اس کے کاغذ سیدھے کیے، پھر وہیں دہانے کے اندر ایک قدم رکھ دیا۔ “مہمانوں کی فہرست میرے پاس رہے گی۔ باہر جمیل کو پرچیاں میں دے دوں گی، مگر فہرست میں کسی اور سے غلطی ہوئی تو آپ خود سنبھال لیجیے گا۔” یہ جواب اتنا آہستہ تھا کہ چیخا نہیں، مگر اتنا صاف کہ پاس کھڑی بوڑھی پھوپھی نے آنکھ اٹھا کر ثمنہ خالہ کو دیکھا۔ یہی پہلا شگاف تھا۔ خالہ نے فوراً ہاتھ بڑھایا، مگر مہر نے فائل اپنے بازو کے نیچے دبا لی۔

ہال کے اندر روشنیوں کی گرم سفیدی اور راہداری کے پنکھے کی برابر بھنبھناہٹ میں سب کچھ تیز لگ رہا تھا۔ حمزہ اسٹیج کے قریب کسی کزن سے بات کر رہا تھا، کالر کھلا ہوا، چہرہ تھکا ہوا، مگر نظر ایک بار مہر پر آئی اور فوراً ہٹ گئی۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والا تعلق برس بھر سے چل رہا تھا، مگر اعلان ہمیشہ “بعد میں” ہونا تھا؛ جب کاروبار کا ایک مرحلہ گزر جائے، جب خالہ راضی ہو جائیں، جب وقت ٹھیک ہو۔ آج وہی “بعد میں” مہر کے لیے دہانے کی ذلت بن کر کھڑا تھا۔

ثمنہ خالہ نے اگلا وار زیادہ حساب سے کیا۔ سامنے والی قطار میں جہاں خاندان کی لڑکیاں بیٹھ رہی تھیں، انہوں نے اپنے بھانجی صدف کا ہاتھ پکڑ کر کہا، “یہ میرے ساتھ رہے گی۔ مہر، تم پانی اور لفافوں کی نگرانی کرو۔ اور واپسی میں صدف حمزہ کے ساتھ پہلی گاڑی میں جائے گی، اسے اکیلا نہیں چھوڑنا۔” دو عورتوں نے ایک دوسرے کی طرف دبی ہنسی سے دیکھا۔ مطلب سب نے پڑھ لیا: صدف نمایاں، مہر پس منظر؛ صدف ساتھ جانے کے قابل، مہر صرف بندوبست کے قابل۔ مہر کھڑی رہی۔ صدف شرمندہ نہیں تھی، بلکہ نئی عزت کا لطف لیتے ہوئے اپنی دوپٹہ درست کر رہی تھی۔

اس وقت ایک ویٹر بھاگتا ہوا آیا۔ “بی بی، انگوٹھی والا ڈبہ نہیں مل رہا۔” ثمنہ خالہ نے پلٹ کر مہر پر انگلی رکھی، “میں نے کہا تھا نا ہر چیز اس کے ہاتھ میں نہ دو۔” مگر مہر نے پہلے ہی جمیل ڈرائیور کی طرف رخ کیا تھا۔ “وہ چھوٹی مخملی تھیلی؟ آپ نے پچھلی سیٹ کے نیچے سے نکال کر دفتر والے لفافوں کے ساتھ رکھی تھی۔” جمیل چونکا، “جی… ہاں… ہاں، میں لے آتا ہوں۔” دو قدم میں دو لوگ اس کے ساتھ ہو لیے۔ پھر ایک لڑکی نے دوسری سے کہا، “فہرست بھی انہی کے پاس ہے نا؟” اور وہ مہر کے قریب آ کھڑی ہوئی۔ کسی نے اعلان نہیں کیا، مگر دائرہ ہل گیا۔ پاؤں اس کی طرف مڑے، کندھے ثمنہ خالہ سے ذرا ہٹ گئے، اور راستہ وہی لوگ کھولنے لگے جو ابھی تک اسے سائیڈ والے دروازے کی طرف دھکیل رہے تھے۔

تھوڑی دیر بعد تحفوں کی میز پر لفافوں کے کاغذ کی خشک سرسراہٹ پھیل رہی تھی۔ مہر نام پڑھتی، رقم نہیں، صرف نسبت اور جگہ لکھتی جا رہی تھی۔ بوڑھی پھوپھی آ کر اس کے برابر کھڑی ہوئیں۔ “یہ کس کے ہاتھ دوں؟” “میرے پاس رکھیے، پھوپھی جان۔ بعد میں دو بار گنتی ہوگی۔” پھوپھی جان نے لفافہ دیتے ہوئے اتنی بلند آواز میں کہا کہ ثمنہ خالہ بھی سن لیں، “اچھا ہے، کم از کم کسی ایک کو ترتیب کا سلیقہ ہے۔” یہ دوسرا شگاف تھا، چھوٹا مگر کاٹ دار۔ ثمنہ خالہ کے چہرے پر وہی مسکراہٹ آئی جو امیر گھروں کی عورتیں مہمانوں کے سامنے غصہ چھپانے کو اوڑھتی ہیں؛ ہونٹ اوپر، آنکھیں ٹھنڈی۔

مغرب کے بعد جب مہمان کم ہونے لگے اور پارکنگ کے کنارے گاڑیاں بلانے کا وقت آیا تو اصل لڑائی وہیں جا پہنچی جہاں خاندان اپنی حقیقت چھپا نہیں سکتا تھا۔ صحن سے باہر نکلا ہوا سایہ دار برآمدہ، اس کے آگے قطار میں گاڑیاں، جمیل کے ہاتھ میں چابیوں کے ٹیگ، ایک کزن موبائل کی روشنی ہتھیلی میں چھپائے نام دیکھ رہا تھا۔ ہوا نم تھی؛ سمندر کی طرف سے آئی باسی ٹھنڈک کپڑوں سے چپک رہی تھی۔

ثمنہ خالہ نے سب کے سامنے ترتیب سنائی، “پہلی گاڑی میں میں، صدف، اور حمزہ۔ دوسری میں خالہ زاد۔ مہر، تم آخر میں جمیل کے ساتھ سامان گنواؤ گی۔ کوئی چیز رہ نہ جائے۔” یہ صرف بیٹھنے کی ترتیب نہیں تھی۔ یہ آخری مہر تھی: تم ہمارے ساتھ نہیں جاتیں، تم ہمارے بعد جگہیں صاف کرتی ہو۔ حمزہ نے سر اٹھایا۔ ایک لمحے کو لگا وہ کچھ کہے گا۔ پھر اس نے صرف “خالہ…” کہا اور خاموش ہو گیا۔ وہی پرانا، کمزور، مہذب سکوت۔

مہر نے اپنی جگہ نہیں بدلی۔ اس کے ہاتھ میں اب بھی لفافوں کا اندراجی رجسٹر تھا، دوسرے ہاتھ میں چابیوں کے چھلے کی آدھی کڑیاں، جو جمیل نے ہنگامے میں اسی کے پاس تھما دی تھیں۔ “سامان کی گنتی ہو چکی ہے،” اس نے سیدھا کہا۔ “اور میں آخر میں نہیں رہوں گی۔” برآمدے کے نیچے باتیں رکیں نہیں، مگر بہاؤ ٹوٹ گیا۔ دو نوجوان لڑکے جو ابھی گاڑی کا دروازہ کھول رہے تھے، وہیں رکے رہ گئے۔ جمیل نے ہاتھ آگے بڑھا کر چابیاں واپس لینے کی ہمت نہ کی۔ ثمنہ خالہ کی آواز پتلی ہوئی، “تم اپنے آپ کو سمجھ کیا رہی ہو؟”

“وہی جو آپ سارا دن بنواتی رہی ہیں،” مہر نے جواب دیا، “کام کے وقت گھر کی، اور بیٹھنے کے وقت باہر کی؟ اب یہ نہیں ہوگا۔” ثمنہ خالہ نے فوراً حمزہ کی طرف مڑ کر حکم لگایا، “اسے سمجھاؤ۔ اور چابیاں واپس لو۔ صدف کو بٹھاؤ۔” یہ آخری حفاظتی چال تھی، سب کے سامنے، روانگی کے عین کنارے پر۔ اگر حمزہ آگے بڑھتا، اگر وہ مہر کے ہاتھ سے رجسٹر لے لیتا، تو جو تھوڑی سی دراڑ پڑی تھی وہ بند ہو جاتی۔

حمزہ نے دو قدم بڑھائے، مگر مہر کی طرف نہیں، خالہ اور گاڑی کے بیچ آ کر رک گیا۔ پہلی بار اس نے آواز بلند کی، اتنی کہ ڈرائیوروں تک صاف پہنچی۔ “چابیاں وہی رکھیں گی۔” ثمنہ خالہ ساکت رہ گئیں، پھر کاٹ کھائی ہوئی لہجے میں بولیں، “کون؟” حمزہ نے مہر کی طرف دیکھا، مگر اس نظر میں آج چھپانے والی نرمی نہیں تھی، کھلی ہوئی نسبت تھی۔ “مہر۔ میری منگیتر۔ پہلے نام اسی کا لکھا جائے گا، پہلے وہی میرے ساتھ جائے گی۔ باقی گاڑیاں اس کے کہنے سے نکلیں گی۔”

لفظ “میری منگیتر” برآمدے کے نیچے ایسے گرا جیسے کسی نے پالش شدہ فرش پر شیشہ توڑ دیا ہو۔ صدف کا ہاتھ دروازے کے ہینڈل سے ہٹ گیا۔ جمیل نے بلا مانگے چابیوں کا پورا چھلہ مہر کی ہتھیلی پر رکھ دیا؛ دھات کی ٹھنڈی جھنکار سب نے سنی۔ ایک کزن جو ابھی تک موبائل کی روشنی میں نام دیکھ رہا تھا، اس نے اسکرین نیچے کر دی اور مہر کے قریب ہو گیا۔ بوڑھی پھوپھی ایک طرف سے چل کر آئیں اور ثمنہ خالہ کے برابر کھڑی ہونے کے بجائے مہر کے پیچھے آ کھڑی ہوئیں۔ پاؤں بدل گئے، کندھے بدل گئے، راستہ بدل گیا۔ ابھی جو گاڑی حمزہ اور صدف کے لیے کھل رہی تھی، اس کا دروازہ جمیل نے بند کر دیا اور اگلی سیٹ سے کپڑے کا تھیلا نکال کر پیچھے رکھا۔

ثمنہ خالہ کے چہرے سے رنگ یوں اترا جیسے مہنگے میک اپ کے نیچے کی تھکن اچانک باہر آ گئی ہو۔ “یہ موقع ہے؟ سب کے سامنے؟” حمزہ نے جواب میں ان کی طرف نہیں دیکھا۔ “سب کے سامنے ہی آپ نے اسے باہر رکھا تھا۔ اب سب کے سامنے ہی نام سن لیں۔” یہ محض اعلان نہیں رہا؛ حکم الٹ چکا تھا۔ جس عورت کو انہوں نے دہانے سے ہٹایا تھا، اب اسی کے ہاتھ میں رجسٹر اور چابیاں تھیں، اور گاڑیاں اس کے اشارے کی منتظر تھیں۔

مہر نے ثمنہ خالہ کی طرف نہیں، جمیل کی طرف دیکھا۔ “پہلے بڑی پھوپھی جان کو بھیجیے۔ ان کے گھٹنے خراب ہیں۔ دوسری گاڑی میں خالہ زاد بچے۔ آخر میں تحفوں والا ڈبہ الگ جائے گا، میرے ساتھ نہیں دبے گا۔” جمیل نے فوراً “جی” کہا۔ جو لڑکے پہلے ہچکچاتے تھے، وہ لپک کر راستہ صاف کرنے لگے۔ ایک عورت نے صدف کا بازو پکڑ کر نرمی سے دوسری گاڑی کی طرف کر دیا۔ صدف نے ایک لمحے کو ثمنہ خالہ کی طرف دیکھا، مگر وہاں سے اب حکم نہیں نکل رہا تھا، صرف بے وقت غصہ نکل رہا تھا جس کی کوئی جگہ نہیں بچی تھی۔

ثمنہ خالہ نے آخری بار وار کیا، کمزور اور بدحواس۔ “تم اگر اس گھر میں آنا چاہتی ہو تو بڑوں کا لحاظ—” مہر نے رجسٹر بند کیا۔ کاغذ کے کنارے سے خشک سی آواز نکلی۔ پھر اس نے چابیوں کے چھلے میں سے ایک ٹیگ الگ کر کے اپنے انگوٹھے میں اٹکایا، حمزہ کے برابر جا کر کھڑی ہوئی، مگر آدھا قدم آگے۔ “میں باہر کھڑی رہ کر اندر والوں کا حساب نہیں رکھوں گی۔ اگر آؤں گی تو دروازے سے، اپنے نام سے۔ جمیل، گاڑی لائیے۔”

صحن دوبارہ کھل گیا تھا۔ برآمدے کی اونچائی سے جھکی ہوئی چھت کے کنارے کے نیچے سایہ آہستہ آہستہ پلٹ کر فرش پر پھیل رہا تھا۔ لوگ ادھر ادھر ہونے لگے تھے، مگر مہر وہیں ٹھہری رہی، ہاتھ میں چابیاں، بند رجسٹر بغل میں۔ پھر اس نے صرف اتنا کیا: پہلی گاڑی کا دروازہ خود کھولا، اندر بیٹھنے سے پہلے رجسٹر جمیل کے سینے کی طرف نہیں، اپنی بغل میں اور مضبوط دبا لیا، اور سائبان کے کنارے سے سرکتی ہوئی چھاؤں کو پار کر کے اندر بیٹھ گئی۔