Fast Fiction

میرا نام سب سے اوپر چلا گیا

رک جائیے، ادھر نہیں۔ دربان نے مخملی رسی مہر کے سامنے کھینچ دی، جیسے وہ شادی میں نہیں، راشن کی لائن میں گھسنے آئی ہو۔ اس کے کندھے پر دفتر کی لمبی ڈیوٹی کی سختی ابھی تک جمی تھی، آستین کے کَف پر نیلے قلم کا پرانا داغ تھا، اور ہاتھ میں پکڑا چھوٹا سا ٹھنڈا کھانے کا ڈبہ اس وقت اور بھی سستا لگ رہا تھا جب سائرہ خالہ نے سب کے سامنے ناک سکیڑ کر کہا، “لڑکی والوں کی دور کی طرف سے ہے۔ پچھلی راہداری سے بھیج دو۔ سامنے والا راستہ قریبی گھر والوں کے لیے ہے۔”

مہر نے ایک لمحہ بھی صفائی نہیں دی۔ اس نے ڈبہ دروازے کے پاس پھولوں والے کاؤنٹر کے تنگ کنارے پر رکھ دیا، جہاں پہلے ہی پنوں کا ڈبہ، ٹیپ کی کتری ہوئی رول اور دو مرجھائے گجروں کے ٹکڑے پڑے تھے، پھر رسی کے سامنے سیدھی کھڑی ہوگئی۔ “میرا نام فہرست میں ہے،” اس نے اتنا ہی کہا۔ آواز اونچی نہیں تھی، مگر سامنے روشن صحن میں بیٹھے دونوں خاندانوں کے کان تک پہنچ گئی۔

یہ محض داخلہ نہیں تھا۔ کراچی کے اس بڑے شادی ہال کے صحن میں کون کس راستے سے اندر جائے، کس سیڑھی سے اوپر چڑھے، کس قطار میں کھڑا ہو، وہی اصل نسبت بتاتا تھا۔ اور مہر کو وہاں ہر شخص جانتا تھا۔ تین سال سے عامر کے ساتھ اس کا نام گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا، اتنا کہ محلے کی خالائیں دعا بھی دیتی تھیں اور سرگوشیاں بھی۔ مگر آج، جب سنہری لائٹوں کے نیچے دولہے کے گھر والے خود کو نواب ثابت کرنے پر تلے تھے، سائرہ خالہ نے اسی معلوم رشتے کو دھکیل کر دور کی عورتوں والی راہداری میں پھینک دیا۔

مہر کی امی دو قدم پیچھے رہ گئیں۔ ان کے ہاتھ میں چادر کا کنارہ تھا اور چہرے پر وہی خوف کہ بیٹی اگر یہاں پلٹ گئی تو لوگ یہی کہیں گے، لڑکی میں برداشت نہیں۔ سائرہ خالہ نے فوراً اسی خوف پر ہاتھ رکھا۔ “باجی، رسمیں ہوتی ہیں۔ ہر ایک کو اپنی جگہ رکھنی پڑتی ہے۔ کل کو کوئی بھی آکر سامنے سے چڑھنے لگے تو کیا بنے گا؟” پھر دربان کو دیکھ کر کہا، “سمجھاؤ ذرا۔ مہمانوں میں تہذیب رہنی چاہیے۔”

دربان نے نظریں جھکا کر رسی اور کھینچ لی۔ اس لمحے دو جونیئر کزن، جو ابھی موبائل سے سیلفیاں بنا رہے تھے، ہنستے ہوئے سامنے والی قطار سے اندر گزر گئے۔ ایک اجنبی کاروباری دوست، جسے کوئی صحیح نام سے بھی نہیں جانتا تھا، سفید شال سنبھالتا ہوا ان سے پہلے لے جایا گیا۔ سائرہ خالہ نے مہر کی طرف دیکھے بغیر ہاتھ کا اشارہ کیا، “آپ ادھر۔ جہاں عام عورتیں جا رہی ہیں۔”

عام عورتیں۔ لفظ نرم تھا، وار گہرا۔

مہر نے رسی کو نہیں چھوا۔ اس نے بس اپنی جگہ بدلی اور عین اس جگہ جا کھڑی ہوئی جہاں سامنے کا راستہ اور پچھلی راہداری دونوں صاف نظر آتے تھے۔ اب جسے بھی اندر جانا ہوتا، اسے یا تو اس کے پاس سے گزرنا پڑتا یا نظریں چرا کر مڑنا پڑتا۔ یہی اس کی پہلی ضد تھی۔ سائرہ خالہ کو شاید امید تھی وہ شرم سے ہٹ جائے گی، مگر مہر یوں کھڑی تھی جیسے اپنے ہی نام کے نیچے دستخط کر رہی ہو۔

عامر سیڑھیوں کے نیچے والے موڑ سے نظر آیا۔ شیروانی کے اوپر سے اس کے چہرے پر الجھن پھسل کر آئی، پھر سائرہ خالہ کی طرف دیکھتے ہی جم گئی۔ “کیا ہوا؟” اس نے پوچھا۔

“کچھ نہیں،” سائرہ خالہ نے بڑی آواز میں کہا تاکہ سننے والے سنیں، “بس ترتیب سمجھا رہے ہیں۔ ہر رشتے کا ایک درجہ ہوتا ہے۔ ابھی نکاح نہیں ہوا، اس لیے حد رہتی ہے۔” آخری جملہ مہر کی طرف تھا، نرم لہجے میں لپٹا ہوا، مگر سب کے سامنے اس کی جگہ ناپ کر رکھ دینے کے لیے کافی۔

عامر نے مہر کی آنکھوں میں نہیں دیکھا۔ یہی سب سے زیادہ ذلیل کرنے والی بات تھی۔ وہ چاہتا تو ایک قدم اس کی طرف آ سکتا تھا، مگر اس نے اپنے شیروانی کے بٹن کو چھوا اور دھیمی آواز میں کہا، “مہر، پلیز، ابھی معاملہ نہ بناؤ۔ بس اندر آ جاؤ، جس طرف کہہ رہی ہیں۔”

مہر کے اندر کوئی چیز ٹھنڈی ہوئی، ٹوٹی نہیں۔ “معاملہ میں نے نہیں بنایا،” اس نے کہا، اور اتنی ہی سردی سے کہا کہ قریب کھڑے پھول سجاؤنے والے لڑکے نے ہاتھ روک لیا۔

صحن کے دوسرے کنارے سے چیف اُشر تیزی سے آیا۔ کالا واسکٹ، ہاتھ میں مہمانوں کی فہرست، سانس چڑھی ہوئی۔ وہ سیدھا سائرہ خالہ کی طرف بڑھ رہا تھا، مگر عین مہر کے سامنے پہنچ کر رک گیا۔ اس کی نظر پہلے رسی پر گئی، پھر مہر کے چہرے پر، پھر سیڑھیوں کی طرف۔ “بی بی، آپ یہی ہیں؟” اس نے بےاختیار پوچھا، جیسے وہ کسی کو ڈھونڈ رہا تھا اور اچانک مل گئی ہو۔

سائرہ خالہ فوراً بیچ میں آئیں۔ “ہاں ہاں، بعد میں۔ پہلے اوپر والوں کو لے جاؤ۔”

مگر اُشر نے ان کی طرف مڑنے کے بجائے اپنا جسم مہر کی طرف کر لیا۔ یہ اتنا معمولی سا زاویہ تھا کہ پھر بھی پورا صحن دیکھ سکا۔ اس نے رسی کو خود ایک طرف کیا، بازو پھیلا کر سامنے سے آنے والوں کو روکا اور کہا، “راستہ خالی رکھیں۔”

سائرہ خالہ کی بھنویں اکٹھی ہو گئیں۔ “میں نے کہا نا، پہلے بڑے لوگ—”

“بڑے لوگ آ گئے ہیں۔” آواز اس مرتبہ صحن کے پچھلے دروازے سے آئی۔

سب کے سر ایک ساتھ مڑے۔ حاجی عبدالوحید صاحب، عامر کے دادا کے بڑے بھائی، جنہیں دونوں خاندانوں میں آخری فیصلہ مانا جاتا تھا، اپنی چھڑی کے ساتھ اندر آ رہے تھے۔ ان کے پیچھے دو عمر رسیدہ مرد اور عامر کے والد۔ چیف اُشر فوراً سیدھا ہوا، مگر عبدالوحید صاحب کی نظر کہیں اور تھی۔ وہ مہر پر جا ٹھہری۔

سائرہ خالہ کا لہجہ فوراً بدل گیا۔ “السلام علیکم، آپ تشریف لائے، بس ہم ترتیب—”

“ترتیب تم بگاڑ رہی ہو، سائرہ۔” بوڑھی مگر بھاری آواز نے صحن کو ایک ہی ضرب میں دو حصوں میں بانٹ دیا۔ وہ مہر کے سامنے آ کر رکے۔ “یہ لڑکی باہر کیوں کھڑی ہے؟”

کوئی جواب نہ بنا تو خود ہی بولے، صاف، سننے والوں کے لیے۔ “یہ باہر والوں میں نہیں۔ یہ عامر کی منگیتر ہے۔ ہمارے گھر کی نامزد بہو ہے۔ اسے پچھلی راہداری نہیں، ہمارے ساتھ اوپر لایا جائے گا۔ ابھی۔”

لفظ نرم تعریف نہیں تھے؛ حکم تھے۔ اور ان کے ساتھ ہی جسم ہلے۔ چیف اُشر نے فوراً دوسری رسی کھینچ کر سامنے کا راستہ پوری طرح کھول دیا۔ دو نوجوان کزن، جو ابھی تک سیڑھیوں کے ابتدائی حصے پر پوز بنا رہے تھے، ایک طرف ہٹا دیے گئے۔ عامر کے والد نے خود ایک قدم پیچھے لے کر جگہ بنائی۔ سائرہ خالہ نے کچھ کہنا چاہا، “مگر رسم—”

“رسم وہی ہے جو ہم سب کے سامنے مان لی جائے،” عبدالوحید صاحب نے چھڑی زمین پر ٹکائی، “اور میں کہہ رہا ہوں، مہر میرے ساتھ چلے گی۔”

ایک جھٹکے میں سائرہ خالہ کے ہاتھ سے اختیار نکل کر ہوا میں لٹک گیا۔ وہی دربان، جس نے چند لمحے پہلے رسی مہر کے منہ پر کھینچی تھی، اب اسے مکمل سمیٹ کر ستون سے باندھ رہا تھا۔ چیف اُشر نے اپنے بازو کی ہلکی ڈھال مہر کے سامنے کر دی، جیسے آنے جانے والوں کی بےحیائی سے بچانے کو۔ اس کھلے صحن میں اب سب سے نمایاں چیز یہی تھی کہ کس کے لیے راستہ خالی کیا جا رہا ہے۔

عامر آخرکار مہر کے سامنے آیا۔ اس کی آواز میں پہلی بار گھبراہٹ تھی، “مہر، آؤ۔” شاید وہ اسے ہاتھ دینا چاہتا تھا، مگر مہر نے اس کی طرف نہیں، عبدالوحید صاحب کی طرف دیکھا۔ فیصلہ وہیں تھا، اور وہ فیصلہ سب کے سامنے ہو چکا تھا۔

سائرہ خالہ نے آخری کوشش کی۔ وہ تیزی سے سیڑھیوں کے پہلے زینے کے پاس پہنچیں جہاں اوپر جانے والوں کے لیے نامی کارڈ رکھے تھے، چھوٹی سنہری پٹیاں جن پر رشتوں کے حساب سے قطاریں لکھی تھیں۔ “یہ نشستیں طے ہیں،” انہوں نے کارڈ اٹھا کر کہا، “سامنے والی قطار میں چچی، پھوپھی، سگی بہنیں۔ اس کا کارڈ اوپر نہیں۔”

مہر وہیں رک گئی۔ پورا صحن دیکھ رہا تھا کہ اب وہ پیچھے ہٹے گی یا نہیں۔ چیف اُشر نے ہاتھ بڑھا کر سائرہ خالہ سے کارڈ لینا چاہا، مگر انہوں نے اپنی مٹھی بند کر لی۔

تب مہر نے پہلی بار خود حرکت کی۔ وہ دو قدم آگے بڑھی، سائرہ خالہ کے ہاتھ کی مٹھی پر نظر جمائے، اور بہت صاف آواز میں کہا، “اگر میرا نام اوپر نہیں رکھا گیا تو آپ نے جھوٹے کارڈ لگوائے ہیں۔ کیونکہ ابھی آپ کے بڑے نے میرا مقام سب کے سامنے بتا دیا ہے۔”

یہ التجا نہیں تھی۔ یہ دعویٰ تھا، سیدھا، عام گواہوں کے بیچ۔ عبدالوحید صاحب نے فوراً چھڑی اٹھا کر اُشر کی طرف اشارہ کیا۔ “سامنے والی قطار۔ عامر کے ساتھ۔ کارڈ بدلو۔”

چیف اُشر نے مزید اجازت کا انتظار نہیں کیا۔ اس نے سائرہ خالہ کی انگلیوں سے سنہری پٹی تقریباً چھین لی۔ کاغذ کا کنارہ ان کے ناخن سے اٹکا اور مڑ گیا۔ یہ چھوٹا سا نقصان بھی سب کو دکھا۔ اس نے دوسری ٹرے سے نیا کارڈ نکالا، موٹے سیاہ حرفوں میں جلدی سے “مہر” لکھا، پھر سب کے سامنے پہلی قطار کے کنارے والی جگہ پر رکھ دیا، عین عامر کے نام کے ساتھ۔ سائرہ خالہ کا ہاتھ ہوا میں خالی رہ گیا۔

یہی وہ لمحہ تھا جب اوپر جانے کی ترتیب دوبارہ کاٹی گئی۔ “پہلے عبدالوحید صاحب، پھر مہر بی بی، پھر عامر صاحب،” چیف اُشر نے اونچی آواز میں کہا، مگر اس کی آواز میں اعلان سے زیادہ عمل تھا۔ دو لڑکوں نے فوراً سیڑھیوں کے دونوں طرف کھڑے ہو کر باقی رشتہ داروں کو روکا۔ ایک خالہ، جو ابھی بڑھ رہی تھیں، رکی رہ گئیں۔ جونیئر کزن، جو پہلے اندر گھسے تھے، اب نیچے ہٹ کر راستے سے کنارے لگے۔ سائرہ خالہ سیڑھی کے کنارے پر تھیں مگر ان کے آگے کوئی جگہ نہ رہی۔

عامر نے بےاختیار مہر کی طرف دیکھا، اس بار سیدھا۔ شاید وہ معافی مانگنا چاہتا تھا، شاید بس ساتھ چلنا۔ مگر مہر نے اس کے لیے جگہ خود مقرر کی۔ وہ عبدالوحید صاحب کے اشارے پر آگے بڑھی، پہلے زینے پر قدم رکھا، پھر دوسرے پر، اور رکنے کے بجائے پورے اعتماد سے اوپر چڑھتی گئی۔ عامر اس کے ایک قدم پیچھے رہا۔ یہی فاصلہ سب سے زیادہ بولتا تھا۔

نیچے سائرہ خالہ نے تیز آواز میں کہا، “کم از کم عورتوں کی قطار تو—”

“آپ بعد میں آئیں گی،” چیف اُشر نے پہلی بار ان سے سیدھا کہا۔ بہت ادب سے، مگر سب کے سامنے۔ “راستہ ابھی مقرر ہو چکا ہے۔”

لفظ چھوٹے تھے، نقصان بڑا۔ ایک عورت جو پندرہ منٹ سے سب کو ہٹا رہی تھی، اب خود روک دی گئی۔ اس نے آگے بڑھنا چاہا مگر سیڑھی کے کنارے کھڑے لڑکے نے بازو سیدھا کر کے گزرگاہ بند رکھی۔ اس کی نظریں نیچی تھیں، مگر بازو نہیں ہٹا۔ سائرہ خالہ کے چہرے پر سرخی دوڑ گئی۔ اس سے زیادہ ذلت شاید یہ تھی کہ انہیں چیخنے کا حق بھی نہیں رہا تھا؛ اوپر بڑھے بغیر وہ اپنی ہی آواز کے نیچے رہ جاتیں۔

سیڑھی کے درمیانی موڑ پر پہلی قطار صاف دکھنے لگی۔ نیا رکھا گیا کارڈ لائٹ میں چمک رہا تھا۔ مہر نے جا کر اپنا ہاتھ اس کرسی کی پشت پر رکھا۔ ایک لمحے کو عامر نے قریب آنے کی کوشش کی۔ “مہر، میری بات سنو—”

“بعد میں،” اس نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا، اور کرسی کھینچ کر خود بیٹھنے کے بجائے سیدھی کھڑی رہی، یہاں تک کہ عبدالوحید صاحب اپنی نشست پر آ بیٹھے۔ پھر ہی اس نے اپنی جگہ لے لی۔ اوپر سے نیچے تک دیکھنے والوں کے لیے قطار اب بالکل نئی پڑھائی دے رہی تھی: نام، جگہ، چڑھنے کی ترتیب، سب بدل چکا تھا۔

عامر جھک کر بہت دھیمی آواز میں بولا، “میں نے تمہیں اکیلا چھوڑ دیا۔”

مہر نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا۔ آنکھوں میں نمی نہیں تھی، بس حساب۔ “آج سب نے دیکھ لیا۔ اگلی بار میں بھی دیکھ لوں گی کہ تم کہاں کھڑے ہوتے ہو۔”

اسی وقت نیچے سے دوبارہ حرکت ہوئی۔ کچھ رشتہ دار اوپر آنا چاہتے تھے، مگر چیف اُشر نے ہاتھ اٹھا کر ان کی رفتار باندھ دی۔ پہلے مہر کے سامنے سے گزرتی ہوا بدلی، پھر راستہ۔ سیڑھی کے اوپری موڑ سے اندر کی راہداری کھلتی تھی، تنگ مگر روشن، ایک طرف دیوار کے ساتھ مصنوعی گلاب، دوسری طرف کمرے کی جانب جاتی ہلکی سنہری روشنی۔ مہر کھڑی ہوئی تو اس کے دائیں بائیں لوگ خودبخود فاصلہ لے کر ہٹ گئے۔

لینڈنگ کی اس راہداری میں سب بدن پہلے ہی نئی ترتیب میں آ چکے تھے۔ مہر نے ایک قدم آگے رکھا، اور سامنے کھڑا اُشر اپنا آستین والا بازو سب سے پہلے پیچھے کھینچ کر راستہ صاف کرتا ہوا ہٹ گیا۔