Fast Fiction

جھوٹا آپریٹر وہیں کھل گیا

“قطار روکیے مت، ٹوکن سیدھا دیجیے!” کامران نے کاؤنٹر پر ہتھیلی ماری اور اسی ہاتھ سے مہرین کی طرف اشارہ کیا، “تم پیچھے رہو۔ آج فرنٹ میں دانش بیٹھے گا۔”

سامنے لائن دروازے تک چڑھی ہوئی تھی۔ کراچی کی دوپہر، بند ایئرکنڈیشنر، پسینے میں بھیگی قمیصیں، موبائل مرمت، چھوٹے بلینڈر، استریاں، ایک مائیکروویو کا ڈبہ، سب کاؤنٹر کے نیچے اور اوپر اٹکے پڑے تھے۔ مہرین کاؤنٹر کے کنارے، آدھے کھلے دروازے کے پاس، ٹھیک اس جگہ کھڑی تھی جہاں سے نہ واپس جا سکتی تھی نہ آگے بڑھ سکتی تھی۔ اس کے ہاتھ میں اسٹیل کا چھوٹا چابی چھلہ تھا جو کامران نے صبح تاخیر سے واپس کیا تھا، جیسے احسان کر رہا ہو۔ نیچے اسٹول کے پاس اس کا دوپہر کا کھانے والا ڈبہ ٹھنڈا پڑا تھا۔ اس نے صرف اتنا کہا، “انٹیک رجسٹر میرے پاس تھا۔”

“تھا،” کامران نے زور دے کر کہا، اور دانش کے گلے میں لٹکی عارضی شناختی پٹی سیدھی کر دی۔ “اب نہیں ہے۔ سامنے میرے خالو جان بھی آنے والے ہیں۔ گڑبڑ نہیں چاہیے۔”

یہ ضرب سیدھی تھی۔ سروس سیکٹر میں کام کی بے عزتی اکثر کام کے نام پر ہوتی ہے، مگر یہاں رشتہ بھی کھڑا تھا۔ مہرین نے لائن پر ایک نظر ڈالی، پھر بغیر بحث کیے کاؤنٹر کے نیچے سے جمع شدہ رسیدی فائل اپنے قدم کے قریب کھینچ لی۔ کامران نے شاید یہی توقع نہیں کی تھی کہ وہ پیچھے جا کر غائب ہونے کے بجائے تمام زیرِ التوا پرچیاں اپنے پاس سمیٹ لے گی۔

پہلا مسئلہ تین منٹ میں پھٹ گیا۔ دانش نے ایک ہی ٹوکن پر دو مشینیں چڑھا دیں، ایک پانی کی موٹر، ایک سینڈوچ میکر۔ پھر اس نے ایک خاتون کی وارنٹی والی رسید پر “کسٹمر ڈیمیج” لکھ دیا کیونکہ اسے ماڈل نمبر پڑھنا نہیں آ رہا تھا۔ خاتون کی آواز تیز ہوئی، “میں نے کل ہی جمع کرایا تھا، آپ لوگوں نے اندر سے فون کیا تھا کہ بورڈ جل گیا ہے۔ اب قصور میرا کیسے؟”

دانش کی گردن سرخ ہوگئی۔ وہ رسید کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا، پھر بولا، “سسٹم یہی بتا رہا ہے۔” سسٹم کچھ نہیں بتا رہا تھا؛ اس نے غلط خانے میں اندراج کیا تھا۔ مہرین نے دور سے دیکھا کہ اس نے مرمت کی پٹی نیلی کے بجائے سبز لگا دی ہے، جس کا مطلب تھا چیز تیار ہے، جب کہ وہ ابھی کھولی بھی نہیں گئی تھی۔

لائن میں ہلچل دوڑ گئی۔ ایک موٹرسائیکل ہیلمٹ بازو میں دبائے آدمی نے کہا، “بھائی، تین بندے آگے تھے، اب آدھا گھنٹہ ہوگیا۔” پیچھے سے کسی نے پکارا، “اگر نہیں ہوتا تو ایک ہی بندہ بٹھاؤ جو جانتا ہو۔” کامران فوراً اونچی آواز میں بولا، “سب ہو جائے گا، شور نہ کریں، لڑکیوں والا سیکشن الگ ہے۔” وہ “لڑکیوں والا” مہرین کی طرف دیکھ کر بولا، جیسے فرنٹ کاؤنٹر ہنر نہیں، مرتبہ ہو۔

مہرین نے اپنی ہتھیلی میں دبی اسکرین کی مدھم روشنی پر نظر ڈالی۔ شفقت آپا کا پیغام تھا: *آج خالہ زبیدہ کا بھتیجا بھی آیا ہوا ہے، سنبھل کے رہنا، گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہے تم یہ جگہ اپنے زور پر پکڑے ہوئے ہو۔* اس نے فون الٹا کر دیا۔ ابھی گھر نہیں، یہی کاؤنٹر اس کا جواب مانگ رہا تھا۔

دوسرا مسئلہ تب بنا جب ایک بزرگ آدمی، سفید داڑھی، صاف استری شدہ کرتا، اپنے ساتھ چھوٹا سا ٹیبل فین اٹھائے آگئے۔ مہرین نے انہیں پہچان لیا۔ یہی کامران کے محلے کے جاننے والے تھے، جنہیں وہ “خالو جان” کہہ کر سب کے سامنے وزن بناتا تھا۔ دانش نے فین لیا، انٹیک لکھتے ہوئے برانڈ کے بجائے بس “پنکھا” لکھا، خرابی میں “آواز” ڈال دیا، اور ایڈوانس کی رقم غلط خانے میں نقد کے بجائے بقایا کر دی۔ بزرگ نے چشمہ ناک سے اوپر چڑھایا۔ “میں نے ابھی نوٹ دیے ہیں۔ رسید میں بقایا کیوں ہے؟”

کامران آگے جھکا، “ہو جائے گا، ہو جائے گا، آپ بیٹھیں۔”

“کہاں بیٹھوں؟” بزرگ نے پیچھے قطار کی طرف دیکھا جہاں لوگ اب سننے لگے تھے۔ “میرا نام بھی غلط، رقم بھی غلط، خرابی بھی غلط۔ تم نے کاؤنٹر تماشہ بنایا ہوا ہے؟”

دانش نے رسید دوبارہ کھینچی، مگر اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس نے غلطی مٹانے کے لیے اوپر سے نئی مہر لگا دی۔ کاغذ کچلا گیا۔ اب نہ پہلی تحریر صاف رہی، نہ دوسری۔ خاتون، جس کی وارنٹی خراب ہوئی تھی، یہی موقع دیکھ کر اور آگے آ گئی۔ “میری چیز بھی واپس نکالو، میں یہاں نہیں چھوڑ رہی۔”

کاؤنٹر کے پیچھے رکھی ٹوکن مشین نے نئی پرچی اگل دی۔ پھر ایک اور۔ پھر ایک اور۔ آوازیں ایک دوسرے پر چڑھنے لگیں۔ کامران نے مہرین کی طرف پلٹ کر کہا، “تم بس پیچھے سے چیزیں اٹھاؤ، سامنے میں دیکھ رہا ہوں۔”

مہرین نے اس کی بات ختم ہونے سے پہلے حرکت کی۔ کاؤنٹر کے کنارے پر پڑا سرخ مارکر اس نے پہلے اٹھایا، پھر دانش کے سینے سے لٹکتی شناختی پٹی کے کلپ پر انگلی رکھی اور ایک جھٹکے سے اسے آزاد کر لیا۔ پٹی اس کی مٹھی میں آئی، اگلے لمحے وہ اسٹول کے سامنے تھی۔ “ٹوکن ایک سو چونتیس، فین مرمت، نقد وصول۔ رسید دوبارہ بنے گی۔” اس کی آواز بلند نہیں تھی، مگر سیدھی لائن کے بیچ لگی۔

کامران نے بازو پکڑنے کو ہاتھ بڑھایا۔ مہرین نے بغیر اسے دیکھے رجسٹر اپنی طرف کھینچ لیا اور خانے پر سیدھی لکیر ماری۔ “غلط اندراج منسوخ۔ نئی رسید میرے سامنے۔ اگلا کوئی بھی کاغذ دانش کے ہاتھ سے نہیں گزرے گا۔” پھر بزرگ سے، “چچا، رقم آپ نے بارہ سو دی تھی؟”

“ہاں۔”

“ٹھیک۔ بقایا صفر۔ خرابی: موٹر شور کے ساتھ بند۔ نام؟”

“عبدالوحید۔”

اس نے ایک ہی سانس میں صحیح لکھا، نئی رسید پھاڑی، پرانی کو سرخ مارکر سے کراس کیا، اور فین پر نیلی کے بجائے پیلی مرمت پٹی لگائی۔ “یہ انسپیکشن میں جائے گا، تیار نہیں۔ اگلی بہن، وارنٹی والی رسید دکھائیے۔”

حرکت ایسی تھی کہ کاؤنٹر نے خود فیصلہ کر لیا۔ خاتون نے فوراً اپنا کاغذ مہرین کی طرف بڑھایا، دانش کی طرف نہیں۔ ہیلمٹ والا آدمی آدھا قدم دائیں ہٹا تاکہ مہرین کے سامنے راستہ خالی ہو۔ کامران کی آواز ایک دم حکم سے وضاحت میں بدل گئی۔ “ارے، میں تو یہی کہہ رہا تھا، چیک کر لو—”

“چیک نہیں، سیدھا اندراج,” مہرین نے کہا اور خاتون کی رسید پر پرانا فون نمبر درست کیا۔ “آپ کی مشین وارنٹی میں ہے۔ اندر سے کال ہوئی تھی، نوٹ موجود ہے۔ یہ ‘گاہک کی غلطی’ کس نے ڈالا؟”

خاتون نے پہلی بار انگلی اٹھا کر دانش کی طرف اشارہ کیا۔ دانش نے نظر جھکا لی۔

اب کاؤنٹر پلٹ چکا تھا۔ مہرین ایک ایک چیز جگہ پر رکھ رہی تھی اور اسی ترتیب سے لوگوں کو بھی۔ “جس کے پاس صرف جمع کرانا ہے، بائیں قطار۔ جس کی رسید غلط بنی ہے، یہی سامنے۔ جو چیز لینے آیا ہے، پیچھے نہیں گھسے گا، نام پکارا جائے گا۔” اس نے موٹر والے آدمی کو روکا، “آپ کی چیز ابھی اندر نہیں گئی۔ شور مچانے سے جلدی نہیں ہوگی۔ یہاں کھڑے رہیے، نمبر آنے پر میں خود لوں گی۔” وہ آدمی، جو ابھی پانچ منٹ پہلے چلایا تھا، خاموش ہو کر رسید سیدھی کرنے لگا۔

کامران نے آخری بار پرانا رنگ جمانے کی کوشش کی۔ اس نے بلند آواز میں کہا، “دانش، تم بیٹھے رہو، مہرین صرف مدد کر رہی ہے۔” مگر اسی لمحے ٹوکن مشین پھنس گئی۔ پرچیاں اندر آدھی کٹ کر اٹک گئیں۔ دانش نے ڈھکن کھولنے کی کوشش کی، غلط چابی لگائی، پلاسٹک چرچرا کر رہ گیا۔

عبدالوحید چچا نے اپنا فین واپس کاؤنٹر پر رکھ دیا، اتنی زور سے کہ لوہے کی جالی بجی۔ “میں ابھی جا رہا ہوں، اور مسجد کے بعد سب کو یہی بتاؤں گا کہ تم لوگوں نے پیسے لے کر رسید بھی نہیں بنانی سیکھی۔ تم نے اسے ہٹایا کیوں جسے کام آتا ہے؟” آخری جملہ انہوں نے کامران کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔

یہ وہ دھکا تھا جس نے کامران کے چہرے سے سارا بناوٹی اطمینان اتار دیا۔ لائن میں دو عورتیں ایک دوسرے سے سر جوڑ کر سرگوشی کر رہی تھیں۔ دانش نے پٹی کے بغیر اپنے خالی گلے کو چھوا، جیسے کچھ گر گیا ہو۔ کاؤنٹر کے نیچے مرمت والے خانے سے شفقت آپا دروازے کے چوکھٹ پر آ کر رک گئیں؛ ان کی نگاہ سیدھی کامران کے ہاتھ پر گئی جہاں اصل شناختی بیج اب بھی اس کی انگلیوں میں دبا تھا۔

مہرین نے ٹوکن مشین اپنی طرف کھینچی۔ “پیچھے ہٹیے۔” اس نے سائیڈ پینل کی قلفی دو انگلیوں سے دبائی، اندر پھنسی پرچی سیدھی کی، رول کو نالی میں بٹھایا، پھر کامران کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ “بیج۔”

کامران نے فوراً نہیں دیا۔ اس نے پہلے عبدالوحید چچا کی طرف دیکھا، پھر لائن کی طرف، پھر شفقت آپا کی طرف، جیسے کہیں سے سہارا گرے گا۔ کوئی نہیں گرا۔ اس نے ہونٹ بھینچے، “ابھی تو میرے پاس—”

“آپ کے پاس صرف رکاوٹ ہے،” مہرین نے کہا۔ اس کے بازو کے پاس رجسٹر، سرخ مارکر، نئی رسیدوں کی گڈی، سب اس کی طرف جھکے ہوئے تھے۔ “اندر والا دروازہ بھی اسی بیج سے کھلتا ہے۔ مرمت خانے میں چیزیں رکی ہیں۔ اگر ابھی نہیں دیا تو آدھا کام، آدھا حساب، آدھا نام، سب باہر الٹ جائے گا۔”

عبدالوحید چچا نے صاف، سنائی دینے والی آواز میں کہا، “دے دو۔ لڑکی کے پاس دو۔”

کامران نے ابھی بھی ایک کمزور ہتھکنڈا بچا رکھا تھا۔ اس نے بیج دانش کو تھمانا چاہا۔ دانش نے ہاتھ ہی نہیں بڑھایا۔ اس کے بجائے آدھا قدم پیچھے ہوا اور اسٹول سے ٹکرا گیا۔ یہ چھوٹا سا پیچھے ہٹنا کاؤنٹر کے سامنے سب نے دیکھا۔ کامران کی انگلیاں بیج پر سخت ہوئیں، پھر ڈھیلی۔ اس نے بیج مہرین کی ہتھیلی پر رکھا، مگر چھوڑنے میں ایک پل زیادہ لگایا، جیسے گرفت سے مرتبہ بچ جائے گا۔ نہ بچا۔ مہرین نے کلپ سیدھا کیا، بیج اپنے سینے پر لگا لیا، اور اسی حرکت میں اندر والے دروازے کی چابی بھی اس کے ہاتھ سے لے لی۔

“دانش، سائیڈ ہو جاؤ۔ رسیدیں لکھو گے نہیں، صرف پرانے کاغذ ترتیب دو گے۔ کامران صاحب، سامنے کھڑے ہو کر راستہ بند نہ کریں۔” اس نے ٹوکن مشین دوبارہ چلائی۔ پرچی نکلی۔ “ایک سو پینتیس۔ وارنٹی انسپیکشن۔”

پھر رفتار ایسی لگی کہ شرمندگی کو سانس لینے کی جگہ نہ ملی۔ وارنٹی والی خاتون کا کاغذ سیدھا، عبدالوحید چچا کا فین نشان لگا کر مرمت خانے میں روانہ، موٹر والے آدمی کو ایڈوانس کی درست رسید، ایک لڑکے کی استری پر “صرف پلگ” لکھنے کے بجائے مکمل خرابی درج، دو تیار شدہ چیزیں غلط ڈھیر سے نکلوا کر صحیح گاہکوں کے ہاتھ میں۔ ہر دو جملوں کے بعد کسی نہ کسی کو اپنی جگہ بدلنی پڑ رہی تھی، اور یہ سب مہرین کے اشارے سے ہو رہا تھا۔ کامران ایک بار پھر بیچ میں بولا، “اس والی کو پہلے—”

“نمبر کے بغیر کوئی پہلے نہیں،” مہرین نے اسی وقت اگلی رسید پر مہر لگاتے ہوئے کہا۔ اس نے اس کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ اتنا کافی تھا۔ اس کے بعد کامران نے حکم کے بجائے صرف جگہ ڈھونڈنی شروع کر دی۔

شفقت آپا کاؤنٹر کے پچھلے دروازے سے اندر آئیں اور خاموشی سے پرانا لیجر مہرین کی طرف سرکا دیا۔ یہ دوسرا کھلا ثبوت تھا: دفتر کی موٹی کتاب اب کس کے سامنے کھلے گی۔ کامران نے اسے واپس اپنی طرف کھینچنے کی ہمت نہیں کی۔ عبدالوحید چچا نے اپنی رسید تہہ کر کے جیب میں رکھی اور کاؤنٹر سے ہٹنے کے بجائے سائیڈ پر کھڑے رہے، جیسے گواہی ابھی مکمل ہونی ہو۔

ایک لڑکا، جو اپنے والدہ کا جوسر لینے آیا تھا، بولا، “باجی، میرا نام نہیں پکارا گیا تھا، مگر کل میسج آیا تھا تیار ہے۔” مہرین نے ایک جھٹکے میں غلط ریک سے صحیح جوسر نکلوایا۔ لڑکے نے چیز لیتے ہوئے سیدھا اسی سے کہا، “اللہ آپ کو جزا دے، صبح سے تین چکر لگا چکا ہوں۔” یہ شکرگزاری نہیں، صف بندی تھی۔ اب لوگوں کو معلوم تھا کس طرف منہ کرنا ہے۔

کاؤنٹر کے دباؤ نے جب ذرا سانس لی تو مہرین نے سر اٹھایا۔ “مرمت خانے کی بند پڑی قطار میں جو کچھ رکا ہے، ابھی نکلے گا۔” اس نے چابی گھمائی، اندر والا دروازہ کھولا، پھر مڑا نہیں۔ بیج اس کے سینے پر تھا، ہلکی پسینے والی قمیص پر سیدھا، اپنے اصل مقام پر۔

مرمت کی گلی میں فرش پر بکھرے تار، کھلے ڈبے، پرانے پنکھوں کے پر، اور دیوار سے ٹکی اوزاروں کی گاڑی اس کی راہ دیکھ رہی تھی۔ اس نے اپنے ٹھنڈے پڑے کھانے کے ڈبے کو پاؤں سے ایک طرف سرکایا، ایک ہاتھ سے اوزاروں والی گاڑی کا دستہ تھاما، اور اسے آگے دھکیلا۔ پہیے اس بار بغیر ڈگمگائے سیدھی راہ پر چل پڑے۔