Fast Fiction

سسٹم تبھی چلا جب میں نے سنبھالا

دروازہ کھلتے ہی پہلی ٹرالی لوہے کی ریل سے ٹکرا کر اٹک گئی، برف کے ڈبّوں سے پانی بہہ کر فرش پر پھیل گیا، اور فراز نے وائرلیس پر چیخ کر کہا، “بے تین روکو، بے تین روکو، کوئی گاڑی آگے نہ آئے۔”

کوئی گاڑی پہلے ہی نہیں آ رہی تھی۔ کراچی کے اس بڑے کیٹرنگ ہب کے پچھلے حصے میں تین بے تھے، مگر آج ساری قطار ایک ہی گلے میں پھنس گئی تھی۔ مرغی کے کریٹ، دودھ کے کنستر، نان کے تھیلے، سب ایک دوسرے کے منہ پر چڑھے کھڑے تھے۔ اندر سے ڈرائیور سینگ پر سینگ دے رہے تھے، باہر رکشے والا گالیاں دے رہا تھا کہ راستہ بند ہے، اور مہوش receiving lane کے کنارے، آدھا کھلا دروازہ تھامے، خشک آواز میں بولی، “پہلے کولڈ گاڑی نکالو، گرم سامان بعد میں۔ برف پگھل رہی ہے۔”

فراز نے اس کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ اس کی گردن پر نئی رسی سے لٹکا ہوا دفتری کارڈ چمک رہا تھا، جیسے وہی اس پورے سسٹم کا مالک ہو۔ اس نے رجسٹر اپنے بازو تلے دبا لیا اور دوسرے ہاتھ سے بے معنی اشارہ کیا۔ “تم بس گنتی لکھو، ترتیب میں مت بولو۔ آج ڈسپیچ میں میں ہوں۔”

مہوش کے ٹفن میں رکھا قورمہ سرد ہو چکا تھا؛ ڈبّا سائیڈ کی میز پر بند پڑا تھا، صبح سے ہاتھ نہ لگا تھا۔ اسے بھوک سے زیادہ وہ جلن تھی جو تب اٹھتی ہے جب کام تمہارے ہاتھ سے لے کر کسی کم فہم کے ہاتھ میں دے دیا جائے اور پھر تمہیں وہیں کھڑا رکھ کر کہا جائے کہ خاموش رہو۔ اس نے ایک بار اور کہا، “بے دو خالی ہے۔ اس میں پیسٹری والی وین لگاؤ۔ کولڈ چین ٹوٹ گئی تو کلائنٹ واپس نہیں آئے گا۔”

“تمہاری ڈیوٹی رجسٹر پر تھی، وہ بھی ٹھیک سے نہیں ہوا۔” فراز نے رجسٹر اور قریب کر لیا۔ “اور ہاں، میرا کارڈ واپس مانگنے کی ضرورت نہیں۔ سپروائزر نے خود مجھے دیا ہے۔”

یہ جھوٹ اس نے اتنی آسانی سے بولا کہ قریب کھڑا حماد بھی ایک لمحے کو خاموش رہ گیا۔ مہوش کا کارڈ دو دن پہلے اسی نے یہ کہہ کر لیا تھا کہ “اوپر دستخط کرا کے دیتا ہوں”، پھر لوٹایا نہیں۔ اسی کارڈ سے کنٹرول روم کا لاک کھلتا تھا، اسی سے بے ریلیز ہوتی تھیں۔ مہوش نے دروازے کے فریم میں ایک پل کے لیے اپنی انگلیاں سخت کیں، پھر سیدھی چل کر اس چھوٹی میز تک گئی جہاں ریلیز شیٹ رکھی تھی۔ فراز نے فوراً اس کے آگے بازو پھیلا دیا۔

“ہاتھ نہ لگانا۔”

“تو پھر خود پڑھ لو،” مہوش نے سرد نگاہ سے شیٹ کے نیچے لگے نمی کے دھبّے پر انگلی رکھی، “یہ والی گاڑی ساڑھے نو کی نکاسی کی ہے۔ نو بج کر بیالیس ہو گئے ہیں۔”

پیچھے سے ایک ڈرائیور نے زور سے کہا، “باجی، میری گاڑی میں مچھلی ہے۔ اگر یہیں کھڑی رہی تو بو پورے لوڈ میں چلے گی۔” دوسرے نے طنز سے ہنکارا بھرا، مگر فراز نے غصے میں وائرلیس جھٹکا، “خاموش! سب اپنی باری پر۔”

باری تھی ہی نہیں؛ یہی مسئلہ تھا۔ اس نے بے ایک کو بند رکھا تھا کہ پہلے “وی آئی پی” آرڈر نکلے، جبکہ وی آئی پی کی گاڑی ابھی پہنچی ہی نہیں تھی۔ اسی چکر میں تیار کھڑی دو گاڑیاں رکی ہوئی تھیں، تیسری کا سامان پگھل رہا تھا، اور چوتھی پیچھے سے دروازے پر چپکی کھڑی تھی۔ مہوش نے جھک کر فرش پر بہتے پانی کی لکیر دیکھی جو مچھلی والے کریٹ کی طرف جا رہی تھی۔ “حماد، پلاسٹک شیٹ کھینچو، ابھی۔”

حماد نے ایک قدم بڑھایا، مگر فراز نے تیزی سے وائرلیس اس کے سینے سے لگا دیا۔ “میں نے کہا کوئی کچھ نہیں ہلائے گا۔ جس نے حرکت کی، اس کی شفٹ کٹوا دوں گا۔”

یہ جملہ قریب کے دو لڑکوں نے سن لیا۔ دونوں فوراً دیوار سے لگ گئے۔ گارڈ ریاض نے بھی سیکیورٹی لین کے پار سے ادھر دیکھا، پھر نظریں پھیر لیں۔ یہاں ہمیشہ یہی ہوتا تھا؛ جس کے گلے میں کارڈ ہو، لوگ اسی کی طرف جھکتے تھے، چاہے سامان سڑ جائے۔

مہوش نے جھگڑا نہیں کیا۔ اس نے جیب سے موبائل نکالا، ہتھیلی میں اسکرین کی مدھم روشنی دبی رہی، اور صرف دو نمبروں پر مختصر پیغام بھیجا۔ پھر اس نے حماد کو دیکھے بغیر کہا، “پانچ منٹ بعد جب دروازہ کھلے، بے دو پہلے صاف ہوگی۔ ریمپ سے خالی ٹرالی ہٹا دینا۔” فراز ہنس پڑا۔ “کس حکم سے؟”

جواب میں مہوش نے کچھ نہیں کہا۔ بس سائیڈ کی فولڈنگ کرسی، جس پر عام دنوں میں وہی بیٹھتی تھی اور جہاں سے پورا بہاؤ سنبھالتی تھی، دھکیل کر دروازے کے پاس اپنی طرف کھینچ لی۔ یہ چھوٹی سی حرکت تھی، مگر حماد کے چہرے پر ہلکی سی جنبش آئی۔ فراز نے دیکھا، ناگوار سا منہ بنایا، پھر خود اس کرسی پر بیٹھ گیا، جیسے محض بیٹھنے سے سمجھ بھی اس کے پاس آ جائے گی۔

اگلے تین منٹ میں نقصان کھل کر سامنے آ گیا۔ بے ایک کے سامنے برف سے بھیگی کارٹن نرم ہو کر بیٹھ گئی، ایک ٹرالی کا پہیہ اس میں دھنس گیا، پوری قطار ٹیڑھی ہو گئی۔ پیچھے سے آنے والی وین دروازے پر آ کر رک گئی اور اس کا سائیڈ مرر دیوار سے رگڑ کھا گیا۔ ڈرائیور گاڑی سے کود کر اترا، “یہ کون چلا رہا ہے اندر؟” فراز نے وائرلیس کان سے لگا کر اوپر والوں کے انداز میں کہا، “بس دو منٹ۔” اسی وقت کنٹرول روم کا لاک بیپ کر کے سرخ ہو گیا۔ اس نے غلط ریلیز دبا دی تھی؛ دروازہ الٹا بے ایک پر بند ہو گیا۔

“کوڈ کس نے بدلا؟” فراز کے ماتھے پر پسینہ آیا۔ اس نے کارڈ لگایا، پھر لگایا، کچھ نہیں ہوا۔ اندر سے ورکر چیخے کہ دروازہ پھنس گیا۔ اب راستہ صرف بے دو سے کھل سکتا تھا، مگر اس کی چابی بھی اسی کنسول میں تھی جسے کھولنے کے لیے مہوش کا اصل رسائی کارڈ چاہیے تھا۔

حماد نے پہلی بار صاف آواز میں کہا، “بھائی، باجی کو دے دو۔”

فراز نے اس پر ایسی نظر ڈالی جیسے یہ گستاخی ہو۔ پھر اوپر سے کال آئی۔ اس نے “جی سر، جی سر” کرتے ہوئے دو جھوٹ ساتھ بولنے کی کوشش کی، مگر پیچھے سے مچھلی والے کریٹ کا ڈھکن پھسل کر گرا اور بدبو کی ایک سخت لہر اٹھی۔ کال کے دوسری طرف سے آواز اتنی اونچی تھی کہ پاس کھڑے سب سن سکتے تھے: “جس کو آتا ہے اسے دو، ورنہ پوری رات تم ہی لگا رہو۔”

اس ایک جملے نے فراز کی گردن کی سختی ڈھیلی کر دی۔ اس نے پہلے وائرلیس اپنے سینے سے لگائے رکھا، پھر کنسول کی چابی نکالی، پھر بھی رکا۔ مہوش نے ہاتھ آگے کر دیا۔ نہ منت، نہ غصہ۔ بس سیدھا ہاتھ۔

فراز نے چابی نہیں، پورا کارڈ ہولڈر اس کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔ وائرلیس بھی اسی ہاتھ میں دبا دیا، جیسے جلتی چیز چھوڑ رہا ہو۔ “جلدی کرو۔”

مہوش نے کارڈ پلٹا۔ پلاسٹک کلپ کے پیچھے اس کے انگوٹھے کی پرانی رگڑ کا سفید نشان اب بھی موجود تھا۔ اس نے کارڈ کنسول پر لگایا، لاک سبز ہوا، اور ایک ہی سانس میں حکم دیا، “حماد، بے دو کھولو۔ ریاض، سیکیورٹی لین صاف رکھو، پیچھے والی وین سیدھی اندر آئے گی۔ مچھلی والا لوڈ آخر میں نہیں، ابھی دائیں طرف الگ۔ اور برف کے ٹب نئی ٹرالی میں شفٹ کرو، یہ کارٹن مر گئی۔”

آواز میں نہ شور تھا نہ گھبراہٹ؛ صرف ترتیب تھی۔ یہی چیز یہاں سب سے نایاب تھی۔ حماد دوڑا، ریاض نے پہلی بار فراز کی طرف نہیں، مہوش کی طرف دیکھ کر سر ہلایا۔ بے دو کا شٹر اوپر گیا۔ مہوش نے اگلا بٹن دبا کر بے ایک کے پھنسے دروازے کو آدھا کھلوایا، صرف اتنا کہ اندر کی ٹرالی پیچھے ہٹ سکے۔ پھر اس نے ریلیز شیٹ پر تین نمبرز تیزی سے الٹ دیے۔ “پیسٹری والی وین پہلے۔ اس کے پیچھے دودھ۔ مچھلی الگ روٹ سے۔”

“وہ وی آئی پی آرڈر—” فراز نے کہنا چاہا۔

“ابھی گاڑی ہی نہیں پہنچی،” مہوش نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا۔ “خالی نام پر بے بند نہیں ہوتی۔”

یہ پہلی حرکت تھی جس نے گلا کھولا: تیار کھڑی پیسٹری وین سیدھی بے دو میں لگی، پانچ منٹ میں لوڈ نکل گیا۔ دوسری حرکت نے نقصان روکا: اس نے مچھلی کے کریٹ الگ ریمپ سے موڑ دیے تاکہ بدبو بقیہ سامان میں نہ چڑھے۔ دو غلطیاں ایک ترتیب سے کٹ گئیں۔ جو لڑکے ابھی دیوار سے چپکے تھے، اب سوال نہیں کر رہے تھے؛ صرف اس کے اشارے پر ٹرالیاں موڑ رہے تھے۔

فراز پیچھے ہٹ کر کھڑا تھا مگر ہٹنا بھی اسے آ نہیں رہا تھا۔ کبھی شیٹ کی طرف ہاتھ بڑھاتا، کبھی وائرلیس مانگنے کو لب کھولتا، پھر جب کوئی اس کی طرف دیکھتا ہی نہ، تو ہاتھ واپس کھینچ لیتا۔ اس کی نئی قمیص کے کف پر مچھلی کے پانی کے چھینٹے پڑ گئے تھے۔ جس “اختیار” کے سہارے وہ صبح سے سب کو دباتا پھر رہا تھا، وہ اختیار اب اس کے پاس کھڑے رہنے کا بھی جواز نہیں بچا رہا تھا۔

اسی ہنگامے میں خالہ صبیحہ پچھلے دروازے سے اندر آئیں۔ وہ کمپنی کی مالکن کی بڑی بہن تھیں، اور مہوش کی مرحوم ماں کی پرانی سہیلی بھی۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا کہ انہوں نے ہی مہوش کو پہلے اس سروس سیکٹر کی نوکری میں لگوایا تھا، اور یہ بھی کہ پچھلے مہینے ایک رشتے والی بیٹھک میں فراز کی بہن نے طنز کیا تھا، “گودام میں کام کرتی ہے، دفتر کی نہیں لگتی۔” مہوش نے تب بھی کچھ نہ کہا تھا۔ آج وہی خالہ دروازے کے فریم میں رک کر منظر دیکھتی رہیں: فراز ایک طرف، مہوش کنسول پر، اور پورا بہاؤ اس کی آواز پر مڑتا ہوا۔

خالہ صبیحہ سیدھی فراز کے سامنے آ کر کھڑی ہوئیں۔ “کارڈ ابھی تک تمہارے پاس کیوں تھا؟”

فراز نے حلق تر کیا۔ “میں تو بس—”

“جو بس تھا وہ سامنے ہے۔” انہوں نے اس کی کرسی پکڑ کر کنارے کر دی۔ “اور آئندہ یہ نشست اسی کی ہے جس کے بغیر بے چلتی نہیں۔”

یہ سن کر کسی نے تالیاں نہیں بجائیں۔ ضرورت بھی نہیں تھی۔ اصل ذلت وہ تھی جو خاموشی میں ہوتی ہے: حماد نے اگلی شیٹ مہوش کی طرف بڑھائی، ریاض نے سیکیورٹی لین میں کھڑی آخری گاڑی کو ہاتھ کے اشارے سے روکا اور پوچھا، “باجی، یہ والی کس بے میں؟” پتے بدل گئے تھے۔

پھر آخری جھٹکا آیا۔ ایک ہسپتال کا رات والا بڑا آرڈر، جو تاخیر برداشت نہیں کرتا تھا، گیٹ پر پہنچ گیا۔ صرف ایک بے خالی تھی، مگر اس کے لیے دو الگ ریلیز چاہیے تھیں: اندر سے لوڈ نمبر کی تصدیق، اور سیکیورٹی لین سے آخری روانگی کا اذن۔ غلط ترتیب میں ایک بٹن بھی دب جاتا تو گاڑی آدھا اندر، آدھا باہر پھنس جاتی، اور رات کی پوری کھیپ رک جاتی۔ فراز نے شاید اپنی آخری بچی ہوئی انا میں ہاتھ بڑھایا، “یہ میں کر دیتا ہوں، آسان ہے۔”

مہوش نے پہلی بار پوری طرح اس کی طرف دیکھا۔ “نہیں۔ اب تم راستے سے ہٹو۔”

وہ جملہ اتنا اونچا نہیں تھا، مگر قریب کے سب نے سن لیا۔ فراز نے پھر بھی کنسول کی طرف قدم بڑھایا۔ مہوش نے ریلیز شیٹ اٹھا کر اپنی طرف کر لی، کنسول کے سامنے آ کر یوں کھڑی ہوئی کہ اس کے بغیر کوئی بٹن تک نہ چھو سکے، اور ریاض کو سیدھا حکم دیا، “جب تک میں نمبر نہ بولوں، بیرونی گیٹ نہیں کھلے گا۔”

“سمجھ گیا، باجی۔”

یہ مالکانہ موڑ تھا۔ اب اختیار صرف اس کے ہاتھ میں نہیں تھا؛ راستہ بھی اسی سے گزر رہا تھا۔

اس نے پہلے اندر والی ٹیم سے لوڈ نمبر دہرایا، پھر وین کی پلیٹ، پھر بے کا زاویہ ٹھیک کرایا۔ “حماد، دو انچ بائیں۔ بس۔ اب ریمپ چھوڑو۔” دروازہ آدھا کھلا۔ وین سیدھی لگی۔ اس نے سرد سامان پہلے چڑھوایا، خشک سامان بعد میں، تاکہ دروازہ کم کھلے۔ پھر وائرلیس پر کہا، “ریاض، سیکیورٹی لین تیار۔ میری گنتی پر۔ تین... دو... ایک... اب۔”

باہر کا گیٹ اسی لمحے کھلا جب اندر آخری پیلیٹ لاک ہوئی۔ وین نہ رکی، نہ اٹکی۔ سیدھی نکل گئی۔

فراز نے بے اختیار آگے بڑھ کر کچھ کہنا چاہا، مگر وہ راستے کے باہر کھڑا رہ گیا؛ اندر کے لڑکے اس کے لیے جگہ بنانے کے بجائے پیچھے سے اگلی ٹرالی مہوش کے حکم پر موڑ رہے تھے۔ یہی اصل شکست تھی: کوئی اس کی طرف دیکھ کر بھی نہیں رکا۔

مہوش نے کنسول بند کیا، ریلیز شیٹ فولڈ کر کے خالہ صبیحہ کے سامنے نہیں، اپنی فولڈنگ کرسی پر رکھ دی۔ پھر وائرلیس ریاض کو دیا۔ “اگلی شفٹ سے کنٹرول روم کی رسائی میرے نام رہے گی۔ جسے کام چاہیے، حکم نہیں، ترتیب مانگے گا۔”

وہ جواب لینے کے لیے نہیں رکی۔ سیکیورٹی لین کی طرف مڑی۔ ریاض نے جیب سے وہی کارڈ ہولڈر نکالا جو دو دن سے غلط گردن پر لٹک رہا تھا۔ پلاسٹک کلپ کے کنارے پر اس کے انگوٹھے کی پرانی گھسائی سفید لکیر کی طرح چمک رہی تھی۔ مہوش نے ہاتھ بڑھایا، اور کلپ اس کی ہتھیلی میں آ گرا۔