Fast Fiction

اپنا ہی چارہ اسے لے ڈوبا

وقاص بھٹی نے لوڈنگ بے کے آدھے کھلے دروازے میں بازو پھیلا کر راستہ روکا اور بلند آواز میں کہا، “صائمہ، آج سے رِلیز پوائنٹ تمہارے ہاتھ میں نہیں۔ فہرست ادھر دو۔” دھوئیں، مصالحے اور ڈیزل کی ملی ہوئی بو میں ایک لمحہ ایسا ٹھہرا کہ ٹرالی کا پہیہ بھی چرچرا کر رک گیا۔ صائمہ نے اپنے ہاتھ کی کارڈ والی ڈوری انگلی پر لپیٹی، پھر کھولی۔ کارڈ کے کنارے گھس چکے تھے۔ اس کے پیچھے دو لوڈر، ایک ڈرائیور اور حساب والا لڑکا کھڑے تھے۔ وقاص نے اتنا کافی سمجھا نہیں؛ اس نے خالہ نسرین کی طرف دیکھا، جو آج خاص طور پر “رشتہ دیکھنے” کے بہانے گودام پہنچی تھیں، اور ہنکارا بھرا، “گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہو تو حدیں بھی پتہ ہونی چاہئیں۔ نوکری اپنی جگہ، گھر اپنی جگہ۔ لڑکی ہر جگہ منہ نہیں لگاتی۔”

صائمہ نے فہرست نہیں دی۔ دروازے کے فریم میں بس اتنا سا رکی کہ جیسے قدم رکھے بھی اور نہ بھی رکھے۔ اندر اسٹیل کے ریکوں کے بیچ پیک شدہ دیگیں قطار میں تھیں، باہر بے پر جمیل ڈرائیور کا مزدا کھلا کھڑا تھا۔ دو بڑے آرڈر ایک ساتھ نکلنے تھے؛ ایک کارپوریٹ افطار، ایک ناظم آباد کی منگنی۔ ایک غلط رِلیز سے آدھی رات تک شور اٹھ سکتا تھا، اور یہی اس کی کمائی کا سہارا بھی تھا۔ مہینے کے آخر میں امی کی دوائی، چھوٹے بھائی کی فیس، اور اس رشتے کا وہ دباؤ جسے کبھی نام نہیں دیا گیا مگر سب کو خبر تھی—سب ایک ہی جگہ آن کھڑے تھے۔

وقاص نے ہاتھ بڑھا کر اس کی فہرست چھین لی۔ “ابو نے بھی یہی کہا ہے، لڑکی کو فرنٹ سے ہٹا دو۔ بہت اڑنے لگی ہے۔” خالہ نسرین نے فوراً بات تھامی، “بیٹا وقاص غلط نہیں کہہ رہا۔ جس گھر میں جانا ہو وہاں آواز نرم رکھی جاتی ہے، گودام میں حکم نہیں چلایا جاتا۔” یہ صرف بے کی بات نہ رہی۔ صائمہ نے دیکھا، حساب والا لڑکا نظریں جھکا کر مسکراہٹ روک رہا تھا۔ وقاص نے اسی کے سامنے ایک سفید پرچی نکالی، اوپر کمپنی کی مہر، نیچے ڈِسپیچ کی سطریں۔ “راستہ بدلا گیا ہے۔ آج سارا مال پچھلی لین سے نکلے گا۔ دستخط ہو چکے ہیں۔ تم بس رسید پکڑاؤ گی، باقی میں دیکھوں گا۔”

اس نے پرچی صائمہ کے ہاتھ میں یوں ٹھونکی جیسے احسان ہو۔ صائمہ نے سرسری نہیں، پورا متن پڑھا۔ وقاص نے جلدی میں جو لکھوایا تھا وہ سیدھا سادہ حکم تھا: “روٹ تبدیلی، رِلیز ذمہ داری سپروائزر وقاص بھٹی پر، تاخیر یا غلط ترسیل کی جواب دہی دستخط کنندہ پر ہوگی۔” نیچے اس کے اپنے دستخط تھے، موٹے، پھیلتے ہوئے۔ اس نے یہ اس خیال سے کیا تھا کہ صائمہ کو دروازے سے ہٹا دے، اسے گواہوں کے سامنے ماتحت بنائے، اور بعد میں اگر کام سنبھل جائے تو کریڈٹ خود لے۔ خالہ نسرین نے پرچی پر جھانک کر پوچھا، “تو اب یہ لڑکی کہاں رہے گی؟” وقاص نے بے تکلفی سے کہا، “یہ جمیل کے ساتھ پچھلی لین پر رہے گی، بس نام کی موجودگی۔ جب تک گھر کی بات پکی نہیں ہوتی، اس کو سمجھنا پڑے گا کہ فیصلے اوپر سے ہوتے ہیں۔”

جمیل ڈرائیور نے اتنے میں کھانسی دبی۔ اس کی مائیکا لگی ہوئی چابیوں کا چھلہ ہتھیلی میں بجا۔ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو زیادہ بولتے نہیں، مگر غلط کاغذ پر مال نہیں چڑھاتے۔ اس نے وقاص سے پرچی لی، اوپر سے نیچے تک پڑھی، پھر سیدھا سوال کیا، “بھٹی صاحب، پچھلی لین والی رِلیز تو سپروائزر کے ہاتھ سے ہوتی ہے۔ آپ خود کھڑے رہیں گے وہاں؟ دو گاڑیاں ہیں۔ ایک بار دستخط ہوگئے تو بعد میں نام نہیں بدلتا۔” وقاص نے خفگی چھپاتے ہوئے ہنسا، “ہاں بھئی، میں ہی رہوں گا۔ تم لوگوں نے کوئی شہزادہ نہیں دیکھ لیا۔” جمیل نے اسی وقت اپنی ٹرالی موڑی اور بلند آواز میں حساب والے لڑکے سے کہا، “سن، پچھلی لین کا ریکارڈ کھولو۔ بھٹی صاحب کے نام سے۔ رِلیز انھی کے ہاتھ سے ہوگی۔” یہ پہلا چھوٹا سا پلٹا تھا؛ اتنا صاف کہ انکار نہ ہو سکے۔ حساب والا لڑکا جو ابھی مسکرا رہا تھا، اب رجسٹر اٹھا کر وہیں وقاص کے سامنے لے آیا۔ صائمہ نے کچھ نہیں کہا۔ اس نے بس رسیدوں کا پلندہ اپنی بغل سے نکال کر پچھلی لین کے لکڑی والے کریٹ پر رکھ دیا۔

وقاص کے چہرے کی بے فکری میں پہلی بار دراڑ آئی۔ پچھلی لین تنگ تھی؛ ایک وقت میں ایک ہی گاڑی پیچھے لے جا سکتی تھی۔ وہاں پانی کی لائن بھی رس رہی تھی، فرش پر گتے بھیگ کر چپک رہے تھے، اور دیگیں موڑ کاٹتے ہوئے احتیاط مانگتی تھیں۔ صائمہ برسوں سے یہی کرتی آئی تھی—کون سا ڈبہ پہلے، کس گاڑی میں کتنا وزن، کون سا آرڈر پہلے نکلے گا تاکہ راستے میں الٹ پھیر نہ ہو۔ وقاص دفتر کے ایئرکولر کے سامنے احکامات دیتا تھا؛ بے کی سانس پھولتی گرمی میں بہت کم اترا تھا۔ اس نے پھر بھی حکم چلانے کے انداز میں کہا، “صائمہ، تم رسیدیں پکڑو، باقی ہاتھ نہ لگانا۔” صائمہ نے ٹھنڈے لہجے میں جواب دیا، “جس پرچی پر آپ کے دستخط ہیں، اسی کے مطابق ہوگا۔ آپ رِلیز کریں گے، میں رسید لکھوں گی۔”

باہر سے دوسری گاڑی آ لگی۔ ہارن کی ایک مختصر چبھتی آواز بے میں گونجی۔ پیکنگ والے لڑکے دیگیں دھکیلتے آئے۔ پہلے ہی موڑ پر ایک ٹرالی کا اگلا پہیہ پانی میں پھسلا اور وقاص کو خود ہاتھ ڈالنا پڑا۔ اس نے دیگ سیدھی کی، پھر جمیل نے فوراً کہا، “نام بولیے، کس آرڈر کی رِلیز پہلے؟” وقاص نے جھنجلا کر غلط دیگ پر ہاتھ رکھا۔ صائمہ کی آنکھ ایک جھپک کے برابر اٹکی، پھر اس نے رسید کے اوپر انگلی رکھ کر صرف نمبر دکھا دیا۔ کچھ نہیں سمجھایا۔ اس ایک حرکت سے دو چیزیں ہوئیں: جمیل نے غلط دیگ واپس کھینچ لی، اور خالہ نسرین نے پہلی بار صائمہ کی طرف غور سے دیکھا، جیسے گودام کی لڑکی اچانک کام جاننے والی نکل آئی ہو، صرف زبان والی نہیں۔

وقاص نے نقصان پورا کرنے کے لیے اور زور لگایا۔ “پہلے ناظم آباد والا نکالو، کارپوریٹ بعد میں بھی جا سکتا ہے۔” “نہیں جا سکتا،” صائمہ نے بغیر آواز اونچی کیے کہا۔ “افطار کا وقت بندھا ہوا ہے۔ جو روٹ آپ نے بدلا ہے، اس میں پہلے وہی نکلے گا، ورنہ تاخیر آپ کے ذمے لکھی جائے گی۔” “تم مجھے سکھاؤ گی؟” اس نے رسید والی کاپی کھول کر وہی سطر سامنے کر دی جہاں تاخیر کی جواب دہی درج تھی، مگر لفظ نہیں دہرائے۔ دستخط نیچے اس کے تھے، گواہ اوپر کھڑے تھے، اور وقت سامنے سرکتا جا رہا تھا۔ وقاص نے کاپی ایسے پکڑی جیسے کاغذ گرم ہو۔

دس منٹ بعد پچھلی لین بند سی ہو گئی۔ ایک گاڑی آدھی بھری کھڑی، دوسری موڑ پر پھنسی، درمیان میں دو ٹرالیاں، اور بے کا رولنگ دروازہ اوپر اٹھا رہنے سے باہر کے سپلائر بھی جھانکنے لگے۔ جمیل نے چابی گھماتے گھماتے روک دی۔ “بھٹی صاحب، ایک فیصلہ ابھی چاہیے۔ یہ کارپوریٹ والی گاڑی نکلے گی تو دوسری بعد میں آئے گی۔ دونوں ایک ساتھ نہیں جا سکتیں۔ آپ نے روٹ بدلا ہے، آپ ہی کہیں۔” وقاص نے گردن موڑی۔ سامنے خالہ نسرین، کنارے رجسٹر، بائیں ہاتھ پر حساب والا لڑکا، اور بیچ میں صائمہ رسید لکھنے کی جگہ پر سیدھی کھڑی تھی۔ وہ اس جگہ سے ہٹا دی گئی تھی، لیکن جگہ خالی نہیں ہوئی تھی؛ اب ہر سوال اسی کے دستخطوں سے گزر کر اس تک آ رہا تھا۔ اس نے غصے میں کہا، “چابی دو، میں خود نکالتا ہوں۔” جمیل نے چابی نہیں دی۔ “گاڑی آپ کی نہیں، رِلیز آپ کے نام ہے۔ ترتیب بھی آپ کی۔ غلط نکلی تو میں نہیں پھنسوں گا۔ پہلے آرڈر بتائیں، پھر چابی لیں۔”

یہ وہ لمحہ تھا جب وقاص کی بنائی ہوئی گرہ اس کی اپنی ٹانگ سے لپٹ گئی۔ اس نے صائمہ کو رِلیز سے ہٹانے کے لیے دستخط کیے تھے؛ اب وہی دستخط اسے بے کے بیچ باندھ رہے تھے۔ اگر وہ پیچھے ہٹتا تو سب کے سامنے ثابت ہوتا کہ جسے نااہل کہہ کر ہٹایا، کام وہی جانتی تھی۔ اگر آگے بڑھتا تو ہر تاخیر، ہر غلطی اسی کے نام پر لکھی جاتی۔ صائمہ نے اپنی جگہ نہیں چھوڑی۔ اس نے صرف ایک ٹھنڈی، کام کی بات کی، “کارپوریٹ پہلے۔ راستہ اس کے بعد کھلے گا۔” یہ مشورہ نہیں تھا۔ یہی واحد قابلِ عمل ترتیب تھی، اور سب نے اسے اسی طرح سنا۔ جمیل نے فوراً پہلی ٹرالی اسی سمت موڑ دی۔ حساب والا لڑکا رجسٹر میں وقت نوٹ کرنے لگا۔ وقاص نے “رکو” کہا، مگر اتنی دیر ہو چکی تھی کہ اس کا لفظ ہوا میں ہلکا پڑ گیا۔

افطار والی گاڑی نکلنے لگی تو دوسری دیگ کا ڈھکن ایک جھٹکے سے سرکا، گریوی کنارے سے بہہ کر فرش پر ٹپکی، اور وقاص کی شلوار کے پائنچے پر چھینٹے پڑ گئے۔ اس نے جھٹک کر پاؤں پیچھے کیا، مگر کریٹ کے کونے سے پنڈلی ٹکرائی۔ درد سے اس کی سانس اٹکی۔ یہ کوئی بڑا حادثہ نہ تھا، مگر اتنا کافی تھا کہ اس کی حکم والی شکل ٹوٹ جائے۔ خالہ نسرین نے بے اختیار “ہائے” کہا اور پھر خاموش ہو گئیں۔ صائمہ نے نہ چہرہ بدلا نہ قدم۔ “سیل چیک کریں، پھر دستخط کریں،” اس نے رسید آگے کی۔ وقاص نے قلم پکڑا۔ انگلیوں پر سالن کا ہلکا چکناہٹ تھا، دستخط بے ڈھنگے پڑے۔ جمیل نے رسید کھینچی، مہر لگائی، اور گاڑی باہر لے گیا۔

اب دوسری گاڑی موڑ پر اٹکی کھڑی تھی اور وقت اس کے خلاف ہو چکا تھا۔ وقاص نے پہلی بار صائمہ کی طرف اس طرح دیکھا جیسے حکم نہ، ضرورت ہو۔ “ایک منٹ،” اس نے آہستہ مگر سب کو سنائی دینے والی آواز میں کہا، “یہ دوسرا آرڈر سامنے والی لین سے نکال دو۔ بس یہ ایک استثنا دے دو، ورنہ دیر ہو جائے گی۔” صائمہ نے اسے دیکھا۔ بس دیکھا۔ وہ قریب آیا، لہجہ اور نیچے گرا۔ “پرچی واپس بنا دو۔ ابھی۔ تم جانتی ہو کیسے سنبھالنا ہے۔ میں نے… میں نے بس تمہیں سائیڈ پر کیا تھا۔ بات بڑھ گئی۔ خالہ کے سامنے ضد مت کرو۔” خالہ نسرین کا چہرہ اس لمحے دیکھنے کے قابل تھا؛ ابھی تک جو لڑکی کو حد سکھا رہی تھیں، وہی اب اپنے بھانجے کی آواز میں پھسلتا ہوا خوف سن رہی تھیں۔

صائمہ نے رسیدوں کا پلندہ بند کیا، سفید ڈِسپیچ پرچی اس کے سامنے سیدھی کی، اور انگلی سے اس کے دستخط والی سطر تھام لی۔ “آپ نے روٹ بدلا تھا۔ جواب دہی آپ پر ہے۔” وقاص نے دانت بھینچے، “صائمہ، ضد نہ کرو۔” “میں ضد نہیں کر رہی۔ میں وہی کر رہی ہوں جو آپ نے لکھا ہے۔” “میں کہہ رہا ہوں دوبارہ کھولو راستہ۔” “رِلیز سپروائزر وقاص بھٹی کے نام سے بندھی ہے۔ اسی طرح چلے گی۔” یہ جملے لمبے نہیں تھے، مگر ہر لفظ نے اسے ایک قدم اور ننگا کر دیا۔ اب التجا صاف دکھ رہی تھی، اور اختیار اس کے پاس نہ رہا تھا۔ حساب والا لڑکا جو پہلے ہنسا تھا، اب رجسٹر وقاص کی طرف کیے کھڑا تھا، انتظار میں کہ دستخط کرے یا تاخیر لکھوائے۔ جمیل دوسری گاڑی کے پاس ہاتھ باندھے کھڑا نہ تھا؛ وہ ٹائر کے پاس جھک کر رسی درست کر رہا تھا، جیسے فیصلہ ہو چکا ہو اور بس نام درکار ہو۔ یہی اصل ذلت تھی: کسی نے اسے بحث کے قابل بھی نہ سمجھا۔

وقاص نے آخری کوشش کی۔ “کم از کم تم چابی لے لو۔ غلطی میری نہیں لکھے گا کوئی۔” صائمہ نے اپنی جیب سے چھوٹا سا بنڈل نکالا—وہ اضافی چابیاں جو اسے دیر سے واپس ملنی تھیں اور آج صبح تک روکی گئی تھیں—اور وہ اس کے ہاتھ پر رکھ دیں۔ “دیر سے لوٹائی گئی چیز اب بھی آپ ہی کی حد میں رہتی ہے۔” خالہ نسرین نے نگاہ جھکا لی۔ وہ جملہ صرف چابی کے لیے نہ تھا۔ وقاص کے ہاتھ میں دھات کے دانت کھنکے۔ ایک لمحے کو اس نے جیسے سمجھا کہ ابھی آواز اونچی کر کے سب پلٹ سکتا ہے، مگر سامنے رجسٹر، دستخط، دو رکے ہوئے آرڈر، اور اس کے اپنے کہے ہوئے الفاظ دیوار بن کر کھڑے تھے۔

“وقت لکھو،” صائمہ نے حساب والے لڑکے سے کہا۔ پھر وقاص کی طرف دیکھے بغیر رسید آگے کی۔ “اگر یہی راستہ رکھا ہے تو اسی پر دوسرے آرڈر کی رِلیز کریں۔” اسے اب مانگنا پڑا—وہی رہائی جو وہ اس سے چھیننا چاہتا تھا۔ “صائمہ… ایک بار۔ بس اس بار نکال دو۔” اس نے رسید واپس نہ کھینچی، نہ نرم پڑی۔ “نہیں۔ جو دستخط آپ نے کیے ہیں، وہی چلیں گے۔ سامنے والی لین نہیں کھلے گی۔” وقاص نے قلم اٹھایا۔ اس کے کندھے میں پہلی بار وہ جھکاؤ آیا جو حکم دینے والوں میں بہت دیر سے پیدا ہوتا ہے۔ اس نے دوسرے آرڈر پر بھی دستخط کیے، تاخیر کی سطر کے نیچے۔ صائمہ نے مہر اس کی طرف سرکا دی، اس نے خود لگائی۔ جمیل نے گاڑی موڑی اور پچھلی لین کے تنگ، گیلے راستے سے نکلانے لگا۔ بے کا اختیار، راستے کا فیصلہ، جواب دہی—سب ایک ہی کاغذ سے مڑ کر اس پر آ گرے تھے، اور صائمہ نے صرف اسے کھولنے سے انکار کیا تھا۔

گودام کے پیچھے موڑ پر زرد نشان کے اوپر چپکی کالی گافر ٹیپ نمی سے ڈھیلی ہو کر کنارے سے اٹھنے لگی۔ صائمہ مڑی، اور اس کے قدم کے پیچھے وہ پٹی لمبی سانس کی طرح چھلک کر اوپر آئی، پھر نشان زدہ راستے سے آہستہ آہستہ اکھڑتی چلی گئی۔