سب اسے ہارا سمجھتے رہے
“اسے ادھر نہیں، پچھلی طرف بٹھاؤ—رجسٹر کے پاس۔” صائمہ خالہ نے دہلیز پر کھڑی مہرین کے ہاتھ سے آدھا مُڑا ہوا لفافہ چھینتے ہوئے کہا، اور اگلے ہی لمحے دو اور لڑکیوں کو ہنستے ہوئے اندر کے صحن میں پھولوں والے راستے سے گزار دیا۔ دروازے کے اوپر لگے سبز شیڈ کے نیچے ایک لمحہ ایسا ٹھہرا کہ ہر آنے جانے والے نے دیکھ لیا: دوسروں کو خوش آمدید، مہرین کو کام۔ اس کی گردن کے پاس جھری پڑا شناختی ڈوری والا کارڈ ابھی تک لٹک رہا تھا، سروس سیکٹر کی شام کی ڈیوٹی سے سیدھا آئی تھی، آستینوں میں دن بھر کی تھکن کی سلوٹیں تھیں۔ جس منگنی کے خرچے میں اس کی دو مہینے کی بچت اور اس کی ماں کے سنبھالے ہوئے زیور گئے تھے، اسی کے صحن میں اسے پلاسٹک کی کرسی کے کونے پر دھکیلا جا رہا تھا۔
مہرین نے لفافہ واپس نہیں مانگا۔ اس نے بس صحن کے اندر ایک نظر ڈالی جہاں حمزہ کے چچا اور ماموں لوگ سفید کُرتوں میں میزوں کے بیچ سے گزر رہے تھے، اور پھر پرس سے وہ رسید نکالی جو اتنی بار کھل اور بند ہو چکی تھی کہ کونوں سے نرم پڑ گئی تھی۔ اس نے خاموشی سے وہ رسید رجسٹر کے پاس بیٹھے لڑکے کے سامنے رکھ دی۔ “اس پر جس کا نام ہے، اسی کے سامنے رکھو۔ گم نہ ہو جائے۔” لڑکا چونکا، رسید پر رقم دیکھ کر اس کی آنکھیں اوپر اٹھیں، پھر اس نے صائمہ خالہ کی طرف دیکھا۔ یہی پہلا دراڑ تھا—چھوٹا، مگر سب کے سامنے۔
صائمہ خالہ نے فوراً ہنس کر بات ڈھانپنی چاہی۔ “ارے بیٹا، یہ گھر کی بچی ہے، سب کرتی رہتی ہے۔ مہرین، تم اندر عورتوں میں جا کر بیٹھو بھی مت، جگہ کم ہے۔ پہلے مہمانوں کی چائے دیکھو۔” پھر ذرا اونچی آواز میں، تاکہ صحن کے بیچ والے بھی سن لیں، “بعض لوگ رشتہ پکا ہونے سے پہلے ہی اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھ لیتے ہیں۔”
رشتہ پکا ہونے سے پہلے۔ الفاظ تیر کی طرح جا کر وہیں لگے جہاں سب کی نظر پہلے ہی تھی۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا کہ حمزہ اور مہرین تین سال سے ایک دوسرے کے ساتھ تھے؛ اتنا کہ جمعہ کے بعد امی لوگ بات چیت تک پہنچ چکے تھے، مگر اتنا نہیں کہ صائمہ خالہ اپنے اختیار سے ہاتھ دھو بیٹھتیں۔ حمزہ کراچی کی ایک بڑی تعمیراتی فرم میں تھا، گاڑی بھی تھی، اوپر والا فلور بھی انہی کے نام ہونے والا تھا۔ مہرین کرائے کے فلیٹ سے آتی تھی، بس اور موٹر بائیک کے بیچ جیتی تھی، سروس سیکٹر کی نوکری میں تنخواہ ٹھیک تھی مگر خاندان کے سامنے ٹھیک کبھی کافی نہیں ہوتا۔
وہ پچھلے حصے کی طرف مڑی تو ندا نے آہستہ سے اس کی کلائی پکڑی۔ “تم جا رہی ہو واقعی؟” ندا کی آنکھیں پوچھ رہی تھیں: پھر وہی؟ پھر تم ہی دب جاؤ گی؟ مہرین نے ہاتھ چھڑا لیا۔ “نہیں۔ انہوں نے کہا رجسٹر کے پاس بیٹھو، تو بیٹھتی ہوں۔ سب کے سامنے بیٹھوں گی۔” وہ پلاسٹک کی کرسی کے کونے سے اٹھ کر سیدھی رجسٹر والی میز کے برابر جا کھڑی ہوئی۔ بیٹھنے کے بجائے اس نے رجسٹر اپنی طرف کھسکا لیا اور آنے والی پھوپھیوں کے نام خود پوچھنے لگی۔ صائمہ خالہ کے چہرے پر ایک پل کے لیے اٹکاؤ آیا۔ حکم انہوں نے دیا تھا، جگہ مہرین نے بدل دی تھی۔
پھر دباؤ بڑھا۔ ہر نئی خالہ، ہر پھوپھی، ہر سجے ہوئے جوڑے کے ساتھ ایک نیا کام۔ “یہ شربت اندر پہنچاؤ۔” “وہ لفافے گن لو۔” “اس میز پر نام بدل دو، یہ سیٹ بڑے لوگوں کی ہے۔” صحن ایک کھلا دائرہ تھا؛ جو بھی آتا، پہلے دہلیز، پھر مہرین، پھر صائمہ خالہ کی آواز سے گزرتا۔ حمزہ دور مردوں کی جانب اپنے والد کے ساتھ مصروف دکھایا جا رہا تھا، جیسے اسے علم ہی نہ ہو۔ یہی اصل چال تھی: اسے ایسے استعمال کرو کہ وہ ناگزیر لگے مگر قابلِ ذکر نہ رہے۔ جب ایک کزن نے ہنستے ہوئے پوچھا، “آپ کی جگہ کدھر ہے؟” تو صائمہ خالہ نے بغیر اس کی طرف دیکھے جواب دیا، “جہاں ضرورت ہو۔”
مہرین نے دو بار “جی” کہا، تیسری بار نہیں۔ اس نے دیکھا کہ اس کے لائے ہوئے پھول اندر اسٹیج کے قریب پہنچ چکے تھے مگر اس کا نام کہیں نہیں۔ پھر اس نے وہ چھوٹی سی سرخ چابیوں کی گچھڑی نکالی جو صبح سے اس کے پاس تھی—اوپر والے سٹور کی، جہاں مہندی کی ٹوکریاں، اضافی دوپٹے، اور وہ مخملی ڈبہ رکھا تھا جس میں منگنی کی انگوٹھی تھی۔ صائمہ خالہ نے یہ چابیاں اسے اسی اعتماد سے دی تھیں جس سے ایک نوکرانی کو دی جاتی ہیں: سنبھال لو، مگر سمجھو مت۔ مہرین نے صحن کے بیچ، رجسٹر کے اوپر، سب کے سامنے چابیاں رکھ دیں۔ “سٹور کی چابی آپ رکھ لیں، خالہ۔ پھر گم ہو جائے تو الزام بھی آپ ہی کا رہے گا، میرا نہیں۔”
یہ جملہ اتنا اونچا نہیں تھا، مگر دہلیز کے کھلے دائرے میں اونچا ہونے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ قریب کھڑے ماموں رشید نے فوراً سر موڑا۔ ندا دو قدم آگے آئی۔ رجسٹر پر دستخط کرتی خالہ شبنم نے قلم روکا اور چابیوں کی آواز کی طرف دیکھا۔ صحن میں راستے بدلتے ہیں تو پہلے پاؤں بدلتے ہیں؛ ایک لڑکا جو شربت کی ٹرے لے کر اندر جا رہا تھا، مہرین کے پاس سے بچ کر گزرنے کے بجائے اس کے پیچھے رکا۔ دو عورتیں، جو ابھی تک صائمہ خالہ کے گرد نیم دائرہ بنا کر کھڑی تھیں، ذرا کھسک کر مہرین کی میز کے نزدیک آ گئیں۔ کندھے مڑے، راہیں بدلیں، اور پہلی بار ایسا لگا کہ دائرے کا مرکز ایک لمحے کے لیے کھسک گیا ہے۔
صائمہ خالہ نے فوراً آواز سخت کی۔ “ڈرامہ مت کرو۔ چابیاں رکھ کر احسان مت جتاؤ۔ لڑکی ہو، حد میں رہو۔” مہرین نے ان کی طرف دیکھے بغیر رجسٹر بند کر دیا۔ “حد میں ہی ہوں۔ دہلیز پر روکا، رجسٹر پر بٹھایا، سٹور کی چابیاں دیں۔ ایک ہی وقت میں اندر بھی نہیں مانتیं اور پورا گھر بھی میرے کندھوں پر رکھ دیتی ہیں۔ آج ایک چیز چن لیجیے۔”
یہاں تک آتے آتے حمزہ آ گیا، مگر دیر سے۔ اس کی چال میں وہی جھجھک تھی جو مردوں کے حصے سے عورتوں کے صحن میں آتے وقت آ جاتی ہے جب آدمی اپنا حق بھی ماں کی اجازت سے ناپتا ہو۔ “امی، رہنے دیں نا، تقریب ہے۔” رہنے دیں نا۔ مہرین کو ایک لمحے کے لیے واقعی ہار جانے جیسا محسوس ہوا۔ یہی تو تھا حمزہ کا انداز—نہ پورا انکار، نہ پورا اقرار، بس مسئلہ نیچا کر دو۔ صائمہ خالہ نے یہ کمزوری فوراً پکڑ لی۔ “ہاں، تقریب ہے۔ اسی لیے میں کہتی ہوں، جس کا یہاں نام نہیں، وہ خود سے نام نہ بنائے۔ انگوٹھی کی میز پر صرف گھر والے جائیں گے۔”
انگوٹھی کی میز۔ یہ اوورریچ تھا، کھلا، ننگا، سب کے سامنے۔ دہلیز پر روکنا ایک ذلت تھی؛ مگر انگوٹھی کی میز سے نام مٹا دینا سیدھا اعلان تھا کہ مہرین اس قصے میں تھی ہی نہیں۔ ندا کا منہ کھل گیا۔ ماموں رشید نے بھنویں چڑھائیں۔ ایک بوڑھی پھوپھی نے دھیمے مگر سنائی دینے والے لہجے میں کہا، “پھر بچی کے پیسے کیوں لیے تھے؟” یہ سوال ہوا میں تیرتا نہیں رہا، جا کر صائمہ خالہ کے چہرے پر لگا۔ ان کے ہونٹ کھنچے۔
مائیک ابھی نکاح خواں کے چھوٹے سٹینڈ کے پاس رکھا تھا، تقریب کی دعا اور اعلان کے لیے۔ صائمہ خالہ نے غالباً سوچا تھا مہرین دہلیز کے پاس ہی گل جائے گی۔ مگر اب گواہی کی سطح ہاتھ کے فاصلے پر تھی، اور اس تک جانا عزت مانگنا نہیں، عزت چھیننا تھا۔ حمزہ نے آہستہ سے کہا، “مہرین، ابھی نہیں۔ بعد میں بات—” وہ مڑ کر پوری طرح اس کی طرف آئی۔ “بعد میں کیا؟ جب سب کے سامنے میرا نام کاٹ دیا جائے، تو جواب بھی سب کے سامنے ہوگا۔” پھر اس نے رجسٹر اٹھایا، وہی رسید اس کے اندر رکھی، اور مائیک کی طرف چل دی۔
اب راستہ واقعی بدل گیا۔ جو لوگ ابھی تک تماشائی تھے، دو حصوں میں بٹنے کے بجائے کناروں پر ہٹے تاکہ وہ گزر سکے۔ ایک لڑکا جو تار سمیٹ رہا تھا، جھک کر تار پاؤں سے ہٹا گیا۔ ندا اس کے بائیں، ماموں رشید دائیں جانب آ گئے۔ حمزہ آگے بڑھا مگر اس کی ماں نے اس کا بازو پکڑ لیا—اور یہی پکڑ اس کی کمزوری بن گئی؛ وہ ایک قدم آگے، ایک قدم پیچھے، بیچ میں رکا رہ گیا۔ کھلے صحن میں جس کے قدم اٹک جائیں، اس کی حیثیت بھی اٹک جاتی ہے۔
صائمہ خالہ تیز لہجے میں بولیں، “مائیک نیچے رکھو۔ یہ کوئی بازار نہیں ہے۔” مہرین نے مائیک آن کیا تو ہلکی سی خرخراہٹ پورے صحن میں پھیل گئی۔ سب کی گردنیں ایک ساتھ نہیں مڑیں؛ مگر جن کی نہ مڑیں، وہ بھی سننے کے لیے ٹھہر گئے۔ اس نے رجسٹر کھولا، رسید نکالی، اور ہاتھ کانپا نہیں۔ “چونکہ میرے ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ میرے بغیر ہو رہا ہے، اس لیے ایک بات میں خود پڑھ کر سنا دیتی ہوں۔” اس کی آواز صاف تھی، زور سے نہیں، مگر کٹتی ہوئی۔ “یہ مہرین بنت اسلم کی ادائیگی ہے—ہال کی پیشگی رقم، سجاوٹ، اور انگوٹھی کے ڈبے کے لیے۔ تاریخ پچھلے مہینے کی۔ یہ وہ رقم ہے جو میں نے اس تقریب کے لیے دی، جب مجھے بتایا گیا تھا کہ آج میری منگنی ہے۔”
صحن میں کھڑے ایک ویٹر کے ہاتھ سے چمچ ٹرے میں ٹکرا کر بجا۔ کوئی “ہائے” نہیں بولا؛ اس کے بجائے وہ چیز ہوئی جو زیادہ سخت ہوتی ہے—لوگوں نے فوراً حساب لگانا شروع کر دیا۔ کس نے کتنا دیا، کس نے کس نام پر لیا، اور کس کا نام اب مٹایا جا رہا ہے۔
صائمہ خالہ نے آگے بڑھ کر مائیک پکڑنا چاہا۔ “یہ لڑکی حد سے بڑھ رہی ہے۔” مہرین نے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹا۔ “حد آپ نے توڑی جب دہلیز پر مجھے روک کر میرے پیسے سے سجی تقریب میں مجھے مہمان بھی نہ مانا۔” پھر اس نے رجسٹر کا وہ صفحہ اٹھایا جہاں مہمانوں کے نام تھے۔ اوپر سنہری قلم سے لکھا تھا: “انگوٹھی کی رسم—حمزہ ابن کامران” اور نیچے خالی جگہ، جیسے دوسرے نام کا فیصلہ ابھی کسی بڑے کے موڈ پر ہو۔ مہرین نے رجسٹر مائیک کے سامنے سیدھا کیا۔ “خالی جگہ ابھی بھر دیتی ہوں۔”
حمزہ نے پہلی بار صاف آواز میں کہا، “مہرین—” مگر اب اس کے نام میں اختیار نہیں تھا، صرف گھبراہٹ تھی۔ مہرین نے سنہری قلم اٹھایا۔ “اگر یہ تقریب میرے نام پر طے ہوئی تھی، میرے پیسے سے کھڑی ہوئی ہے، اور گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا کہ بات کس جگہ پہنچی ہوئی ہے، تو آج یا تو میرا نام لکھا جائے گا، یا یہ رسم ابھی کے ابھی ختم سمجھی جائے گی اور انگوٹھی کا ڈبہ اسی وقت واپس کھلے گا۔” اس نے نظریں حمزہ پر نہیں، صائمہ خالہ پر رکھی تھیں۔ “میں دہلیز پر کھڑی لڑکی نہیں ہوں۔ میں وہ فریق ہوں جس کے بغیر آپ نے خرچ لیا، وعدہ لیا، اور اب عزت بھی لینا چاہتی ہیں۔ نہیں۔”
یہ تھا اصل پلٹاؤ: رحم مانگنا نہیں، ملکیت کی زبان میں دعویٰ۔ صحن نے اسے فوراً پہچانا۔ ماموں رشید سیدھے چل کر سٹور کی چابی اٹھا لائے اور سب کے سامنے مہرین کی میز پر رکھ دی۔ “انگوٹھی وہی کھلوائے گی جس کا نام ہے۔” ندا نے عورتوں کی طرف مڑ کر صاف کہا، “راستہ چھوڑیں۔” ایک بوڑھی خالہ، جو ابھی تک صائمہ خالہ کے پاس تھیں، اب آہستہ سے مہرین کے پیچھے آ کھڑی ہوئیں۔ قدموں، کندھوں، اور راستوں کی یہ تبدیلی اتنی واضح تھی کہ کوئی اعلان الگ سے درکار نہیں رہا۔
صائمہ خالہ کی آواز اب اونچی تھی مگر سیدھی نہیں نکل رہی تھی۔ “حمزہ! کچھ کہو۔ تم خاموش کیوں ہو؟” حمزہ نے مائیک مانگنے کو ہاتھ بڑھایا، پھر ماموں رشید کی نظر اس پر پڑی تو ہاتھ آدھے راستے سے ہی رک گیا۔ ایک لمحہ پہلے تک جو بیٹا مرکز تھا، اب دائرے کے کنارے پر کھڑا تھا۔ یہی سب سے بڑی ذلت تھی: اس کے نام کی تقریب میں بولنے کا حق اس کی ماں کے شور سے بھی چھوٹا ہو گیا تھا۔
مہرین نے صفحے کی خالی سطر پر اپنا نام لکھا: “مہرین بنت اسلم۔” قلم کی نوک کاغذ پر رکی نہیں، پوری طرح چلی۔ پھر اس نے مائیک کے سامنے وہی نام صاف پڑھا، ایک ایک لفظ الگ۔ “آج کی منگنی میں دلہن کی طرف سے نام لکھا جا چکا ہے۔ اور انگوٹھی کی رسم، اگر ہوگی، تو میرے نام سے ہوگی۔ ورنہ نہیں ہوگی۔” اس نے مائیک سٹینڈ پر واپس رکھا، مگر ہاتھ ہٹایا نہیں۔ “اور چونکہ خرچ بھی میرا لگا ہے، رجسٹر بھی اب میرے سامنے رہے گا۔ جسے اعتراض ہے، وہ ابھی رقم لوٹا دے اور اعلان کر دے کہ وعدہ جھوٹا تھا۔”
یہ آخری ضرب تھی۔ رقم لوٹانا ناممکن نہیں تھا، مگر اسی لمحے، اسی مجمع میں؟ ناممکن سے بدتر۔ صائمہ خالہ کا ہاتھ ہوا میں اٹھا، پھر نیچے آ گیا۔ ان کے چہرے کا رنگ بدل کر ایک ایسی سختی میں گیا جو ٹوٹنے سے ایک سانس پہلے آتی ہے۔ انہوں نے حمزہ کی طرف دیکھا، جیسے بیٹا اب بھی ڈھال بن سکتا ہو؛ مگر حمزہ نے نظریں چرا لیں۔ کھلے صحن میں آدمی کی نظر جھک جائے تو ماں کی آواز اکیلی رہ جاتی ہے۔
مہرین نے چابیوں کی گچھڑی، رجسٹر، اور رسید ایک سیدھی لکیر میں اپنے سامنے رکھ دی۔ “راستہ خالی رکھیے۔ میں دہلیز سے ہٹائی نہیں جاؤں گی۔” پھر اس نے دونوں ہاتھ نیچے کر لیے۔
سبز شیڈ کے کنارے تلے صحن کی ٹوٹی ہوئی دھوپ سرک کر دوبارہ راستے پر آئی۔ مہرین کے نیچے جھکے ہاتھوں کے پاس، کھلا ہوا راستہ پھر سے صحن کے اندر جا رہا تھا، اور شیڈ کے کنارے سے سایہ آہستہ آہستہ واپس کھسک رہا تھا۔