قطار میرے لیے ٹوٹ گئی
اُشر نے مہرین کے بازو کے سامنے ریشمی رسی کھینچ دی۔ “آپ اِدھر نہیں، باجی، پچھلی سیڑھی سے جائیں۔ اوپر والی قطار صرف دلہن کے قریبی گھر والوں کے لیے ہے۔” اس کے کندھے پر لٹکا بیج بار بار پلٹ کر سینے سے ٹکرا رہا تھا، جیسے اس کا حق بھی اسی پلاسٹک کے ٹکڑے سے ناپا جا رہا ہو۔
مہرین ایک قدم رکی۔ اس کے ہاتھ میں ابھی تک وہ چابیاں تھیں جو خالہ نسرین نے دوپہر کو اسٹور روم کھولنے کے لیے دی تھیں اور پھر واپس لینا بھول گئی تھیں۔ بارہ گھنٹے کی دوڑ دھوپ اس کے آستین کے شکنوں میں پھنسی تھی؛ سروس سیکٹر کی وہ مخصوص تھکن، جس میں آدمی سیدھا کھڑا ہو تو بھی لگتا ہے ابھی کسی نے “ایک کام اور” کہہ دینا ہے۔ سامنے سے دو مامیاں، ایک کزن اور سائرہ بھابھی کی ہنستی ہوئی بیٹی اسی رسی کے اندر سے اوپر جا رہی تھیں۔ مہرین نے رسی کو ہاتھ نہیں لگایا۔ اس نے چابیاں اُشر کی ہتھیلی پر رکھ دیں۔ “یہ خالہ کو دے دیجیے۔ اگر میں پچھلی سیڑھی سے جاؤں گی تو پھر میں وہیں جاؤں گی جہاں آپ لوگ مجھے سمجھ رہے ہیں۔”
اُشر گھبرا گیا، مگر جواب سائرہ بھابھی نے دیا۔ وہ نیچے والے دروازے کے چوکھٹ پر ایسے رکی تھیں جیسے ہال انہی کے اشارے پر سانس لیتا ہو۔ “ارے مہرین، ضد نہ کرو۔ گھر والوں کے سامنے ترتیب ہوتی ہے۔ جس رشتے کی صرف بات ہو، اسے بات ہی رہنے دو۔ اوپر جا کر سامنے بیٹھنے سے کوئی بہو نہیں بن جاتا۔”
یہ آہستہ کہا گیا جملہ اتنا ہی زور سے لگا جتنا اگر مائیک پر بولا جاتا۔ قریب کھڑی خالہ جمیلہ نے دوپٹہ ذرا اور سنبھال لیا، ایک لڑکی نے موبائل نیچے کر لیا، اور اُشر نے رسی زیادہ تن دی۔ سائرہ بھابھی نے مہرین کو نہیں دیکھا؛ وہ سب کو دکھا رہی تھیں کہ حد کہاں کھینچنی ہے۔
مہرین نے پہلی بار پورے ہجوم کو دیکھا۔ کراچی کی بڑی شادیوں میں ہال صرف ہال نہیں ہوتا، ایک عدالت بھی ہوتا ہے۔ کس کے لیے راستہ کھلے گا، کون دیوار کے ساتھ رکے گا، کس کو سامنے کی سیڑھی دی جائے گی—سب نوٹ ہوتا ہے۔ وہ اور فراز پچھلے ایک سال سے ایسے نہیں تھے کہ صرف انہیں ہی پتہ ہو؛ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا، مگر باقاعدہ اعلان نہیں ہوا تھا۔ آج دلہن کی مہندی اور مایوں کے بیچ، سائرہ بھابھی یہی خلا استعمال کر رہی تھیں۔ مہرین نے چوکھٹ کے پاس کھڑے ہو کر راستہ نہیں مانگا۔ اس نے اتنا کہا، “اچھا۔ پھر آپ خود خالہ نسرین کو بتا دیجیے گا کہ میں نیچے مہمانوں کے جوتے بھی سنبھال لوں؟ ترتیب پوری ہو جائے گی۔”
دو عورتوں کے ہونٹوں کے کونے ہلے۔ یہ چھوٹی سی دراڑ تھی، مگر دکھتی تھی۔ سائرہ بھابھی کے ماتھے پر ایک لمحے کو سلوٹ آئی، پھر وہ مسکرائیں۔ “بات بڑھانے کی ضرورت نہیں۔ تم سمجھدار لڑکی ہو۔ سامنے والی لینڈنگ پر بزرگ کھڑے ہیں۔ کسی کو عجیب نہ لگے۔”
“کسی کو؟” مہرین نے سیدھا پوچھا۔
اس کا جواب سائرہ بھابھی نے نہیں دیا۔ اوپر سے خالہ نسرین کی آواز آئی، “سائرہ! دلہن کی پھوپھی آ گئی ہیں، قطار ٹھیک رکھو، فوٹوگرافر انتظار کر رہا ہے!” اب بات ذاتی نہیں رہی تھی۔ قطار، بزرگ، تصویر—یہ وہ الفاظ تھے جن کے پیچھے لوگ ظلم بھی آہستہ سے کر دیتے ہیں اور اسے تہذیب کہتے ہیں۔
سائرہ بھابھی فوراً پلٹیں اور اُشر کو اشارہ کیا۔ “اسے سائیڈ سے لے جاؤ۔ اور اوپر پہلی لینڈنگ پر جو سفید کارڈ لگے ہیں، ان کے پیچھے کوئی ادھر اُدھر نہ ہو۔ دلہن کے بھائی کے ساتھ جو فیملی شاٹ ہے، اس میں صرف نام والے لوگ۔” پھر مہرین کی طرف دیکھ کر نرم لہجے میں، “تم دل نہ چھوٹا کرو۔ ہر چیز کا وقت ہوتا ہے۔”
یہ دوسرا وار تھا: نہ صرف راستہ بند، بلکہ سامنے کی جگہ بھی “نام والے لوگ” کے لیے مخصوص۔ لینڈنگ کی ریلنگ کے ساتھ لگے سفید کارڈ دور سے بھی نظر آ رہے تھے۔ ترتیب اب محض رسی کی نہیں، کاغذ کی بھی ہو گئی تھی۔ مہرین نے دیکھا، ایک کارڈ ذرا ہوا سے ہل رہا تھا۔ اس پر سنہری قلم سے “فراز” لکھا تھا، اس کے برابر والے پر “والدہ”۔ باقی جگہیں خالی نہ تھیں، ناموں سے بھری تھیں—مگر جہاں اسے ہونا چاہیے تھا، وہاں کچھ نہ تھا۔
وہ ایک طرف ہوئی، مگر پچھلی سیڑھی کی طرف نہیں بڑھی۔ دروازے کے آدھے کھلے پٹ کے پاس، چوکھٹ کے اندر اتنی جگہ چھوڑ کر کھڑی ہو گئی کہ گزرنے والا رکنا پڑے۔ اس خاموشی میں اس کی موجودگی خود رکاوٹ بن گئی۔ اُشر نے ہاتھ سے اشارہ کیا، “باجی پلیز، راستہ…” مہرین نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا، “میرا راستہ پہلے آپ لوگوں نے بدلا ہے۔ اب ذرا ٹھہریے۔”
نیچے سے مردوں کے حصے کی طرف والا دروازہ کھلا اور فراز تیزی سے اندر آیا۔ سیاہ شیروانی کے اوپر اس کے کندھوں میں وہی تھکن تھی جو صرف لمبے دن کے آخر میں آتی ہے، مگر اس کی رفتار سیدھی اوپر کی سیڑھیوں کی طرف تھی۔ سائرہ بھابھی فوراً اس کے سامنے آئیں۔ “اچھا ہوا تم آ گئے۔ دلہن والوں کی خالہ اوپر انتظار کر رہی ہیں۔ جلدی آؤ۔”
فراز کی نظر پہلے بہن پر، پھر رسی پر، پھر مہرین پر گئی۔ وہ ایک لمحہ ہی تھا مگر کافی تھا۔ مہرین نے کچھ نہیں کہا۔ سائرہ بھابھی خود بولیں، “میں نے اسے سمجھا دیا ہے۔ ابھی سامنے کی لینڈنگ صرف اپنے لوگوں کے لیے رکھنی ہے۔ بعد میں نیچے آ کر مل لینا۔”
فراز نے ایک قدم رسی کے قریب جا کر سفید کارڈوں کی طرف دیکھا۔ “یہ کس نے لگوائے؟”
“میں نے۔ اور کس نے؟” سائرہ بھابھی کے لہجے میں وہی اُدھار کا اختیار تھا جو گھر کے بڑے نام پر چھوٹے لوگ بہت شان سے استعمال کرتے ہیں۔ “امّی نے بھی یہی کہا تھا کہ فوٹو اور داخلے میں گڑبڑ نہ ہو۔”
فراز نے ہاتھ بڑھا کر رسی نہیں ہٹائی؛ اس نے اُشر کے ہاتھ سے فہرست لے لی۔ بیج لٹکائے لڑکے نے پہلے سائرہ بھابھی کی طرف دیکھا، پھر ڈر کے مارے فہرست چھوڑ دی۔ فراز نے دو سطریں پڑھیں، پھر فہرست بند کر دی۔ “یاسر، یہ رسی کھولو۔”
اُشر جڑ ہو گیا۔ سائرہ بھابھی ہنسیں، مگر ہنسی میں دھات آ گئی تھی۔ “فراز، ابھی ڈراما مت کرو۔ سب دیکھ رہے ہیں۔ ایک لڑکی کے لیے پوری قطار نہیں توڑی جاتی۔”
مہرین کے پیٹ میں سخت گرہ پڑی، مگر فراز نے اس کی طرف بھی نہیں دیکھا۔ وہ سیدھا پہلی لینڈنگ کی طرف بڑھا، جہاں سفید کارڈ لگے تھے۔ دو کزن اس کے راستے سے ہٹے۔ اس نے “فراز” والے کارڈ کے برابر خالی جگہ کے پیچھے لگا چھوٹا چپکا ہوا ٹیپ اکھاڑا، پھر اگلا کارڈ نکالا جس پر ایک دور کے رشتہ دار کا نام تھا۔ کاغذ کی کھسکنے کی آواز صاف آئی۔ اس نے وہ کارڈ یاسر اُشر کے ہاتھ میں تھما دیا۔ “یہ نیچے دوسری قطار میں لگاؤ۔”
سائرہ بھابھی تیزی سے اوپر آئیں۔ “تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے؟” اب وہ آہستہ نہیں بول رہی تھیں۔ بزرگ بھی سن سکتے تھے۔ “لوگ کیا سمجھیں گے؟ ابھی نکاح نہیں ہوا، منگنی تک نہیں ہوئی، اور تم—”
فراز نے پہلی بار لفظ کاٹ کر کہا، “لوگ وہی سمجھیں گے جو میں یہاں کھڑا ہو کر انہیں سمجھا دوں گا۔”
یہ لینڈنگ تنگ تھی؛ ایک طرف پھولوں کی محراب، دوسری طرف ریلنگ، بیچ میں مڑتی سیڑھیاں۔ جو بھی بولتا، سب پر گرتا۔ اوپر کھڑی خالہ نسرین نیچے اترنے کو ہوئی تھیں مگر رُک گئیں۔ سائرہ بھابھی نے آخری کوشش میں نرم زہر ملایا۔ “امّی کی عزت کا خیال کرو۔ آج دلہن کا دن ہے۔ اگر تم نے اس طرح سب کے سامنے ایک غیر لڑکی کو—”
“غیر؟” مہرین کی آواز پہلی بار صاف اور اونچی آئی۔ سب کی گردن ایک ساتھ اس کی طرف مڑی۔ وہ نیچے چوکھٹ سے ہٹی، سیدھی رسی تک آئی، اور اپنی ہتھیلی فراز کی بند فہرست پر رکھ دی۔ “اگر میں غیر ہوں تو میرا نام کسی قطار میں مت لگائیے۔ اگر میں غیر نہیں ہوں تو مجھے دیوار کے ساتھ کھڑا مت کیجیے۔ آج یہی طے کر لیجیے۔ میں پچھلی سیڑھی سے نہیں جاؤں گی۔”
یہ اس کا دعویٰ تھا—مختصر، سیدھا، سب کے سامنے۔ اب واپسی کی کوئی تہذیبی راہ نہیں بچی تھی۔
سائرہ بھابھی کے چہرے کا رنگ بدلا۔ یہی ان کی مشکل تھی: ابھی تک وہ ترتیب سنبھال رہی تھیں؛ اب انہیں ایک عورت کو سب کے سامنے نیچا رکھنا ثابت کرنا پڑ رہا تھا۔ خالہ نسرین نے نیچے سے تھکی ہوئی آواز میں کہا، “فراز، بات بعد میں بھی ہو سکتی ہے۔ پہلے رسم نکال لو۔” یہی آسان راستہ تھا۔ ایک لمحہ، صرف ایک لمحہ، ایسا لگا جیسے سب اسی طرف جھک جائیں گے۔
فراز نے فہرست کھولی، سنہری قلم اُشر کی جیب سے نکالی، اور سفید کارڈ کے خالی حصے پر ایک نام لکھ دیا۔ سیاہی ابھی گیلی تھی۔ اس نے کارڈ خود جا کر “فراز” کے برابر لگا دیا۔ سنہری حروف روشنی پکڑ کر چمکے: “مہرین”۔
کسی نے سانس اندر کھینچی۔ کاغذ لگنے کی اتنی معمولی سی حرکت سے پوری لینڈنگ کی ترتیب ٹوٹ گئی۔
فراز نے پلٹ کر یاسر سے کہا، “رسی مکمل ہٹاؤ۔ اوپر پہلی راہ ان کے لیے خالی کرو۔” پھر سائرہ بھابھی کی طرف دیکھے بغیر، مگر ان ہی کے خلاف، “اور سن لو سب—میرے ساتھ سامنے کی قطار میں مہرین جائیں گی۔ ان کے بعد امّی۔ باقی سب انتظار کریں۔”
یہ حکم تھا، وضاحت نہیں۔ اُشر نے فوراً رسی کا کُنڈا کھولا، مگر اس کے ہاتھ کانپے اور پیتل کی انگوٹھی ریلنگ سے ٹکرا کر بجی۔ نیچے کھڑے دو کزن خود بخود ایک طرف ہوئے۔ اوپر آتی پھوپھی اپنی شال سمیٹ کر سیڑھی کے کنارے رک گئیں۔ جس رشتے دار کا کارڈ اتارا گیا تھا وہ ایک لمحے کے لیے آگے بڑھا، پھر خالہ نسرین کی موجودگی دیکھ کر پیچھے ہٹ گیا۔ یہ پہلا زخم تھا: نام اتر گیا، جگہ بھی۔
سائرہ بھابھی نے ہاتھ بڑھا کر کارڈ پکڑنا چاہا۔ “یہ نہیں ہوگا۔ تم حد سے—”
مہرین نے خود ایک قدم اوپر رکھا، پھر دوسرا۔ وہ کارڈ تک پہنچی، اپنی انگلی سے اس کے کونے کو سیدھا کیا تاکہ نام صاف دکھے، اور سائرہ بھابھی کے پھیلے ہوئے ہاتھ کے سامنے سے گزر گئی۔ “اب ہوگا۔ کیونکہ آپ نے مجھے سب کے سامنے روکا تھا۔”
سائرہ بھابھی کا ہاتھ ہوا میں رہ گیا۔ یہی دوسرا زخم تھا: ان کی روکی ہوئی حرکت سب نے دیکھی، مگر کسی نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔ وہ لینڈنگ کے موڑ پر ایسی پھنسی رہ گئیں کہ نہ اوپر جا سکتی تھیں، نہ نیچے۔ پیچھے سے آنے والی دو عورتیں ان سے بچنے کو دیوار سے لگ گئیں۔ ان کے چہرے پر پہلی بار وہ ہڑبڑاہٹ آئی جو اختیار کھسکنے پر آتی ہے۔
فراز ایک قدم پیچھے ہٹا، راستہ مہرین کے لیے خالی کرتے ہوئے۔ اس نے بازو پیش نہیں کیا، کوئی نرم جملہ نہیں کہا؛ اس سے زیادہ سخت اور واضح چیز کی—اپنی جگہ چھوڑ دی۔ “مہرین، آگے۔”
اب جسموں نے حکم ماننا شروع کیا۔ یاسر اُشر نیچے ہٹا، فہرست سینے سے چپکا لی۔ خالہ نسرین نے ہونٹ بھینچے، مگر وہ بھی ریلنگ سے پیچھے ہو گئیں تاکہ گزرگاہ صاف رہے۔ ایک بزرگ ماموں، جو ابھی تک راستے کے بیچ تھے، خود دو زینے نیچے اتر آئے۔ فوٹوگرافر، جو روشنی پکڑنے کے لیے جگہ بدل رہا تھا، فوراً کنارے ہوا۔ جس لینڈنگ پر مہرین کو دیوار کے ساتھ چپکایا جا رہا تھا، وہی اس کے قدموں کے لیے خالی ہو گئی۔
مہرین اوپر پہنچی تو سائرہ بھابھی آخری بار بولیں، مگر اب آواز میں حکم نہیں، بےترتیبی تھی۔ “فراز، تم بعد میں پچھتاؤ گے۔”
مہرین نے مڑے بغیر کہا، “بعد میں والی بات آپ کے لیے رہنے دیجیے۔ ابھی تو قطار ٹھیک کرنی تھی نا؟ ہو گئی۔” پھر اس نے پہلی صف کے پاس جا کر اپنی جگہ لی، “فراز” والے کارڈ کے برابر، اور سیدھی کھڑی ہو گئی۔
فراز اس کے بعد آیا، مگر اس سے آدھا قدم پیچھے رکا، جیسے حکم وہی رہنے دے جو ابھی لکھا جا چکا تھا۔ نیچے سے اوپر تک سب کو نئی ترتیب ماننی پڑی: پہلے مہرین، پھر وہ، پھر باقی۔ سائرہ بھابھی موڑ پر ہی رہ گئیں، اُن کے پیچھے وہی لوگ جنہیں وہ ابھی تک آگے چلا رہی تھیں۔ یہ تیسرا زخم تھا، اور سب سے گہرا—قطار ان کے ہاتھ سے نکل کر ان کے خلاف کھڑی ہو گئی تھی۔
رسم شروع ہونے کو تھی۔ دف کی ہلکی تھاپ اوپر کے ہال سے نیچے اتر رہی تھی، پھولوں کی خوشبو گرم روشنی میں گھل رہی تھی، اور مہرین کے ہاتھ اب بھی خالی تھے؛ چابیاں جا چکی تھیں، مگر راستہ نہیں۔ اس نے ایک بار سر موڑ کر نیچے نہیں دیکھا۔ بس اتنا کیا کہ اپنی آستین کی سلوٹ سیدھی کی، جیسے پورے دن کی تھکن کو ایک لکیر میں بند کر رہی ہو۔
رسم کے لیے اوپر والے ہال کا دروازہ کھلا تو لینڈنگ دوبارہ تنگ پڑ گئی، مگر اب رکاوٹ دوسری طرف تھی۔ یاسر اُشر ریلنگ کے پاس کھڑا پہلے لوگوں کو روکتا رہا، پھر مہرین کے قدم پڑتے ہی اس کی آستین کا کپڑا خود بخود ریل سے پیچھے سرک گیا، راستہ پہلے سے خالی چھوڑتے ہوئے، اور مہرین سیدھی گزر گئی۔