پورا منظر اس پر پلٹ گیا
سلمان بھٹی نے گیٹ کے پاس لٹکے رجسٹر پر ہتھیلی ماری اور اونچی آواز میں کہا، “یہی ہے وہ آدمی۔ پچھلے سال والا شارٹ لوڈ بھی اسی کے نام پر کھلا تھا، اور آج پھر یہی لائن پکڑے کھڑا ہے۔” ماہر ابھی موٹر بائیک سے اترا ہی تھا۔ گرد سے اٹی ہوئی اس کی نیلی قمیص کندھوں پر اکڑی ہوئی تھی، گلے میں پڑی بیج کی ڈوری بار بار سلجھائی جانے سے چپٹی اور پرانی ہو چکی تھی۔ receiving lane کے کنارے دو ٹرالیاں رکی تھیں، ایک ڈرائیور نے سگریٹ آدھی ہی پھینک دی، اور چوکیدار نے گیٹ آدھا بند کر کے تماشا روکنے کے بجائے مزید نمایاں کر دیا۔ سلمان نے رجسٹر ماہر کی طرف دھکیلا، جیسے فیصلہ پہلے ہو چکا ہو، دستخط صرف رسم ہوں۔
“میں آج صبح کی شفٹ پر آیا ہوں، رات کی انٹری میں میرا نام نہیں تھا۔” ماہر نے رجسٹر کو ہاتھ نہ لگاتے ہوئے کہا۔
“نام لگ جائے گا تو ہو جائے گا،” سلمان نے مسکرا کر جواب دیا، “کام یہی ہے نا؟ بوجھ اٹھانا؟ یا صرف نماز کے بعد سیدھا عزت لینے آتے ہو؟”
دو لڑکے، جو عام دنوں میں اس کے ساتھ گودام میں مال اتارتے تھے، خاموشی سے ایک پلاسٹک کرسی کے کونے سے اٹھ گئے۔ کوئی اسے بیٹھنے کو نہیں بولا۔ قریب کی میز پر چائے کا کپ ٹھنڈا پڑا تھا، اوپر باریک جھلّی جم چکی تھی، اور کپ کے نیچے بھورے دائرے نے لکڑی پر ایک پرانا نشان چھوڑ دیا تھا۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں آدمی انتظار میں چھوٹا دکھائی دیتا ہے۔ ماہر نے صرف ایک نظر ڈالی، پھر سلمان کی انگلی کے نیچے دبے کاغذ پر۔
وہ dispatch slip تھی، اوپر کمپنی کی مہر، نیچے خالی خانہ: “عارضی ذمہ داری وصول کنندہ”۔
“یہ کیا ہے؟”
“آسانی ہے،” سلمان نے کہا، “تم دستخط کر دو۔ اگر سامان پورا نکلا تو تمہارا نام صاف۔ اگر پھر کمی نکلی تو کٹوتی تمہاری تنخواہ سے۔ کمپنی کو آدمی چاہیے، بہانے نہیں۔”
“اور رات کی release کس کے کوڈ سے ہوئی تھی؟”
سلمان کی گردن ذرا ٹیڑھی ہوئی۔ “میرے کوڈ سے۔ لیکن لائن تم سنبھالو گے۔ آج کے بعد یہ پرانا کیس بھی بند، نئی انٹری بھی تمہارے ماتھے۔ سمجھدار آدمی اپنے بڑوں سے الجھتا نہیں۔”
بڑوں کا لفظ جان بوجھ کر بولا گیا تھا۔ کنارے کھڑا بابا رشید، جو پرانا لوڈر تھا اور شام کو اکثر ماہر کے محلے کی مسجد میں بھی دکھائی دیتا، اپنی داڑھی سہلاتا رہا مگر بولا کچھ نہیں۔ سلمان نے ایک اور وار کیا، ہلکا مگر سب کے سننے کے لیے کافی: “ویسے بھی کچھ رشتے صرف گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہوتے ہیں، کمپنی میں نہیں چلتے۔ عائشہ کو بھی سمجھ ہونا چاہیے تھی کہ نام سے زیادہ درجہ دیکھا جاتا ہے۔”
ماہر کی پلک ایک بار جھپکی۔ بس ایک بار۔ عائشہ اکاؤنٹس میں تھی، سلمان کے ماموں کی بیٹی، اور پورے دفتر میں یہ بات آدھی چھپی، آدھی جانی ہوئی تھی کہ دونوں ایک دوسرے کو چاہتے ہیں۔ عائشہ نے کبھی ہنستے ہوئے کہا تھا، “بس گھر والوں اور دوستوں کو پتہ رہے، دفتر میں زبانیں لمبی ہیں۔” آج سلمان نے وہی جملہ ننگا کر کے گیٹ پر لٹکا دیا تھا۔
“کاغذ دکھاؤ،” ماہر نے کہا۔
سلمان نے سمجھا، شکنجہ بیٹھ گیا۔ اس نے سلپ کھولی، ساتھ bay keys بھی میز پر کھنکائیں۔ “یہ لو۔ دستخط کرو، چابی لو، شٹر کھولو، مال اتارو۔ اور سنو—جب تک تم sign نہیں کرتے، گاڑی واپس نہیں لگے گی۔ تاخیر کا جرمانہ بھی پھر تمہاری طرف لکھوں گا۔”
یہ پہلی زیادتی سے آگے والی چال تھی۔ ڈرائیور نے فوراً بے چینی سے اپنی گھڑی دیکھی۔ تاخیر کا پیسہ کمپنی بعد میں وصول کرتی تھی، لیکن موقع پر جس کا نام لکھیے، بوجھ اسی کے سر۔ سماجی گواہی بھی حاضر، مالی نقصان بھی۔ سلمان نے قلم ماہر کی طرف بڑھایا، جیسے رحم کر رہا ہو۔
ماہر نے slip کو دونوں انگلیوں سے تھاما، اوپر سے نیچے تک پڑھی۔ نیچے ایک شرط باریک حروف میں تھی: “جس اختیار یافتہ افسر کے تصدیقی دستخط سے bay release اور shutter opening ہو، حتمی مالی ذمہ داری اسی پر لازم ہوگی۔” اس نے نظر اٹھائی۔ “یہ لائن پہلے نہیں ہوتی تھی۔”
“نیا ضابطہ ہے،” سلمان نے فوراً کہا، “تمہیں پڑھنا آتا ہے تو پڑھ لیا، اب دستخط کرو۔”
“Release کس کے دستخط سے کھلے گی؟”
“میرے، اور کس کے؟” سلمان نے چڑ کر bay keys اٹھا لیں۔ “تم صرف وصول کنندہ ہو۔ درجہ یاد رکھو۔”
ماہر نے قلم لے لیا، مگر خانے پر اپنا نام لکھنے کے بجائے اوپر وصولی کے کالم میں وقت نوٹ کیا اور slip واپس سلمان کی طرف بڑھا دی۔ “پہلے آپ release sign کریں۔ پھر میں وصولی درج کروں گا۔ ضابطہ نیا ہے تو عمل بھی پورا ہوگا۔”
سلمان ہنسا، جیسے بچے کی ضد ہو۔ “میرے سامنے قانون مت پڑھو۔” پھر شاید اسے ڈرائیور، چوکیدار، بابا رشید، اور دوسرے لوڈروں کی نگاہیں ایک ساتھ محسوس ہوئیں۔ اس نے جلدی سے slip کھینچی، نیچے اپنے پورے نام کے ساتھ دستخط کیے، تاریخ ڈالی، اور زور سے keys میز پر پھینکیں۔ “لو، اب خوش؟ شٹر کھولو۔ آج اگر ایک ڈبہ بھی کم نکلا تو تمہاری خیر نہیں۔”
یہ حرکت اتنی جلدی ہوئی کہ وہ خود اپنی جلد بازی کو فوراً واپس نہ لے سکا۔ ماہر نے چابیاں نہیں اٹھائیں۔ اس نے slip کی جانب ہاتھ بڑھا کر release والے دستخط کے نیچے انگوٹھے سے مہر کی تازہ سیاہی چھوئی، پھر بہت سیدھی آواز میں چوکیدار سے کہا، “شٹر اسی release پر کھلے گا۔ ریکارڈ کے مطابق حتمی ذمہ داری signer کی ہے۔ بابا رشید، pallet جتنا اندر ہے وہیں روکو۔ پہلے count سلمان صاحب کے حوالے سے چلے گا۔”
ایک دھپ کی آواز آئی۔ ڈرائیور نے بے اختیار ٹرالی کا بریک چھوڑ دیا تھا، پھر فوراً پکڑ لیا۔ بابا رشید کی آنکھیں پہلی بار سیدھی اٹھیں۔ سلمان نے کہا، “تم کون ہوتے ہو count موڑنے والے؟”
ماہر نے slip اس کے سامنے رکھ دی۔ “میں وہ ہوں جس پر آپ نے جھوٹا بوجھ ڈالنا چاہا تھا۔ مگر کاغذ آپ نے خود باندھا ہے۔ شٹر آپ کے release پر کھلا، bay آپ کے sign سے نکلی، اور شرط نیچے لکھی ہے۔ میں وصولی تب درج کروں گا جب آپ اپنی release پر مال خود ہینڈ اوور کریں۔”
“بکواس بند کرو اور چابی اٹھاؤ!”
“چابی آپ نے ابھی تک مجھے دی ہی نہیں۔” ماہر کی نظریں bay keys پر تھیں، جو سلمان کے ہاتھ کے قریب پڑی تھیں۔ “اور بغیر ہینڈ اوور وصولی نہیں ہوتی۔ آپ ہی نے کہا نیا ضابطہ ہے۔”
ایک لمحے کو پورا منظر بدل گیا۔ پہلے سب ماہر کو دیکھ رہے تھے، اب سب کی نگاہ سلمان کے ہاتھ اور slip کے نیچے لگے اس کے دستخط پر جم گئی۔ چوکیدار نے گیٹ پوری طرح کھولنے کے بجائے آدھا ہی رکھا، جیسے اسے اب حکم زبان سے نہیں، کاغذ سے لینا ہو۔ بابا رشید نے pallet jack سیدھا سلمان کی سمت موڑا۔ پلاسٹک کی خالی پٹیاں فرش پر سرکیں اور شور میں ایک سردی سی پھیل گئی۔
سلمان نے غصے سے keys اٹھائیں، شٹر کے پاس گیا، اور خود قفل کھول دیا۔ لوہے کا پردہ اوپر اٹھتے ہوئے کڑکا۔ اندر کاسمیٹکس کے کارٹن تہہ در تہہ رکھے تھے، ایک کونے میں پیکنگ پھٹی ہوئی۔ سلمان نے چیخ کر کہا، “اتارو اسے! جلدی!”
کوئی آگے نہ بڑھا۔ بابا رشید نے صرف اتنا کہا، “ہینڈ اوور نام لے کر بولیں، صاحب۔ رجسٹر چل رہا ہے۔”
یہ وہ ذلت تھی جو سلمان دوسروں کے لیے بچا کر رکھتا تھا: نام لے کر بوجھ مانگو، تب لوگ ہاتھ لگائیں۔ اس نے ایک پل کے لیے ماہر کی طرف دیکھا، جیسے حکم واپس اسی کے منہ میں ڈال دے۔ ماہر ساکت کھڑا رہا، کندھے اکڑے ہوئے، رات بھر کے بعد والی سختی ابھی تک کپڑوں میں تھی۔ اس نے رجسٹر اپنی طرف کھینچا اور خالی خانے کے پاس قلم رکھا، مگر دستخط نہ کیے۔
سلمان نے دانت بھینچ کر کہا، “ٹھیک ہے۔ میں release officer کے طور پر ہینڈ اوور کرتا ہوں۔ count شروع کرو۔”
“نام بلند بولیے،” بابا رشید نے کہا، اس بار صاف۔
“سلمان بھٹی!” اس کے منہ سے نکلا، اور اسی کے ساتھ پہلے کارٹن pallet پر آ گئے۔
count شروع ہوتے ہی خرابی نظر آ گئی۔ تین کارٹن کی سیل ٹوٹی ہوئی تھی، ایک کا inner pack خالی، دو پر پچھلی رات کی نمی کے نشان۔ ماہر نے کچھ نہیں کہا۔ وہ صرف رجسٹر میں count لکھتا گیا۔ ہر عدد کے ساتھ سلمان کے دستخط والا slip اوپر رکھا رہا، جیسے سایہ۔ ڈرائیور نے آہستہ سے موبائل نکال کر کسی کو تاخیر کی خبر دی، مگر اس کی نگاہ بار بار سلمان کے چہرے پر جاتی رہی۔ چوکیدار نے گیٹ پر دوسری گاڑی روک دی؛ اب backlane میں بندش سلمان کے نام سے تھی۔
“یہ رات کی packing issue ہے، میری نہیں!” سلمان پھٹ پڑا۔
“release آپ کی ہے،” ماہر نے قلم رکھے بغیر کہا۔
“میں supervisor ہوں، میں کاغذ rectify کرا دوں گا۔”
“گاڑی کھڑی ہے۔ جرمانہ چل رہا ہے۔ rectification بعد میں ہوگی، debit پہلے۔”
سلمان نے جھپٹ کر رجسٹر بند کرنا چاہا۔ ماہر نے کتاب اٹھا کر ایک قدم پیچھے کر لی۔ اسی لمحے عائشہ اندرونی دروازے سے نکلی۔ دوپٹہ سنبھالتی ہوئی، ہاتھ میں چھوٹا فولڈر، چہرہ سیدھا مگر رنگ بدلا ہوا۔ اسے کسی نے بلایا نہیں تھا؛ شور خود اس تک پہنچا تھا۔ سلمان نے فوراً اس کی طرف رخ کیا، “تم اکاؤنٹس سے کہو entry hold کرے۔”
عائشہ رک گئی۔ اس نے slip دیکھا، سلمان کے دستخط، bay number، وقت، سب ایک لائن میں۔ پھر ماہر کی طرف نہیں، بابا رشید کی طرف دیکھا۔ “ہینڈ اوور ہو چکا؟”
“جی، signer کے نام سے count چل رہا ہے،” بابا رشید نے کہا۔
یہ جواب فیصلہ نہیں تھا، مگر فیصلہ جتنا وزنی تھا۔ عائشہ نے فولڈر کھولا، تاخیر اور کمی کے جرمانے والا فارم نکالا، اور خاموشی سے رجسٹر کے پاس رکھ دیا۔ سلمان کے گلے کی رگ اب کھنچ کر نمایاں ہو گئی۔ “تم بھی؟”
عائشہ نے کہا، “کاغذ کے خلاف میں کیا کروں؟”
یہ جملہ نرم نہیں تھا۔ یہ کنارہ تھا۔
سلمان نے آخری کوشش کی۔ اس نے ایک تازہ slip نکالی، تیزی سے بھرنے لگا۔ “ٹھیک ہے، نیا dispatch بنے گا۔ پرانی release منسوخ۔ ماہر وصولی لے گا، ابھی کے ابھی۔” اس نے کاغذ ماہر کی طرف بڑھایا، تقریباً حکم کے زور سے۔ “دستخط کرو۔ سب کے سامنے کرو۔”
ماہر نے کاغذ لیا، پڑھا بھی نہیں، دو حصوں میں پھاڑا، پھر چار میں۔ چھوٹے سفید ٹکڑے اس کے ہاتھ سے نکل کر گیلے فرش پر گرے۔ “جو release چل چکی، اس کے بعد نیا کاغذ صرف آپ کے خسارے میں ایک اور تاخیر جوڑے گا۔” اس نے bay keys اٹھا کر سلمان کی ہتھیلی پر واپس رکھ دیں۔ “release آپ کی، handover آپ کا، shortfall آپ کے نام۔ میں اس لائن پر جھوٹ وصول نہیں کروں گا۔”
یہ آخری عملی حرکت تھی؛ چابی قبول کرنے سے انکار، مگر واپس ایسے جیسے بوجھ اپنی جگہ لوٹایا جا رہا ہو۔ سلمان نے keys پکڑتے ہوئے محسوس کیا کہ وہ چیز جو ابھی تک اختیار لگ رہی تھی، اب وزن بن چکی ہے۔ دوسری گاڑی کا ڈرائیور ہارن دے کر چپ ہو گیا۔ اندر والی ٹرالی کے پہیے ایک ہی جگہ رگڑ کھا کر رک گئے۔ عائشہ نے تاخیر والا فارم اسی slip کے نیچے سرکا دیا جس پر سلمان کے دستخط تھے۔
ماہر نے رجسٹر بند کیا، بیج کی پرانی ڈوری ایک بار گردن سے سیدھی کی، اور loading bay سے مڑ گیا۔ باہر نکلنے والی نالی میں پھٹے ہوئے packing slip کے سفید ٹکڑے، پلاسٹک ریپر کی رنگین کترنوں کے ساتھ، نم ہوا کے ہلکے جھونکے سے الٹ کر اسی طرف اڑنے لگے جدھر سلمان بھٹی کھڑا تھا۔