سب کے سامنے اس کا نام اوپر گیا
“رکیں، یہ وی آئی پی لائن ہے۔”
گیٹ کے سامنے لگی سرخ رِبن ایک جھٹکے سے مہرین کے سامنے کھینچ دی گئی۔ اس کے ہاتھ میں مڑا ہوا کارڈ تھا، گردن پر پرانا، ہلکا سا گھسا ہوا لینیارڈ لٹک رہا تھا جس پر تقریب کی عارضی ذمہ داری کا پاس بندھا تھا۔ اسی لمحے دوسری طرف سے حرا ہلکے سنہری لباس میں آئی، خالہ صبیحہ نے خود آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا، “ارے، اسے روکو مت، یہ گھر کی بچی ہے۔ سیدھا اندر لاؤ۔”
یہ وہی گھر تھا جہاں مہرین پچھلے دو مہینے سے آتی جاتی رہی تھی؛ منگنی کی فہرستیں، مہمانوں کے نمبر، ہال والوں کے چکر، پھول والے کے بقایاجات، سب اسی نے سنبھالے تھے۔ سروس سیکٹر میں کام کرنے کی عادت تھی، ترتیب بکھرے تو ہاتھ خود چل پڑتے تھے۔ مگر آج، جب سب کے سامنے اندر جانے کی باری آئی، اسے سپلائر لڑکی کی طرح روک دیا گیا۔
مہرین نے کارڈ واپس پرس میں رکھا، پھر اپنی انگلیوں میں دبی چھوٹی چابی خالہ صبیحہ کی طرف بڑھا دی۔ “اوپر والے اسٹور کی چابی۔ آپ نے کل رات مانگی تھی، دیر سے واپس کر رہی ہوں۔ اب خود سنبھال لیجیے۔” اس نے چابی خالہ کے ہاتھ میں رکھ دی اور رِبن کے پیچھے ایک قدم ہٹ گئی۔ یہ معذرت نہیں تھی، نہ منت۔ بس حد تھی، صاف اور ٹھنڈی۔
خالہ صبیحہ کی پلک ہلی۔ شاید وہ توقع کر رہی تھیں کہ مہرین جھک کر سمجھائے گی کہ دعوت خود گھر سے آئی تھی، کہ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہے حماد اسے اپنے ساتھ لانا چاہتا تھا، کہ اس نے اس تقریب کے آدھے بوجھ اپنے کندھے پر اٹھائے ہیں۔ مگر مہرین خاموش رہی۔ ادھر حرا اندر جاتے ہوئے پلٹ کر بولی، “کزنز کے ساتھ بیٹھنا ہے مجھے، دروازے پر رش نہ کرو پلیز۔”
صحن کے اندر روشنی کی زرد لڑیوں کے نیچے ایک گول سا آمدی حلقہ بنا ہوا تھا۔ گاڑیاں آ کر رکتیں، دروازے کھلتے، مرد حضرات دائیں طرف، خواتین بائیں طرف مڑتیں، اور ہر مڑنے کے ساتھ رتبہ پڑھا جاتا۔ کون پہلے سلام لے رہا ہے، کس کے لیے راستہ کھل رہا ہے، کس کو روک کر پوچھا جا رہا ہے۔ مہرین کنارے پر کھڑی تھی تو گیٹ اسسٹنٹ نے لینیارڈ دیکھ کر بھی لہجہ بدلنے کی زحمت نہ کی۔ “باجی، سپلائر انٹری پیچھے سے ہے۔”
“میں سپلائر نہیں ہوں۔” مہرین نے سیدھا کہا۔
“تو پھر انتظار کریں۔ اندر ابھی فیملی موومنٹ ہے۔”
یہ جملہ اتنی اونچی آواز میں بولا گیا کہ قریب کھڑی دو پھپھیاں مڑ کر دیکھنے لگیں۔ ایک نے دوسری کے کان میں کہا، “اچھی لڑکی ہے، مگر حد جاننی چاہیے۔” دوسری نے فوراً حرا کی طرف دیکھا جو اب خالہ صبیحہ کے ساتھ بڑے دروازے کے نیچے تصویروں کے لیے رک رہی تھی۔ غلط درجہ بندی ایک لمحے میں خاندان کی رائے بن گئی۔
اسی دوران حماد اندرونی برآمدے سے نکلا۔ سیاہ واسکٹ، تھکا ہوا چہرہ، اور موبائل مسلسل بجتا ہوا۔ اس کی نظر پہلے حرا پر گئی، پھر خالہ صبیحہ پر، پھر آخر میں رِبن کے باہر کھڑی مہرین پر آ کر ٹھہری۔ ایک لمحے کے لیے اس کے جبڑے سخت ہوئے، مگر وہ سیدھا ماں کی طرف بڑھا۔ “امی، قاضی صاحب پہنچ گئے؟”
خالہ نے جیسے مہرین کو دیکھا ہی نہ ہو۔ “پہنچ گئے۔ اور سنو، حرا کو اندر بٹھاؤ، فوٹوگرافر انتظار کر رہا ہے۔”
حماد نے حرا کی طرف دیکھا۔ حرا نے ہلکی مسکراہٹ سے اپنا دوپٹہ سنبھالا، جیسے یہی ترتیب طے تھی۔ پھر اس کی نظر مہرین کے ہاتھ پر گئی جہاں ابھی ابھی چابی غائب ہوئی تھی، اور اس نے نرم زہر میں ڈوبی آواز میں کہا، “مہرین کو پیچھے والے کام دیکھنے دو۔ اسے وہی اچھا آتا ہے۔”
اس ایک جملے نے صحن کے کنارے مہرین کی جگہ اور بھی نیچی کر دی۔ قریب کھڑے لڑکے جو سامان اٹھا رہے تھے، اسے عملے میں شمار کر کے راستہ مانگنے لگے۔ ایک لڑکی نے اسے بچا ہوا کھانے کا ڈبہ پکڑانا چاہا، “باجی، یہ کچن میں دے دیں؟” ڈبہ ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ مہرین نے نہیں لیا۔ اس کے اندر غصہ نہیں ابل رہا تھا؛ غصہ تو شوروغوغا مانگتا ہے۔ اس کے اندر کچھ اور سخت ہو رہا تھا۔
برآمدے کے اندر سے ہلکی بھنبھناہٹ آ رہی تھی، جیسے مسلسل جلتی فلوروسینٹ بتی کی۔ اسی راہداری میں مہرین نے پچھلے ہفتے رات ایک بجے تک بیٹھ کر مہمانوں کی حتمی فہرست لکھی تھی، جب حماد نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا تھا، “تم نہ ہوتیں تو یہ سب بکھر جاتا۔” وہ جملہ آج صحن میں کہیں موجود نہیں تھا۔ آج صرف دیکھا جا رہا تھا کہ کس کو کون ہاتھ لگا کر اندر لے جا رہا ہے۔
گیٹ اسسٹنٹ کے پاس ایک رجسٹر تھا۔ اس نے ایک نظر مہرین پر ڈالی، دوسری اندر کی طرف، پھر رجسٹر بند کر کے راستہ موڑنے لگا۔ “باجی، آپ دائیں سائیڈ ہو جائیں۔ پہلے قریبی لوگ—”
“قریبی لوگ؟” مہرین نے پہلی بار آواز ذرا اونچی کی۔ “دو ماہ سے میں کس کے گھر کے چکر لگا رہی تھی؟”
اسسٹنٹ گھبرا گیا، مگر خالہ صبیحہ فوراً آگے آ گئیں۔ “بات بڑھاؤ مت، مہرین۔ تقریب ہے۔ عزت سے پیچھے ہو جاؤ۔”
یہی تھا اصل حکم۔ پیچھے ہو جاؤ۔ جس کام کے لیے بلایا، وہ کرو۔ مگر جگہ نہ مانگو۔
حماد نے شاید اب تک فیصلہ کر لیا تھا کہ خاموشی مزید مہنگی پڑے گی۔ وہ حرا کے قریب سے گزرا، مگر اس کا قدم اچانک مڑ گیا۔ سب کے سامنے، کھلے صحن کے بیچ، اس نے گیٹ اسسٹنٹ کے ہاتھ سے رجسٹر لے لیا اور سیدھا رِبن کے اس طرف آیا جہاں مہرین کھڑی تھی۔ ایک لمحے کو پورا حلقہ جیسے غلط قدم کا انتظار کرنے لگا۔ پھر حماد نے اپنا جسم اس طرح موڑا کہ حرا اس کی پشت کے پیچھے رہ گئی، اور مہرین کے سامنے راستہ کھول کر بولا، “اندر آئیے۔ آپ کو میں لے کر جا رہا ہوں۔”
اسسٹنٹ نے بےاختیار رِبن ڈھیلی چھوڑ دی۔ یہ چھوٹا سا حرکت تھا، مگر صاف دکھ رہا تھا کہ گائیڈ کس کی طرف پلٹا ہے، کس کے لیے راستہ کھلا ہے۔ مہرین نے فوراً قدم نہیں بڑھایا۔ خالہ صبیحہ کا چہرہ سخت ہو گیا۔ حرا کے ہونٹوں کی مسکراہٹ جیسے آدھے راستے میں رہ گئی۔
“حماد!” خالہ کی آواز دبے غصے سے کانپی، “لوگ دیکھ رہے ہیں۔”
“اسی لیے۔” اس نے رجسٹر بند کر کے اسسٹنٹ کو واپس دیا، مگر نظر مہرین سے نہ ہٹائی۔ “جس کا نام میں نے پہلے لکھوایا تھا، وہ باہر کیوں کھڑی ہے؟”
یہ پہلا دراڑ تھا، مگر کمرہ ابھی مکمل نہیں پلٹا تھا۔ خالہ صبیحہ نے فوراً دوسری چال کھیلی۔ “ٹھیک ہے، اندر آ جائے۔ مگر سامنے نہیں۔ مہرین، تم برآمدے کی دائیں قطار میں بیٹھ جاؤ۔ بعد میں بات ہو جائے گی۔” پھر انہوں نے حرا کا بازو پکڑا اور بلند آواز میں کہا، “اور حرا میرے ساتھ رہے گی۔”
چال سمجھ میں آنے والی تھی: مہرین کو اندر تو آنے دو، مگر نظر سے ہٹا کر۔ ایسی جگہ بٹھا دو جہاں وہ قبول تو ہو، مگر مقدم نہ لگے۔ صحن کے دائیں کونے میں خواتین کی دوسری قطار کے لیے نیلی رِبن لگی تھی؛ وہاں سے مرکزی زینے تک پہنچنے والا موڑ الگ ہو جاتا تھا۔ اگر مہرین ایک بار وہاں مڑ جاتی تو سارا منظر واپس پرانی ترتیب میں آ جاتا۔
حماد ایک قدم اور بڑھا، مگر مہرین نے ہلکے اشارے سے اسے روکا۔ یہ اس کی لڑائی تھی۔ اس نے خالہ صبیحہ کی طرف دیکھا، پھر حرا کی طرف، پھر سب کے سامنے اتنی صاف آواز میں بولی کہ گیٹ کے باہر اترتے مہمان بھی سن سکیں، “مجھے دائیں قطار میں چھپا کر اندر نہیں جانا۔ اگر میرے لیے گھر میں جگہ پیچھے ہے تو میں واپس چلی جاتی ہوں۔ اور اگر میرا نام واقعی پہلے لکھوایا گیا تھا، تو مجھے سامنے والے راستے سے لے جایا جائے۔ ابھی۔”
آس پاس کھڑے دو بزرگ مرد رک گئے۔ ایک کزن نے ہاتھ میں پکڑی گاڑی کی چابی گھماتے گھماتے روک دی۔ گیٹ اسسٹنٹ کے چہرے پر وہ الجھن تھی جو صرف تب آتی ہے جب غلط حکم سب کے سامنے ٹوٹنے والا ہو۔ خالہ صبیحہ نے بات ہلکی کرنے کے لیے مصنوعی مسکراہٹ اوڑھی۔ “ارے بیٹا، بات کو ڈراما کیوں بنا رہی ہو؟ آؤ، ادھر سے—”
“ادھر سے نہیں۔” مہرین نے درمیان میں کاٹ دیا۔ “میں کوئی ڈبہ اٹھانے والی لڑکی نہیں کہ پیچھے والے راستے سے گھس جاؤں۔”
یہ ضرب سیدھی لگی۔ ابھی کچھ دیر پہلے اسی کو ٹھنڈا کھانے کا ڈبہ تھمانے کی کوشش ہوئی تھی، اور اردگرد موجود چند لوگوں نے وہ منظر دیکھا تھا۔ حرا نے فوراً قدم بڑھایا، شاید معاملہ سنبھالنے کے لیے، مگر الفاظ الٹ پڑے۔ “مہرین، تم ہر چیز کو اپنے بارے میں مت بناؤ۔”
“آج تو آپ لوگوں نے میرے بارے میں بنا ہی دیا ہے،” مہرین نے کہا۔ “گیٹ پر روک کر، لائن سے ہٹا کر، نام چھپا کر۔ اب کھلے میں ٹھیک بھی کھلے میں ہوگا۔”
حماد نے اس بار انتظار نہیں کیا۔ وہ رجسٹر دوبارہ اسسٹنٹ سے لے آیا، صفحے پلٹے، اور ایک موٹے مارکر سے لکھا ہوا خانہ سب کے سامنے کھول دیا۔ اوپر قریبی مہمانوں کی فہرست تھی۔ حرا کا نام خالہ صبیحہ کے ہاتھ کی لکھائی میں دوسرے نمبر پر تھا۔ سب سے اوپر، صاف، پہلے سے درج نام: مہرین۔ شاید دوپہر میں حماد نے خود لکھا تھا۔ شاید اسی لیے خالہ نے گیٹ پر آواز کے زور سے حکم چلایا تھا، کاغذ کے زور سے نہیں۔
حرا کا رنگ بدل گیا۔ “یہ کب—”
“جب میں نے حتمی فہرست دی تھی۔” حماد کی آواز اب پست نہیں تھی۔ “اور جب سب کو پہلے ہی معلوم ہے کہ مہرین میرے ساتھ آئے گی۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہے۔ صرف اعلان میں دیر ہوئی ہے، حقیقت میں نہیں۔”
یہ جملہ صحن کے بیچ جا کر لگا۔ رِبن، رجسٹر، راستے، سب اچانک ایک ہی چیز کی طرف اشارہ کرنے لگے۔ خالہ صبیحہ نے فوراً آخری حفاظتی دیوار کھڑی کی۔ “اچھا، اگر اتنا ہی اصرار ہے تو خاموشی سے اسے اندر لے جاؤ۔ ہجوم کے سامنے بات نہ کرو۔”
دیر سے دی گئی رعایت، منہ بچانے کا آخری ٹکڑا۔
مہرین نے وہ ٹکڑا لیا نہیں۔ اس نے ایک قدم آگے بڑھ کر رجسٹر حماد کے ہاتھ سے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ پورے حلقے کے سامنے۔ اس کی انگلیاں بالکل نہیں کانپیں۔ اس نے اوپر والی سطر پر اپنا نام چھوا، پھر رجسٹر اسسٹنٹ کی طرف کھول کر کہا، “اونچی آواز میں پڑھیے۔ پہلے کس کا داخلہ ہے؟”
اسسٹنٹ نے خالہ کی طرف دیکھا۔ پھر حماد کی طرف۔ پھر مہرین کی آنکھوں میں سیدھا دیکھنے کی ہمت نہ کر سکا۔ آواز خشک تھی، مگر سنائی سب کو دی، “پہلا داخلہ… مہرین صاحبہ۔”
یہی ضرب تھی۔ خالہ صبیحہ کا چہرہ یوں بیٹھا جیسے کسی نے ان کے ہاتھ سے مجلس کی باگ کھینچ لی ہو۔ حرا نے فوراً آگے آ کر کہا، “میں پہلے ہی اندر جا چکی ہوں، یہ بے معنی—”
“رکیں۔” مہرین نے پہلی بار اس کی طرف پورا رخ کیا۔ “آپ گئی تھیں کیونکہ مجھے روکا گیا تھا۔ اب ترتیب درست ہوگی۔”
اس نے رجسٹر واپس اسسٹنٹ کو دیا، پھر اپنے کندھے سے گھسا ہوا لینیارڈ اتارا اور حماد کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ “یہ عارضی پاس تھا۔ کام کے لیے۔ اب مجھے کام والی جگہ پر کھڑا نہ کیجیے۔”
حماد نے لینیارڈ مٹھی میں بند کر لیا۔ اس کے بعد اس نے کوئی تقریر نہیں کی۔ بس مرکزی راستے کی رِبن خود اٹھائی، ایک طرف ہوا، اور اپنے بازو سے ایسا واضح اشارہ کیا جیسے پورے صحن کے نقشے میں نیا راستہ کھینچ رہا ہو۔ “آئیے، مہرین۔ سامنے سے۔”
اسی لمحے حرا نے آخری کوشش میں خالہ کا بازو پکڑا۔ “خالہ، کم از کم ہم اکٹھے—”
مگر خالہ نے خود ایک قدم پیچھے لے لیا۔ یہی سب سے سخت منظر تھا: جو عورت چند منٹ پہلے ہاتھ پکڑ کر اندر لے جا رہی تھی، اب کھلے صحن میں کسی کو آگے کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہی۔ اختیار اس کے ہاتھ سے پھسل کر سب کے سامنے دوسرے ہاتھ میں جا چکا تھا۔
مہرین نے چلنا شروع کیا۔ اس کے قدم نہ تیز تھے نہ ہچکچاتے ہوئے۔ مرکزی دروازے کی طرف جاتے موڑ پر دو رِبنیں الگ ہوتی تھیں؛ ایک سیدھی اندر کے روشن زینے کی طرف، دوسری دائیں مڑ کر دوسری قطاروں کے لیے۔ گیٹ اسسٹنٹ نے جلدی میں کھونٹی بدل دی۔ سرخ رِبن کھل کر مہرین کے راستے کی طرف جھکی، اور نیلی رِبن موڑ کاٹ کر باہر کی جانب تن گئی۔ مہرین سیدھے اس ترجیحی موڑ سے اندر بڑھ گئی۔ پیچھے، باہر والے خم پر رِبن حرا کے راستے سے مڑ کر دور ہو چکی تھی۔