Fast Fiction

سامنے میں نے نام لے دیا

“مریم، تم ادھر بینچ پر بیٹھو۔ کھڑکی پر ہر کسی کا چڑھ جانا اچھا نہیں لگتا۔”

فریحہ باجی نے یہ کہتے ہوئے مریم کے ہاتھ سے فائل کھینچ لی، جیسے وہ کوئی نوکرانی ہو جسے بس دوڑ دھوپ کے لیے رکھا گیا ہو۔ سفید ٹیوب لائٹ کے نیچے رجسٹریشن بلاک کی لمبی بینچ پر پہلے ہی تین لوگ کسے بیٹھے تھے؛ ایک بچے کی روہانسی آواز، ایک بوڑھے کے کھانستے ہوئے سینے کی گھرگھراہٹ، اور شیشے والی کھڑکی کے پیچھے کلرک کی بے صبر انگلی مسلسل ٹوکن بورڈ پر پڑ رہی تھی۔ مریم نے کچھ نہیں کہا۔ اس کی انگلیوں میں آدھی مڑی رسید دبی ہوئی تھی، کناروں سے نرم پڑی ہوئی، کئی بار کھولی بند کی جا چکی۔ دوسرے ہاتھ میں بس کارڈ کا گھسا ہوا کنارہ چبھ رہا تھا۔ صبح سے وہی لیب، فارمیسی، ایڈمٹ ڈیسک اور بلنگ کے چکر لگا رہی تھی۔ پھر بھی بینچ اس کے حصے میں آئی، اور بولنے کا حق فریحہ کے حصے میں۔

اشفاق صاحب کو وہیل چیئر پر ذرا دور بٹھایا گیا تھا۔ گردن ایک طرف ڈھلکی ہوئی، سانس ذرا تیز۔ حارث، جو گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والے رشتے کی اس حد میں کہیں موجود تھا مگر کبھی سامنے آ کر نام نہیں لیتا تھا، وہیل چیئر کے ہینڈل کے پاس کھڑا بس اتنا کر رہا تھا کہ لوگوں کے دیکھنے پر سنجیدہ نظر آئے۔ فریحہ باجی شال ٹھیک کر کے کھڑکی پر جھکی اور خاص بلند آواز میں بولی، “یہ ہمارے بڑے ہیں۔ جلدی کریں۔ پرائیویٹ روم چاہیے۔ پیسے کا مسئلہ نہیں ہے۔”

کلرک نے فائل کھولی، اندر کے کاغذ الٹے، پھر بھنویں سکیڑ لیں۔ “ڈپازٹ کم ہے۔ اور شناختی ریکارڈ میں ساتھ والی ہنگامی رابطہ نمبر میچ نہیں کر رہا۔ جب تک درست اندراج نہ ہو، داخلہ آگے نہیں بڑھے گا۔ اگلا۔”

“کیا مطلب اگلا؟” فریحہ باجی کی آواز اور اوپر چڑھی۔ “آپ کو بتایا نا، میں بہو ہوں۔”

“بہو ہونا الگ بات ہے، میڈم۔ جس نمبر سے کیس کھلا، وہی تصدیق کرے گا یا مریض کے پہلے درج نگہداشت کنندہ کا دستخط ہوگا۔”

فریحہ نے پلٹ کر ایسے دیکھا جیسے خرابی بھی مریم نے پیدا کی ہو۔ “دیکھا؟ میں صبح سے کہہ رہی تھی ٹھیک سے کام کرو۔ اب بیٹھو ادھر، میں دیکھ لوں گی۔”

مریم بینچ سے اٹھی نہیں۔ بس رسید سیدھی کر کے اپنی ہتھیلی میں پھیلائی۔ اس پر لیب کی مہر، فارمیسی کی ادائیگی، اور اشفاق صاحب کے نام کے آگے وہی موبائل نمبر تھا جس پر صبح دو بار کال آئی تھی۔ اس نے کھڑکی کی طرف بڑھنے کو قدم رکھا ہی تھا کہ فریحہ باجی نے بازو کے اشارے سے روک دیا۔ “تم ہر جگہ منہ مت ڈالو۔ ہسپتال ہے، تمہارا دفتر نہیں۔”

یہ پہلا دراڑ والا لمحہ تھا۔ ساتھ والی بینچ پر بیٹھی سر پر دوپٹہ جما کر تسبیح پھیرتی ایک بزرگ خاتون نے فریحہ کی طرف نہیں، کلرک کی طرف دیکھ کر کہا، “بیٹا، صبح فجر کے بعد جو لڑکی مریض کو ایمرجنسی سے یہاں تک لائی تھی نا، یہ وہی ہے۔ میں اسی وقت سے بیٹھی ہوں۔ ویل چیئر بھی یہی دھکیل کے لائی، خون کی بوتل کا بندوبست بھی اسی نے کیا۔”

کھڑکی کے پیچھے کلرک کی نظر پہلی بار مریم پر ٹھہری۔ فریحہ کے ہونٹ ذرا رک گئے، پھر فوراً سنبھل کر بولی، “ہاں تو گھر کے چھوٹے موٹے کام سب کرتے ہیں، اصل فیصلہ میں کر رہی ہوں۔”

“فیصلہ بعد میں کر لینا،” کلرک نے خشک لہجے میں کہا، “فی الحال جس نمبر سے کیس کھلا وہ چاہیے۔ یا جس نے ڈپازٹ جمع کرایا، وہ سامنے آئے۔”

مریم نے آہستہ سے رسید شیشے کے نیچے سرکائی۔ “پہلا ڈپازٹ میں نے جمع کرایا تھا۔ باقی رقم موبائل والٹ سے بھیجی گئی، یہ حوالہ نمبر پیچھے لکھا ہے۔ صبح والا رابطہ نمبر میرا ہے۔”

فریحہ باجی یکدم تیز ہوئی۔ “تم نے اپنے آپ کو کیا سمجھ رکھا ہے؟ نام کس کا لگے گا، دستخط کون کرے گا، یہ بڑوں کے فیصلے ہوتے ہیں۔”

“بڑوں کا وقت بھی لگ رہا ہے،” مریم نے سیدھی نظر سے کہا، “اور سانس ان کی چل رہی ہے، آپ کی آواز نہیں۔”

وہ جملہ زور سے نہیں بولا گیا تھا، مگر قریب کھڑے دو آدمیوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ حارث نے پہلی بار ہلکا سا قدم بدلا، جیسے زمین اچانک نرم ہو گئی ہو۔

کلرک نے کمپیوٹر پر کچھ دیکھا۔ “ایک اور مسئلہ ہے۔ کمرہ روکنے کی درخواست گئی تھی مگر نگہداشت کنندہ کا نام خالی چھوڑا گیا۔ اس لیے بیڈ دوسرے مریض کو آفر ہونے والا ہے۔ ابھی نام بھروائیں، نہیں تو انتظار کرنا پڑے گا۔”

فریحہ نے جلدی سے کہا، “میرا نام لکھ دیں۔ میں بہو ہوں، میں ہی دیکھ رہی ہوں۔”

وہیل چیئر کے پیچھے کھڑا وارڈ بوائے، جو صبح ایمرجنسی میں اشفاق صاحب کو سٹریچر سے منتقل کرا چکا تھا، اچانک بولا، “میڈم، دیکھ تو یہ لڑکی رہی ہے۔ آپ تو دو بار کہہ کے گئی تھیں کہ ‘میرا بھائی آ رہا ہے، وہ پیسے دے گا’۔ تب تک مریض باہر پڑا رہا۔ انجکشن کا پیسہ بھی اسی نے دیا تھا، میں نے خود کیشیئر پر دیکھا۔”

فریحہ کا چہرہ یوں کسا جیسے کسی نے مجمعے میں اس کی شال کھینچ لی ہو۔ “تم اپنے کام سے کام رکھو۔”

وارڈ بوائے نے کندھا جھٹکا۔ “میرا کام مریض اٹھانا ہے، اور دیر آپ کی وجہ سے ہوئی تھی۔”

دوسری گواہی نے کمرے کی پڑھت پلٹ دی۔ اب لوگ مریم کو ایسے نہیں دیکھ رہے تھے جیسے وہ خاندان کے پیچھے بھاگتی کوئی کم حیثیت لڑکی ہو؛ اب وہ وہی شخص تھی جس کے نہ بولنے سے کام رکا ہوا تھا۔ فریحہ باجی نے فوراً نرم لہجہ اوڑھا، جیسے ابھی تک سب غلط فہمی تھی۔ “اچھا مریم، تم برا مان گئی ہو۔ آؤ، ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ نام میرا ہی رہنے دو، تم ویسے بھی گھر کی ہو۔ بعد میں سب طے کر لیں گے۔”

یہی وہ واپسی کی کوشش تھی جس میں اس کی ساری ادھار کی اتھارٹی لٹک رہی تھی۔ مریم نے ہاتھ آگے بڑھایا۔ فریحہ نے سمجھا شاید فائل واپس مانگ رہی ہے۔ مگر مریم نے اس کے ہاتھ میں وہ چھوٹی چابی رکھ دی جو اشفاق صاحب کے فلیٹ کی اضافی چابی تھی، کل رات سے فریحہ کے پرس میں تھی اور صبح ضرورت پڑنے پر بھی اس نے وقت پر نہ دی تھی۔ “یہ بھی رکھ لیجیے۔ دروازے کی چابی آپ کے پاس رہے۔ کھڑکی پر نگہداشت میری رہے گی۔”

چابی کی ٹھنڈی دھات فریحہ کی ہتھیلی میں پڑتے ہی اس کا ہاتھ نیچے گر سا گیا۔ حارث نے پلکیں جھپکیں۔ کلرک نے شیشہ کھٹکھٹایا۔ “جلدی۔ نام بھریں۔ مریض انتظار میں ہے۔”

مریم آگے بڑھی۔ بینچ سے کھڑکی تک صرف چند قدم تھے، مگر سب کی نظریں اس راستے کو لمبا کر رہی تھیں۔ لفٹ کے سامنے والے دھندلے سٹیل پینل پر انگلیوں کے پرانے نشان تھے؛ اس میں اس کا عکس ٹوٹا ہوا سا پڑا، مگر قدم سیدھا تھا۔ اس نے فائل کھولی، فارم سیدھا کیا، اور صاف آواز میں کہا، “نگہداشت کنندہ: مریم صدیقی۔ ہنگامی رابطہ: میرا نمبر۔ دستخط میں کروں گی۔ اشفاق صاحب کے ساتھ ایک وقت میں اندر صرف حارث جائے گا، جب میں بلنگ اور دوائی مکمل کر لوں۔ باقی سب انتظار کریں گے۔”

فریحہ باجی نے فوراً درمیان میں آ کر ہنسنے کی ناکام کوشش کی۔ “ارے، ایسی کیا سختی؟ ہم سب اپنے ہی ہیں۔ تم جذباتی ہو رہی ہو۔ نام مشترک کر دو۔”

“نہیں،” مریم نے کلرک کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا، “مشترک نام پر صبح سے کام رکا ہوا ہے۔ ایک نام چلے گا۔ میرا۔”

کلرک نے قلم اس کی طرف بڑھایا، فریحہ کی طرف نہیں۔ یہ حرکت چھوٹی تھی، مگر کمرے میں سب نے دیکھی۔ مریم نے دستخط کیے۔ کلرک نے اندراج کر کے ٹوکن پر نئی پرچی نکالی اور مائیک کے بغیر بلند آواز میں پکارا، “اشفاق صاحب۔ نگہداشت کنندہ مریم صدیقی۔ کمرہ نمبر سات، ادائیگی لائن ترجیحی۔”

پکار ہوا میں نہیں گئی؛ سیدھی فریحہ کے چہرے پر لگی۔ دو منٹ پہلے جو عورت ہر جملے میں “میں بہو ہوں” ڈال رہی تھی، وہ اب کھڑکی کے کنارے سے ذرا پیچھے سرک گئی۔ وہ پھر بھی ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھی۔ “حارث، تم کچھ بولو۔ یہ کیا طریقہ ہے؟ باہر والے کیا کہیں گے؟”

حارث کا گلا جیسے اچانک خشک ہو گیا۔ اس نے ایک لمحہ مریم کو دیکھا، پھر اپنے باپ کی وہیل چیئر کو۔ “جو صبح سے کر رہی ہے، وہی اب بھی کرے گی۔”

یہ جملہ مریم کے حق میں محبت کا اعلان نہیں تھا؛ بس اقتدار کے مرکز کی دیر سے مانی گئی سمت تھی۔ اسی لیے زیادہ وزنی لگا۔ فریحہ نے اس کی طرف دیکھا، پھر کھڑکی، پھر بینچوں پر بیٹھے ان لوگوں کی طرف جن کے سامنے اس نے صبح سے اپنی آواز کا قد بڑھا رکھا تھا۔ اب وہی آواز پھٹ کر باریک ہو گئی۔ “مریم، کم از کم مجھے ساتھ رہنے دو۔ لوگ باتیں بنائیں گے۔”

“باتیں تب بھی بن رہی تھیں جب آپ مجھے بینچ پر بٹھا رہی تھیں۔” مریم نے نئی پرچی، رسیدیں اور فائل ایک ساتھ سمیٹیں۔ “اب ترتیب سن لیں۔ بلنگ میں میں جاؤں گی۔ دوائی کی خریداری میں حارث میرے ساتھ آئے گا۔ آپ امی جان کے پاس بیٹھیں اور کسی کاغذ کو ہاتھ نہ لگائیں۔”

یہ حکم تھا، گزارش نہیں۔ اور اس کا ثبوت فوراً سامنے آ گیا۔ کھڑکی کے برابر لگی چھوٹی سکرین پر اشفاق صاحب کا نمبر جھلما کر آیا، نیچے نگہداشت کنندہ کے خانے میں مریم صدیقی روشن ہوا۔ وارڈ بوائے نے وہیل چیئر کا رخ بدل دیا، مگر سوالیہ نظر فریحہ کی طرف نہیں، مریم کی طرف اٹھائی۔ “سات نمبر؟”

“سات نمبر،” مریم نے کہا، “اور پہلے آکسیجن چیک کروا دیں۔”

وہیل چیئر چل پڑی۔ فریحہ نے آخری بار اپنا بچا ہوا رعب اکٹھا کرنے کی کوشش کی۔ “میں بہرحال بڑے گھر کی بہو ہوں، میرا نام مٹایا نہیں جا سکتا۔”

مریم نے مڑے ہوئے فارم کا کاربن کاپی صفحہ اس کے سامنے کھولا، جہاں تازہ سیاہی ابھی ہلکی گیلی تھی۔ “نام نہیں مٹایا۔ جگہ درست کی ہے۔”

رجسٹریشن بلاک کے آخر میں نوٹس والی دیوار تھی جہاں تازہ داخل مریضوں کے کمرہ نمبروں کے ساتھ چھوٹا سا نام بورڈ لگتا تھا۔ مریم خود چل کر وہاں گئی، ہاتھ بڑھا کر پن کے نیچے پھنسے سفید کارڈ کو سیدھا کیا، اور اشفاق صاحب کے نام کے نیچے لکھا ہوا “نگہداشت: مریم صدیقی” برابر کر دیا۔ پیچھے سے آوازیں اس کے پیچھے آئی جا رہی تھیں، مگر دیوار پر سیاہ حروف اپنی جگہ ساکت تھے: اشفاق صاحب — کمرہ ۷ — نگہداشت: مریم صدیقی۔