پورا منظر اسی پر پلٹ پڑا
صائمہ نے ابھی پہلے ٹرالی کے پہیے کو جوتے کی نوک سے سیدھا کیا ہی تھا کہ حماد صاحب نے اس کے ہاتھ میں موڑا ہوا ریلیز پرچہ ٹھونس دیا۔ پرچے پر سرخ مہر تھی، اوپر اس کا نام، نیچے وقت، اور ساتھ ہی لوڈنگ بے کے دروازے کے پاس لگے کیمرے کی سرخ بتی جل رہی تھی۔ “یہ آخری ڈراپ تمہارے ذمے۔ اگر مال کم نکلا تو ہینڈ اوور تمہارے نام پر بند ہوگا۔” ان کی آواز اتنی اونچی تھی کہ receiving lane کے لڑکے بھی سن لیں۔ صائمہ کی انگلیوں میں بس کارڈ کا گھسا ہوا کنارہ چبھ رہا تھا، اور اس کے لنچ باکس میں سالن ٹھنڈا ہو کر تیل چھوڑ چکا تھا۔ مہینے کا کرایہ، خالہ نسرین کی دوائی، اور عثمان کے گھر والوں کے سامنے اپنی عزت—سب ایک ہی مہر کے نیچے دبا دیے گئے تھے۔
وہ بولی نہیں۔ پرچہ کھول کر دیکھا۔ اصل حساب تین پیلیٹوں کا تھا، مگر ریلیز دو پر بند کی گئی تھی اور کمی کا خانہ خالی چھوڑا گیا تھا، جیسے بعد میں کسی کا نام ڈالنا ہو۔ حماد صاحب نے جان بوجھ کر اپنی قلم کی نوک اس خالی خانے پر رکھ کر کہا، “دستخط کرو۔ تم تو کہتی تھیں میں سب سنبھال لیتی ہوں۔” پاس کھڑا نوید، جو آج تک اس کا معاون رہتا تھا، نظریں چرا کر دوسری طرف ہو گیا؛ اس کی جگہ ایک نیا لڑکا، فہد، دوسری ٹرالی پکڑے کھڑا تھا۔ یہی پہلا دھکا تھا—عملے کی تبدیلی بھی خاموشی سے ہو چکی تھی۔
صائمہ نے دستخط کیے، مگر نیچے وقت کے ساتھ ایک چھوٹا سا نشان بھی ڈال دیا جو وہ اسٹاک شیٹوں پر صرف تب لگاتی تھی جب گنتی خود نہ کی ہو۔ حماد صاحب نے پرچہ فوراً کھینچ لیا، شاید وہ نشان دیکھے بغیر۔ پھر انہوں نے اگلا وار زیادہ نیچے مارا۔ “اور ہاں، آج شام چھ بجے میری بہن اور خالہ نسرین آ رہی ہیں۔ عثمان بھی ہوگا۔ تم یہ ڈراپ مکمل کرکے سیدھی اوپر دفتر میں آنا۔ سب کے سامنے اگر تم نے کام ادھورا چھوڑا، تو میں یہی کہوں گا کہ لڑکی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتی۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والی باتیں پھر عزت سے نہیں چلتیं، سمجھیں؟”
یہ جملہ اس کے چہرے پر نہیں، اس کی جگہ پر مارا گیا تھا۔ لوڈنگ بے کے شور میں بھی ایک دو گردنیں اس طرف اٹھیں۔ عثمان سامنے نہیں تھا، مگر اس کا نام کافی تھا۔ حماد صاحب کو معلوم تھا، نسبت پوری نہ سہی، خبر سب کو ہے۔ صائمہ نے صرف اتنا کیا کہ پرچے کی نقل والی کاربن سلپ اپنے جیب والے فائل کور میں سرکا لی۔ “دروازہ کس بے سے کھلے گا؟” اس نے سیدھی بات کی۔
حماد صاحب نے سمجھا وہ دب گئی ہے۔ “بے تین۔ پہلے اندر کے دو پیلیٹ نکالو، پھر باہر والے راستے سے تیسرا اٹھاؤ۔ جلدی کرو۔ انسپکٹر آ رہے ہیں۔” یہ نام سنتے ہی سپروائزرز کی چال بدل جاتی تھی۔ حماد صاحب نے ریلیز کلپ بورڈ پر چڑھائی اور اونچی آواز میں کہا، “آج یہ ہینڈ اوور صائمہ کرے گی۔ ریکارڈ میں یہی جائے گا۔” ان کا مطلب صاف تھا: غلطی بھی اسی کے نام جائے گی، کامیابی ہوئی تو وہ اوپر سے اپنی بنا لیں گے۔
بے تین کے اندر بلب کی مسلسل بھنبھناہٹ تھی، گرم ہوا میں کارٹن، پلاسٹک اور ڈیزل کی ملی بو تیر رہی تھی۔ صائمہ نے دروازہ سلائیڈ کیا تو فورک ٹرالی کی دھات کانپ کر بجی۔ سامنے دو پیلیٹ مقررہ نشان پر تھے، مگر تیسرا غائب۔ اس کی جگہ ہلکی، بغیر سیل کی کارٹنوں والی ایک متبادل ٹرالی کھڑی تھی، جیسے جلدی میں کسی نے بدل دی ہو۔ فہد نے بے خبری جتاتے ہوئے کہا، “مجھے یہی ملا تھا باجی، اوپر سے یہی حکم آیا تھا۔” یہی planted swap تھا؛ اگر وہ اسے باہر لے جاتی، کمی اسی کے نام چپک جاتی۔
صائمہ نے ہاتھ نہیں لگایا۔ اس نے ایک نظر اوپر لگے روٹ ٹیگ پر ڈالی—اس پر بے تین کا نہیں، receiving lane دو کا کوڈ تھا، اور وقت حماد صاحب کے دستخط کے بعد کا تھا۔ وہ مڑی اور قریب کھڑے بوڑھے گیٹ کلرک یعقوب کو آواز دی، “چچا، اس ٹرالی کا پہیہ روکیں۔ کوڈ ادھر کا نہیں ہے۔” یعقوب چچا وہ آدمی تھا جس کی دلچسپی صرف ایک چیز میں ہوتی تھی: غلط راستے کا نقصان اس کی تنخواہ سے نہ کٹے۔ انہوں نے جھک کر ٹیگ دیکھا، پھر بغیر کسی بحث کے پچھلا اسٹاپر نیچے گرا دیا۔ پہیہ چٹخ سے رک گیا۔ یہ پہلا چھوٹا بدلہ تھا—حماد صاحب کا لگایا ہوا بہاؤ ایک لمحے کو اٹک گیا۔
حماد صاحب فوراً اندر آئے۔ “کس نے روکا؟ چھوڑو اسے، وقت ضائع مت کرو۔” انہوں نے فہد کو اشارہ کیا کہ ٹرالی دھکیل دے۔ مگر یعقوب چچا نے ہاتھ ہٹا لیا۔ “کوڈ غلط ہے۔ میں غلط بے کا دروازہ نہیں کھولوں گا۔ بعد میں کٹوتی مجھ پر آئے گی۔” ایک گودام کلرک کا یہ خشک سا انکار حماد صاحب کے حکم سے زیادہ وزنی پڑا، کیونکہ اب بات رنجش کی نہیں، طریقۂ کار کی تھی۔
حماد صاحب کے نتھنے پھولے، مگر وہ پیچھے نہیں ہٹے۔ “ٹھیک ہے، بے دو کا دروازہ کھولو۔ صائمہ، تم یہی ٹرالی لے کر receiving lane دو پر جاؤ۔ میں کہہ رہا ہوں۔” انہوں نے خود اپنے فون سے ڈسپیچ گروپ میں صوتی حکم بھیج دیا، تاکہ بعد میں کہہ سکیں، حکم جاری تھا، عمل نہ کرنے والی صائمہ تھی۔ اسی جلدبازی میں انہوں نے وہی خالی خانہ بھرنے کے لیے کلپ بورڈ کھولا اور “Substitute release approved by Hammad” لکھ کر اپنے دستخط کر دیے۔
صائمہ نے اسی لمحے دیکھا کہ اصل تیسرا پیلیٹ اندر کے سائیڈ دروازے کے پیچھے اٹکا ہوا ہے۔ صبح کی مرمت میں ایک خالی پنجرہ نما کارٹ اس کے آگے چھوڑ دی گئی تھی۔ اگر بے دو کا راستہ کھلتا تو substitute ٹرالی نکل جاتی، اور اصل پیلیٹ پیچھے رہ جاتا؛ پھر کمی کا الزام سیدھا اس کے نام۔ اس نے پنجرہ کارٹ کو دونوں ہاتھوں سے جھٹکا دیا۔ پہیہ پہلے اڑا، پھر چرچرا کر سیدھا ہوا، اور اصل پیلیٹ کا نیلا سیل اندر سے جھلک گیا۔ فہد نے ایک قدم پیچھے ہٹا کر حماد صاحب کی طرف دیکھا؛ اب چھپانے والی چیز آنکھوں کے سامنے تھی۔
اسی وقت انسپکٹر رضوان پچھلی راہداری سے داخل ہوئے، ساتھ دو آدمی اور۔ ان کے جوتوں کی نوکوں پر دھول نہیں تھی؛ صاف پتہ چلتا تھا وہ دفتر سے سیدھے نیچے اترے ہیں۔ حماد صاحب نے فوراً رخ بدلا۔ “صائمہ نے ریلیز روک رکھی ہے۔ ہم لوگ دیر میں ہیں۔” مگر رضوان نے پہلے نیلا سیل دیکھا، پھر substitute ٹرالی کا غلط کوڈ، پھر کلپ بورڈ پر تازہ دستخط۔ انہوں نے کچھ کہنے کے بجائے یعقوب چچا سے پوچھا، “اصل روٹ کیا تھا؟” یعقوب نے انگلی سے اندر والا پیلیٹ دکھا دیا۔ رضوان نے سر ہلایا اور مختصر حکم دیا، “اصل پیلیٹ پہلے نکلے گا۔ غلط کوڈ والی ٹرالی روکی رہے گی۔”
ایک لمحے میں کمرے کا جھکاؤ بدل گیا۔ فہد نے حماد صاحب کی طرف دیکھنے کے بجائے صائمہ کے اشارے پر ہینڈل پکڑا۔ نوید، جو ابھی تک غائب تھا، دروازے پر آ کر اصل پیلیٹ کے ساتھ لگ گیا۔ حماد صاحب نے اونچی آواز میں کہا، “میں سپروائزر ہوں، پہلے میری بات سنی جائے گی۔” مگر رضوان نے ان کی طرف دیکھے بغیر کہا، “جس کے دستخط غلط روٹ پر ہیں، ابھی وہ کچھ نہیں کھلوائے گا۔” حکم نرم تھا، اثر سخت۔ حماد صاحب کی ادھار لی ہوئی طاقت کاغذ کے کنارے سے پھسلنے لگی۔
اصل پیلیٹ جب لوڈنگ بے سے نکل کر receiving lane کی طرف موڑا گیا تو substitute ٹرالی وہیں قید رہ گئی۔ حماد صاحب نے شکست ماننے کے بجائے آخری جال پھینکا۔ وہ دوڑتے ہوئے آگے گئے اور receiving lane کے dropoff turn پر کھڑے ہو کر بولے، “روک دو! پہلے substitute بھی ساتھ جائے گا۔ دونوں ایک ہی ڈراپ میں بند ہوں گے، تاکہ کمی اسی وقت ثابت ہو۔ صائمہ، تم میرے حکم سے اسے آزاد کرو۔ ابھی۔” اب وہ زیادہ اندر آ چکے تھے، اتنا کہ اگر یہ چال الٹی پڑتی تو بچنے کی جگہ نہ رہتی۔
یہی وہ ایک قدم تھا جو زیادہ تھا۔
صائمہ نے ان کی آنکھوں میں نہیں دیکھا۔ اس نے صرف اپنی جیب سے کاربن سلپ نکالی، پھر بے دو کے روٹ لاک کا زرد ٹوکن یعقوب چچا کے ہاتھ سے لے کر کلپ بورڈ کے نیچے لگا دیا۔ یہ وہی لاک تھا جو substitute ٹرالی کے غلط راستے کو تب تک کھولتا نہیں تھا جب تک دستخط کرنے والا خود dropoff turn پر موجود نہ ہو۔ حماد صاحب نے شاید عادت سے، یا غصے میں، خود ہی ریلیز چین کھینچ دی کہ ٹرالی کھل جائے اور صائمہ پھنس جائے۔ جیسے ہی چین کھنچی، اوپر لگے خودکار بولارڈ نے راستہ بدلنے کے بجائے انہی کے نمبر والے روٹ پر رکاوٹ بند کر دی۔ غلط کوڈ والی ٹرالی جھٹکے سے ان کی طرف لڑھکی، وہ اسے بچانے کو مڑے، اور dropoff turn کے دونوں طرف لگی زنجیر تیز آواز سے کھنچ کر ان کے راستے میں آ گئی۔
اصل پیلیٹ اس دوران صائمہ اور نوید کے ہاتھ سے سیدھا صحیح لین میں اتر گیا۔ رضوان نے ہاتھ اٹھا کر صرف ایک اشارہ کیا، اور receiving clerk نے اندراج صائمہ کے نام کے بجائے “اصل روٹ مکمل” پر بند کر دیا۔ حماد صاحب کے ہاتھ میں ابھی بھی وہی کلپ بورڈ تھا جس پر substitute release کے دستخط ان کے اپنے تھے، مگر اب وہ اس کے ساتھ غلط لین کے اندر پھنسے کھڑے تھے۔ فہد نے ان کے کہنے پر ہینڈل پکڑنے کے بجائے ہاتھ پیچھے باندھ لیے۔ یعقوب چچا نے دوسری طرف کا دروازہ بند کر دیا۔ حکم اب بھی حماد صاحب کے منہ سے نکل رہے تھے، مگر ان پر کوئی حرکت نہیں ہو رہی تھی۔
اوپر دفتر کی شیشے والی راہداری میں خالہ نسرین کا دوپٹہ ایک بار دکھا، پھر عثمان کا کندھا۔ شاید وہ لوگ وہی تھے جنہیں حماد صاحب نے شام کی عزت کے نام پر نیچے تک کھینچ لانا چاہا تھا۔ صائمہ نے ایک پل کے لیے سر اٹھایا، پھر نہیں اٹھایا۔ اس نے اصل پیلیٹ کی آخری مہر receiving clerk کے سامنے رکھی، اپنی انگلی سے انگوٹھے کے پاس لگا سیاہ گرد صاف کیا، اور حماد صاحب کی طرف بڑھی ہوئی چابی واپس لینے کے بجائے وہی ہک سے اتار کر یعقوب چچا کے تختے پر رکھ دی۔ کنجی اب اس کے اختیار کی نشانی نہیں، اس سے الگ ہونے کی حد تھی۔
حماد صاحب نے پہلی بار اس کا نام ایسی آواز میں لیا جس میں حکم کم اور گھبراہٹ زیادہ تھی۔ “صائمہ، تم ایک منٹ—” وہ رکے، کیونکہ سامنے کھڑے رضوان نے ان کی بات نہیں، روٹ کی بندش دیکھی۔ صائمہ نے کچھ نہیں کہا۔ وہ dropoff turn کے باہر قدم رکھ کر ایک طرف ہٹ گئی۔
اس کے ہٹتے ہی بولارڈ کے پاس لگی زنجیر پوری تن کر جھٹکے سے بند ہوئی، اور receiving lane کے موڑ پر حماد صاحب کی راہ اسی کے اندر قفل ہو گئی۔