فاصلہ ہی منظر بن گیا
“یہ لسٹ حمزہ کے نام سے بھیج دو، مریم کو بس کچن دیکھنا ہے۔”
عاصم بھائی نے رجسٹر کا صفحہ اس کے سامنے سے کھینچ کر حمزہ کی طرف سرکا دیا۔ مریم کے ہاتھ میں آدھی تہہ شدہ رسید تھی، جسے وہ سارا دن کھولتی موڑتی رہی تھی؛ مرغی والے کا بقایا، گیس کا بل، اور اپنی ماں کی دوا ایک ہی کاغذ میں چبھ رہے تھے۔ آفس کے تنگ دروازے پر وہ ایک طرف ہٹنے لگی تو فائز اندر آیا۔ کندھے سے دروازہ دھکیلتے ہوئے وہ اتنا قریب رکا کہ مریم کی لینیارڈ اس کی آستین سے چھو کر لوٹ آئی۔ کوئی لفظ نہیں، بس اس کی نظر پہلے رجسٹر پر گئی، پھر مریم کے ہاتھ میں دبی رسید پر، پھر عاصم بھائی کے ہاتھ پر جو صفحہ حمزہ کی طرف دھکیل رہا تھا۔
“بھائی، کچن کی خریداری کون کرے گا؟” فائز نے سیدھا حمزہ سے نہیں، رجسٹر سے پوچھا، جیسے غلطی کاغذ میں لکھی ہو۔
عاصم بھائی ہنسے۔ “جو سامنے آئے گا، وہ کرے گا۔ تم گاڑی نکلو، باقی ہم دیکھ لیں گے۔”
مریم جانتی تھی “ہم” کا مطلب اکثر وہی ہوتی ہے، صرف نام کسی اور کا لگتا ہے۔ تین سال سے یہی تھا۔ کلائنٹ کی پسند وہ یاد رکھے، حساب وہ باندھے، شکایت وہ سنے، اور تعریف کبھی نہ ملے۔ اس نے رسید مٹھی میں دبا کر راہداری کا راستہ چھوڑنا چاہا، مگر فائز نے باہر نکلنے کے بجائے ایک لمحہ رُک کر دروازے کی چوکھٹ پکڑ لی۔ تنگ جگہ اور تنگ ہو گئی۔ مریم کو اس کے بازو کے نیچے سے نکلنا پڑتا، یا اسے پہلے ہٹنا پڑتا۔ وہ نہ ہٹا، نہ چھوا۔ صرف اتنا کہ اس کے رکنے سے سب کو نظر آ گیا کہ راستہ کس کے لیے بند ہے اور کس کے لیے کھولا جا سکتا ہے۔ پھر اس نے ایک طرف ہو کر کہا، “خریداری کی فہرست مریم بنائے گی۔ غلطی برداشت نہیں ہوگی۔”
یہ حکم نہیں تھا، مگر حکم سے زیادہ صاف تھا۔ عاصم بھائی کے ماتھے پر شکن آئی، پھر انہوں نے رجسٹر واپس اس کی طرف دھکیل دیا۔ پہلا انعام اتنا ہی تھا: کاغذ دوبارہ اس کے ہاتھ میں آ گیا۔
کراچی کی دوپہر آفس کے شیشے میں دھوئیں کی طرح اٹکی تھی۔ نیچے سڑک پر بائیکیں گھس رہی تھیں، اوپر لفٹ کے آئینے پر پرانی انگلیوں کے دھبے جमे تھے۔ مریم نے خریداری کی لسٹ بنائی، پیمانے لکھے، نرخ کم کروائے، ڈرائیور کو راستہ سمجھایا۔ ہر بار حمزہ کو آگے کر دیا جاتا، ہر بار فائز کسی نہ کسی بہانے سے موڑ درست کر دیتا۔ ایک بار اس نے خاموشی سے اسٹور کی چابی میز کے دائیں کنارے سے اٹھا کر مریم کے سامنے رکھ دی؛ عاصم بھائی فون پر مصروف تھے، مگر ان کی بہن خالہ ناہید سامنے بیٹھی سب دیکھ رہی تھیں۔ دوسری بار اس نے پانی کی پیٹی خود اٹھائی، حالانکہ یہ کام لڑکوں کو کرنا تھا، اور مریم کے ہاتھ سے فائل لے کر صرف اتنا کہا، “رسیدیں گیلی نہ ہوں۔”
یہ محبت کا کھیل نہیں تھا۔ یہ چھوٹی چھوٹی بے ادبیوں کے خلاف چھوٹی چھوٹی بدتمیزیاں تھیں، اور ہر بدتمیزی کی قیمت تھی۔ خالہ ناہید کی نظر فوراً اٹھتی، پھر نیچے گر جاتی، جیسے وہ نام نہ لینے والی بات کو دیوار کے ساتھ دبا رہی ہوں۔
شام کو ایک شادی کے مینو کی چکھائی تھی۔ گھر کے اوپر والے حصے میں ڈائننگ ٹیبل کھسکا کر چاندی رنگ کے برتن سجائے گئے، نیچے آفس میں حساب چل رہا تھا۔ مریم کچن اور میز کے بیچ دوڑتی رہی؛ پلاؤ کے چاول الگ، رائتے میں نمک کم، مٹھائی دیر سے نکالنی ہے۔ فائز مہمانوں کے بیچ تھا، مگر اس کی نگاہ وہی چیزیں پکڑتی جنہیں باقی لوگ کام سمجھ کر نظرانداز کرتے تھے: مریم کی کلائی پر بھاپ کا سرخ داغ، سیڑھی چڑھتے وقت اس کا سانس، اور یہ کہ وہ خود ابھی تک کچھ کھا نہیں سکی۔
“تم بیٹھ جاؤ دو منٹ کے لیے،” اس نے ٹرے لیتے ہوئے کہا۔
“لوگ دیکھ رہے ہیں،” مریم نے اتنی دھیمی آواز میں کہا کہ لفظ صرف ٹرے کی چمک میں پھسلے۔
“لوگ ہر حال میں دیکھتے ہیں،” فائز نے جواب نہ دیا، صرف ٹرے اپنے ہاتھ میں لے لی۔ یہی مسئلہ تھا۔ وہ ہمیشہ ایسی رعایت دیتا تھا جو بحث بن سکتی تھی۔
رات میں سب نیچے اتر گئے تو مریم اسٹور روم میں بچا سامان گننے گئی۔ فریزر کی مدھم گونج، مصالحوں کی بو، تنگ شیلفوں کے بیچ ایک آدمی کے گزرنے جتنی جگہ۔ وہ اوپر والے خانے سے زعفران کا ڈبہ کھینچ رہی تھی کہ پاؤں پھسلا۔ ڈبہ گرنے سے پہلے ایک ہاتھ اس کے ہاتھ کے اوپر آ رکا۔ گرم نہیں، بس موجود۔ اسی لمحے دونوں رک گئے۔ ڈبہ ان کی انگلیوں کے درمیان پھنسا تھا، اس کی کلائی فائز کے انگوٹھے کی سیدھ میں، اور فاصلے میں صرف وہ فیصلہ کھڑا تھا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔
فائز کا ہاتھ پہلے ہٹا۔ جیسے اسے جلا ہو۔ اس نے فوراً شیلف کے کنارے کو پکڑ لیا، اپنا وزن پیچھے لے گیا، اور قدرے سخت آواز میں بولا، “نیچے والا اسٹول کیوں نہیں لیا؟”
مریم کے اندر جو لرزش ڈبے کے ساتھ گرنے والی تھی، وہ اور خطرناک ہو گئی۔ اگر وہ پکڑ لیتا، شاید معاملہ آسان ہو جاتا۔ اس کا خود کو اسی لمحے روک لینا کہیں زیادہ جلتا ہوا تھا۔
اس نے ڈبہ سیدھا رکھا اور کہا، “کیونکہ ہر چیز کے لیے کسی کو آواز دینا اچھی عادت نہیں بنتی۔”
فائز نے اس کی طرف دیکھا، سیدھا، بے رحم، اور پھر دروازے کے باہر ہو گیا۔ راستہ خالی تھا مگر ہوا میں وہی بندش رہ گئی جو چھونے سے زیادہ یاد رہتی ہے۔
اگلے دو دن کام تیز ہوا۔ جمعے کی ایک بڑی مہندی تھی، اتوار کو نکاح کی بیٹھک۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والی حد تک سب کچھ پہلے ہی باریک تھا؛ فائز اور مریم کے بیچ کچھ نام نہیں تھا، مگر نظر رکھنے والوں کو نام کی ضرورت بھی کہاں ہوتی ہے۔ خالہ ناہید نے جمعے کی صبح ناشتے کی میز پر روٹی توڑتے ہوئے یوں کہا جیسے نمک مانگ رہی ہوں، “مریم بیٹی، تمہارے لیے ایک اچھا رشتہ آیا ہے۔ لڑکا بینک میں ہے۔ عزت والا گھر۔ کام کا ماحول بھی پھر ڈھنگ سے رکھنا پڑتا ہے۔”
عاصم بھائی نے چائے رکھتے ہوئے بات کو اور ننگا کر دیا۔ “ہاں، اور آفس میں تھوڑا فاصلہ اچھا لگتا ہے۔ لوگ باتیں بناتے ہیں۔ خاص طور پر جب کسی کو اپنی حد یاد نہ رہے۔”
کسی کا نام نہیں لیا گیا، مگر حمزہ نے سر اٹھا کر پہلے مریم کو دیکھا، پھر فائز کو۔ یہی کافی تھا۔ غلط کہانی کو زبان مل گئی۔
مریم نے نوالہ نیچے رکھا۔ “میں کام میں حد نہیں بھولتی۔”
“بات کام کی ہی ہو رہی ہے،” خالہ ناہید نے ہلکی مسکراہٹ سے کہا، وہی مسکراہٹ جس میں عورت کو دیوار کے ساتھ سجا دیا جاتا ہے۔ “ویسے بھی لڑکی کی عزت اس کے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے۔”
فائز نے کپ میز پر رکھا، اتنا آہستہ کہ آواز نہ ہوئی۔ یہی اس کی مشکل تھی؛ وہ پھٹتا نہیں تھا، بلکہ سخت ہو جاتا تھا۔ “مہندی کی کلائنٹ لسٹ کس کے پاس ہے؟” اس نے پوچھا۔
“حمزہ کے پاس ہوگی،” عاصم بھائی نے کہا۔
“نہیں،” فائز نے پہلی بار ان کی طرف دیکھ کر کہا، “اصل لسٹ مریم کے پاس ہے۔ گزرے ہفتے کے تین نام حمزہ سے چھوٹے تھے۔ غلطی دوبارہ نہیں ہوگی۔”
یہ دفاع نہیں تھا۔ یہ سامنے پڑے حساب کو اپنی جگہ رکھ دینا تھا۔ مگر قیمت فوراً آئی۔
خالہ ناہید نے چائے کا کپ رکھ کر صاف کہا، “فائز، تمہیں ہر بات میں اس کی طرف داری کی ضرورت نہیں۔ اور مریم، آج شام کے بعد تم اوپر والے حصے میں نہیں آؤ گی۔ مردوں کی موجودگی میں آنا جانا اچھا نہیں لگتا۔”
یعنی کام کرو، نظر نہ آؤ۔ فائدہ دو، نام نہ لو۔ مریم نے سر ہلایا۔ وہیں، سب کے سامنے، اس سے ایک قدم پیچھے دھکیل دیا گیا۔
شام کو مہندی کے آرڈرز نکلتے رہے۔ مریم نیچے رجسٹر میز پر کھڑی تھی، اوپر سے ہنسی، برتنوں کی آواز، اور رشتہ داروں کی آمدورفت اتر رہی تھی۔ اس کے پاس رسیدوں کا پلندہ تھا، لینیارڈ پسینے سے چپک رہا تھا، موبائل کی روشنی ہتھیلی میں دبی تھی کیونکہ کلائنٹ بار بار رقم پوچھ رہی تھی۔ حمزہ نے آ کر کہا، “بھابی لوگ اوپر بیٹھے ہیں، تم یہ ٹرے دے آؤ۔”
“مجھے منع کیا گیا ہے,” مریم نے خشک لہجے میں کہا۔
“اوہ ہاں,” وہ ہنس پڑا، “پھر دروازے تک دے دو، آگے کوئی اور لے جائے گا۔”
یہی ذلت ہوتی ہے، مریم نے سوچا، جب آدمی تمہارا کام بھی تم سے دروازے پر لے کر اندر کسی اور کے نام سے رکھ دے۔
اوپر والی راہداری میں روشنی کم تھی۔ ایک طرف ڈرائنگ روم کا دروازہ آدھا کھلا، اندر عورتوں کی آوازیں؛ دوسری طرف مہمان کمرہ جہاں سے مردوں کی بات چیت کا شور دب کر آ رہا تھا۔ مریم ٹرے لے کر پہنچی تو دروازے میں فائز سامنے آ گیا۔ غالباً اسے صرف ٹرے لینی تھی۔ بس اتنا عملی، اتنا محفوظ۔ اس کی آستینیں کہنی تک چڑھی تھیں، ایک کنارے پر تہہ ذرا کھل گئی تھی۔
“دو،” اس نے آہستہ کہا۔
مریم نے ٹرے آگے کی، مگر اس کے ساتھ وہ دن بھی آگے آیا جب ہر چیز اس کے ہاتھ سے لے کر کسی اور کی طرف سرکا دی گئی تھی۔ ناشتے کی میز، رجسٹر، اوپر جانے کی ممانعت، رشتہ، عزت، حد—سب ایک لکیر بن کر اسی چوکھٹ میں آ کھڑے ہوئے۔ اس نے ٹرے فائز کے ہاتھ میں دی، مگر خود دروازے کے باہر ہی ٹھہری رہی۔ ایک لمحہ بعد اسے لگا وہ حسبِ معمول پلٹ جائے گی، جیسے ہمیشہ جاتی ہے: کام دے کر غائب، نام چھوڑ کر خاموش۔
فائز نے ٹرے ایک ہاتھ سے سنبھالی، دوسرے ہاتھ سے دروازہ اور کھول دیا۔ اندر جگہ بن گئی۔ عملی دعوت۔ محفوظ فاصلہ۔ وہی معمول جس میں اسے بس کام کے لیے قبول کیا جاتا تھا۔
مریم نے پہلی بار اس معمول کو ماننے سے انکار کیا۔ وہ ایک آدھا قدم آگے بڑھی، اتنا کہ چوکھٹ کے اندر کی ہوا اس کے چہرے سے ٹکرائی، مگر پیر دہلیز پر روک دیے۔ نہ اندر، نہ پیچھے۔ اس کا اپنا فیصلہ۔ اس کا اپنا رُکنا۔ اگر فائز چاہتا تو مزید ہٹ سکتا تھا، راستہ پورا کھول سکتا تھا، یا رسمی فاصلے سے ٹرے لے کر بات ختم کر سکتا تھا۔
اس نے کچھ نہیں کیا۔ پھر بہت آہستہ ایک قدم اس کی طرف آیا۔ اتنا قریب کہ اب دروازہ، کمرہ، شور، سب پیچھے ہو گئے اور درمیان کی جگہ خود ایک منظر بن گئی۔ اس کی سانس رکی نہیں، بس چھوٹی ہو گئی۔ مریم کو پہلی بار محسوس ہوا کہ دیکھی جانا چھوئے جانے سے زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔
فائز کی نگاہ اس کے چہرے پر نہیں اٹکی؛ پہلے اس کے ہاتھ میں دبی رسید کے مڑے کنارے پر گئی، پھر لینیارڈ کے گھسے ہوئے دھاگے پر، پھر اس سرخی پر جو اب بھی کلائی کے پاس تھی۔ جیسے وہ اسے چاہنے سے پہلے اس کی محنت، قرض، تھکن اور مٹایا جانا سب ایک ساتھ دیکھ رہا ہو۔ اس نے ہاتھ اٹھایا بھی، مگر چوکھٹ کے بیچ ہی روک لیا۔ انگلیاں اس کی کلائی سے ایک سانس کے فاصلے پر ٹھہر گئیں۔ لکیر ٹوٹی نہیں۔
اندر سے کسی نے آواز دی، “فائز! ٹرے آئی؟”
مریم چاہتی تو اسی لمحے پیچھے ہٹ سکتی تھی۔ یہی مناسب تھا، یہی محفوظ۔ چاہتی تو اندر چلی جاتی، گویا اسے حق مل گیا ہو۔ اس نے دونوں نہیں کیا۔ اپنے قدم دہلیز پر رکھے رکھے، ٹھہری رہی۔ اس کی ٹھہرن میں ضد بھی تھی، قبول بھی: دیکھو، مگر نام مت دو۔ پہچانو، مگر میرے لیے جھوٹا راستہ مت بناؤ۔
فائز کے چہرے پر کوئی نرم تبدیلی نہیں آئی، صرف جبڑا ڈھیلا پڑا۔ اس نے ٹرے کو ایک طرف موڑا تاکہ اندر والے ہاتھ بڑھا کر لے لیں، مگر خود جگہ نہ بدلی۔ اب وہ اس کے بالکل سامنے تھا، پھر بھی ایک آدھا قدم دور۔ اس فاصلے میں پہلی بار ذلت نہیں تھی۔
نیچے سے خالہ ناہید کی آواز راہداری تک ابھری، “مریم کہاں رہ گئی؟”
مریم نے نظر نہیں جھکائی۔ “یہیں,” اس نے اتنا کہا، اور اسی لفظ کے ساتھ اپنے قدم دہلیز سے واپس نہ ہٹائے، نہ آگے بڑھائے۔ پھر اس نے ٹرے سے خالی ہوئے اپنے ہاتھ کو آہستگی سے اپنے دوپٹے کے کنارے پر سمیٹا، جیسے اپنی جگہ خود مقرر کر رہی ہو۔ چوکھٹ اب رکاوٹ نہیں، حد تھی—اور حد پر اس کا قبضہ تھا۔
وہی لمحہ کافی تھا۔ نہ اقرار، نہ چھوٹ۔ بس ایک دیر سے ملنے والی سچائی کہ اس گھر کے کام میں، اس آفس کے حساب میں، اس شور کے بیچ، وہ غائب چیز نہیں رہی۔
مریم نے اپنا وزن ایڑی سے پنجے پر بدلا، مگر دہلیز پار نہ کی۔ آدھے قدم کے فاصلے میں فائز کی تہہ کھلی آستین ایک بار اس کے دوپٹے کے کپڑے سے ہلکی سی لگی، پھر سیدھی ہو کر الگ رہ گئی۔