Fast Fiction

سامنے کی نشست میری نکلی

“ارے، تم ادھر نہیں، پیچھے سے جاؤ۔” دروازے کے پاس کھڑے منیجر نے مائرہ کے بازو کے آگے ہاتھ پھیلا کر اسے سیڑھیوں کے سامنے والی قطار سے ہٹا دیا۔ سرخ مخملی رسی ابھی ابھی کھینچی گئی تھی، اوپر ہال کی روشنی سیڑھیوں کے موڑ پر گر رہی تھی، اور سامنے سے صرف “اہم مہمان” جانے تھے۔ مائرہ کے گلے میں لٹکا پرانا کارڈ بار بار مڑنے سے کناروں پر سفید پڑ گیا تھا۔ اس کے ہاتھ میں مہمانوں کی نشستوں کی فائل تھی، نیچے کاؤنٹر کے کنارے پر ٹشو، چائے کے داغ والا کپ اور ٹیپ کی کترنیں بکھری پڑی تھیں۔ حارث نے ایک نظر اس پر ڈالی، پھر اپنی منگیتر عائشہ کے بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہو کر ہلکی آواز میں کہا، “اسٹاف کو سمجھاؤ، سامنے کی راہداری بند ہے۔”

لفظ “اسٹاف” اتنا آہستہ بولا گیا تھا کہ سننے کے لیے بنایا گیا ہو۔ سامنے خالہ صائمہ بیٹھی ہوئی خواتین کے جھرمٹ سے اٹھیں، مگر کچھ نہ بولیں۔ ایک دو لڑکیاں گردن موڑ کر دیکھنے لگیں۔ مائرہ نے فائل سینے سے لگائی۔ تین مہینے پہلے تک یہ منگنی اسی کے نام پر بات چیت میں تھی، گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا، پھر ایک ہسپتال کے راہداری میں ایک پرانا جھوٹ زندہ کیا گیا اور وہی رشتہ عائشہ کی طرف موڑ دیا گیا۔ اس نے کبھی ہنگامہ نہیں کیا۔ آج وہ یہاں ملازمہ کی طرح کھڑی کی جا رہی تھی، جبکہ اس تقریب کی مہمانوں کی ترتیب، اوپر والی اگلی نشستیں، سب اسی کی تیار کردہ فہرست سے چلنا تھا۔

“پیچھے سے جائیے، بہن،” منیجر نے پھر کہا، اس بار زور سے، تاکہ پاس کھڑے ویٹر بھی سن لیں۔

مائرہ نے ایک قدم پیچھے نہیں ہٹایا۔ اس نے فائل کھولی، شفاف جیب سے ایک پرنٹ نکالا اور سیدھا اس کے سامنے کر دیا۔ اوپر ہوٹل کی مہر تھی، نیچے تقریب کے میزبان کے دستخط: کامران صاحب۔ “فرنٹ روٹ صرف دولہا فریق کے نامزد افراد اور نشستی نگران کے لیے ہے۔ نشستی نگران: مائرہ کامران۔” اس نے آخری سطر انگلی سے چھو کر پڑھی۔ پھر اور قریب جا کر منیجر کے سینے کے بیج کے نیچے وہ کاغذ رکھ دیا۔ “اب اونچی آواز میں دوبارہ بتائیں، مجھے پیچھے سے کیوں جانا ہے؟”

منیجر کے چہرے پر رنگ بدلا۔ وہ کاغذ لیتے ہی سیدھا ہو گیا۔ قریب کھڑے دو ویٹر رک گئے۔ حارث نے فوراً قدم بڑھایا، ہنسنے کی ناکام کوشش کے ساتھ، “یہ تو بس انتظامی بات ہے، تم دل پر کیوں لے رہی ہو؟ فہرست تو کوئی بھی پکڑ سکتا ہے۔”

“پکڑ سکتا ہے، بدل نہیں سکتا،” مائرہ نے کہا۔ اس نے فائل سے اصل نشستی نقشہ نکالا جس پر نیلی سیاہی کا پرانا نشان تھا؛ وہی دبا ہوا قلمی نشان جو وہ ہمیشہ بائیں انگوٹھے کے پاس چھوڑ دیتی تھی۔ “یہ میرے ہاتھ سے بنا ہوا ہے، اور آپ کے والد نے کل رات خود تصدیق کی تھی۔ سامنے کی آٹھ نشستوں کی ترتیب، اوپر والوں کی چڑھائی، خاندان کے ناموں کے ساتھ۔”

اوپر سیڑھی کے موڑ پر لوگوں کا بہاؤ تھم گیا۔ منگنی کے لیے آنے والے مہمان نیچے سے اوپر دیکھ رہے تھے۔ منیجر نے فوراً راستہ کھولنے کے بجائے حارث کی طرف دیکھا، جیسے حکم ابھی بھی وہیں سے آنا ہو۔ یہی مائرہ کو چاہیے تھا۔ اس نے کاغذ واپس لیا، رسی کے خالی ہک کو خود اٹھایا، اور بغیر اجازت مانگے سیڑھی کے پہلے زینے پر قدم رکھ دیا۔

“رکیے۔” حارث ایک دم آگے آیا۔ “اوپر عائشہ کی امی جا رہی ہیں۔ پہلے وہ جائیں گی۔”

“اوپر کی پہلی قطار میں بٹھانے والا میں ہوں،” مائرہ نے کہا اور چڑھتی گئی۔

سیڑھی کا موڑ تنگ تھا، دو آدمی ایک ساتھ مشکل سے گزر سکتے تھے۔ اوپر سے پھولوں کی خوشبو اور ہیئر اسپرے کی بھاری بو نیچے آ رہی تھی۔ عائشہ کے ماموں، ایک فوٹوگرافر اور دو لڑکے ایک ساتھ اترنے لگے تو کراس فلو میں بدن پھنس گئے۔ مائرہ نے موڑ پر پہنچ کر قدم جما دیا اور فائل کو اپنے بازو کے نیچے پھنسا کر کہا، “جو نیچے جا رہے ہیں، دیوار کی طرف ہو جائیں۔ جو اوپر جا رہے ہیں، نام پکارے جائیں گے۔” اس کی آواز نہ اونچی تھی نہ کانپتی ہوئی، مگر اس میں وہی لہجہ تھا جس سے پورا سروس سیکٹر چلتا ہے: جسے روز ڈانٹ کر سکھایا نہیں جاتا، بلکہ بار بار صحیح وقت پر صحیح حکم دے کر منوایا جاتا ہے۔

حارث نے بازو بڑھا کر اس سے آگے نکلنے کی کوشش کی، مگر نیچے سے آنے والے ویٹر کی ٹرے اس کے کوٹ سے لگ گئی۔ گلاس ہلکے سے ٹکرائے، ایک مشروب اس کے کف پر بہہ گیا۔ وہ جھٹکے سے رکا۔ یہی وہ لمحہ تھا۔ مائرہ اس کے بازو کے سامنے سے نہیں ہٹی؛ وہ اس کے اندر والے خالی خلا سے گزری، موڑ کا حق لے کر اوپر نکل گئی۔ نیچے کھڑے لوگوں نے صاف دیکھا کہ کون رکا اور کون گزر گیا۔

اوپر لینڈنگ پر پہلی صف کی کرسیوں کے پاس سفید کارڈ لگے تھے۔ دو کارڈ غلط جگہ تھے۔ ایک پر “خالہ صائمہ” ہونا چاہیے تھا، وہاں “مسز ندیم” رکھ دیا گیا تھا۔ دوسرے پر عائشہ کے دور کے رشتہ دار کا نام سامنے ٹھونس دیا گیا تھا۔ مائرہ نے ایک نظر میں پڑھ لیا کہ یہ غلطی نہیں، ترتیب کی چوری ہے۔ پیچھے سے حارث پہنچا، سانس تیز، آستین پر گیلا داغ پھیلتا ہوا۔ “اب بس کرو، نیچے لوگ دیکھ رہے ہیں۔”

“اسی لیے تو کر رہی ہوں،” مائرہ نے کہا۔

نیچے سے کامران صاحب کی بھاری آواز آئی، “رستہ کیوں رکا ہوا ہے؟” وہ آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھ رہے تھے۔ ان کے ساتھ خالہ صائمہ بھی تھیں، جن کے ہاتھ میں ابھی تک ہسپتال کی فائل جیسا بھورا لفافہ تھا؛ پرانا، دبا ہوا، کنارے سے مڑا ہوا۔ مائرہ نے ایک لمحے کو انہیں دیکھا۔ اسی لفافے کی نقل کبھی ہسپتال کے راہداری میں دکھا کر کہا گیا تھا کہ مائرہ کے مرحوم نانا نے اپنی جائیداد کا حق حارث کے خاندان کے نام لکھا تھا، اسی لیے “برابری” ممکن نہیں۔ بعد میں مائرہ نے جانا تھا کہ اصل کاغذ دبا دیا گیا تھا، مگر گھر میں اس وقت کسی نے اس کی بات سننے کی زحمت نہیں کی۔ خاموشی کے انعام میں اس سے اس کا رشتہ لے لیا گیا۔

خالہ صائمہ لینڈنگ پر پہنچیں تو ایک لمحے کو سب کی نظریں ان پر جم گئیں۔ انہوں نے لفافہ مائرہ کو نہیں، کامران صاحب کو دیا۔ “آج اتنا تو کہہ ہی دوں،” ان کی آواز خشک تھی، “اس لڑکی کو ہم نے خود سائیڈ پر کیا تھا۔ کیونکہ تم لوگوں کو سہولت تھی۔ ہسپتال کے کوریڈور میں جو وصیت دکھائی گئی تھی، وہ نامکمل نقل تھی۔ اصل میں نصف حصہ میری بہن کی اولاد کے نام تھا، یعنی مائرہ کے۔ اور کامران بھائی نے یہ تقریب بھی اسی حق کے پیسے سے اٹھائی ہے جو بعد میں ملا۔”

حارث نے فوراً کہا، “خالہ، ابھی یہ باتیں—”

“ابھی ہی،” خالہ صائمہ نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا۔ “جب تم نے اسی حق والی لڑکی کو دربان کی طرح پیچھے بھیجنا چاہا، ابھی ہی۔”

کامران صاحب نے لفافہ کھولا نہیں۔ انہوں نے صرف حارث کو دیکھا، پھر اوپر والی اگلی قطار کو۔ وہ آدمی اس قسم کے تھے جو گھر میں کم بولتے تھے، مگر جب بولتے تو کمرے کی ہوا ترتیب بدل دیتی۔ “نشستیں جس کے حق اور محنت سے بنی ہیں، اگلی صف اسی کے حکم سے لگے گی۔”

یہ جملہ حارث کے حق میں نرمی لا سکتا تھا اگر مائرہ پھر بھی نرم پڑ جاتی۔ مگر وہ اب مانگنے کے مقام سے نکل چکی تھی۔ اس نے سامنے والی کرسیوں کے کارڈ ایک ایک کر کے اٹھائے۔ “خالہ صائمہ، یہاں۔” پہلا کارڈ دائیں طرف رکھا۔ “کامران صاحب، درمیان میں۔” دوسرا کارڈ اصل جگہ آیا۔ “عائشہ کی والدہ، ان کے ساتھ۔” پھر اس نے وہ کارڈ اٹھایا جو غلطی سے پہلے قطار میں گھسا دیا گیا تھا، اسے مروڑنے کے بجائے سیدھا کر کے پیچھے دوسری صف کے کنارے پر رکھ دیا۔ “حارث صاحب، آپ ادھر۔ دولہا فریق کی نمائندگی وہیں سے ہوگی۔”

یہ محض نام بدلنا نہیں تھا؛ پوری قطار کا پڑھا جانا بدل گیا۔ فوٹوگرافر نے خود بخود کیمرہ نیچے کر دیا، کیونکہ فریم نئے سرے سے بن رہا تھا۔ نیچے رسی کے پاس کھڑے ویٹر نے اوپر دیکھ کر دوسرے کو ہاتھ سے اشارہ دیا کہ پہلے کن لوگوں کو چھوڑنا ہے۔ حارث نے ایک قدم آگے بڑھایا، “تم یہ اختیار—”

مائرہ نے اس کی بات کا انتظار نہیں کیا۔ اس نے اپنی فائل سے مہمانوں کی آمد کی فہرست نکالی، موٹی کلپ کھولی، اور لینڈنگ کے سرے پر کھڑے منیجر کی طرف بڑھی۔ “سامنے کے راستے کی قطار اب اس ترتیب سے چلے گی۔ پہلے خالہ صائمہ، پھر کامران صاحب، پھر عائشہ کی والدہ۔ اس کے بعد باقی نام۔” اس نے رسی تھامنے والے لڑکے کی طرف دیکھا۔ “جو نام میں بولوں، صرف وہی گزرے گا۔”

“مائرہ، ذرا بات سنو۔” حارث کی آواز پہلی بار نیچی ہوئی، اور اس میں حکم سے زیادہ خوف تھا۔ “نیچے سب اپنے ہیں۔ بات بڑھاؤ مت۔”

اس نے رخ موڑے بغیر کہا، “جب اپنے تھے، تب مجھے پیچھے بھیجنا آسان کیوں تھا؟”

عائشہ لینڈنگ کے دوسرے سرے پر کھڑی تھی، چہرہ سفید پڑا ہوا، مگر مائرہ نے اس طرف نہیں دیکھا۔ اس کا حساب عائشہ سے نہیں تھا۔ حارث نے آخری بار بچاؤ کی کوشش کی۔ وہ تیزی سے آگے آیا، سامنے کی قطار کے ایک کارڈ پر ہاتھ رکھا، جیسے کم از کم ایک نام اپنی مرضی سے بچا لے۔ مائرہ نے اسی وقت وہ کارڈ اس کے ہاتھ کے نیچے سے کھینچ لیا۔ کارڈ کی کاغذی آواز ہلکی تھی، مگر اتنی صاف کہ قریب کھڑے سب نے سن لی۔ اس کی انگلی حارث کی انگوٹھی سے چھوئی، پھر الگ ہو گئی۔ “یہ اگلی صف آپ کی نہیں رہی۔”

وہ جملہ کمرے پر نہیں، ترتیب پر پڑا۔ منیجر فوراً سیدھا کھڑا ہوا، جیسے دیر سے سمجھ آیا ہو کہ اصل حکم کہاں ہے۔ “جی، نام پکارے جائیں گے،” اس نے کہا۔ اس کی زبان کی ہڑبڑاہٹ اب حارث کے لیے تھی، مائرہ کے خلاف نہیں۔

مائرہ سیڑھی کے سرے تک آئی جہاں مخملی رسی کا دوسرا سرا چمکتے اسٹینڈ میں لگا تھا۔ نیچے سے اوپر آنے والوں کی ایک نئی قطار بن رہی تھی۔ اس نے اسٹینڈ گھمایا، رسی نکالی، اور پورا منہ اپنے لوگوں کی طرف کھول دیا۔ “خالہ صائمہ، آپ پہلے۔”

پھر اس نے رسی کی سمت بدل کر دوسری طرف باندھی، ایسی کہ حارث اور اس کے ساتھ کھڑے لوگ لینڈنگ کے کنارے پیچھے رہ جائیں، اور سامنے کا سرہ مائرہ کی جانب آ جائے۔ قطار کا سر اب سیڑھی کے موڑ پر اس کے قدموں کے پاس تھا۔ اس نے اپنی فائل بائیں بازو میں دبائی، دائیں ہاتھ سے رسی کو آخری بار جھٹکا دیا۔ مخملی رسی قطار کے سرے پر چوڑی کمان بناتی ہوئی ایک طرف جھول گئی۔