Fast Fiction

سامنے سب کے حق میرا نکلا

سعد فرید نے مہرین کے ہاتھ سے سفید سخت کارڈ کھینچ کر اپنے کوٹ کی جیب میں ڈال لیا اور ڈرائیور کو اونچی آواز میں کہا، “پک اَپ لین میں اب سے میری ہدایت چلے گی، تم لوگ بس گاڑی روکے رکھنا۔”

کارڈ کے کنارے پر نیلا پرانا قلمی داغ تھا، وہی داغ جو مہرین نے صبح سے درجن بار انگلی سے محسوس کیا تھا۔ اس کارڈ کے بغیر دلہن کے گھر والوں کی واپسی والی گاڑیوں کی رہائی نہیں ہونی تھی۔ کراچی کے اس شادی ہال کی پارکنگ میں رات کے ساڑھے دس بجے سے اصل لڑائی شروع ہوتی تھی؛ ہال کے اندر روشنی، باہر حساب۔ مہرین نے دو ہفتے پہلے پورا نقل و حرکت کا نقشہ بنایا تھا، کیونکہ سروس سیکٹر میں غلطی کا مطلب صرف ڈانٹ نہیں، اگلا کام بھی ہاتھ سے جانا ہوتا ہے۔ آج کا کام اور آج کی عزت دونوں ایک ہی کارڈ میں پھنس گئے تھے۔

اس نے سعد کے پیچھے ایک قدم لیا، آواز ہموار رکھی۔ “وہ کارڈ میرے نام پر نکلا ہے۔ رشید بھائی کو میں نے روٹ سمجھایا تھا۔”

سعد نے مڑ کر اسے ایسے دیکھا جیسے وہ پلیٹیں اٹھانے والی عارضی لڑکی ہو۔ “تمہیں جو کہا جائے وہ کرو۔ خالہ نسرین کے سامنے سین مت بناؤ۔ اور ہاں، چائے والے کو بھی دیکھ لو، ٹیبل نمبر سات پر کپ کم ہیں۔”

پہلا شگاف وہیں پڑا۔ مہرین نے چائے والے کی طرف جانے کے بجائے پلاسٹک کی کرسی کے کونے سے اپنا رجسٹر اٹھایا، ٹھنڈی پڑی چائے کے کپ کے نیچے بنے گول داغ پر انگلی پھیر کر سیدھی لین کی طرف چل دی۔ سعد نے شاید یہی توقع نہیں کی تھی کہ وہ حکم سن کر راستہ بدلے گی نہیں۔

پارکنگ کے کنارے زرد بلبوں کے نیچے دلہن کی خالہ، دو ماموں، تین ڈرائیور اور ہال کے دو لڑکے کھڑے تھے۔ دور بسوں کے ہارن اور موٹرسائیکلوں کی پھنکار بیچ بیچ میں آ رہی تھی۔ خالہ نسرین نے مہرین کو دیکھتے ہی بھنویں سکیڑیں۔ “بیٹا، تم ابھی تک باہر ہو؟ اندر خواتین پوچھ رہی ہیں، اور یہ رات کو پارکنگ میں کھڑے ہونے والا کام لڑکوں کے لیے بہتر لگتا ہے۔”

سعد نے فوراً بات لپکی۔ “میں نے اسی لیے اس سے کارڈ لے لیا، خالہ۔ کام میں ہاتھ تو اچھا ہے مگر عوامی معاملہ ہے، خاندان والے بھی ہیں، سمجھ تو آپ رہی ہیں۔”

یہ صرف دفتر والی توہین نہیں تھی؛ یہ وہی زخم تھا جو گھر کی میز تک ساتھ جاتا ہے۔ مہرین کی منگنی کی بات گھر میں رکی ہوئی تھی، سب کو پتہ تھا وہ حمزہ کے قریب ہے، گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والا رشتہ، مگر “رات رات شادیوں میں ڈیوٹی” والی بات ہر گفتگو میں تیر بن کر آتی تھی۔ خالہ نسرین سعد کی پھوپھی زاد تھیں؛ ایک لفظ ان کا، اور اگلا ایونٹ بھی سعد کے نام۔

مہرین نے رشید بھائی کو اشارہ کیا۔ “پہلی گاڑی کا راستہ خالی رکھو، دوسری کو سائیڈ پر لگاؤ۔ بچے اور بزرگ پہلے جائیں گے۔”

سعد بیچ میں آ کھڑا ہوا، دونوں ہاتھ پھیلا کر، جیسے لین کا دروازہ اسی کی ہڈیوں سے بنا ہو۔ “کوئی بھی گاڑی نہیں نکلے گی جب تک میں نہ کہوں۔ اور تم ڈرائیوروں کو حکم مت دو۔” پھر ذرا اونچی آواز میں، تاکہ ماموں سنیں، “ہر کام کرنے والا آدمی مالک نہیں ہوتا۔ حد جانیے۔”

دو ہال لڑکوں نے نظریں چرا لیں۔ ایک ڈرائیور نے چابی ہتھیلی میں الٹ دی، مگر گاڑی اسٹارٹ نہ کی۔ خالہ نسرین نے دوپٹہ سنبھالتے ہوئے مہرین کو سر سے پیر تک دیکھا؛ وہ دیکھنا کسی ایک عورت کا نہیں، پورے خاندان کی اجتماعی پڑھت تھا۔

مہرین نے پہلی بار آواز ذرا بلند کی۔ “حد کون جانتا ہے؟ وہ جس نے لسٹ بنائی، روٹ باندھا، یا وہ جو آخر میں کارڈ جیب میں ڈال کر کھڑا ہو گیا؟ بتا دیجیے، کس نے بارہ گاڑیوں کے نمبر خود لکھے تھے؟”

سعد ہنسا، خشک اور مختصر۔ “لکھ لینے سے اختیار نہیں آ جاتا۔”

پارکنگ کے دور کنارے سے آواز آئی، “نمبر تو مہرین باجی نے ہی لکھے تھے۔” یہ ہال کا لڑکا فہیم تھا، جو پورا دن بار بار دستخط کرواتا رہا تھا۔ وہ ایک سٹیل کی ٹرالی چھوڑ کر آگے آیا۔ “اور روٹ بدلنے کو بھی انہی نے کہا تھا جب صدر والی سڑک بند ہوئی تھی۔”

دوسری آواز فوراً پیچھے سے لگی، رشید بھائی کی، “پہلی وین کی اضافی چابی بھی انہی کے پاس تھی۔ سعد صاحب نے تو مجھ سے ابھی پوچھا تھا کہ دولہا کے تایا کو کس گاڑی میں بٹھانا ہے۔”

حرکت ایک ساتھ بدلی۔ ایک ماموں نے سعد کی طرف سے رخ ہٹا کر مہرین کو دیکھا۔ ہال کا دوسرا لڑکا، جو اب تک دیوار کے ساتھ تھا، رجسٹر اٹھا کر مہرین کے قریب لے آیا۔ خالہ نسرین کے ساتھ کھڑی ایک بھتیجی نے دھیمی آواز میں کہا، “خالہ، وہی لڑکی تھی نا جس نے ابو کی وہیل چیئر والی وین الگ لگوائی تھی؟”

سعد کے چہرے پر پہلی بار رکاوٹ آئی، مگر وہ فوراً سنبھلا۔ “اچھا، اگر اتنا ہی سب یاد ہے تو کارڈ بھی کہیں تم ہی نے بنوایا ہوگا؟ دکھاؤ پھر۔” وہ جیب پر ہاتھ رکھ کر ذرا آگے ہوا، جیسے سوال بھی اس کی ملکیت ہو۔

مہرین نے جواب میں ہاتھ نہیں بڑھایا۔ “کارڈ آپ کی جیب میں ہے، مگر نام اب بھی میرا ہے۔” اس نے رجسٹر کھولا۔ آخری صفحے پر نیلی روشنائی کی لائنیں تھیں، نیچے ہال کے مالک کی جلدی میں کی ہوئی مہر، اور اوپر صاف لکھا تھا: واپسی لین انچارج — مہرین علی۔ “پڑھ لیجیے بلند آواز میں، اگر آواز پھنس نہیں رہی۔”

ماموں میں سے ایک نے رجسٹر اس کے ہاتھ سے لے کر قریب کیا۔ “نام تو واقعی مہرین علی ہے۔” سعد نے جھپٹ کر صفحہ بند کرنا چاہا مگر وہ حرکت دیر سے ہوئی؛ پڑھت کاغذ سے نکل کر لوگوں کے چہروں پر جا چکی تھی۔

اب بھی لڑائی پوری نہ جیتی گئی تھی۔ کارڈ سعد کی جیب میں تھا، لین اس کے جسم سے رکی ہوئی تھی، اور ہر ذلت کا سب سے خطرناک لمحہ وہ ہوتا ہے جب ظالم کو لگتا ہے وہ صرف ایک اور اونچی آواز سے بچ جائے گا۔ مہرین نے سیدھی لین کے بیچ جا کر کھڑا ہونا چنا۔ زرد لکیروں کے اوپر، جہاں گاڑی آ کر رُکنی تھی۔ اس نے ہاتھ آگے بڑھایا۔ “کارڈ واپس کریں۔ ابھی۔”

سعد نے دانت بھیچ کر مسکرانا چاہا۔ “بعد میں۔ پہلے خالہ کا سامان نکلواؤ۔ تم مسئلہ بڑھا رہی ہو۔”

“مسئلہ آپ نے بنایا ہے۔” مہرین کی آواز اب نیچی تھی، مگر اسی وجہ سے زیادہ صاف۔ “اور یہ واپسی میری نگرانی میں ہوگی۔”

اندر سے شور اب باہر بہنے لگا تھا۔ دلہن کی طرف کے لوگ سیڑھیوں سے اتر رہے تھے۔ چمکتے جوڑے، بچوں کے ہاتھوں میں غبارے، تھکے ہوئے بزرگ، فوٹوگرافر کے کندھے سے لٹکتا کیمرا۔ حمزہ بھی انہی میں تھا، سادہ سفید شلوار قمیص پر گہرا واسکٹ، آنکھیں پہلے سعد پر گئیں پھر مہرین پر۔ وہ قریب آیا تو سعد نے جیسے آخری سہارا پا لیا۔

“حمزہ، تم ہی سمجھاؤ اسے۔ یہ کام کو ذاتی بنا رہی ہے۔ خاندان سامنے کھڑا ہے۔”

حمزہ رکا۔ اس نے مہرین سے نہیں، رشید بھائی سے پوچھا، “پہلی گاڑی کس کے اشارے پر لگنی تھی؟”

“مہرین بی بی کے،” رشید بھائی نے فوراً کہا۔

یہ دوسرا وزن تھا، مگر مہرین نے اسے اپنے لیے ڈھال نہیں بننے دیا۔ وہ سعد کی طرف ہی دیکھتی رہی۔ “کارڈ۔”

اسی لمحے سیاہ ہائی ایس وین لین کے منہ پر آ کر رکی۔ ہیڈلائٹ نے سب کے سائے لمبے کر دیے۔ ڈرائیور نے شیشہ نیچے کر کے پوچھا، “رہائی کس کے کہنے سے دوں؟ دلہن کی نانی اور سامان اسی میں جانا ہے۔” سوال سیدھا تھا، مگر پوری رات اسی ایک سوال کے لیے بنی ہوئی لگ رہی تھی۔ سب کی نظر سعد کی جیب اور مہرین کے خالی ہاتھ کے بیچ لٹک گئی۔

سعد نے جلدی سے کارڈ نکالا، ہاتھ اوپر کیا، “میری ہدایت—”

مہرین نے آگے بڑھ کر اس کی کلائی پکڑی نہیں؛ صرف کارڈ کے نچلے کونے پر دو انگلیاں رکھیں اور اتنی مضبوطی سے کھینچا کہ کاغذ چرچرا اٹھا۔ نیلا پرانا قلمی داغ اس کے انگوٹھے کے نیچے آ گیا۔ سعد نے چھوڑنے میں ایک دھڑکا دیر کی، پھر اس کے ہاتھ کی گرفت ڈھیلی ہوئی۔ یہی نظر آنے والا نقصان تھا: کارڈ اب ایک کونے سے مڑ گیا تھا، سعد کی انگلیاں ہوا میں رہ گئیں، اور اس کے سامنے اس کی اپنی اونچی کی ہوئی آواز خالی کھڑی تھی۔

مہرین نے کارڈ اوپر اٹھایا، اتنا کہ ہیڈلائٹ اس پر نام روشن کر دے۔ “رہائی میرے کہنے سے ہوگی۔ انچارج مہرین علی۔ دلہن کی نانی پہلے جائیں گی، سامان ان کے ساتھ۔ دوسری گاڑی پانچ منٹ بعد۔” اس نے سیدھا ڈرائیور کی طرف دیکھا، پھر خالہ نسرین کی طرف، پھر حمزہ کی طرف نہیں دیکھا۔ “میں وصول کرنے والی طرف ہوں۔ مجھ سے لے کر چلیں۔”

سعد نے بیچ میں بولنا چاہا۔ “یہ حد سے—”

حمزہ نے اس کی بات کے اوپر، پہلی اور آخری بار، صاف کہا، “ڈرائیور، مہرین کے مطابق چلو۔”

چوٹ یہی تھی: سعد نے پھر بھی ہاتھ اٹھایا مگر اس کے اشارے کی طرف کوئی آنکھ نہ گئی۔ ڈرائیور نے وین کا دروازہ کھولا، رشید بھائی نے سامان اسی ترتیب سے اٹھایا جو مہرین نے صبح لکھی تھی، اور وہ ماموں جس نے ابھی رجسٹر پڑھا تھا، خود نانی صاحبہ کو سہارا دے کر وین کی طرف لایا۔ سعد ایک قدم آگے بڑھا، پھر پیچھے رکا؛ وہ جگہ جسے وہ ابھی تک اپنے لہجے سے بھرتا آیا تھا، اس کے جسم سے بھی خالی ہو گئی۔

خالہ نسرین نے دبے غصے سے کہا، “سعد، چھوڑو اب—” مگر یہ ڈانٹ بھی مہرین کے لیے نہیں، سعد کو سمیٹنے کے لیے نکلی تھی۔ وہی سب سے بڑا الٹاؤ تھا؛ کمرے نے نہیں، دروازے نے فیصلہ بدل دیا تھا۔ جو لڑکی ابھی تھوڑی دیر پہلے چائے کے کپ گننے کے قابل سمجھی جا رہی تھی، اسی کے ایک جملے پر بزرگ پہلے گاڑی میں بیٹھ رہے تھے۔

سعد نے آخری کوشش کی، نرم پڑتی آواز میں، “مہرین، کارڈ مجھے دو، میں سنبھال لیتا ہوں۔”

مہرین نے کارڈ نیچے نہیں کیا۔ “دیر سے واپس کی جانے والی چیزیں دوبارہ نہیں دی جاتیں، سعد صاحب۔ راستہ کھلا رہنے دیں۔”

وین کا دروازہ کھلا کھڑا تھا۔ زرد لائنوں پر مہرین کا اٹھا ہوا کارڈ ایک دھڑکن بھر نمایاں رہا؛ نیچے ووٹ فلور جیسی چکنی پارکنگ پر ہیڈلائٹ پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے بعد سعد کے ساتھ اٹھے ہوئے دو اور ہاتھ آہستہ آہستہ نیچے گر گئے، اور مہرین نے کارڈ سامنے رکھ کر کہا، “پہلی گاڑی، اب۔”