محفل ایک پل میں ان کے خلاف ہو گئی
فراز نے صائمہ کے ہاتھ سے گردن والا کارڈ کھینچ کر عدیل کے سینے پر ٹانک دیا اور رجسٹر لڑکے سے بلند آواز میں کہا، “آج دروازہ یہی سنبھالے گا، اسے بس اندر کے پیکٹ پکڑا دو۔” صحن نما داخلی حلقے میں لائٹوں کی تاریں، پھولوں کے تھال، فوڈ والے کے ڈبّے، دولہے کے چچا، دو برانڈ والے نمائندے اور موبائل لیے کھڑی کزنیں ایک ساتھ مڑی تھیں؛ سب نے دیکھا کہ جس میز پر صائمہ رات بھر بیٹھ کر مہمانوں کی فہرست درست کرتی رہی تھی، اسی میز سے اس کی جگہ ابھی ابھی چوری ہوئی ہے۔
صائمہ نے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ اس کے بائیں ہاتھ میں آدھی تہہ شدہ رسید پسی ہوئی تھی، وہی جس پر اس نے صبح بس کے کرائے، چائے اور کیمرہ لڑکے کے فوری خرچ تک لکھ رکھے تھے۔ کراچی کی دھول ابھی اس کے جوتوں کے کنارے پر تھی، میٹرو بس کارڈ کا گھسا ہوا کنارا اس کے پرس سے باہر جھانک رہا تھا، اور سامنے فراز اسے ایسے ہٹا رہا تھا جیسے وہ سروس سیکٹر کی کوئی عارضی لڑکی ہو جسے گھر کے اندر تک آنے کا احسان دیا گیا ہو۔ درد جگہ کا نہیں تھا؛ درد یہ تھا کہ خالدہ خالہ کے مہمان، اور وہ لوگ بھی جنہیں پہلے ہی گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والی اس مبہم قربت کا اندازہ تھا، سب اسے کنارے لگتے دیکھ رہے تھے۔
“چائے نہیں، تار ٹھیک کرو، پیکنگ اٹھاؤ، جو کہا جائے کرو،” فراز نے مزید کہا، اور جان بوجھ کر اتنی اونچی آواز میں کہ قریب کھڑے دو بزرگ سن لیں۔ پھر عدیل کی طرف رخ کر کے نرم لہجے میں بولا، “اصل کام دماغ والوں کا ہوتا ہے، ہاتھ والوں کا نہیں۔”
پہلا دراڑ اسی لمحے پڑا۔ داخلی گیٹ کے اوپر لگی رنگ لائٹ اچانک جھپکی، پھر لائیو فروخت کے لیے رکھا گیا فون اسٹینڈ ایک طرف ڈھیلا ہو کر جھک گیا۔ عدیل نے گھبرا کر تاروں کا گچھا الٹا پکڑ لیا، سامنے رکھی مہندی کی ٹوکری گرنے لگی، اور برانڈ والی خاتون نے سخت آواز میں کہا، “اگر دس منٹ میں سلسلہ نہ چلا تو ہم سامان واپس لے جائیں گے، ہماری ریکارڈنگ وقت پر ہونی ہے۔” فراز نے عدیل کو “جلدی کرو” کہا، مگر عدیل کے ہاتھ اور الجھ گئے۔ صائمہ نے وہی کارڈ جو اس سے لیا گیا تھا، میز پر پڑے کپڑے کے نیچے دیکھا، ایک جھٹکے سے کھینچا، فون اسٹینڈ سیدھا کیا، تار کے جوڑ پر انگلی سے دباؤ دے کر ڈھیلا پن روکا، اور مہندی کی ٹوکری کو کہنی سے تھام لیا۔ یہ سب اتنی تیزی سے ہوا کہ عدیل کی ہڑبڑاہٹ ابھی منہ تک پہنچی بھی نہ تھی۔
“یہ سفید پلگ نہیں، دوسرا۔ اوپر والا سوئچ بند ہے،” اس نے بس اتنا کہا۔
برینڈ والی خاتون کی نظریں فراز سے ہٹ کر صائمہ کے ہاتھوں پر جم گئیں۔ رجسٹر لڑکا، جو ابھی تک فراز کے قریب کھڑا تھا، خودبخود دو قدم صائمہ کے میز کے پاس آ گیا اور بولا، “باجی، اب مہمانوں کی انٹری کدھر سے لینی ہے؟” فراز نے فوراً بیچ میں کاٹنا چاہا، “میں بتا رہا ہوں نا—” مگر اسی وقت دولہے کی پھوپھی اپنی لسٹ لے کر ادھر مڑ گئیں جہاں صائمہ کھڑی تھی۔ لوگوں کے جوتوں کا رخ بدلنے لگا۔ پہلے جو کندھے فراز کی طرف نیم دائرہ بنائے تھے، وہ کھل کر صائمہ کی میز کی طرف جھکنے لگے۔ ایک فوٹوگرافر نے کیبل اٹھانے کو فراز کے بجائے صائمہ کی طرف دیکھا۔ حلقہ ابھی ٹوٹا نہیں تھا، مگر لڑکھڑا گیا تھا۔
صائمہ نے کسی فتح کے انداز میں سر نہیں اٹھایا۔ اس نے صرف میز پر پھیلی فہرست سیدھی کی، پلاسٹک کور کے نیچے دبے ناموں پر انگلی چلائی، اور آتے ہوئے مہمانوں سے مختصر، صاف جملوں میں پوچھنا شروع کیا۔ “کس طرف کے ہیں؟ دولہے والے یا دلہن والے؟ کتنے افراد؟ بچوں کی نشست الگ چاہیے؟” ایک بوڑھی نانی اماں، جنہیں ابھی ابھی فراز نے غلط قطار میں بھیج دیا تھا، صائمہ نے ایک نظر میں درست جگہ بٹھا دی۔ نانی اماں نے جاتے ہوئے فراز کی طرف نہیں، صائمہ کی طرف دعا دی۔ یہی وہ قسم کی بات تھی جو بڑے گھر کے صحن میں چھری سے زیادہ گہرا کاٹتی ہے۔
فراز کا چہرہ تیز بلبوں کی روشنی میں چکنا اور بے چین ہو گیا۔ وہ قریب آیا، ہونٹ بھیچے، اور اتنی آہستہ آواز میں کہ سنتے سب رہیں، بولا، “ڈرامہ مت کرو۔ تمہیں اندر آنا ہی میری وجہ سے ملا تھا۔ حد میں رہو۔” یہ “حد” خالی لفظ نہیں تھا؛ اس میں وہ سب کچھ تھا جو گھر کی عورتوں کے درمیان سرگوشی میں تولہ جاتا ہے، رشتہ، عزت، اجازت، اور وہ فاصلہ جسے سب جانتے ہیں مگر کوئی نام نہیں دیتا۔
اسی وقت خالدہ خالہ برآمدے سے اترتی آئیں۔ ان کے پیچھے دو خالائیں، ایک بزرگ ماموں، اور موبائل پکڑے ہوئے لڑکیاں تھیں۔ فراز فوراً لہجہ بدل کر بولا، “خالہ، بس چھوٹی سی غلط فہمی ہے۔ میں اسے اندر کے کمرے میں بٹھا دیتا ہوں۔ لسٹ یہیں رہے گی۔ نام عدیل پکار دے گا۔ گھر کی بات گھر میں رہنی چاہیے۔”
یہی وہ مرہم تھا جس سے وہ زخم چھپانا چاہتا تھا۔ صائمہ نے خالدہ خالہ کی طرف دیکھا۔ خالہ کی آنکھوں میں صاف حساب چل رہا تھا: ابھی سب کے سامنے بات بڑھی تو محفل خراب ہوگی، اگر صائمہ خاموشی سے اندر چلی جائے تو کام بھی چل جائے گا اور منہ بھی بچ جائے گا۔ برآمدے کے ستون کے پاس ایک آئنہ نما اسٹیل پینل تھا، جس پر پرانے ہاتھوں کے دھبے جمے ہوئے تھے؛ اس میں صائمہ کو اپنا چہرہ نہیں، صرف اتنا نظر آیا کہ اسے پھر سے دیوار کے ساتھ لگا کر بے آواز کرنا چاہا جا رہا ہے۔
“اندر نہیں جاؤں گی،” صائمہ نے صاف کہا۔
خالدہ خالہ نے آواز دبا کر کہا، “بیٹی، مجھ پر رحم کرو۔ جو کرنا ہے بعد میں کر لینا۔ ابھی محفل کا وقت ہے۔”
صائمہ کی انگلیاں آدھی تہہ شدہ رسید پر اور سخت بند ہو گئیں۔ “بعد میں کچھ نہیں رہتا، خالہ۔ ابھی سب نے دیکھا ہے کہ مجھے ہٹایا کس طرح گیا ہے۔ اگر اصلاح ہوگی تو یہیں ہوگی۔”
فراز نے موقع ہاتھ سے نکلتا دیکھا تو پوری بے حیائی سے آخری وار کیا۔ وہ رجسٹر میز کے پاس جا کر اونچی آواز میں بولا، “سب سن لیں، یہ صرف باہر کے انتظام میں مدد کرتی رہی ہے۔ گھر کے فیصلے، مہمانوں کی اصل فہرست، اور برانڈ کے پیسے میرے تحت ہیں۔ اس کا نام کہیں نہیں۔ کارڈ واپس دو اور ایک طرف ہو جاؤ۔” اس نے عدیل کی طرف ہاتھ بڑھایا، “تم پڑھو نام۔”
یہ حد سے آگے تھا۔ صحن کے بیچ دائرہ سا بن گیا۔ جو لوگ چل رہے تھے، وہ رکے نہیں مگر رفتار اتنی کم ہو گئی کہ ہر نگاہ پڑھتی ہوئی لگنے لگی۔ رجسٹر لڑکے نے کارڈ ہاتھ میں تھاما مگر عدیل کے سینے کی طرف بڑھانے کی ہمت نہ کی۔ برانڈ والی خاتون نے اپنی فائل سینے سے لگائی اور خاموش ہو کر کھڑی رہ گئی۔ خالدہ خالہ کے ماتھے پر بل آیا۔ فراز نے اسے خاموشی سمجھا اور اور اونچا ہو گیا، “یہاں نام سے کچھ نہیں ہوتا، حیثیت سے ہوتا ہے۔”
صائمہ نے اس کے ہاتھ سے کارڈ نہیں چھینا۔ اس نے رجسٹر لڑکے کے سامنے رکھی پلاسٹک کور والی فہرست دونوں ہاتھوں سے اٹھائی، میز کے اوپر سیدھی کی، اور اتنی بلند مگر بے لرزش آواز میں بولی کہ دروازے سے اندر آتا ہوا ہر شخص سن سکے، “یہ فہرست میں نے بنائی ہے۔ آج کی لائیو فروخت کے سپلائرز، مہمانوں کے نشست نقشے، ادائیگیوں کے نشان، سب میرے ہاتھ کے ہیں۔ اور ایک بات سب کے سامنے سن لیں— میں اس گھر کے باہر کھڑی مزدور نہیں ہوں جسے فراز احسان سے اندر لایا ہے۔ میں مرحوم فہیم صاحب کی بیٹی صائمہ فہیم ہوں۔ یہ گھر جس کاروبار کے نام پر آج سجا ہے، اس کے اصل ابتدائی سرمائے کی وارث بھی میں ہوں، اور خالدہ خالہ کی تحریری امانت پر پچھلے دو سال سے اسی دروازے کا اصل حساب میں چلا رہی ہوں۔ آج سے اس داخلی رجسٹر پر نام عدیل نہیں پکارے گا۔ آج سے نام میں پکاروں گی۔ جسے شک ہے، سامنے آ کر فہرست میرے ہاتھ سے پڑھ لے۔”
لفظ گرنے کے بعد ایک لمحے کو ہوا بھی جیسے سیدھی ہو گئی۔ پھر پہلی ضرب فراز پر نظر آئی۔ اس کا بڑھا ہوا ہاتھ آدھے راستے میں رک گیا۔ عدیل نے کارڈ اس کی طرف نہیں، سیدھا صائمہ کی طرف بڑھا دیا۔ رجسٹر لڑکا اپنی کرسی فراز کی سمت سے کھینچ کر صائمہ کے میز کے ساتھ لے آیا۔ برانڈ والی خاتون نے دو قدم آگے آ کر پوچھا، “تو پہلی کھیپ کس وقت کھلے گی، صائمہ صاحبہ؟” “عصر کے بعد پہلی، مغرب سے پہلے دوسری،” صائمہ نے فہرست سے نظریں ہٹائے بغیر جواب دیا۔ یہ جواب اعلان نہیں تھا؛ یہ اختیار کا استعمال تھا۔
فراز نے سنبھلنے کی کوشش کی۔ “یہ سب جذباتی باتیں ہیں۔ کاغذ کہاں ہیں؟ گواہ؟” اس کی آواز میں اب وہی پرانی دھمک نہیں، گھبراہٹ کی خشکی تھی۔ خالدہ خالہ نے اسی وقت اپنی شال کے پلّو میں سے ایک چھوٹی چابیوں کی گڈی نکالی اور میز پر رکھ دی۔ “دکان کے اسٹور، اوپر والے کمرے، اور داخلی الماری کی چابیاں دو سال سے اسی کے پاس رہتی آئی ہیں۔ میں نے ہی رکھی تھیں۔ بس غلطی یہ کی کہ نام چھپا کر رکھا۔” ایک بزرگ ماموں، جو ابھی تک تماشائی تھے، فراز کی طرف نہ دیکھ کر صائمہ سے بولے، “بیٹی، دلہن والوں کی اضافی نشستیں کہاں لگیں گی؟” حلقہ اسی سوال سے ٹوٹا؛ اب لوگ فیصلہ دیکھنے نہیں، فیصلہ ماننے کے لیے اس کی طرف بڑھ رہے تھے۔
فراز کے لیے سب سے بری چیز ابھی باقی تھی۔ صائمہ نے کارڈ اپنی گردن میں پہنا، پھر وہ دوسرا کارڈ جو عدیل کے سینے پر ٹیڑھا لگا تھا، دو انگلیوں سے سیدھا اتارا اور عدیل کے ہاتھ میں رکھتے ہوئے کہا، “تم سامان اٹھاؤ۔ جتنا کہا جائے اتنا کرو۔ اصل کام دماغ والوں کا ہوتا ہے، یاد ہے نا؟” قریب کھڑی دو کزنوں کے ہونٹوں سے دبی ہوئی ہنسی نکلی اور فوراً دب بھی گئی، مگر دیر ہو چکی تھی؛ فراز کے اپنے فقرے نے آ کر اس کے منہ پر چانٹا مار دیا تھا۔
“صائمہ!” فراز نے پہلی بار نام ایسے لیا جیسے رتبہ مانگ رہا ہو، روک نہیں رہا۔ “یہاں اتنا بڑھانے کی کیا ضرورت تھی؟ میں بعد میں—”
“بعد میں نہیں،” صائمہ نے اسے وہیں کاٹ دیا، پھر رجسٹر کھولا اور پہلے آنے والے خاندان کی طرف رخ کر کے بلند آواز میں پڑھا، “ملیر سے آنے والے انیس افراد، خواتین کی نشست دائیں سائبان میں، بزرگ سامنے والی قطار میں۔ اگلا نام؟” اس ایک پڑھے ہوئے نام کے ساتھ صحن کا پورا مرکز بدل گیا۔ لوگ اب اس سے سوال پوچھ رہے تھے، اس سے راستہ لے رہے تھے، اس کی میز کے سامنے رکتے تھے۔ فراز دائرے کے کنارے پر چپکا رہ گیا، جیسے روشنی اسی جگہ کم پڑ گئی ہو۔
بھیڑ پھر چلنے لگی مگر نئی ترتیب کے ساتھ۔ ایک ویڈیو والا، جو پہلے فراز کے اشارے دیکھ رہا تھا، اب اسٹینڈ لے کر صائمہ کے بائیں آ کھڑا ہوا۔ فوڈ سپلائر کے دو لڑکے اس سے پوچھنے لگے، “باجی، میٹھا پہلے ادھر رکھیں یا اندر؟” خالدہ خالہ نے صحن کے بیچ نہیں، سب کے سامنے صرف اتنا کہا، “جس کا نام صائمہ دے، وہی ہوگا۔” اس جملے نے فراز کی باقی ماندہ آواز بھی نچوڑ دی۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر کوئی اس کی طرف متوجہ نہیں تھا۔ اختیار کبھی کبھی شور سے نہیں جاتا؛ لوگ بس آپ کو دیکھنا چھوڑ دیتے ہیں۔
کام دوبارہ بہنے لگا۔ صائمہ نے دو اور نام پڑھے، ایک غلطی درست کی، ایک بچے کے لیے الگ کرسی لگوائی، پھر فہرست خالدہ خالہ کے سامنے ایک بار سیدھی کر کے میز پر رکھ دی۔ اسے اب وہاں جڑ نہیں پکڑنی تھی۔ دائرہ کھل چکا تھا، بس اتنا کافی تھا۔
وہ صحن کے کنارے والی تنگ گلی کی طرف مڑی جو باورچی خانے کے پیچھے سے باہر سڑک کو نکلتی تھی۔ ہاتھ میں وہی آدھی تہہ شدہ رسید تھی، جس کا کاغذ نمی سے نرم ہو گیا تھا۔ موڑ پر پہنچتے ہی پیچھے سے آوازیں ایک ساتھ ابھریں— “صائمہ بیٹی!” “صائمہ صاحبہ، ایک منٹ!” “صائمہ، ادھر سے—” گلی کی دیواروں سے ٹکرا کر وہ آوازیں پلٹیں، ایک دوسرے میں گڈمڈ ہوئیں، اور وہ بغیر مڑے اسی موڑ سے باہر نکل گئی۔