مین گیٹ پر پہلی ترجیح میرے نام ہوئی
“رکیے، آپ ادھر نہیں، ایک طرف۔”
حنا نے کمپاؤنڈ کے مین گیٹ پر قدم رکھا ہی تھا کہ سلیم سپروائزر نے ہاتھ بڑھا کر اسے رسّی کے باہر روک دیا۔ اس کے بیگ میں وہ چابی پڑی تھی جو وہ دوپہر میں فراز کے دفتر والے فلیٹ سے لوٹانا بھول گئی تھی، اور ایک آدھی مڑی ہوئی رسید بھی، جس پر دو بار کھولنے بند کرنے سے کنارے نرم ہو گئے تھے۔ اندر صحن میں پیلے بلبوں کی روشنی اور دیگوں کی بھاپ مل کر ایک ہلکی سی دھند بنا رہی تھی۔ گاڑیوں کے ہارن، جنریٹر کی گھرر، اور برآمدے کی لمبی ٹیوب لائٹ کی بھنبھناہٹ کے بیچ حنا کو یوں روکا گیا جیسے وہ بلائی نہیں گئی، جیسے وہ صرف کسی کی غلطی ہو۔
اس نے سلیم کی کلپ بورڈ پر جھکی نظر دیکھی۔ “میرا نام دے دیجیے۔ حنا۔”
سلیم نے نظر اٹھانے کے بجائے گردن موڑی۔ “عمرانہ بی بی نے کہا ہے پہلے لسٹ کلیئر ہو گی، پھر۔ آپ ذرا سائیڈ پر ہو جائیں۔”
حنا نے رسّی کے پاس کھڑے ہو کر راستہ نہیں چھوڑا۔ “میں دعوت نامہ لے کر نہیں آئی، یہ بات آپ کو بھی پتا ہے۔ مجھے اندر جانا ہے۔”
یہ وہ رشتہ تھا جس کے بارے میں گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا، مگر ہر رسمی موقعے پر اس کی شکل بدل دی جاتی تھی؛ کبھی “فراز کی جان پہچان”، کبھی “دفتر کی طرف سے مدد کرنے والی لڑکی”، کبھی بالکل کوئی نہیں۔ حنا نے پچھلے تین ہفتے اسی منگنی کے لیے سروس سیکٹر والی اپنی نوکری سے چھٹیاں جوڑ جوڑ کر میزبانوں کے لیے چھوٹے بڑے کام کیے تھے، مہمانوں کے تحفوں کی فہرست بنائی تھی، اور اسی گھر کی اضافی چابی سے دو بار رات گئے کپڑوں کے ڈبّے رکھوائے تھے۔ آج گیٹ پر وہی چابی اس کے بیگ میں یوں کھنک رہی تھی جیسے ثبوت بھی ہو اور ذلت بھی۔
عمرانہ خالہ چمکتی ہوئی زری کے دوپٹے میں اندر سے نکلیں، جیسے صرف اسی لمحے کے لیے رکھی گئی ہوں۔ ان کی نظر حنا پر پڑی، پھر بیگ پر، پھر رسّی پر۔ “ارے، تم آ گئیں؟ اچھا، ذرا یہیں رہو۔ اندر ابھی بیٹھک پوری ہے۔ بے ترتیب بھیڑ نہیں کرنی ہمیں۔” پھر انہوں نے سلیم کو ٹھوڑی سے اشارہ کیا۔ “جن کے نام سامنے والے کارڈ پر ہیں، پہلے وہ۔”
اسی وقت ایک دبلا سا لڑکا موٹر بائیک ہیلمٹ ہاتھ میں لیے آیا، شاید دور کے کسی کزن کا دوست۔ عمرانہ خالہ نے اسے دیکھا بھی نہیں، بس پوچھا، “شہباز کے ساتھ ہو؟” وہ بولا، “جی خالہ۔” رسّی اٹھ گئی۔ وہ اندر۔
حنا نے سرد آواز میں کہا، “اس کا نام سامنے والے کارڈ پر تھا؟”
عمرانہ خالہ کے ہونٹ ذرا سے ٹیڑھے ہوئے۔ “تم سوال مت کرو۔ لڑکی ہو، سمجھداری سے کھڑی رہو۔ ہر بات نام لینے سے نہیں ہوتی۔”
ایک اور عورت، جو باورچی خانے والی ٹیم کی نگرانی کر رہی تھی، اپنی چپل گھسیٹتی ہوئی آئی اور سلیم سے بولی، “میٹھا اوپر بھیجنا ہے، راستہ کھولو۔” عمرانہ خالہ نے فوراً رسّی ایک طرف کروائی۔ ٹرے اندر چلی گئی۔ حنا وہیں۔ گیٹ کے پاس کھڑے ڈرائیور، ایک خالہ زاد، اور دو لڑکے جو پارکنگ سنبھال رہے تھے، سب نے ایک ہی پڑھائی پڑھی: اسے روکا جا سکتا ہے۔
حنا نے بیگ کھولا، اندر سے چابی نکالی، انگلی پر گھمائی نہیں، سیدھی ہتھیلی پر رکھ کر عمرانہ خالہ کی طرف بڑھا دی۔ “یہ رہ گئی تھی۔ واپس کر دوں؟ پھر میں چلی جاتی ہوں۔”
چابی کے سرے پر پرانی نیلی سیاہی کا داغ تھا، جیسے کسی جلدی میں لکھے گئے نمبر نے دھات پکڑ لی ہو۔ عمرانہ خالہ کی آنکھ ایک لمحہ وہاں اٹکی۔ پہچان لیا۔ مگر انہوں نے لینے کے بجائے ذرا اونچی آواز میں کہا، “ہمیں کسی چیز کی کمی نہیں۔ ڈرامہ باہر مت کرو۔”
یہ پہلی دراڑ تھی۔ پاس کھڑے سلیم نے پہلی بار حنا کو غور سے دیکھا۔ پھر اندر صحن کے دوسرے سرے کی طرف دیکھا، جہاں سے فراز آرہا تھا۔
وہ تیز نہیں آیا، مگر راستہ خود بنتا گیا۔ سفید کُرتے کے اوپر سیاہ واسکٹ، موبائل اب بھی کان سے ہٹا کر ہاتھ میں، چہرہ وہی بند، جسے پڑھنا ہمیشہ مشکل رہتا تھا۔ اس کے پیچھے دو ماموں زاد، ایک بزرگ، اور سجاوٹ والا لڑکا چل رہے تھے۔ فراز کی نظر پہلے رسّی پر گئی، پھر حنا کے ہاتھ میں چابی پر، پھر عمرانہ خالہ پر۔
“یہ کیوں رکی ہوئی ہے؟” اس نے سلیم سے پوچھا، عمرانہ خالہ سے نہیں۔
سلیم کا لہجہ ایک سانس میں بدل گیا۔ “جی… حنا صاحبہ کے بارے میں ہدایت—”
“صاحبہ” کا لفظ رسّی کے اس پار گر کر پورے صحن میں بجا۔ سلیم سیدھا ہو گیا، کلپ بورڈ سینے سے ہٹا لیا۔ “حنا صاحبہ، آپ ادھر آیئے۔ دھوپ… میرا مطلب، روشنی میں کھڑی نہ رہیے۔”
عمرانہ خالہ فوراً بولیں، “ارے نہیں، میں تو بس اندر مناسب وقت سے بھیج رہی تھی۔ اتنی سی بات ہے۔ لڑکی اکیلی آئی ہے، ہمیں ترتیب—”
فراز نے ان کی بات کاٹ دی۔ “ترتیب میں اس کا نام کہاں ہے؟”
کسی نے جواب نہ دیا۔ برآمدے کے کنارے لگے پلاسٹک کے کارڈوں پر خاندان کے نام لکھے تھے۔ ایک میز پر گیٹ کے ٹوکن رکھے تھے، سبز رنگ والے اندرونی صحن اور اسٹیج کی طرف جانے والوں کے لیے، سفید والے عام مہمانوں کے لیے۔ فراز سیدھا اس میز تک گیا۔ اس نے ایک سبز ٹوکن اٹھایا، پھر دوسرا، پھر دونوں واپس رکھ دیے، جیسے چیز نہیں، اصول دیکھ رہا ہو۔
عمرانہ خالہ نرم پڑنے کی ادا میں آگے بڑھیں۔ “بیٹا، سب کے سامنے بات بڑھانے کی کیا ضرورت ہے؟ اسے اندر لے جاتے ہیں، عورتوں والے برآمدے میں بٹھا دیتے ہیں۔ بعد میں—”
“بعد میں نہیں۔” فراز نے رسّی کی گرہ پکڑ کر خود کھول دی۔ “لائن دوبارہ لگے گی۔ پہلے حنا۔”
سلیم کے ہاتھ سے کلپ بورڈ تقریباً پھسل گیا۔ “جی؟”
“پہلے حنا۔ اس کے بعد باقی۔ اور جو سبز ٹوکن ہے، وہ اسے دو۔” فراز کی آواز بلند نہیں ہوئی، اس لیے اور صاف سنائی دی۔ “یہ گھر کے اندر میرے حصے کی مہمان نہیں۔ میری طرف سے پہلا حق اسی کا ہے۔”
صحن کے بیچ گول جگہ میں لوگ تھم گئے۔ ایک کزن، جو ابھی تک فون سے ویڈیو بنا رہا تھا، اس نے فون نیچے کر لیا۔ ڈرائیور نے جیب سے چابی نکال کر پھر واپس رکھ دی۔ عمرانہ خالہ کے چہرے سے وہ تسلی اتر گئی جو تھوڑی دیر پہلے رسّی کے ساتھ کھڑی تھی۔
انہوں نے آخری کوشش کی۔ “فراز، بزرگ کھڑے ہیں۔ پہلے ان کو جانے دو۔ یہ مناسب نہیں لگے گا۔”
حنا نے پہلی بار سیدھا عمرانہ خالہ کو دیکھا۔ “نام لے کر روکا تھا نا مجھے؟ اب نام لے کر کھولیے بھی۔”
بس اتنا۔ نہ زیادہ، نہ کم۔ فراز کی نظر ایک لمحے کو حنا پر ٹھہری، پھر اس نے میز پر ہاتھ رکھا۔ “سلیم، اعلان کرو۔”
سلیم نے خشک ہونٹ زبان سے تر کیے۔ وہ دو قدم آگے بڑھا، پھر رسّی کے اندر کی طرف رخ کیا۔ “پہلی ترجیح… حنا صاحبہ کے لیے۔ سبز ٹوکن۔ راستہ کھولیں۔”
یہ اعلان حکم کم، پھانسی زیادہ تھا—عمرانہ خالہ کی اس عارضی حکومت کے لیے جو مین گیٹ پر کھڑی تھی۔ سلیم خود میز کے پیچھے سے نکل کر حنا کے سامنے آیا۔ دونوں ہاتھوں سے سبز ٹوکن پیش کیا، جیسے ابھی چند منٹ پہلے اسی عورت کو سائیڈ پر کرنے والا آدمی کوئی اور رہا ہو۔ “حنا صاحبہ، براہِ کرم۔”
رسّی دوبارہ باندھی نہیں گئی؛ پورا راستہ اس کے گرد کاٹا گیا۔ ایک بزرگ، جنہیں عمرانہ خالہ ابھی آگے بھیجنا چاہتی تھیں، خود دو قدم پیچھے ہٹ گئے۔ وہی لڑکا جو ہیلمٹ ہاتھ میں لیے پہلے اندر گیا تھا، واپس پلٹ کر برآمدے کی دیوار سے لگ گیا تاکہ راستہ سیدھا رہے۔ عمرانہ خالہ عین گیٹ کے کنارے رہ گئیں، وہاں جہاں تھوڑی دیر پہلے وہ فیصلہ بانٹ رہی تھیں۔ اب کسی نے ان سے پوچھا تک نہیں۔
مگر وہ ہاری ہوئی زبان بھی ایک بار چلتی ہے۔ “بیٹا، کم از کم ٹوکن تو بعد میں—”
فراز نے ان کی طرف دیکھے بغیر کہا، “جسے آپ نے روکا، اسی کے ہاتھ میں پہلے۔” پھر اس نے خود ٹوکن حنا کی طرف نہیں بڑھایا۔ وہیں رکا۔ انتخاب اس کے ہاتھ میں واپس رکھا۔
حنا نے سلیم کی ہتھیلی سے سبز ٹوکن اٹھایا۔ پلاسٹک ٹھنڈا تھا، کنارے پر سنہری مارکر سے ایک چھوٹا نمبر لکھا تھا، اور اوپر معمولی سا سیاہی کا رگڑا، جیسے جلدی میں کسی قلم نے اسے چھوا ہو۔ اس نے اپنی دوسری ہتھیلی میں وہ چابی دبا لی جو وہ واپس کرنے آئی تھی۔ ایک سیکنڈ کے لیے دونوں چیزیں ساتھ تھیں: پرانی رسائی اور نئی ترجیح۔
“چابی رکھ لیجیے، خالہ،” اس نے کہا، اور چابی میز پر رکھ دی، سب کے سامنے، ایسے نہیں جیسے گزارش ہو، ایسے جیسے حساب بند ہو۔ دھات نے لکڑی سے ٹکرا کر صاف آواز دی۔
عمرانہ خالہ نے ہاتھ بڑھایا مگر دیر سے۔ حنا ان کے آگے نہیں، ان کے سامنے سے گزری۔ رسّی کے اندر بنا ہوا تنگ سا راستہ اب سیدھا گیٹ کے سکینر تک جاتا تھا، جہاں عام طور پر لوگ اپنا سفید ٹوکن دکھا کر رکتے، تصدیق کا انتظار کرتے، پھر اندر جاتے۔ آج سلیم خود سکینر کے پاس جا کھڑا ہوا۔ “راستہ خالی کریں، حنا صاحبہ آئیں گی۔”
اب تک صحن میں صرف روشنی تھی، اب ترتیب بھی تھی۔ سبز ٹوکن ہاتھ میں لیے حنا نے ایک قدم بڑھایا تو دونوں طرف لوگ خود ہٹے۔ کسی نے تالیاں نہیں بجائیں، کسی نے واہ نہیں کی؛ اس سے زیادہ سخت چیز ہوئی—سب نے راستہ مان لیا۔ عمرانہ خالہ کی زری والی آستین رسّی سے چھو کر رہ گئی۔ ان کی گردن تھوڑی سی اٹھی، جیسے کچھ کہنا چاہتی ہوں، مگر سلیم پہلے ہی جھک کر سکینر آن کر چکا تھا۔
فراز اس کے قریب آیا، اتنا کہ اس کی آواز صرف حنا تک پہنچے۔ “آج کے بعد گیٹ پر تمہارا نام کوئی اور نہیں لے گا۔”
حنا نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا، “نام میں نہیں، ترتیب میں یاد رکھنا۔”
پھر اس نے سبز ٹوکن سکینر پر رکھا، گیٹ لین میں قدم رکھا، اور سبز روشنی جل اٹھی۔