Fast Fiction

اس نے سب کے سامنے اپنا نام رکھ دیا

مہرین نے کاؤنٹر پر رکھا مہمانوں کا رجسٹر اپنی طرف کھینچنا چاہا تو حارث نے اس کے ہاتھ کے آگے فہرست اٹھا لی اور خشک آواز میں کہا، “آپ سائیڈ پہ ہو جائیں، یہاں اسٹاف کی انٹری پیچھے سے ہے۔” اس کے پیچھے قطار میں کھڑی عورتوں کے چوڑیوں والے ہاتھ رکے، ایک بچے نے شیشے کے دروازے سے ناک لگا دی، اور کاؤنٹر کے کنارے پر پڑے ٹھنڈے ہوتے چائے کے کپ کے نیچے گول داغ اور گہرا ہو گیا۔ مہرین نے ایک لمحہ بھی سر نہیں جھکایا۔ اس نے اپنا پرس سیدھا رکھا، کاؤنٹر کے سامنے سے ہٹی نہیں، اور کہا، “میرا نام فہرست میں دیکھ لیجیے۔ پھر بتائیے گا میں کس دروازے سے جاؤں۔”

کراچی کے گلشن والے اس شادی ہال کی لابی میں آج صرف مہمان نہیں کھڑے تھے؛ سروس سیکٹر کے لوگ بھی تھے، وہی لوگ جن کے سامنے نام، کام اور رشتہ ایک ہی سانس میں ناپا جاتا ہے۔ مہرین تین سال سے “نقش ایونٹس” کی آپریشنز لیڈ تھی، مگر کاغذوں میں مالک کا نام عدیل کا تھا، اور منیجر کی گردن میں لٹکا کارڈ حارث کے پاس۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا کہ کبھی حارث اور مہرین کی بات چل رہی تھی۔ پھر حارث نے خاموشی سے منگنی کہیں اور کر لی اور اسی خاموشی میں مہرین کے ہاتھ سے دو بڑے پروگرام بھی نکلوا دیے۔ آج کی شادی خالہ شمیم کے دیور کی بیٹی کی تھی؛ کام بھی یہی، خاندان کی نظر بھی یہی۔ اگر وہ اس کاؤنٹر سے ہٹا دی جاتی تو صرف ڈیوٹی نہیں جاتی، چہرہ بھی جاتا۔

حارث نے فہرست کے اوراق پلٹے، دانستہ دیر کی، پھر بلند آواز میں بولا، “مہرین بی بی، آپ کا نام مہمانوں میں نہیں۔ اور آپریشنز کی ہدایت میں بھی نہیں۔ آپ اندر جائیں گی تو مسئلہ ہوگا۔” آخری لفظ وہ اتنا اونچا بولا کہ قطار میں کھڑے دو کیٹرنگ والے لڑکے سیدھے ہو گئے۔ اس نے ساتھ کھڑے نئے لڑکے سعد سے کہا، “ان کا بیج لے لو۔ عارضی تھا ویسے بھی۔” سعد ہچکچایا، مگر حارث نے ہاتھ بڑھا کر خود مہرین کے دوپٹے کے کنارے سے لٹکا کارڈ اتار لیا۔ پلاسٹک کی پٹی اس کی انگلی میں ایک بار اٹکی، پھر چھنک کے ساتھ نکل آئی۔ وہ چھوٹی سی آواز لابی میں ضرورت سے زیادہ صاف سنائی دی۔

خالہ شمیم، جو ابھی اپنی بہنوں کے ساتھ اندر جا رہی تھیں، پلٹ کر رک گئیں۔ ان کی نظر پہلے مہرین کے خالی گلے پر گئی، پھر حارث پر۔ اتنے میں دو عورتوں نے سرگوشی کی، “یہ وہی ہے نا…؟” باقی لفظ ہونٹوں میں دب گیا، مگر کافی تھا۔ مہرین نے محسوس کیا کہ قطار اب صرف قطار نہیں رہی؛ یہ وہ محفل بن گئی ہے جہاں ایک عورت کو ایک ہی دھکے میں “کام والی” اور “چھوڑی ہوئی” دونوں ثابت کیا جا سکتا ہے۔

“تم نے یہ حرکت غلط جگہ کی ہے، حارث،” اس نے آہستہ کہا۔

حارث ہنسا نہیں، بس گردن ذرا جھکائی، جیسے بڑا آدمی چھوٹے مسئلے کو برداشت کر رہا ہو۔ “غلط جگہ؟ یہ میرا کاؤنٹر ہے۔ اور آج مالک کی طرف سے ہدایات میری ہیں۔” اس نے رجسٹر پر پرانی سیاہی والے قلم سے ایک لکیر کھینچی۔ “جو نام نہیں، وہ اندر نہیں۔ جو اختیار نہیں، وہ یہاں نہیں کھڑا ہوتا۔”

قطار پیچھے سے دبنے لگی۔ ایک ماموں قسم کے بزرگ بول اٹھے، “بیٹا، جلدی کرو، نکاح کا وقت ہو رہا ہے۔” حارث نے موقع دیکھا اور رجسٹر بند کرنے لگا، جیسے مہرین کوئی غیر ضروری رکاوٹ ہو۔ مہرین نے فوراً اپنا موبائل نکالا، ایک تصویر کھولی، اور کاؤنٹر پر رکھ دی۔ اس میں اسی صبح کا واٹس ایپ پیغام تھا، عدیل کے نمبر سے: “فائنل گیسٹ فلو مہرین کے مطابق چلے گا۔ وی آئی پی ڈیسک بھی۔” نیچے عدیل کی مختصر صوتی نوٹ کی پٹی تھی۔

حارث نے ایک نظر دیکھی اور ہونٹ سکیڑے۔ “میسج بہت بن جاتے ہیں۔ اصل فہرست یہی ہے۔” اس نے موبائل کو انگلی سے اپنی طرف سے ہٹا دیا، جیسے کوئی رسید بے معنی ہو۔ مگر یہی پہلا شگاف تھا۔ سعد نے ایک بار حارث کی طرف اور ایک بار موبائل کی طرف دیکھا۔ پیچھے کھڑے دو سپلائر ایک دوسرے کے قریب ہو کر سننے لگے۔ خالہ شمیم آگے آ گئیں۔ “عدیل نے بھیجا تھا؟”

“جی، خالہ، صبح سات بج کر بارہ منٹ پر۔” مہرین نے صوتی نوٹ چلائے بغیر اسکرین ان کی طرف کر دی۔ حارث فوراً بولا، “خالہ، یہ کام کی بات ہے، آپ اندر جائیں۔”

“جب کام کی بات ہے تو میں یہی سنوں گی،” خالہ شمیم نے کہا، اور ان کی آواز میں وہ خاندانی وزنی پن تھا جو شادیوں میں میک اپ سے بھی زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔

حارث کے ماتھے پر باریک پسینہ آیا، مگر اس نے ابھی ہارنے کا انداز نہیں اپنایا۔ اس نے کاؤنٹر کے نیچے سے دوسری فائل نکالی، کاغذ کی لپیٹ جیسی خشک آواز لابی میں پھیلی، اور بولا، “یہ آخری فہرست ہے۔ اس پر مالک کے دستخط ہیں۔” اس نے فائل کھول کر سعد کے سامنے رکھی، مگر سامنے اتنا رکھا کہ مہرین نہ دیکھ سکے۔ “پڑھو۔ کس کے سپرد انٹری ہے؟”

سعد نے جھک کر پڑھا۔ اس کی پلکیں ایک بار تیزی سے پھڑکیں۔ “سر… یہاں تو—”

“اونچا پڑھو۔” حارث کی آواز میں زور بڑھا۔

قطار نے خود کو روکا نہیں؛ لوگ اور قریب ہو گئے۔ مہندی والے ہاتھ، موبائل، بچوں کے سر، سب کاؤنٹر کی طرف کھنچے آئے۔ سعد نے دوبارہ دیکھا، پھر کاغذ سیدھا کیا۔ “یہاں لکھا ہے، ‘مرکزی مہمان اندراج اور خاص میزوں کی ترتیب مہرین فاطمہ کی نگرانی میں ہوگی۔’ نیچے… عدیل صاحب کے دستخط ہیں۔” اس نے آخری جملہ ایسے پڑھا جیسے خود اسے یقین نہ آ رہا ہو۔

ایک لمحے میں حارث کی بنائی ہوئی پوری تصویر ڈھیلی پڑ گئی۔ وہی رجسٹر، وہی کاؤنٹر، وہی قطار—صرف مطلب بدل گیا۔ خالہ شمیم نے حارث کے ہاتھ میں پکڑا کارڈ دیکھا، پھر مہرین کے خالی گلے کو۔ “تو تم نے اس کا بیج کیوں اتارا؟”

حارث نے فوراً رخ بدلا۔ “غلط فہمی ہو گئی، بس۔ اتنا مسئلہ بنانے کی ضرورت نہیں۔ مہرین، آؤ، ادھر ایک منٹ—”

“یہیں,” مہرین نے کہا۔ ایک لفظ، مگر اتنا صاف کہ سعد نے فائل بند نہیں کی۔ “اگر غلط فہمی سب کے سامنے ہوئی ہے تو سیدھی بھی یہیں ہوگی۔”

حارث ایک قدم جھکا، آواز نرم کی، وہی پرانا لہجہ جس سے وہ بند دروازوں کے پیچھے بات سنوا لیا کرتا تھا۔ “تم جانتی ہو دباؤ کتنا ہے۔ خالہ بھی کھڑی ہیں، رشتہ دار بھی۔ اسے ذاتی مسئلہ نہ بناؤ۔”

“تم نے بنایا ہے,” مہرین نے جواب دیا۔ “بیج اتار کر، نام کاٹ کر، اور سب کے سامنے مجھے پچھلے دروازے کی چیز بنا کر۔ اب بات صرف طریقۂ کار کی ہوگی۔”

اس نے ہاتھ بڑھایا۔ “رجسٹر دیجیے۔”

حارث نے نہیں دیا۔ اس ایک پل میں اس کا پورا اعتماد نظر آیا—یا شاید باقی ماندہ ضد۔ “تم حد سے بڑھ رہی ہو۔”

“حد تم نے لی تھی جب میرے اختیار پر اپنا نام لکھنے کی کوشش کی۔” مہرین نے سعد کی طرف دیکھا۔ “فائل دوبارہ کھولو۔ وہی سطر سامنے رکھو۔”

سعد نے اس بار فوراً حکم مانا۔ حارث نے اس کی کلائی پکڑنی چاہی مگر دیر ہو گئی۔ کاغذ کھل چکا تھا، اور خالہ شمیم خود سطر پر جھک گئی تھیں۔ ان کے ساتھ دو اور بڑے بھی آ گئے۔ حارث نے پہلی بار کاؤنٹر کے پیچھے والے آدمی کی طرح نہیں، پھنسے ہوئے شخص کی طرح اِدھر اُدھر دیکھنا شروع کیا۔

اسی وقت لابی کے شیشے کے دروازے سے عدیل اندر آیا۔ شاید اوپر سے اترا تھا، شاید کسی نے بلایا تھا؛ مگر اس کے پہنچتے پہنچتے کمرہ پہلے ہی اس کے خلاف مڑ چکا تھا۔ وہ سیدھا کاؤنٹر تک آیا، حارث سے نہیں، مہرین سے پوچھا، “رکاوٹ کہاں ہے؟”

حارث نے فوراً کہا، “عدیل، بس معمولی—”

“میں تم سے نہیں پوچھ رہا،” عدیل نے کاٹ دیا۔ پھر مہرین کی طرف دیکھا۔ اس ایک نظر میں پچھلے مہینوں کی بے ایمانی، خاموشی، اور دیر سے آئی سمجھ سب کچھ تھا، مگر مہرین نے اس میں داخل ہونے کا راستہ نہیں دیا۔

“رکاوٹ یہ ہے کہ میرے نام کی سطر موجود ہے، پھر بھی مجھے عام مددگار کہہ کر ہٹایا گیا، میرا بیج اتارا گیا، اور انٹری روکی گئی،” اس نے صاف کہا۔ “اب فیصلہ بھی یہی ہوگا جہاں یہ سب ہوا ہے۔”

عدیل نے رجسٹر کی طرف ہاتھ بڑھایا، مگر مہرین نے اس سے پہلے اسے خود اپنی طرف کھینچ لیا۔ کاؤنٹر کے کنارے پر پڑی ٹوٹی ٹیپ کی رول، ایک مڑا ہوا لفافہ، اور پرانی سیاہی والا قلم اس کے ہاتھ کے ساتھ سرک گئے۔ اس نے قلم اٹھایا؛ اسی جگہ پر جہاں ابھی تھوڑی دیر پہلے حارث نے لکیر کھینچی تھی، مہرین نے فہرست کھولی اور بلند آواز میں کہا، “مرکزی اندراج اب میرے ہاتھ میں ہوگا۔ سعد، آپ نام پکاریں۔ وی آئی پی قطار دائیں طرف لگے گی۔ جن لوگوں کو حارث نے روکا ہے، ان کی دوبارہ پڑتال پہلے ہوگی۔”

یہ صرف ہدایت نہیں تھی۔ یہ قبضہ تھا۔

قطار میں کھڑے لوگ خود بخود سیدھے ہونے لگے۔ ایک بزرگ جو ابھی شکایت کر رہے تھے، رجسٹر کے قریب آ گئے۔ سعد نے فوراً پہلا نام پڑھا۔ مہرین نے سامنے کھڑی خاتون سے کہا، “آپ کا دعوتی کارڈ؟ جی۔ اندراج کیجیے۔ اندر دائیں ہال۔” اس کی آواز نہ اونچی تھی نہ نرم، بس وہی تھی جو ایسے کاؤنٹر پر اصل اختیار کی ہوتی ہے۔ اس نے اگلا نام خود پڑھا، “شمیم بیگم کے مہمان، دو افراد۔ گزرنے دیجیے۔”

حارث بیچ میں بولا، “ایک منٹ، یہ ترتیب—”

مہرین نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا، “جن کا نام انٹری روکے بغیر پڑھا جا سکتا ہے، وہی کاؤنٹر پر رہیں۔ باقی پیچھے ہٹیں۔”

عدیل نے حارث کے ہاتھ سے لٹکتا بیج لیا، اسے میز پر رکھا، اور کچھ کہنا چاہا۔ مہرین نے اسے بھی نہیں دیکھا۔ “عدیل صاحب، آپ اوپر دلہن والوں کے ساتھ رہیے۔ یہاں عملہ وہی رہے گا جس نے کاغذ پڑھا اور کام سمجھا۔” پھر اس نے سعد کی طرف سر ہلایا۔ “اگلا نام۔”

حارث نے پہلی بار اپنا لہجہ کھو دیا۔ “مہرین، سنو تو—”

اب وہ “آپ” سے “سنو” پر آ چکا تھا، اور یہی اس کی گرتی ہوئی جگہ کا سب سے کھلا نشان تھا۔ مہرین نے رجسٹر بند نہیں کیا، بس اگلا ورق پلٹا۔ “حارث صاحب، اگر آپ مہمان ہیں تو قطار ادھر ہے۔ اگر عملے میں ہیں تو پیچھے کھڑے ہو کر ریکارڈ سیدھا کیجیے۔ مگر کاؤنٹر کے سامنے سے ہٹیے۔ یہاں تاخیر پہلے ہی کافی ہو چکی ہے۔”

اس جملے نے جو کیا، وہ کوئی چیخ نہیں کر سکتی تھی۔ حارث ایک لمحے کو وہیں کھڑا رہ گیا، جیسے اسے یقین نہ آ رہا ہو کہ اسے لائن میں رکھا جا رہا ہے، وہ بھی انہی لوگوں کے سامنے جن کے بیچ اس نے ابھی مہرین کو نیچا دکھایا تھا۔ خالہ شمیم نے اپنا پرس مضبوطی سے بند کیا اور کہا، “میرا نام پڑھو، بیٹا۔ دیر ہو رہی ہے۔” مگر انہوں نے یہ “بیٹا” سعد سے کہا، حارث سے نہیں۔

اب رفتار مہرین کے ہاتھ میں تھی۔ “سعد، پہلے وہ نام جو غلطی سے روکے گئے۔ پھر بزرگوں کی قطار۔ پھر دلہن والوں کے قریبی۔” اس نے ایک نظر فہرست پر ڈالی۔ “اور سنیں سب لوگ—آج اندراج اسی دستخط کے مطابق ہوگا جو فائل میں موجود ہیں۔ کوئی زبانی تبدیلی نہیں چلے گی۔”

یہ اعلان کمرے پر آخری کیل تھا۔ جن لوگوں نے پہلے حارث کی طرف دیکھ کر اپنا رویہ بنایا تھا، اب وہ کاغذ، قلم اور مہرین کی آواز دیکھ رہے تھے۔ ایک لڑکے نے جلدی سے کاؤنٹر کے پاس رسی سیدھی کی۔ ایک اور نے روک دیے گئے کارڈ جمع کر کے اس کی طرف بڑھا دیے۔ حارث کے ہاتھ خالی تھے۔ اس کے پاس نہ فہرست رہی، نہ بیج، نہ وہ اونچی آواز جس سے وہ سارا منظر چلا رہا تھا۔

عدیل نے دھیرے سے کہا، “مہرین، بعد میں دو منٹ—”

اس نے نام پڑھتے ہوئے ہی جواب دیا، “بعد میں نہیں۔ اگر آپ کا نام مہمانوں میں ہے تو اندر جائیے۔ اگر فیصلہ لینا ہے تو لکھ کر دیجیے۔ زبانی بات اب اس کاؤنٹر پر نہیں چلے گی۔” پھر اس نے سامنے کھڑے ایک بزرگ کے کارڈ پر نظر ڈال کر کہا، “جی، آپ کی انٹری مکمل۔ اگلے تین افراد اندر جائیں۔”

لابی کے شیشے میں اندر باہر کی روشنی ایک دوسرے پر چڑھ رہی تھی۔ مہرین نے رجسٹر کا اگلا صفحہ کھولا، پرانے قلم کا نشان اپنی انگلی پر لگنے دیا، اور صاف آواز میں کہا، “خصوصی میزوں کی فہرست میرے پاس رہے گی۔ حارث صاحب کا اندراج آخر میں ہوگا۔ پہلے وہ لوگ جائیں گے جنہیں انہوں نے روکا تھا۔ سعد، ان کے نام ابھی پڑھیں۔” اسی لمحے لابی کے شیشے پر کیمرے کی ایک تیز چمک پڑی، روشنی پھیل کر ایک لمحے کے لیے اس کے ہاتھ، رجسٹر اور کاؤنٹر کے کنارے پر پڑے چائے کے داغ کو ایک ہی سفید بعد از عکس میں بدل گئی۔