Fast Fiction

اصل چلانے والا وہ تھا ہی نہیں

فہد نے صائمہ کے ہاتھ سے ہیڈسیٹ کھینچ کر حارث کے سر پر چڑھا دیا اور ساتھ ہی پیلی چابیوں کا گچھا اس کی ہتھیلی میں دبا دیا۔ ریک لائن کے دونوں سروں پر ٹرالیاں پہلے ہی اٹکی کھڑی تھیں، بارکوڈ لیبل آدھے لٹکے ہوئے، اور کراس لین میں رائیڈرز کے موبائل ایک ساتھ بج رہے تھے۔ صائمہ کا کُھلا ہوا ہاتھ ہوا میں رہ گیا۔ فہد نے سب کے سامنے کہا، “آج لیو آؤٹ حارث چلائے گا۔ تم ہاتھ سے چھانٹی کرو۔ زیادہ عقل مت دو۔”

صائمہ نے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ اس نے اپنی مڑی ہوئی لینیارڈ سیدھی کی، جس پر لگا شناختی کارڈ کناروں سے رگڑ کھا کر نرم پڑ چکا تھا، اور پلاستک کی کرسی کے کونے سے اپنے دستانے اٹھا لیے۔ شام کی ڈسپیچ ونڈو میں دس منٹ کی تاخیر آدھے گودام کو کاٹ دیتی تھی؛ ایک غلط ریلیز کا مطلب رات کی اضافی شفٹ، کرائے کے گھر میں دیر سے پہنچنا، اور کھانے کی میز پر ماموں رشید کی وہی بات: “اتنی محنت کر کے بھی اگر نام نہ بنے تو لڑکی شہر میں کیا کر رہی ہے؟” صائمہ نے پاس کھڑی ٹرالی کو پاؤں سے سیدھا کیا اور ٹھنڈے لہجے میں کہا، “ٹھیک ہے۔ پھر غلط لیبل بھی میں نہیں سنبھالوں گی۔ جو دے رہے ہو، اسی سے چلاؤ۔” فہد نے طنزیہ ہنسی سے اسے راستے سے ہٹنے کا اشارہ کیا، جیسے لین بھی اسی کی جاگیر ہو۔

حارث نے ہیڈسیٹ میں پہلا راستہ بولا اور وہیں پھسل گیا۔ “بلاک بی سے تین کارٹن، رائیڈر سات—” مگر رائیڈر سات تو کراس لین میں کھڑا ہی نہیں تھا؛ وہ پندرہ منٹ پہلے نکل چکا تھا۔ غلط ریلیز سن کر پچھلی شیلف سے دو مزدور بیک وقت ایک ہی ٹرالی دھکیل لائے۔ اگلے لمحے تنگ گزرگاہ میں چار پہیوں کی چرچراہٹ ایک دوسرے میں پھنس گئی۔ “روٹ چیک!” کسی نے زور سے پکارا۔ “سی ون کہاں بھیجا ہے؟” دوسری طرف سے آواز آئی۔ فہد نے فوراً گردن گھما کر صائمہ کی طرف دیکھا، گویا بھرا ہوا گودام اسی نے جام کیا ہو۔

اسے ہاتھ سے چھانٹی پر لگا دیا گیا تھا، مگر کام ایسا کہ ناکامی اسی کے سر آئے۔ وہ ریک کے درمیان جھک جھک کر لیبل سیدھے کرتی رہی؛ ایک پر کورنگی لکھا تھا مگر اندر نارتھ ناظم آباد کی رسید، دوسرے پر نقد ادائیگی کی مہر غائب۔ حارث اوپر سے نام پکارتا رہا، بے ترتیب، بغیر ترتیب کے۔ دو رائیڈر خالی بکسوں پر بیٹھ کر بڑبڑا رہے تھے کہ اگر یہ کھیپ مزید رکی تو رات کے پٹرول کے پیسے ان کی جیب سے جائیں گے۔ شفقت آپا، جو پیکنگ سائیڈ سے کراس لین دیکھ رہی تھیں، آہستہ سے صائمہ کے پاس آئیں اور صرف اتنا کہا، “وہ تمہیں کرسی سے دور رکھ کر اپنی عزت بچا رہا ہے، فلور نہیں۔”

فہد نے سن لیا۔ اس نے زور سے کہا، “کرسی کی بات نہ کرو۔ جسے سسٹم دیا جاتا ہے، وہی چلاتا ہے۔” پھر اس نے حارث کے کندھے پر ہاتھ رکھا، وہی بناؤٹی شفقت جس سے وہ اپنے پسندیدہ بندوں کو آگے کرتا تھا۔ “گھبرا نہیں۔ آواز اونچی رکھ۔” حارث نے اونچی آواز رکھی، مگر سمجھ نہیں۔ اس نے ایک ہی محلے کے پانچ پارسل تین مختلف راستوں میں توڑ دیے۔ سامنے شیلف سے غلط کارٹن نیچے اترا، پیچھے والی ٹرالی رکی، پھر تیسری۔ ریک لائن سانس لینے والی مشین کی طرح ہچکیاں لینے لگی۔

صائمہ نے دو لیبل ایک ساتھ پھاڑے، نئے لگائے اور بغیر اوپر دیکھے کہا، “کورنگی کلسٹر ایک ساتھ چھوڑو، مخلوط مت کرو۔” حارث نے اسے سنا بھی، مگر فہد پہلے بول اٹھا، “تمہیں جو کہا ہے وہ کرو۔ حکم دینا بند کرو۔” اسی لمحے ایک رائیڈر نے اپنے فون پر کسٹمر کی چیخ سپیکر پر لگا دی؛ “شادی کا جوڑا ہے، آج نہ پہنچا تو ریفنڈ نہیں، بددعا ملے گی!” آس پاس کھڑے لڑکوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ کراچی کے اس سروس سیکٹر میں ہر پارسل صرف کارٹن نہیں ہوتا تھا؛ کسی کی مہندی، کسی کی دوائی، کسی کی قسط کا فون، کسی کی عزت۔

لین نے اگلا جھٹکا تب کھایا جب حارث نے ریٹرن والا کارٹن آؤٹ باؤنڈ میں چھوڑ دیا۔ اسکینر نے تیز خرابی کی آواز دی، اور ساتھ ہی کراس لین کے آخری سرے پر دو ٹرالیاں ناک سے ناک ملا کر اٹک گئیں۔ ایک بھاری کارٹن کنارے سے پھسلا اور زمین پر گرا؛ اندر کی پلاسٹک بوتلیں ٹوٹنے سے بچ گئیں مگر رسیلا شربت ڈبے کے کونے سے رسنے لگا۔ فہد ایک قدم پیچھے ہٹا۔ غلطی اتنی نمایاں تھی کہ اب صرف آواز سے چھپ نہیں سکتی تھی۔

صائمہ سیدھی ہوئی۔ اس نے دستانہ اتارا، دو قدم میں کنٹرول اسٹیشن تک پہنچی، اور حارث کے ہاتھ سے چابیوں کا گچھا یوں لے لیا جیسے کسی بچے کے ہاتھ سے چاقو کھینچا جاتا ہے۔ حارث نے مزاحمت کی کوشش بھی نہیں کی؛ اس کی انگلیاں پہلے ہی پسینے سے گیلی تھیں۔ “رائیڈر بارہ روکو۔ کورنگی، گلزار، لانڈھی الگ قطار۔ ریٹرن پیچھے۔ سی ون بند۔” صائمہ نے ہیڈسیٹ کے بغیر اونچی، صاف آواز میں حکم دیا اور ساتھ ہی خود پہلی ٹرالی کو بازو سے موڑ کر درست گزرگاہ میں ڈال دیا۔ سب نے دیکھا۔ فہد نے بھی۔

ایک لمحہ وہی تھا جس میں کمرہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ کس کی بات وزن رکھتی ہے۔ پیچھے سے دو مزدور فوراً حرکت میں آئے۔ “کورنگی الگ!” ایک نے دہرایا۔ “ریٹرن پیچھے!” دوسرے نے پکڑا۔ شفقت آپا نے لال مارکر سے غلط لیبل پر سیدھی لکیر ماری اور نئے کارٹن صائمہ کی طرف سرکا دیے۔ رائیڈر جو ابھی تک منہ بنا رہے تھے، اب اپنے فون جیب میں ڈال کر اس کے اشارے کی سمت دیکھنے لگے۔ فہد نے کچھ کہنا چاہا مگر صائمہ نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا، “بولنا ہے تو محلہ صحیح بولیں، ورنہ راستے سے ہٹیں۔”

اب لین اس کے ہاتھ میں آ رہی تھی، مگر قیمت بڑھ رہی تھی۔ ہر درست حکم پچھلی غلطیوں کو اور ننگا کر رہا تھا۔ “لانڈھی ایک ہی ٹرالی میں، دو میں نہیں!” صائمہ نے بائیں طرف آواز پھینکی۔ “نقد ادائیگی والے اوپر، اسکین کے بغیر کوئی باہر نہیں!” دائیں طرف سے جواب آیا، “ہو گیا!” اس نے ایک کارٹن اٹھا کر خود کھولا، اندر سے غلط رسید نکالی، درست رسید مڑی ہوئی جیب سے نہیں بلکہ شیلف کے پچھلے سلاٹ سے نکلوائی جہاں صرف وہ جانتی تھی کس شفٹ نے کیا چھپایا تھا۔ حارث اب ہیڈسیٹ کے بغیر، خالی ہاتھ، پلاستک کی کرسی کے کنارے کھڑا تھا۔ کرسی اس کے نیچے نہیں، پیچھے رہ گئی تھی۔

فہد کی انا ابھی پوری نہیں ٹوٹی تھی۔ وہ تیز قدموں سے آیا، صائمہ کے ہاتھ سے چابیاں لینے کو بڑھا اور بولا، “بس، اب میں چلاتا ہوں۔ تم نے کافی تماشا کر لیا۔” اسی وقت کراس لین کے سرے سے ماموں رشید کی کال اس کے فون پر چمکی؛ اس نے صبح ہی کہا تھا کہ آج جلدی آنا، لوگ گھر دیکھنے آنے والے ہیں۔ فہد کی نگاہ اس روشن اسکرین پر گئی، پھر صائمہ کے چہرے پر، اور وہی پرانا حقارت بھرا وزن اس کی آواز میں لوٹا، “گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہو یا نہ ہو، یہاں فیصلہ میں کروں گا۔”

صائمہ نے پہلی بار سیدھا اس کی طرف دیکھا۔ “یہاں آپ نے کیا کیا ہے، سب کے سامنے ہے۔” اس نے چابیاں اپنی مٹھی میں بند رکھیں اور اگلا راستہ پکارا، “رائیڈر نو، صرف گلشن۔ باقی کھڑے رہیں۔” رائیڈر نو فوراً اپنی ٹرالی لے کر نکل گیا۔ اس ایک درست ریلیز کے بعد پچھلی تین ٹرالیاں بھی کھل گئیں، جیسے بند نالی میں ایک پتھر ہٹا ہو۔ مگر ساتھ ہی اگلے ریک کے اوپر سے اطلاع آئی کہ اگر ایک اور غلط کارٹن نکل گیا تو پورا آؤٹ باؤنڈ بیچ واپس کھلے گا۔ فہد کا رنگ ذرا بیٹھا۔ اب مسئلہ عزت سے بڑھ کر تباہی تھا۔

“ہیڈسیٹ دو اسے!” شفقت آپا نے کڑک کر کہا۔ اس لہجے میں عمر، تجربہ اور فلور کی تھکن ایک ساتھ تھیں۔ فہد نے انہیں نظرانداز کرنا چاہا، مگر اسی لمحے اسکینر نے دوبارہ خرابی چیخی؛ حارث نے گھبراہٹ میں غلط بٹن دبا دیا تھا اور پوری ریک لائن پر زیر التوا آرڈروں کی سرخ فہرست جھلملا اٹھی۔ ایک غلط ریلیز اور سب کچھ واپس شیلف پر۔ حارث نے ہیڈسیٹ اتار دیا، جیسے وہ جل رہا ہو۔ اس نے وہ فہد کی طرف بڑھایا، مگر فہد نے ہاتھ نہیں بڑھایا۔ اس کا گلا خشک ہو گیا تھا۔

یہ وہ کنارہ تھا جہاں ضد اپنا خرچ دکھاتی ہے۔ فہد نے آخرکار صائمہ کی طرف دیکھا، مگر بات سے نہیں بچا۔ سب کے سامنے، اسی تنگ لین میں، اس نے اپنی کمر سے بندھا ماسٹر چابیوں کا اصل گچھا کھولا، پھر ہیڈسیٹ حارث سے لے کر صائمہ کی طرف بڑھایا۔ اس کا ہاتھ آدھا لمحہ ہوا میں رکا، جیسے ابھی بھی اختیار چھوڑنے میں جسم انکار کر رہا ہو۔ “لو۔ تم کرو۔ ابھی۔” الفاظ چھوٹے تھے، مگر ان میں شکست کی بدبو صاف تھی۔

صائمہ نے اس سے ہیڈسیٹ لیا، پھر دوسرا گچھا بھی۔ اس نے اپنے مڑے ہوئے لینیارڈ کے ساتھ چابیاں جوڑیں؛ دھات کی ہلکی جھنکار کراس لین میں سنائی دی۔ اس نے ہیڈسیٹ کان پر رکھا اور بغیر ایک لفظ ضائع کیے بولا، “تمام رائیڈر سنیں۔ صرف تصدیق شدہ بوجھ نکلے گا۔ کورنگی لائن ایک، لانڈھی لائن دو، گلشن لائن تین۔ ریٹرن روک دو۔ سی ون دوبارہ نہ کھلے جب تک میں نہ کہوں۔” آواز نہ بہت بلند تھی نہ ڈرائی ہوئی؛ بس ایسی جو مشین کو سمجھ آتی ہے۔

حرکت فوراً بدلی۔ بائیں ریک سے دو کارٹن نیچے آئے، مگر اب سیدھے درست ٹرالی میں۔ دائیں طرف والا مزدور، جو پہلے فہد کے ایک اشارے پر ادھر ادھر بھاگ رہا تھا، اب صرف صائمہ کے ہاتھ کے مختصر اشارے پر مڑتا۔ شفقت آپا نے رسیدوں کی گڈمڈ گڈی کو تین صاف ڈھیروں میں توڑا۔ رائیڈر بارہ، جو ابھی تک چیخ رہا تھا، خاموشی سے اپنی قطار میں آ کھڑا ہوا۔ حارث نے ایک بار کچھ بولنے کو ہونٹ کھولے، مگر سامنے سے صائمہ کی اگلی کمانڈ آ گئی: “شربت والا کارٹن الگ کرو، ویڈیو بناؤ، دعویٰ نشان زد۔ باقی بوجھ نہ روکو۔” نقصان چھپا نہیں، سنبھالا گیا۔ یہی فرق تھا۔

فہد اب راستے کے عین بیچ کھڑا نہیں رہ سکا۔ اسے خود ایک طرف ہونا پڑا تاکہ ٹرالی گزر سکے۔ اس کا بازو شیلف سے رگڑا اور قمیص کی آستین پر گرد کی لکیر لگ گئی۔ کسی نے اس کی طرف دیکھا بھی نہیں؛ یہی سب سے کڑی ذلت تھی۔ صائمہ کے ایک ایک حکم سے لین کھلتی گئی، اور ہر کھلتی جگہ فہد کو چھوٹا کرتی گئی۔ وہی آدمی جو ابھی تھوڑی دیر پہلے کرسی بانٹ رہا تھا، اب اپنی ہی دی ہوئی رکاوٹوں سے بچنے کو دیوار سے لگ رہا تھا۔

“آخری بیچ، آؤٹ باؤنڈ بند ہونے سے پہلے نکالو۔” صائمہ نے کہا۔ “رائیڈر سات نہیں، گیارہ۔ سات جا چکا۔” غلط نام درست ہوتے ہی آخری بڑی ٹرالی مڑی اور جَام کے مرکز سے نکل گئی۔ اس کے پیچھے دو اور۔ سرخ فہرست ایک ایک کر کے سبز ہوتی گئی۔ کراس لین میں مشینوں کی مسلسل ہمنگ اب ہچکی نہیں لے رہی تھی؛ بہاؤ میں آ گئی تھی۔ صائمہ نے آخری بار دائیں طرف دیکھا، “گلزار والا چھوڑو۔ اب۔”

پارسل نکلا، دروازے کی طرف گیا، اور اندر رہ گئی صرف وہ ہلکی دھاتی جھنکار جو اس کی لینیارڈ سے لگے گچھے میں ابھی تک تھر تھرا رہی تھی۔ صائمہ نے آپریشنز کراس لین میں قدم جما کر آخری صاف ڈسپیچ کال دی، ہیڈسیٹ کان سے اتارا، بٹن دبایا۔ کلک ہوا۔ چابیاں اس کے ہاتھ میں آ کر ساکن ہو گئیں، جھنکار رک گئی، اور چینل صاف ہو گیا۔