یہ نقصان ہمیں جدا نہ کر سکا
سائرہ نے گرم دیگچی کے نیچے سے گیلا کپڑا کھینچ کر چولہے کی لپکتی آنچ پر دے مارا تو تیل کی چھینٹ ایک دم سسکاری لے کر بجھ گئی، اور اُس کے ہاتھ میں پھنسا آدھا تہہ کیا ہوا رسید کا پرزہ بھاپ سے نم ہو کر چپک گیا۔ “ارے!” ندا پیچھے ہٹی، مگر ماہم خالہ کی آواز پہلے آئی، “تمہیں ہر چیز میں ہاتھ ڈالنے کی کیا جلدی ہوتی ہے؟ یہ گھر ہے، تمہارا تربیتی کاؤنٹر نہیں۔”
باورچی خانے کے دروازے پر دو پھپھیاں اور ایک ہمسائیہ کھڑی تھیں، جیسے کسی کی غلطی کی باقاعدہ گواہ۔ سائرہ نے ہاتھ کھینچ لیا۔ انگلیوں پر لال تپش چڑھ رہی تھی، مگر اُس نے دیگچی سیدھی کر کے بس اتنا کہا، “تیل پکڑ لیتا تو پردہ بھی لگ جاتا آگ سے۔” یہ بات ندا کے لیے تھی، جو نئے دوپٹے کے کنارے کو دیکھ کر پیلی پڑ گئی تھی، مگر جواب ماہم خالہ نے دیا، “بڑی عقل مند بنی پھرتی ہے۔ دو مہینے کال سینٹر کی تربیت کیا کر لی، اب ہر ہنگامہ اسی نے سنبھالنا ہے۔”
سائرہ نے اپنی گھسی ہوئی شناختی ڈوری گردن سے نکال کر ہتھیلی میں لپیٹ لی۔ اُس پر کمپنی کا بیج کونے سے مڑ چکا تھا۔ کراچی کی بسوں میں روز رگڑ کھا کر ویسا ہی ہو گیا تھا جیسا وہ خود—استعمال میں، مگر قابلِ ذکر نہیں۔ یہ گھر اُس کا اپنا نہیں تھا؛ امی نیچے والے پورشن میں کرائے پر رہتی تھیں، اور اوپر حمزہ کے گھر والوں کو پہلے ہی معلوم تھا کہ آنا جانا ہے، بات چل رہی ہے، مگر بات ابھی “گھر والوں اور دوستوں کو پتہ” والی حد سے آگے نہیں بڑھی۔ ایسی حد میں لڑکی جلے ہوئے کپڑے بچا بھی لے تو نام اُس کا نہیں لیا جاتا، صرف حد یاد دلائی جاتی ہے۔
حمزہ دسترخوان کے کمرے سے اندر آیا، ایک لمحے کو اُس کی نظر سائرہ کی انگلیوں پر ٹھہری، پھر ماہم خالہ کی طرف۔ “کیا ہوا؟” اُس نے پوچھا۔
“کچھ نہیں،” ماہم خالہ نے فوراً کہا، “ہم سنبھال لیتے۔ اسے کہو مہمانوں کے سامنے باورچی خانے میں دوڑنے کے بجائے باہر بیٹھا کرے۔”
سائرہ نے وہ “ہم” اپنے کان میں چبھتے محسوس کیا۔ اگر وہ ایک سانس دیر کرتی تو ندا کا دوپٹہ اور پردہ دونوں جل جاتے، مگر اب واقعہ ماہم خالہ کی ملکیت تھا، اور غلطی بھی۔ حمزہ نے کچھ نہ کہا۔ بس فریج سے برف نکالی، پلیٹ پر رکھی، اور بغیر ماہم خالہ کی آنکھوں میں دیکھے پلیٹ سائرہ کی طرف بڑھا دی۔ “ہاتھ رکھ دو۔”
یہ بات اتنی چھوٹی تھی کہ کوئی اعلان نہیں بنی، مگر ماہم خالہ کا منہ ذرا سا سخت ہوا۔ سائرہ نے برف لی۔ پہلی بار اُس شام کسی نے نقصان کی قیمت اُس کے ہاتھ پر رکھی تھی۔
مغرب کے بعد جب اوپر والے کمرے میں مہمان بیٹھ گئے اور پلاؤ کی خوشبو گھر میں بھر گئی، ماہم خالہ نے کام بانٹتے ہوئے صاف حساب رکھا۔ “ندا، تم بس چائے کے کپ رکھ دو۔ باقی گرنے ٹوٹنے کا ڈر ہے۔ سائرہ، تم پلیٹیں دھو کر دوسرا سیٹ نکالو، پھر چھت سے اضافی کرسیاں بھی لے آنا۔ اور ہاں، نیچے سے برف کی تھیلی بھی۔ حمزہ، بیٹا، تم مہمانوں کے پاس بیٹھو۔”
یہ “بیٹا” نرم تھا، “سائرہ” کاموں کی قطار۔ دسترخوان کے پاس ایک پلاسٹک کرسی کا کونا خالی تھا، جس پر وہ بیٹھ سکتی تھی اگر اُسے انسان سمجھا جاتا، مگر وہاں ایک کزن نے پرس رکھ دیا۔ سائرہ نے کچھ نہیں کہا۔ پلیٹوں کے جھاگ میں انگلیاں دوبارہ جلنے لگیں۔ ندا ایک بار آئی، آہستہ سے بولی، “میں کر دیتی ہوں۔” ماہم خالہ نے پیچھے سے ٹوک دیا، “تمہاری منگنی سر پر ہے، ہاتھ خراب نہیں کرنے۔”
سائرہ نے پلٹ کر حمزہ کو دیکھا۔ وہ مہمانوں کے درمیان بیٹھا مسکرا رہا تھا، مگر پوری طرح نہیں؛ جیسے کندھوں پر دو مختلف گھروں کا وزن رکھا ہو اور وہ سیدھا بیٹھنے کی مشق کر رہا ہو۔ اُس نے سائرہ کی طرف دیکھا بھی، مگر نگاہ فوراً پھسل گئی۔ سائرہ نے اسٹیل کی تھالی زور سے رگڑی۔ صابن کے بلبلے چمکے اور پھٹ گئے۔ دل میں جو بات اٹھی، اُس نے وہ بھی وہیں بلبلے کی طرح دبا دی۔ جس رشتے کو ابھی صرف معلوم ہونا نصیب ہو، اُس کے حق میں کوئی کیوں بولے؟
رات کچھ اور گھنی ہوئی تو مصیبت ایک ساتھ گری۔ چھت سے لائی گئی پلاسٹک کی ایک کرسی مہمان کے وزن سے بیچ سے بیٹھ گئی، ٹانگ ٹوٹی، اور ساتھ رکھی شربت کی بڑی بالٹی اُلٹ کر زینے کے دہانے تک بہہ گئی۔ سرخ شربت، برف، شیشے کے دو گلاس، اور بچوں کی چیخیں۔ ماہم خالہ نے سب سے پہلے سائرہ کا نام پکارا، “میں نے کہا تھا نا جلدی مچاتی ہے! ذرا دیکھ کر نہیں لا سکتی تھی؟”
سائرہ پہلے ہی بھاگ چکی تھی۔ اُس نے ایک بچے کو بازو سے کھینچ کر پھسلن سے دور کیا، پھر ٹوٹے شیشے کے سامنے پاؤں جما کر کھڑی ہو گئی کہ کوئی چڑھتے اترتے کٹ نہ جائے۔ نیچے سے امی کی آواز آئی، “کیا گرا؟” اوپر مہمان دروازوں سے جھانکنے لگے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب کوئی ایک شخص اُس کی طرف سے کہہ سکتا تھا کہ کرسی پہلے سے کچی تھی، مگر حمزہ خاموش کھڑا رہا۔ ماہم خالہ نے اس خاموشی کو اپنے حق میں لکھ لیا۔ “جھاڑو، پوچا، بالٹی! اور کسی کو اوپر آنے مت دینا۔”
سائرہ نے جھک کر شیشہ سمیٹنا شروع کیا۔ سرخ شربت اُس کے بازو تک چپک رہا تھا۔ تب حمزہ نے اچانک مہمانوں کے کمرے کا پردہ کھینچ کر آدھا گرا دیا اور دروازے کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ “بچوں کو اِدھر نہ آنے دیں،” اُس نے اونچی آواز میں کہا، پھر جھاڑو سائرہ کے ہاتھ سے لے کر خود شیشے کے بڑے ٹکڑے ایک طرف کرنے لگا۔ ماہم خالہ نے تیکھی نظر ڈالی، “تم یہ کام کرو گے؟ لوگ بیٹھے ہیں۔”
حمزہ نے جواب میں صرف اتنا کیا کہ اپنے جوتے اتار کر گیلی زمین پر قدم رکھ دیے اور ٹوٹی کرسی کو ایک طرف گھسیٹ کر راستہ بند کر دیا۔ اب شیشہ، پھسلن، شرمندگی—سب کے بیچ وہ بھی موجود تھا۔ سائرہ ایک لمحہ کے لیے سیدھی ہوئی۔ اُس کی سانس کانپ رہی تھی، مگر پہلی بار اُس کی تنہائی مکمل نہیں تھی۔
وہ لمحہ زیادہ دیر مہلت نہ دے سکا۔ ماہم خالہ نے ندا کو اندر بھیجا، پھر خود زینے کے دروازے پر آ کھڑی ہوئیں، جہاں اوپر والا گھر اور نیچے والا حصہ صاف الگ دکھتا تھا۔ “حمزہ، تم نیچے جاؤ، کپڑے بدلو، پھر واپس آ کر لوگوں کے پاس بیٹھو۔” اُن کی نظر سائرہ پر پڑی۔ “اور تم، اپنا کام کر کے سیدھی نیچے۔ ہر جگہ ساتھ ساتھ نظر آنا مناسب نہیں لگتا۔ لوگ پہلے ہی بہت کچھ سمجھتے ہیں۔”
یہ جملہ زور سے نہیں کہا گیا، اسی لیے زیادہ کاٹ گیا۔ زینے کا دہانہ تنگ تھا، ایک طرف گیلا فرش، دوسری طرف دیوار۔ حمزہ اگر ایک قدم پیچھے ہٹتا تو سب کچھ پرانے حساب میں واپس چلا جاتا: وہ مہمانوں کے پاس، سائرہ گندگی میں، اور تعلق پھر وہی جسے سب جانتے تو ہوں مگر کوئی قیمت نہ دیتے۔ سائرہ نے جھک کر پوچے والی بالٹی کا دستہ پکڑا۔ “میں نیچے لے جا رہی ہوں،” اُس نے کہا، نہ ماہم خالہ سے اجازت میں، نہ حمزہ سے مدد مانگ کر۔ “سیڑھیوں تک شربت گیا ہے۔ ابھی صاف نہ ہوا تو صبح تک چیونٹیاں بھر جائیں گی۔”
ماہم خالہ نے فوراً راستہ بنایا، مگر جانے کے لیے سائرہ اکیلی ہو۔ “حمزہ، تم رہو۔ میں ناصرہ کو بھیج دیتی ہوں نیچے سے۔”
سائرہ نے بالٹی اٹھانے کی کوشش کی۔ شربت ملا پانی بھاری تھا، دستہ ہاتھ میں دھنس گیا، اور ایک لہر کنارے سے باہر آئی۔ وہ اکیلی اٹھا سکتی تھی، شاید۔ اُسی طرح جیسے بہت سی باتیں اکیلی اٹھاتی آئی تھی۔ مگر اس بار اُس نے بالٹی چھوڑنے کے بجائے اور مضبوط پکڑی، جیسے اپنے حصے کی ذلت کا نام لے رہی ہو۔
حمزہ نے ایک قدم ماہم خالہ کے برابر سے آگے رکھا۔ “ناصرہ خالہ مہمانوں کے ساتھ ہیں۔” اُس نے جھک کر دوسرا دستہ پکڑ لیا۔ ماہم خالہ کی آواز نیچی مگر کڑی ہوئی، “میں نے کہا نا، تم اوپر رہو۔”
“اوپر لوگ بیٹھے رہیں گے،” حمزہ نے پہلی بار اُن کی طرف دیکھ کر کہا، “یہ ابھی صاف ہوگا۔”
نہ اعلان، نہ ضد کی نمائش۔ بس زینے کے اس دہانے پر اُس نے اپنی جگہ بدل دی۔ اب وہ اوپر والوں کے ساتھ منہ دکھانے والی صف میں نہیں تھا؛ وہ سائرہ کے ساتھ گندی بالٹی کے پاس تھا۔ ماہم خالہ دو سانس تک انہیں دیکھتی رہیں، جیسے حساب گڑبڑا گیا ہو۔ پھر ایک طرف ہٹ گئیں، مگر ہٹنا بھی شکست کی طرح نہیں، چبھن کی طرح تھا۔
نیچے کی سیڑھیاں سرخ دھبوں سے چپک رہی تھیں۔ سائرہ آگے، حمزہ ساتھ۔ دونوں ایک ہی بالٹی کے دو دستوں سے بندھے ہوئے۔ امی نے نیچے سے دروازہ کھولا تو اُن کے ہاتھ میں دیر سے لوٹائی گئی چابی تھی؛ شاید اوپر والوں نے صبح مانگی تھی، ابھی واپس آئی تھی۔ امی نے چابی ایک طرف رکھی، نظر دونوں کے ہاتھوں پر ٹھہری، مگر انہوں نے کچھ نہ پوچھا۔ بس خاموشی سے پرانا پوچا، ایک خالی ٹب اور واشنگ پاؤڈر سرکا دیا۔
اصل گندگی اب شروع ہوئی۔ شربت صرف زینے پر نہیں گرا تھا؛ دیوار کے کونے، ریلنگ کے نیچے، اور دوسرے موڑ تک پھیل گیا تھا جہاں بچوں کے جوتوں نے اسے چپچپا کیچڑ بنا دیا تھا۔ اوپر سے مہمانوں کے قدموں کی مدھم آہٹ آتی رہی۔ کوئی پوری طرح نیچے نہ اترا، مگر سب کو معلوم ہو سکتا تھا کہ کون صفائی کر رہا ہے۔ سائرہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ریلنگ کے نیچے کپڑا گھماتی، حمزہ اوپر سے صاف پانی لا کر بالٹی بدلتا۔ ایک بار اُس نے سائرہ کے جلتے ہاتھ کی طرف دیکھا اور بے آواز اپنی آستین سے دستے کے اوپر لپیٹ دی تاکہ لوہا سیدھا اُس کی ہتھیلی میں نہ کٹے۔ سائرہ نے روکا نہیں۔
دوسرے چکر میں ماہم خالہ خود زینے کے سرے پر آ کھڑی ہوئیں۔ “بس ہو گیا تو چھوڑ دو، صبح ملازمہ آ جائے گی۔” اُن کے لہجے میں اب حکم کم، بچاؤ زیادہ تھا۔ اوپر والے دو رشتے دار پیچھے سائے کی طرح کھڑے تھے۔ اگر یہ کام ابھی چھوڑ دیا جاتا تو داغ صبح تک پکا رہتا، اور قصہ بھی۔ سائرہ نے گردن اٹھائے بغیر کہا، “صبح تک بدبو آ جائے گی۔” پھر اُس نے بالٹی اپنی طرف کھینچی، دستہ سیدھا کیا اور اگلا کپڑا اس میں ڈبو دیا۔
یہی اُس کا آخری موقع تھا پیچھے ہٹنے کا، اور یہی اُس کا انکار۔ حمزہ نے کچھ کہنے کے بجائے بالٹی کو اُس کے ہاتھ سے چھیننے کی کوشش نہیں کی۔ وہ دوسری طرف سے جھکا، دونوں ہاتھوں سے ایک ہی بالٹی اٹھائی، اور اگلے موڑ تک ساتھ لے گیا۔ اب یہ مدد نہیں تھی، نہ عارضی ترس۔ یہ صاف دکھنے والا بوجھ تھا، دونوں کے بیچ تقسیم شدہ۔
اوپر والے موڑ پر شربت کا گاڑھا حلقہ تھا جہاں ٹوٹے گلاس کے باریک ذرے اب بھی چمک رہے تھے۔ سائرہ نے اپنا دوپٹہ کندھے سے سمیٹا، ننگی انگلیوں سے کپڑا نچوڑا اور نیچے بیٹھ گئی۔ حمزہ اُس کے برابر بیٹھا، اس بار فاصلہ رکھ کر نہیں۔ اُس نے ہاتھ آگے بڑھا کر کپڑا دیوار کے کونے میں ٹھونس دیا جہاں سائرہ کی پہنچ کم تھی۔ دونوں کے ہاتھ ایک لمحہ ایک ہی گیلا کپڑا پکڑے رہے۔ اوپر کھڑی ماہم خالہ نے منہ کھولا، شاید کچھ کہنا تھا، پھر بند کر لیا۔ گواہ اتنے کافی تھے کہ مزید الفاظ الٹے پڑتے۔
صفائی میں وقت لگا۔ پوچے کا پانی تین بار بدلا، دو بار ریلنگ دھلی، ایک بار ندا خاموشی سے نیچے آ کر کچرے کا لفافہ رکھ گئی اور فوراً اوپر لوٹ گئی۔ کسی نے تعریف نہیں کی۔ کسی نے معافی نہیں مانگی۔ مگر اوپر والے کمرے سے دو بار بچوں کو روکا گیا کہ “اِدھر مت جاؤ، گیلا ہے”، اور دونوں بار “وہ صاف کر رہے ہیں” کہا گیا، “وہ” میں پہلی بار سائرہ اکیلی شامل نہیں تھی۔
آخری داغ دوسرے موڑ کے پاس تھا، جہاں دیوار میں نمی کی پرانی لکیر پہلے سے موجود تھی۔ سائرہ نے کپڑا زور سے پھیرا، پھر سیدھی ہوئی۔ کمر میں درد تھا، ہاتھ میں جلتی ہوئی دھڑکن۔ حمزہ نے خالی ٹب ایک طرف رکھا، بھری بالٹی اُس کی طرف سرکائی۔ اوپر ابھی بھی روشنی تھی، نیچے امی کے کمرے سے ہلکی ہلدی اور صابن کی ملی بو آ رہی تھی۔ گھر ویسا ہی تھا، لوگ بھی۔ بس اب ان کے درمیان جو کچھ تھا، وہ صرف جانا ہوا نہیں، اٹھایا ہوا بھی تھا۔
سائرہ نے پہلے دستہ پکڑا اور ایک سیڑھی اوپر کے موڑ تک بالٹی کھینچ لائی۔ وہاں رکی، اسے اپنے اور حمزہ کے درمیان رکھا۔ حمزہ نے بغیر پوچھے دوسرا دستہ تھام لیا۔ دونوں ایک ہی سیڑھی کے موڑ پر ٹھہر گئے۔ بالٹی بیچ میں تھی، دھاتی دستوں کی ہلکی جنبش چند سانسوں میں آہستہ ہوئی، پھر بالکل ساکت۔