Fast Fiction

لکیر جلی مگر ٹوٹی نہیں

“دروازہ بند رکھو، اور حارث، تم یہیں ٹھہرو۔”

مہرین نے فلیٹ کے آدھے کھلے دروازے کو کندھے سے روکے رکھا، ہاتھ میں چابیاں تھیں اور آستین کے کنارے ایسے مڑے ہوئے جیسے پورا دن کسی کاؤنٹر پر جھکی رہی ہو۔ اندر کھانے کی میز لگ چکی تھی۔ خالہ نسرین نے پیچھے سے جھانک کر حارث کی طرف دیکھا اور بےتکلفی سے کہا، “بیٹا، ذرا نیچے سے برف اور کولڈ ڈرنک لے آؤ۔ دانش تو ویسے بھی دیر سے آئے گا۔” پھر مہرین کی طرف مڑ کر آواز نیچی کی، “اور اسے اندر کھڑا نہ رکھو، لوگ آ جا رہے ہیں۔”

حارث کے ہاتھ میں ہیلمٹ تھا، دوسرے ہاتھ میں وہ فائل جسے وہ مہرین کے دفتر سے لیتا آیا تھا۔ دو مہینے سے یہی چل رہا تھا۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا کہ حارث آتا جاتا ہے، کام بھی نکلوا دیتا ہے، بینک کی لائن بھی لگوا دیتا ہے، لیکن اس کا درجہ ہمیشہ وہی رہتا—دروازے کے باہر والا آدمی۔ جتنا قریب صرف اتنا، جتنا گھر کو سہولت دے۔

مہرین نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا، “فائل دے دیں۔ اور پیسے یہ لے جائیں۔” اس نے نوٹ آگے بڑھائے مگر انگلیاں چھونے سے پہلے ہی کھینچ لیں۔ حارث نے فائل دی، نوٹ نہ لیے۔ دروازے کی لکیر کے اتنے قریب وہ پہلی بار تھا کہ ہیلمٹ کا کنارہ چوکھٹ سے لگ کر ہلکی سی ٹھک کی آواز دے گیا۔ مہرین نے فوراً اپنا ہاتھ لکیر پر رکھ دیا، جیسے لکڑی کی پٹی ہی اصل حکم ہو۔

“میں نوکر لگتا ہوں تمہیں؟” حارث نے آہستہ کہا، مگر اتنا آہستہ بھی نہیں کہ اندر والوں کے کان محفوظ رہیں۔

خالہ نسرین نے سن لیا۔ “ارے، کام سے عزت کم نہیں ہوتی۔ اگر رشتہ داری نبھانی ہے تو چھوٹے موٹے کام تو کرنے پڑتے ہیں۔”

رشتہ داری۔ لفظ ایسے پھینکا گیا جیسے مہرین کے سامنے کسی اور کی تختی رکھ دی گئی ہو۔ مہرین کے حلق میں کچھ کڑا سا اٹکا، مگر اس نے صرف اتنا کیا کہ دروازہ ایک انچ اور بند کر دیا۔ “برف لے آئیے، حارث۔ اور اوپر آ کر گھنٹی نہ دیجئے گا، مجھے فون کر دیجیے گا۔”

اس کے چلے جانے کے بعد بھی چوکھٹ میں اس کے جوتے کی مٹی کا داغ رہ گیا۔ مہرین نے پاؤں سے اسے نہیں مٹایا۔ اندر جا کر پانی کے جگ رکھتے ہوئے اس کی ہتھیلی میں فون کی ہلکی روشنی جل اٹھی۔ حارث کا پیغام: “برف لے آیا ہوں۔ نیچے ہوں۔ گھنٹی نہیں بجاؤں گا۔ حکم یاد ہے۔” مہرین نے سکرین مٹھی میں چھپا لی۔ خالہ نسرین نے بس ایک نظر ڈالی، جیسے ہر خاموشی کا حساب رکھا جا رہا ہو۔

اگلے تین دن کراچی نے دھول، نمی اور ہارنوں کے شور کے ساتھ انہیں اسی لکیر کے گرد گھمایا۔ صبح مہرین سروس سیکٹر کے ایک پرانے ٹریول ڈیسک پر بیٹھتی، جہاں ٹکٹوں سے زیادہ لوگوں کے مزاج سنبھالنے پڑتے۔ شام کو بس سے اتر کر تنگ گلی، کرائے کی عمارت، پھسلن والی سیڑھیاں، اور اوپر وہی فلیٹ۔ کبھی خالہ نسرین کی دوائی لانی ہوتی، کبھی گیس والے کو رقم دینی، کبھی آن لائن بل کی رسید نکلوانی ہوتی۔ حارث آتا، کام کرتا، رکتا نہیں۔ مہرین چابی یا رسید یا بیگ لیتے وقت ہمیشہ لکیر قائم رکھتی۔ جیسے ہر بار اسے باہر رکھ کر اپنے اندر کچھ اور بند کرنا پڑتا ہو۔

ایک رات وہ نو بجے کے بعد لوٹی تو سیڑھیوں کے موڑ پر حارث بیٹھا تھا۔ اوپر کے بلب کی روشنی زرد تھی اور اس کے چہرے پر تھکن کی سیدھی لکیریں کھنچی تھیں۔ “تمہاری چابی میرے پاس رہ گئی تھی،” اس نے اٹھتے ہوئے کہا۔ “صبح جلدی میں تم نے دوسری چابی خالہ کو دے دی تھی۔”

مہرین کے پیٹ میں خالی سا جھٹکا لگا۔ یہ وہی چابی تھی جو اس نے دوپہر کو جان بوجھ کر نہیں مانگی تھی، کیونکہ خالہ نسرین کے سامنے حارث کے پاس اس چابی کا ہونا ایک الگ ہی تماشہ بن جاتا۔ اس نے ہاتھ بڑھایا۔ حارث نے چابی اس کی ہتھیلی پر رکھی، مگر انگلیاں ایک لمحے کے لیے بند نہ ہوئیں۔ چھوٹی سی دھات دونوں کے درمیان ٹھنڈی پھنسی رہی۔

“سارا دن میرے پاس رہی،” حارث نے کہا، “ایک چابی سے اتنا ڈر؟”

“چابی سے نہیں،” مہرین نے ہاتھ کھینچ لیا، “لوگوں کی زبان سے۔”

حارث ہنسا نہیں۔ “اور ان کی زبان کو خوش رکھنے کے لیے مجھے ہر بار نیچے کھڑا رکھو گی؟ دانش آئے تو اندر، میں آؤں تو فون کرو؟”

اوپر سے کسی دروازے کے بند ہونے کی آواز آئی۔ مہرین نے فوراً ایک قدم پیچھے لیا۔ “آہستہ بولیں۔”

“میں تمہارے لیے دوڑتا رہوں، یہ سب کو قبول ہے۔ تم میرے لیے ایک سیدھا جملہ بھی نہیں بول سکتیں، یہ بھی قبول ہے۔ بڑی سہولت ہے تمہارے گھر میں۔”

یہ جملہ سیدھا لگا۔ اس لیے مہرین نے دفاع میں نرمی نہیں کی۔ “اگر اتنی ہی تکلیف ہے تو آنا چھوڑ دیجیے۔”

وہ نیچے اتر گیا۔ مہرین نے چابی مٹھی میں اتنی زور سے دبائی کہ دانت سا نشان پڑ گیا۔

جمعہ کی شام خالہ نسرین نے کھانے کی میز پر وہ بات چھیڑی جس سے مہرین پچھلے مہینے سے بچ رہی تھی۔ دانش، جو خالہ کا بھانجا تھا، بینک میں نئی نوکری پر لگا تھا۔ صاف قمیص، مہنگی گھڑی، بات کرتے ہوئے اپنی ہی کامیابی کو قہقہے کے ساتھ پیش کرنے والا لڑکا۔ “دیکھو،” خالہ نے روٹی توڑتے ہوئے کہا، “دانش میں ٹھہراؤ ہے۔ گھر والے بھی دیکھے بھالے ہیں۔ اور سب سے بڑی بات، آنے جانے میں پردے کی بات سمجھتا ہے۔ ہر وقت سیڑھیوں میں منڈلانے والا مزاج نہیں۔”

دانش نے شرمائے بغیر پانی کا گلاس اٹھایا۔ “خالہ، آپ بھی۔”

مہرین نے روٹی پلیٹ میں رکھ دی۔ “میں کھا چکی ہوں۔”

“کھا چکی ہو یا بات سے بھاگ رہی ہو؟” خالہ نسرین نے چبھتا ہوا لہجہ نرم برتنوں کے شور میں چھپا کر کہا۔ “وہ حارث اچھا لڑکا ہوگا، مگر اس کا طریقہ اچھا نہیں لگتا۔ کل پڑوس والی صدف کہہ رہی تھی، بار بار ایک ہی لڑکا آئے تو لوگ پوچھتے ہیں۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہونا الگ بات ہے، عزت سے حد رکھنا الگ۔”

اس رات مہرین نے حارث کے تین پیغام نہیں کھولے۔ فون کی روشنی بار بار ہتھیلی میں جلتی اور وہ اسے الٹا کر دیتی۔ صبح دفتر جاتے ہوئے اس نے آخری پیغام پڑھا: “تمہاری مرضی۔ لیکن کل سیڑھیوں میں تم نے مجھے ایسے چھوڑا جیسے میں مانگنے آیا تھا۔”

دو دن بعد مسئلہ اسی بدترین وقت پر کھڑا ہوا جب عمارت میں مہندی کی تقریب تھی، عورتیں اوپر نیچے جا رہی تھیں، بچوں نے لفٹ کے سامنے جوتے پھیلا رکھے تھے، اور خالہ نسرین نے مہرین کو نیچے والی دکان سے اضافی برتن منگوانے بھیج دیا۔ حارث پہلے سے موجود تھا؛ اس نے برتن اٹھا رکھے تھے، شاید خالہ نے اسے خود فون کیا تھا۔ مگر اوپر پہنچتے ہی دانش بھی آ گیا، ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ، اور ہنستے ہوئے بولا، “یہ سب اس کے حوالے کیوں کر رکھا ہے؟ میں ہوں نا۔”

خالہ نسرین نے فوراً فیصلہ سنایا، “دانش، تم اندر رکھ دو۔ حارث، تم یہیں چھوڑ دو، آگے لڑکیاں ہیں۔”

سیڑھیوں کے تنگ موڑ پر سب ایک دوسرے کے بہت قریب تھے۔ حارث نے برتن نیچے رکھنے کو جھکا ہی تھا کہ اوپر سے ایک لڑکی پھسل گئی، اسٹیل کے تھال اس کے ہاتھ سے چھوٹے، شور اٹھا، اور عین اسی لمحے خالہ نسرین کی پڑوسن نے نیچے سے چڑھتے ہوئے حارث کو دیکھا۔ “اوہ ہو، پھر یہی لڑکا؟”

مہرین نے سوچا بھی نہیں۔ اس نے حارث کی کلائی پکڑی اور ایک جھٹکے سے اسے اپنے فلیٹ کے اندر والے نیم تاریک حصے میں کھینچ لیا، خود چوکھٹ پر آ کھڑی ہوئی۔ برتن اس کے پیچھے دیوار سے لگ کر بجے۔ خالہ نسرین کا چہرہ ایک لمحے کو سفید ہوا۔ دانش ہاتھ میں مٹھائی لیے ٹھٹھک گیا۔ پڑوسن کی نظر مہرین کے کندھے سے آگے نہ جا سکی۔

“اندر کپڑے بدلے جا رہے ہیں،” مہرین نے سیدھا جھوٹ بولا، “راستہ دیجیے۔”

پڑوسن منہ بنا کر اوپر نکل گئی۔ شور کا رخ بدل گیا۔ مہرین نے فوراً حارث کی کلائی چھوڑ دی اور دو قدم ہٹ گئی، جیسے ابھی کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ مگر ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ کی گرمی حارث کی جلد پر رہ گئی تھی، اور فلیٹ کے اندر آنا وہ رعایت تھی جو اسے کبھی نہیں ملی تھی۔

خالہ نسرین نے دانت بھیچ کر کہا، “مہرین، ذرا ادھر آؤ۔”

کچن کے پاس لے جا کر اس نے دھیمی مگر زہریلی آواز میں کہا، “آج لوگوں کے سامنے مجھے منہ دکھانے کے قابل چھوڑا ہے تم نے؟ ایک لڑکے کو اندر کھینچ لیا؟”

مہرین نے پہلی بار نظریں نہیں جھکائیں۔ “میں نے اسے اندر نہیں کھینچا ہوتا تو آپ کی پڑوسن سیڑھیوں میں اسے وہی سناتی جو آپ پچھلے ہفتے میرے سامنے سن چکی ہیں۔”

خالہ نسرین رکی۔ “کیا؟”

“وہی، کہ وہ یہاں مفت کا چکر لگا رہا ہے، کہ جس لڑکے کے پاس اپنا گھر نہیں وہ دروازے نہیں ناپا کرتا، کہ بہتر ہے دانش جیسا کمایا ہوا رشتہ دیکھا جائے۔ آپ نے سب سنا تھا۔ آپ نے مجھے کہا تھا میں خود اسے دور رکھوں تاکہ بات باہر نہ جائے۔ میں نے رکھا۔ ہر بار رکھا۔”

خالہ نسرین کا چہرہ تیز ہوا، پھر بجھ گیا۔ “میں نے تمہاری بھلائی کے لیے کہا تھا۔”

“اپنی عزت کے لیے،” مہرین نے کہا۔ “میری بھی، مگر سب سے زیادہ اپنی۔ اور اس کی بےعزتی مجھ سے کروائی۔”

یہ بات وہیں ختم نہیں ہوئی، مگر مکمل بھی نہ ہوئی۔ خالہ نسرین نے آواز اونچی نہیں کی؛ یہی اس کا طریقہ تھا، چوٹ کو پردے کے اندر رکھنا۔ شام گزر گئی۔ مہندی، شور، برتن، مہمان۔ حارث چلا گیا۔ مہرین نے سوچا، شاید اب واقعی آنا چھوڑ دے گا۔

رات گیارہ کے بعد عمارت خاموش ہونے لگی۔ لفٹ کے پاس دھلے ہوئے فرش پر جوتوں کے دھبے رہ گئے تھے۔ خالہ نسرین دوا لے کر سو چکی تھیں۔ مہرین نے دروازہ بند کیا ہی تھا کہ ہلکی سی دستک ہوئی—گھنٹی نہیں، صرف دو انگلیوں کی۔ وہ جان گئی کون ہے۔

دروازہ کھولتے ہی حارث سامنے تھا۔ اس کے چہرے پر دن بھر کی گرد تھی، آنکھوں میں وہ بات جو بولنے سے پہلے ہی چبھنے لگے۔ اس کے ہاتھ میں وہ رسید تھی جو برتن والے نے غلط رقم پر بنا دی تھی۔ “یہ رہ گئی تھی،” اس نے کہا۔ “اور ایک بات بھی رہ گئی تھی۔”

مہرین نے دروازہ پورا نہیں کھولا۔ “رات ہو گئی ہے۔”

“معلوم ہے۔” اس نے رسید آگے کی۔ “تم نے آج مجھے اندر کیوں کھینچا؟ بس پڑوسن سے بچانے کے لیے؟”

مہرین نے رسید نہیں لی۔ “جو وجہ تھی، گزر گئی۔”

“نہیں گزری۔” وہ ایک قدم اور قریب آیا۔ چوکھٹ کی لکیر دونوں کے بیچ تھی، مگر اب اتنی باریک کہ سانس بھی اس پر رگڑ کھا رہی تھی۔ “تم نے مجھے باہر رکھا، ٹھیک۔ تم نے مجھے جھٹلایا، برداشت کیا۔ لیکن اگر یہ سب اس لیے تھا کہ مجھے ذلیل ہوتے نہ دیکھو، تو یہ حق تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں؟ میں ہر بار یہی سمجھتا رہا کہ تمہیں میری حیثیت پر شرم ہے۔”

یہ وہ جگہ تھی جہاں سیدھا جواب سب کچھ توڑ سکتا تھا۔ مہرین نے بہت دیر بعد آہستہ کہا، “کیونکہ تمہارے منہ پر وہ جملے نہیں سن سکتی تھی جو میں خود سن چکی تھی۔” اس نے ایک سانس روکی۔ “اس دن، جب تم برف لینے گئے تھے۔ آپا صدف نے خالہ کے سامنے کہا تھا، ‘لڑکا ہر وقت دوڑتا پھرتا ہے، مطلب صاف ہے۔ مگر دروازے کے باہر ہی اچھا لگتا ہے، اندر آیا تو بات پکے گی نہیں، پھیلے گی۔’ خالہ خاموش رہیں۔ پھر مجھ سے کہا، اسے فاصلے پر رکھو۔ میں نے وہی کیا۔”

حارث کی گردن کے پٹھے سخت ہوئے۔ “اور تم نے سوچا، مجھے کچھ پتہ نہ چلے؟”

“میں نے سوچا، تم آنا بند نہ کر دو اس وجہ سے کہ کسی اور نے تمہیں چھوٹا کہہ دیا۔” مہرین کے الفاظ اب بھی ہموار تھے، مگر ہمواری کے نیچے تھکن کا زنگ تھا۔ “میں تمہیں روک نہیں سکتی تھی۔ بچا سکتی تھی۔ بس اس طریقے سے، جس سے تم مجھ سے ہی ناراض رہو۔”

کافی دیر تک دونوں نے کچھ نہیں کہا۔ باہر گیلری میں کسی بچے کی بھولی ہوئی گیند دیوار سے لگ کر آہستہ سے لڑی اور رک گئی۔ لفٹ کا اشارہ ایک منزل نیچے سرکا، پھر خاموش۔

حارث نے رسید چوکھٹ کے اندر رکھ دی۔ “تو آج کی رعایت؟ وہ بھی حفاظت تھی؟”

“ہاں۔”

“اور یہ؟” وہ لکیر پار کرنے کو نہیں جھپا، صرف اس نیت سے آگے بڑھا کہ آخری فاصلہ خود مہرین کے لیے ناممکن ہو جائے۔ “یہ بھی حفاظت ہے؟”

وہ اتنا قریب آ گیا کہ مہرین کو اس کی قمیص میں سارا دن کی دھوپ اور سڑک کی دھول کی بو الگ الگ محسوس ہونے لگی۔ اس نے ہاتھ اٹھایا نہیں، مگر اٹھ سکتا تھا۔ مہرین کو ایک لمحے کو وہ ساری راتیں یاد آئیں جب فون کی روشنی اس کی مٹھی میں چھپی رہتی تھی، وہ چابی جو دیر سے لوٹی تھی، وہ کلائی جو اس نے پہلی بار پکڑی تھی۔ لکیر جل رہی تھی۔

حارث نے بہت دھیرے سے کہا، “ایک بار کہہ دو کہ میں تمہارے لیے صرف دروازے کے باہر والا آدمی نہیں ہوں۔ باقی میں خود سمجھ لوں گا۔”

یہ جملہ مانگ نہیں تھا، حملہ بھی نہیں۔ یہی اس کا خطرہ تھا۔ اگر مہرین ایک انچ بھی ہٹتی تو ساری روک تھام بےمعنی ہو جاتی، اور اگر وہ پہلے کی طرح سردی سے دروازہ بند کرتی تو آج کی سچائی جھوٹ بن جاتی۔

اس نے خود ایک قدم آگے بڑھنے کے بجائے حارث کی کلائی تھام لی۔

اس بار جھٹکے سے نہیں۔ پوری ہوش کے ساتھ، چوکھٹ کی لکیر پر۔ اس کی انگلیاں حارث کی نبض کے اوپر بند ہوئیں اور اس نے اسے اپنے قریب نہیں کھینچا؛ بس وہ آخری قدم روک لیا جو دونوں کو ایک ہی طرف گرا دیتا۔ ان کے درمیان اتنا فاصلہ رہ گیا کہ سانسیں ٹکرا سکیں، بدن نہیں۔

“نہیں، حارث۔” اس کی آواز بہت دھیمی تھی، مگر اس میں پہلی بار انکار سے زیادہ اختیار تھا۔ “اب تمہیں باہر اس لیے نہیں رکھوں گی کہ کوئی تمہیں کم سمجھے۔ لیکن اندر بھی ایسے نہیں آنے دوں گی کہ بعد میں تمہارے لیے پھر میں ہی ڈھال بنتی پھروں۔” اس کی گرفت ایک لمحہ اور مضبوط ہوئی۔ “جو میں نے چھپایا، وہ غلط تھا۔ جو میں نے بچایا، وہ نہیں۔”

حارث کی کلائی اس کے ہاتھ میں ساکت رہی۔ مہرین نے پہلی بار اس کی طرف سیدھا دیکھا، بےرحم نہیں، معذرت خواہ بھی نہیں۔ جیسے جگہ بدل گئی ہو: چوکھٹ اب رکاوٹ کم، اس کے اختیار کی حد زیادہ تھی۔

“آج واپس جائیے،” اس نے کہا۔ “اور اگلی بار اگر آنا ہو تو گھنٹی بجا کر آئیے۔ چوروں کی طرح نہیں۔”

یہ ایک معمولی جملہ ہو سکتا تھا، مگر اس رات نہیں تھا۔ اس میں دروازہ بند بھی تھا، اور دروازہ پہلی بار اس کے اپنے نام سے کھلا بھی۔ مہرین نے اس کی کلائی چھوڑ دی، پھر چوکھٹ پر ہاتھ رکھ کر دروازہ آہستہ سے اپنی طرف کھینچا۔

لفٹ کے ساتھ لگی لمبی دھندلی آئینے کی پٹی پر پرانے صاف کرنے کے نشان تیر رہے تھے۔ دروازے کی لکیر کے برابر مہرین کی رکی ہوئی سانس جا لگی، اور اس کے ہاتھ کے حارث کی کلائی سے ہٹتے ہی شیشے پر ایک مختصر دھند ابھری، ایک لمحہ ٹھہری، پھر کٹی ہوئی ہوا میں ویسی ہی معلق رہ گئی۔