Fast Fiction

ایک گیٹ پاس نے ساری جگہ بدل دی

فراز بھٹی نے ہاتھ اٹھا کر کالے شیشوں والی سفید ویگو کو سیدھا اندر اشارہ دیا اور مہرین کے سامنے رکی چھوٹی سوزوکی کو دو انگلیوں سے پرے ہٹنے کا حکم دے دیا۔ “یہ نہیں، یہ باہر رہے گی۔ وی آئی پی پک اَپ لین بلاک نہیں ہوگی۔” مہرین اپنی فائل، آدھی تہہ شدہ رسیدوں کا پلندہ اور چابیوں کا چھوٹا رنگ ہاتھ میں لیے گیٹ کے ساتھ لگے پلاسٹک کی کرسی کے کونے پر آدھی بیٹھی، آدھی کھڑی رہ گئی۔ اندر سے روشنی، ڈھولکی کی تھاپ اور خالہ صائمہ کی اونچی آواز آ رہی تھی۔ وہی خالہ صائمہ جنہوں نے دو دن پہلے سب کے سامنے کہا تھا، “بچی سروس سیکٹر میں ہے، عزت سے کام کرتی ہے، مگر آج رات ہمارے مہمانوں کے سامنے کوئی بے ترتیبی نہیں ہونی چاہیے۔”

نادیم، گیٹ اٹینڈنٹ، نے مہرین کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ اس نے ویگو کا بوم اوپر کیا، جیسے اسی کے لیے بنا ہو۔ اسی لمحے ایک کم عمر، کم تجربہ لڑکا، ارسلان، جو صرف فراز کے ساتھ دو چکر لگا لینے سے خود کو بڑا منتظم سمجھنے لگا تھا، ہاتھ میں واکی لے کر اندر چلا گیا۔ مہرین کے لیے لین بند رہی۔ خالہ صائمہ کے دیور، دو پھپھیاں، اور لڑکی والوں کے ایک معمر ماموں قریب ہی کھڑے تھے۔ سب نے دیکھا کہ راستہ کس کے لیے کھلا اور کس کے لیے بند ہوا۔

مہرین نے سیدھی آواز میں کہا، “یہ گاڑی مہمان نہیں، سامان اور کلوزنگ فائل کے لیے چاہیے۔ میں نے لسٹ بنائی ہے۔”

فراز نے اس کی بات کاٹ دی۔ “لسٹ اب میرے پاس ہے۔ آپ ابھی بس سائیڈ پر رہیں۔ اور اندر والی فرنٹ سیٹ بھی ارسلان کے لیے رکھو، اسے راؤنڈز دیکھنے ہیں۔” اس نے یاسر کے ہاتھ سے ٹویوٹا کی چابی لے کر اپنی جیب میں ڈال لی۔ پھر سب کے سامنے رجسٹر کی شیٹ پر دو نام اوپر، تین نام نیچے کر دیے۔ “دلہن کی خالہ، پھر بھٹی صاحب کے دوست، پھر میڈیا والا بندہ۔ باقی بعد میں۔”

“میرے ڈرائیور کس کے حکم سے نکلیں گے؟” مہرین نے پوچھا۔

“آج رات میرے حکم سے،” فراز نے مسکرا کر کہا، مگر مسکراہٹ صرف اوپری ہونٹ تک رہی۔ “گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہے آپ کون ہیں، ٹھیک۔ مگر یہ میرا حلقہ ہے۔ یہاں چہرہ بچانا پڑتا ہے۔”

یاسر نے بے بسی سے مہرین کی طرف دیکھا۔ صبح سے وہ اسی کے کہنے پر پانی، جنریٹر، اسٹاف میل، سب سنبھالتی آئی تھی۔ اب اس کے ہاتھ خالی تھے۔ نادیم نے ایک کپ چائے رجسٹر کے پاس رکھا چھوڑ دیا تھا؛ اوپر باریک جھلی جم چکی تھی اور کپ کے نیچے میز پر ہلکا سا دائرہ بن گیا تھا۔ اتنی دیر سے وہیں کھڑی تھی مہرین۔

اس نے کوئی بحث نہ کی۔ بس اپنی فائل سے کاربن کاپی والی شیٹ نکالی، جس کے کنارے پر نیلی سیاہی کا پرانا داغ تھا، اور نمبروں کو دوبارہ دیکھا۔ دلہن والوں کی آخری روانگی، برائیڈل جیولری کا لاک باکس، بزرگوں کے لیے کم واک والا راستہ، اور پارکنگ سے نکلنے کی ترتیب—سب اسی نے بنائی تھی۔ فراز نے اوپر سے حکم لے کر نہیں، ادھار کی اکڑ لے کر نقشہ بدلا تھا۔

فون بجا تو اس نے فوراً کان سے لگایا۔ دوسری طرف ہال اونرز ایسوسی ایشن کے آپریشن ہیڈ، کامران شاہ، کی کھردری آواز تھی۔ “مہرین، تم کہاں ہو؟”

“گیٹ پر۔”

“اچھا۔ لڑکی والوں کی طرف سے ابھی کال آئی ہے۔ جیولری باکس اور نکاح نامہ والی فائل پچھلے سروس کوریڈور میں پھنس گئی ہے۔ فرنٹ لین فوراً بند کرو۔ ریلیز روٹ بدل رہا ہے۔ پچھلی ریمپ کھلے گی، بس تمہارے پاس جو نارنجی گیٹ پاس ہے وہی وہاں چلے گا۔ بھٹی کو بتا دو، آج کی آخری ریلیز تم سنبھالو گی۔ میں نادیم کو بھی بتا رہا ہوں۔”

مہرین نے ایک پل کے لیے آنکھیں بند کیں۔ پھر فون ہٹائے بغیر سامنے دیکھا۔ فراز ابھی ایک اور گاڑی کو ہاتھ کے اشارے سے آگے لا رہا تھا۔ مہرین نے بلند، صاف آواز میں کہا، “نادیم، فرنٹ لین ابھی بند۔ پچھلی ریمپ کھولو۔ کامران شاہ کا حکم ہے۔ صرف نارنجی پاس پر ریلیز ہوگی۔”

پہلے دو سیکنڈ کوئی نہیں ہلا۔ پھر نادیم کا اپنا فون بجا۔ اس نے “جی سر، جی سر” کہا، اور جیسے کسی نے اس کے کندھے سے وزن اتار دیا ہو، وہ دوڑ کر بوم کی طرف گیا۔ سامنے آتی کورولا اچانک رکی، پیچھے والی آلٹو نے بریک چرمرائی، ڈرائیوروں نے کھڑکیاں نیچے کر کے جھانکا۔ “پچھلا روٹ! سب گاڑیاں پچھلی ریمپ!” نادیم چلایا۔

فراز مڑا۔ “یہ کیا تماشا ہے؟ ابھی مہمان کھڑے ہیں—”

“روٹ بدل گیا ہے،” مہرین نے کہا۔ اس نے چابیوں کا رنگ یاسر کی طرف اچھالا نہیں، سیدھا اس کے ہاتھ میں رکھا۔ “جیولری باکس والا وین پہلے۔ پھر بزرگوں کی ہونڈا۔ باقی میری کال پر۔” یاسر نے فوراً سر ہلایا اور ڈرائیوروں کو ہاتھ سے موڑنا شروع کر دیا۔ دو ڈرائیور جو ابھی تک فراز کے گرد منڈلا رہے تھے، سیدھے مہرین کی طرف دیکھنے لگے۔

سروس راہداری کی طرف ایک لہر سی چلی۔ سفید یونیفارم والے دو لڑکے جو سامنے کے دروازے پر ٹرے اٹھائے کھڑے تھے، وہیں رک گئے۔ پچھلی طرف کھڑی ہائی روف وین اسٹارٹ ہوئی اور آہستہ آہستہ مڑ کر نئی لائن میں آگئی۔ ایک بزرگ ماموں، جنہیں سامنے سیڑھی چڑھنا مشکل تھا، جب مہرین نے کہا “ان کی گاڑی ریمپ کے منہ پر لاؤ”، تو ڈرائیور نے ایک لفظ کے بغیر گاڑی ان کے قدموں تک پہنچا دی۔ خالہ صائمہ نے دور سے یہ دیکھا تو ان کا چہرہ پہلی بار اطمینان اور حساب کے درمیان کہیں اٹک گیا۔

فراز نے رجسٹر چھیننے کے انداز میں ہاتھ بڑھایا، مگر نادیم نے اسے مہرین کی طرف سرکا دیا۔ وہ چھوٹی سی حرکت تھی، مگر آس پاس کھڑے سب لوگوں نے دیکھی۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے یہی رجسٹر فراز کے ہاتھ میں اختیار بن کر تھا، اب وہ مہرین کے سامنے میز پر کھلا پڑا تھا۔ فراز کا لہجہ پہلی بار سخت سے نرم نہیں، بلکہ پھسلتا ہوا ہوا۔ “دیکھو، غلط فہمی ہوگئی۔ میں صرف فلو بنا رہا تھا۔ تم نام بعد میں بھی—”

“نام بعد میں نہیں، ابھی چلیں گے،” مہرین نے کہا، اور شیٹ پر قلم رکھ کر ایک لائن سیدھی کی۔ “دلہن کی خالہ پہلے۔ پھر ماموں صاحب۔ پھر لاک باکس والی وین۔”

“جی باجی!” یاسر نے اتنی جلدی جواب دیا کہ نزدیک کھڑی پھپھی نے چونک کر اسے دیکھا۔ اس نے گاڑیوں کی ترتیب بدل دی۔ ارسلان، جسے فرنٹ سیٹ ابھی ابھی ملی تھی، اب خالی ہاتھ کھڑا رہ گیا۔ اس کے لیے نہ سیٹ بچی، نہ حکم۔ وہ ایک قدم فراز کی طرف، ایک قدم یاسر کی طرف بڑھا، پھر وہیں رک گیا۔

مہرین نے نارنجی گیٹ پاس اپنی فائل کے اندر سے نکالا۔ کڑا سا لیمینیٹڈ کارڈ، ایک کونے پر پرانی قلم کی خراش، پیچھے ہال کا مہر لگا نشان۔ یہی اصل کلید تھی؛ بغیر اس کے پچھلی ریمپ کا بوم نہیں اٹھتا تھا۔ فراز کی آنکھیں پہلی بار سیدھی اس کارڈ پر جا ٹکیں۔

“یہ پاس میرے پاس ہونا چاہیے تھا،” وہ بولا۔

“نہیں تھا،” مہرین نے جواب دیا۔

سامنے سے اچانک شور اٹھا۔ دلہن والوں کی طرف سے دو گاڑیاں ایک ساتھ باہر آنے کو تیار تھیں، اور لڑکے والوں کے تین مہنگے ایس یو وی ڈرائیور، جنہیں فراز نے پہلے سے قطار میں لگوا رکھا تھا، اب نئی ریمپ کی طرف دوڑ رہے تھے۔ ایک لمحے میں مسئلہ سیدھا ہو گیا: جس کے ہاتھ میں پاس، اسی کے ہاتھ میں راستہ۔

فراز جلدی سے قریب آیا۔ “سنوا دو پہلے میری گاڑیاں نکل جائیں۔ بھٹی صاحب باہر انتظار کر رہے ہیں۔ میں نے ان سے وعدہ کیا ہوا ہے۔”

“وعدہ آپ نے کیا تھا، روٹ میں نے بنایا تھا،” مہرین نے کہا۔

“مہرین، بات مت بڑھاؤ۔ خالہ صائمہ دیکھ رہی ہیں۔”

“تو دیکھنے دو۔”

یہ پہلی کھلی دراڑ تھی، اور آس پاس کے لوگ فوراً ادھر متوجہ ہوئے۔ خالہ صائمہ خود دو قدم آگے آئیں مگر کچھ بولیں نہیں۔ ان کے ساتھ کھڑی ایک بڑی عمر کی خاتون نے فراز کے کان کے قریب آہستہ کہا، “ابھی ضد نہ کرو، پہلے لڑکی والوں کو نکالو، بدنامی ہوگی۔” فراز نے سنا، مگر اس کی نظر گیٹ پاس پر اٹکی رہی، جیسے کارڈ نہیں، اس کے ہاتھ سے پھسلتی رات ہو۔

مہرین پچھلی ریمپ کی طرف بڑھی۔ وہاں کنکریٹ کی دیوار کے ساتھ پھر وہی سستا پلاسٹک کا کرسی نما اسٹول رکھا تھا، جس پر عام دنوں میں ڈرائیور بیٹھ کر سگریٹ پیتے تھے۔ آج وہ خالی تھا؛ سب کھڑے تھے، کیونکہ اب فیصلہ کرسی پر بیٹھ کر نہیں، پاس دکھا کر ہونا تھا۔ نادیم بوم کے بازو کے پاس کھڑا ہوا۔ “باجی، کس کو پہلے کھولوں؟”

“وین۔” اس نے بغیر ادھر ادھر دیکھے کہا۔ “پھر ہونڈا سٹی۔ باقی روکو۔”

وین آگے آئی۔ ڈرائیور نے شیشہ نیچے کیا، اندر سے ایک عورت نے لاک باکس پر ہاتھ رکھا ہوا تھا، آنکھوں میں جلدی تھی۔ مہرین نے پاس مشین کے سامنے رکھا، سبز بتی جلی، بوم اٹھا۔ وین نکل گئی۔ اس کے فوراً بعد ماموں صاحب والی ہونڈا سرکتی ہوئی آئی۔ مہرین نے دوسرا اشارہ کیا، نادیم نے بوم دوبارہ اوپر کیا۔ ہونڈا بھی نکل گئی۔

اب فراز کی پہلی ایس یو وی ناک کے بل آکر رکی۔ “یہ ہماری ہے،” فراز نے قدم آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔ “بھٹی صاحب کو دیر ہو رہی ہے۔ کھولو۔”

مہرین نے پاس اپنے ہاتھ میں الٹا سیدھا نہیں کیا، بس سیدھا پکڑے رکھا۔ “اس لسٹ میں نہیں۔”

“میں کہہ رہا ہوں کھولو۔” اس نے ہاتھ بڑھا کر کارڈ لینے کی کوشش کی۔

نادیم فوراً درمیان میں آیا، مگر کچھ کہنے سے پہلے ہی مہرین نے ایک قدم پیچھے نہیں، سیدھا بوم کے کنٹرول باکس کے قریب رکھا، جیسے اپنی جگہ نشان کر رہی ہو۔ “ہاتھ نہ لگائیں۔” آواز اونچی نہیں تھی، مگر صاف تھی۔ “آپ نے فرنٹ لین پر میری گاڑی روکی، چابیاں روکیں، ترتیب بدلی۔ اب یہاں بغیر پاس کچھ نہیں نکلے گا۔”

فراز کے پیچھے کھڑی گاڑیوں کے ہارن چھوٹے چھوٹے کٹوں میں بجنے لگے۔ سامنے والی ایس یو وی کا ڈرائیور سائیڈ مرر سے بار بار پیچھے دیکھ رہا تھا۔ ایک لڑکا دوڑتا آیا، “بھائی، بھٹی صاحب پوچھ رہے ہیں کیوں رکے ہوئے ہیں؟” فراز نے جواب نہیں دیا۔ اس کے جبڑے کی لائن اکڑ کر پھر ڈھیلی پڑی۔ پہلی بار اس کے لہجے میں درخواست آئی۔ “کم از کم ایک گاڑی۔ بس ایک۔ بزرگ بیٹھے ہیں۔”

مہرین نے شیٹ دیکھی۔ “بزرگوں والی گاڑی ابھی نہیں، وہ دوسری طرف سے آرہی ہے۔ آپ کی گاڑی میں تین جوان لڑکے بیٹھے ہیں۔” اس نے ڈرائیور کو دیکھا۔ “سائیڈ لگاؤ۔”

ڈرائیور نے فراز کی طرف دیکھا۔ پھر نادیم کی طرف۔ پھر اس نے گاڑی بائیں کاٹ کر سائیڈ میں لگا دی۔ یہی اصل گرہ تھی؛ حکم فراز نے دیا، مانا کسی نے نہیں۔ پیچھے والی دو ایس یو ویز کو بھی رکنا پڑا۔ ایک ڈرائیور نے کھڑکی سے ہاتھ نکال کر پوچھا، “کس کی باری ہے؟” جواب فراز نے نہیں، نادیم نے دیا: “مہرین باجی کی کال پر۔”

خالہ صائمہ اب تک قریب آچکی تھیں۔ ان کی ساڑھی کا پلّو ایک ہاتھ پر لپٹا ہوا تھا، چہرے پر وہی مجبوری جس میں عزت بچانی بھی ہو اور حساب بھی رکھنا ہو۔ “مہرین، لڑکی والوں کی دو گاڑیاں اور ہیں؟”

“ایک ایمبولینس ٹائپ وین ہے، ایک فیملی کار۔ دونوں نکلیں گی، پھر آپ کے بزرگ۔” مہرین نے بس اتنا کہا۔ خالہ صائمہ نے ایک لمحے کو فراز کی طرف دیکھا، جیسے تول رہی ہوں کہ آج رات کس پر ناراضی زیادہ مہنگی پڑے گی۔ پھر انہوں نے مہرین سے نظریں نہ ہٹاتے ہوئے کہا، “ٹھیک ہے۔ اسی ترتیب سے کرو۔”

بس، اتنا کافی تھا۔ گواہوں نے فوراً اپنا وزن بدل لیا۔ پھپھی نے اپنے ساتھ والی خاتون سے سرگوشی میں “لڑکی سمجھدار ہے” کہنا چاہا، مگر لفظ ادھورا رہ گیا کیونکہ اگلی گاڑی چل پڑی تھی۔ یاسر نے ہاتھ کے اشارے سے نئی قطار سیدھی کی۔ ارسلان خودبخود پیچھے ہٹ گیا۔ فراز وہیں کھڑا رہا، مگر اب درمیان میں نہیں، لائن کے کنارے۔

اگلے سات منٹ میں مہرین نے کسی فاتح کی طرح نہیں، کسی کلرک کی طرح کام کیا—اسی میں اصل ذلت تھی۔ “یہ نکالو۔ یہ روکو۔ اس کے بعد یہ۔” ایک فیملی کار، پھر بزرگوں والی گاڑی، پھر سامان والی منی وین۔ ہر بار پاس اس کے ہاتھ میں، سبز بتی، بوم اوپر، گاڑی باہر۔ ہر بار فراز کی قطار ایک سانس دیر سے۔ ایک بار اس نے پھر قریب آ کر کہا، “اب تو میری والی—”

“ابھی نہیں۔” مہرین نے رجسٹر پر نشان لگایا۔ “لڑکی والوں کی آخری گاڑی باقی ہے۔”

“میں نے شروع سے یہی رات سنبھالی ہے!”

“نہیں،” مہرین نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا، “آپ نے صرف راستہ روکا تھا۔”

آخری کار آ گئی۔ اندر دو تھکی ہوئی عورتیں، ایک بچہ، اور گود میں نکاح نامے والی سرخ فائل۔ نادیم نے بوم کے کنٹرول پر ہاتھ رکھا مگر دبا یا نہیں؛ وہ مہرین کی طرف دیکھ رہا تھا۔ پیچھے فراز کی ایس یو وی پھر آگے سرک آئی، جیسے شاید دباؤ سے راستہ بن جائے گا۔ نہیں بنا۔

مہرین نے نارنجی گیٹ پاس اپنی انگلیوں کے بیچ سیدھا کیا، مشین کے سامنے رکھا، اور کہا، “یہ والی۔” سبز بتی جلی۔ بوم نرم مگر قطعی حرکت سے اوپر اٹھا۔ آخری کار اس کے منتخب راستے پر آگے بڑھی، اور فراز کی گاڑی کے سامنے بند رکاوٹ ایک سانس دیر سے وہیں رہی، جب تک اس کے پیچھے کا انجن مہرین کے راستے پر گونجتا ہوا نہ نکل گیا۔