وہی منظر ان پر پلٹ آیا
ندیم نے دستخط شدہ حکم نامہ رجسٹر پر پٹخا اور مہرین کے بازو کے سامنے اپنی ہتھیلی دیوار کی طرح کھڑی کر دی۔ “تم ادھر سے نہیں جاؤ گی۔ سروس لین دو نمبر۔” بیک گیٹ کی چھت کے نیچے بھاپ، پسینے اور دیگ کے مصالحے کی ملی ہوئی بو تھی۔ رجسٹر کے پاس رکھی چائے ٹھنڈی ہو کر پیالی کے نیچے حلقہ چھوڑ چکی تھی۔ مہرین کا پرانا شناختی فیتہ، جو روز کے رگڑ سے کناروں سے سفیدی مارنے لگا تھا، اس کی گردن پر خاموش جھول رہا تھا۔ سامنے خالہ شمیم، دو کزن، اور دلہے والوں کے تین آدمی ٹھہر گئے؛ سب نے وہی دیکھا جو ندیم دکھانا چاہتا تھا—کسے روکا جا سکتا ہے، کس کو دھکیل کر کم تر راستے میں بھیجا جا سکتا ہے۔
مہرین نے بازو نہیں کھینچا۔ “اس شفٹ کی رجسٹری میرے پاس ہے۔ کیٹرنگ کی رات والی سپلائی سیدھی اسی دروازے سے اندر جاتی ہے۔”
ندیم نے حکم نامے پر انگلی ماری، جیسے مہر اس کی اپنی ہو۔ “یہ خصوصی ہدایت ہے۔ اوپر کے خاندان کے مہمان، قریبی رشتہ دار، اور ذمہ دار عملہ ایک نمبر سے۔ باقی سب گھوم کے جائیں۔ تم باقی میں آتی ہو۔” آخری جملہ اس نے ذرا اونچی آواز میں کہا، تاکہ خالہ شمیم کے کان تک صاف جائے۔ پھر یوسف کی طرف دیکھ کر ہلکی سی مسکراہٹ پھینکی، وہی مسکراہٹ جو پچھلے دو مہینوں سے مہرین کی ہڈیوں میں کانٹے کی طرح لگی تھی—گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والا رشتہ، مگر اعلان نہیں؛ کام کی جگہ پر سب سمجھتے تھے، مگر کوئی نام نہیں لیتا تھا۔
یوسف نے ایک قدم آگے بڑھایا ہی تھا کہ ندیم نے انگلی اٹھا کر روک دیا۔ “آپ ادھر رہیں۔ ابھی خاندان کے سامنے مزید الجھن نہ بنائیں۔” یہ جملہ حکم سے زیادہ چوٹ تھا۔ مہرین کو اچھی طرح معلوم تھا کہ اس رات کی مزدوری سے امی کی دوائی، چھوٹے بھائی کی فیس، اور کرائے کے بقیہ تین ہزار پورے ہونے تھے۔ مگر ندیم نے بات روزی پر نہیں روکی؛ اس نے عزت کے سامنے رکاوٹ کھڑی کی۔
بیک گیٹ پر دباؤ بڑھ گیا۔ ایک طرف برف والے کریٹ، دوسری طرف پھولوں کی خالی ٹوکریاں، بیچ میں اتنا راستہ کہ ایک وقت میں ایک ہی ٹرالی نکل سکے۔ سکیورٹی کا جوان کسی کو دیکھ کر راستہ دیتا، کسی کو ہاتھ سے تھام لیتا۔ دو ویٹر اندر گئے، ایک ڈی جے والا بندہ پاس دکھا کر نکل گیا، مگر مہرین کے سامنے ہر بار ہاتھ آ جاتا۔ پلاسٹک کی کرسی کے کونے پر بیٹھی ایک بوڑھی ملازمہ اٹھ کر کھڑی ہو گئی کہ کہیں اسے بھی “باقی سب” میں نہ ڈال دیا جائے۔ خالہ شمیم نے دوپٹے کا پلو ٹھیک کیا اور نظریں ہٹانے کے بجائے وہیں جما دیں؛ خاندان کی طرف سے خاموش تماشا بھی فیصلہ بن جاتا ہے۔
ندیم نے رجسٹر کھول کر دانستہ وہ صفحہ پلٹا جس پر آج کی رات کے خاص داخلے درج تھے۔ “یہ دیکھو، مہرین کا نام سپلائی اسسٹ میں ہے، کور کوریڈور میں نہیں۔ اور چونکہ اس طرف گھر کے بزرگ بھی حرکت میں ہیں، اس لیے کسی غیر متعلقہ کو ایک نمبر سے نہیں لے جایا جائے گا۔” پھر اس نے قلم نکالا اور حکم نامے کے نیچے خود سے ایک اور سطر جوڑ دی: “ہمراہ افراد ممنوع۔” وہیں، سب کے سامنے، اپنی طرف سے۔ “اب تو بات ختم۔ نہ یہ، نہ اس کے ساتھ کوئی۔”
وہی ایک قدم زیادہ تھا۔
مہرین کی آنکھ ایک لمحے کو اس سیاہی پر ٹھہری۔ حکم نامے کے اوپر ہال مینیجر کی اصل دستخط، نیچے نیلی مہر، اور بالکل آخر میں ندیم کی تازہ، بے اختیار لکیر۔ اس نے بحث نہیں کی۔ رجسٹر بند بھی نہیں کیا۔ بس مڑا ہوا حکم نامہ اٹھایا، یوسف کی طرف نہیں دیکھا، سیدھا اندر والے شیشے کے کیبن کی سمت بلند آواز میں کہا، “عمران صاحب، براہِ کرم بیک گیٹ پروٹوکول ابھی دیکھ لیجیے۔ اضافی نوٹ چڑھا ہے۔”
سکیورٹی سپروائزر عمران کیبن سے ایسے نکلا جیسے اس نے صرف آواز نہیں، خطرہ سنا ہو۔ اس کے ہاتھ میں اسٹیمپ پیڈ کی سیاہی لگی تھی، آنکھیں سیدھی کاغذ پر گئیں۔ “کون سا اضافی نوٹ؟” اس نے حکم نامہ مہرین کے ہاتھ سے لیا، ایک نظر اصل دستخط پر، ایک نظر نیچے تازہ تحریر پر ڈالی، پھر فوراً سر اٹھایا۔ “موومنٹ روکیں۔ ابھی۔ کوئی اس لین سے نہیں گزرے گا۔”
ندیم کی گردن تن گئی۔ “میں نے صرف وضاحت لکھی ہے۔ ہال کی عزت کا معاملہ—”
“وضاحت آپ نہیں لکھتے،” عمران نے کاٹ دیا۔ اس کی آواز نہ اونچی تھی نہ نرم، مگر دروازے پر کھڑے دو جوان فوراً سیدھے ہو گئے۔ “دستخط شدہ حکم پر اضافی پابندی صرف جاری کرنے والا افسر لگاتا ہے۔ آپ نے نیچے خود سے شرط ڈالی ہے۔ پروٹوکول کے مطابق کاغذ اسی لمحے معطل ہے۔ جب تک دوبارہ توثیق نہ ہو، جس نے تبدیلی کی وہ بھی ایک نمبر لین استعمال نہیں کرے گا۔ پیچھے ہٹیں۔”
پہلا جھٹکا کاغذ پر نہیں، جسموں پر لگا۔ وہی راستہ جسے ندیم ابھی تک اپنی ہتھیلی سے بند کر رہا تھا، اب اس کے قدموں کے نیچے تنگ ہو گیا۔ اس نے ہنسنے کی کوشش کی، ناکام رہا۔ “آپ جانتے نہیں میں کس طرف سے آیا ہوں۔ دلہن والوں—”
“میں پروٹوکول جانتا ہوں، طرفیں نہیں۔” عمران نے سامنے ہاتھ پھیلا دیا۔ “پیچھے۔ ابھی۔”
ندیم نے آخری زور آزمایا۔ “مہرین اندر نہیں جائے گی۔ یہ نچلے درجے کے کام پر ہے، اور خاندان کے سامنے—”
“خاندان کے سامنے ہی کہہ رہا ہوں،” عمران نے رجسٹر کی طرف اشارہ کیا، “اصل اندراج سپلائی موصولی اور رات کی نگرانی کا ہے۔ یہ دروازہ اسی ذمہ داری کے لیے ہے۔ آپ نے ذاتی نسبت اور رتبہ ملا کر راستہ روکا۔ اب آپ ہٹیں گے۔” اس نے دو جوانوں کو اشارہ کیا۔ دونوں نے کچھ نہ کہا، بس اپنے جوتوں کی نوکیں موڑ کر ندیم کے سامنے زاویہ بنا دیا۔ راستہ جس پر وہ حکم چلاتا تھا، اب اس کے لیے بند شکل اختیار کر گیا۔
خالہ شمیم کے چہرے پر پہلی بار صاف بے چینی آئی۔ یوسف نے ایک سانس بھری مگر وہ بھی خاموش رہا؛ مہرین نے اس طرف دیکھا تک نہیں۔ اس کی کمر لمبی شفٹ کی سختی سے کھنچی ہوئی تھی، مگر آواز سیدھی نکلی۔ “عمران صاحب، معطل کاغذ رجسٹر کے ساتھ محفوظ کر دیجیے۔ اصل اندراج پر میری کلیئرنس بحال کریں۔” یہ انصاف کی درخواست نہیں تھی، حکم کے درست راستے کی نشاندہی تھی۔
عمران نے حکم نامہ موڑ کر اپنے ہاتھ میں لیا اور رجسٹر مہرین کی طرف کھسکا دیا۔ “نام بتائیں۔”
“مہرین پروین، رات کی موصولی۔”
اس نے انگلی سے سطر ڈھونڈی، نشان لگایا، پھر دوسرے جوان سے کہا، “ایک نمبر لین، صرف اندراج کے مطابق۔ معطل حکم جدا رکھو۔ اور جس نے غیر مجاز تحریر ڈالی ہے، اسے دوبارہ تصدیق تک سائیڈ ہولڈ پر رکھو۔” یہ “سائیڈ ہولڈ” لفظ چھری کی طرح کٹا۔ بیک گیٹ کے ساتھ چھوٹی سی انتظار والی جگہ تھی، پلاسٹک کی کرسیوں کے پاس، جہاں عام طور پر وہ لوگ کھڑے رکھے جاتے تھے جن کی شناخت پر شک ہو۔
ندیم نے ہاتھ بڑھا کر کاغذ واپس لینا چاہا۔ عمران نے نہ کاغذ دیا، نہ نگاہ۔ “یہ اب آپ کے ہاتھ میں نہیں رہے گا۔” پھر اس نے سیدھا مہرین کی طرف رجسٹر بڑھایا۔ “دستخط کریں۔”
مہرین نے قلم لیا۔ اس کے ہاتھ میں ہلکی چکنائی کی بو تھی، شاید ٹرالی کے ہینڈل سے، شاید دیگ کے ڈھکن سے۔ اس نے اپنے نام کے سامنے دستخط کیے تو یوسف ایک طرف ہٹ گیا، جیسے آخرکار اسے سمجھ آ گیا ہو کہ یہ جگہ آج اس کی مداخلت کی نہیں، مہرین کی تھی۔ خالہ شمیم کے کزنوں میں سے ایک نے ندیم کی طرف دیکھ کر نظریں جھکا لیں؛ رتبے کی جو دیوار وہ چند منٹ پہلے اونچی کر رہا تھا، وہ اسی رجسٹر کے کنارے سے کٹ رہی تھی۔
مگر ندیم ابھی مکمل نہیں ٹوٹا تھا۔ “یہ رجسٹر اس کے پاس نہیں رہ سکتا،” اس نے جلدی میں کہا، “اس کا دائرہ صرف سپلائی تک ہے۔ کنٹرول ڈیسک پر رکھیں۔”
مہرین نے قلم بند کیا، رجسٹر اپنے بائیں ہاتھ کے نیچے لیا اور پہلی بار پوری طرح اس کی طرف مڑی۔ “دائرہ آج بھی وہی ہے جو اندراج میں ہے۔ آپ نے اپنے دائرے سے باہر لکھا، اس لیے آپ باہر کھڑے ہیں۔” پھر اس نے بحث کو وہیں ختم کر دیا۔ حکم نامہ عمران کے ہاتھ میں تھا، رجسٹر اس کے بازو کے نیچے، اور سکیورٹی کے دونوں جوان ندیم اور ایک نمبر لین کے بیچ۔
عمران نے فیصلہ مکمل کیا۔ “رات کی موصولی اور اندرونی راستے کی ذمہ داری مہرین کے نام بحال۔ ایک نمبر لین اسی اندراج پر چلے گی۔ معطل حکم انتظامیہ کے پاس جائے گا۔ آپ”—اس نے ندیم کی طرف دیکھے بغیر کہا—“پیچھے ٹرن بیک ٹائل تک جائیں۔ تصدیق سے پہلے واپس قدم نہ رکھیں۔”
وہ ٹائل سب کو معلوم تھی؛ زرد اور کالی اینٹوں کے بیچ ایک الٹی تیر والی سفید سرامک، جہاں سے روکے گئے لوگ پلٹائے جاتے تھے۔ ندیم نے پہلا قدم پیچھے رکھا تو ایڑھی پھسلی نہیں، مگر آہستہ پڑی؛ دوسرا قدم اور بھی برا لگا، کیونکہ اب پیچھے ہٹنا سب کی آنکھ کے سامنے عمل بن چکا تھا۔ اس کے کندھے کی اکڑ ٹوٹ کر عجیب زاویے میں آ گئی۔ ابھی کچھ دیر پہلے وہ دوسروں کو “باقی سب” میں ڈال رہا تھا، اب خود سائیڈ ہولڈ کی لکیر کی طرف دھکیلا جا رہا تھا۔
اسی لمحے اندر سے ایک لڑکا اسٹیل کی ٹرے پر شربت کے گلاس لاتا ہوا مڑا، ندیم کی اجباری پسپائی سے ٹکرا گیا۔ ٹرے ایک طرف جھکی، سرخ شربت کا ایک گلاس گر کر ٹرن بیک ٹائل کے پاس پھٹ گیا۔ گاڑھا مائع سفید سرامک پر پھیل کر باریک لکیر بناتا ہوا اسی لین میں واپس دوڑا جسے ندیم نے دوسروں کے لیے تنگ کیا تھا۔ مہرین نے رجسٹر اپنے سینے سے سیدھا لگایا، معطل حکم نامہ عمران کے ہاتھ میں چھوڑا، اور ایک نمبر لین سے اندر قدم رکھ دیا۔