Fast Fiction

پہلا حق میرے نام کٹ گیا

"باجی، آپ ایک طرف ہو جائیں، یہ گاڑی دولہے والوں کی خاص آمد کے لیے رکھی ہے۔"

دروازے کے باہر روشنیاں بارش کے بعد کی سڑک پر ٹوٹ رہی تھیں۔ حنا آپا نے اپنے دوپٹے کا پلّو کلائی پر چڑھایا، ہاتھ کے اشارے سے صائمہ کو ایسے کاٹا جیسے وہ کوئی اضافی کرسی ہو۔ پیچھے والی سفید کار کا دروازہ پہلے ہی کھل چکا تھا، اور وردی والا لڑکا جھک کر پھولوں کی ٹوکری اٹھا رہا تھا۔ صائمہ کے ہاتھ میں آدھی مڑی رسید تھی، جس پر بیوٹی پارلر کی باقی رقم نیلے قلم کے پرانے نشان کے ساتھ دبی ہوئی تھی۔ اس نے بس اتنا کیا کہ اپنی ہیل سیدھی کی اور راستے سے ہٹنے کے بجائے گاڑی کے کنارے ہی کھڑی رہی۔

حنا آپا قریب آئیں، آواز دھیمی مگر دانت دکھاتی ہوئی۔ "سمجھا کرو، یہاں ہر بات دیکھی جاتی ہے۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہونا الگ چیز ہے، باقاعدہ جگہ ملنا الگ۔ ریحان ابھی مصروف ہے، تم بعد میں اندر آ جانا۔"

یہ جملہ اس لیے زیادہ لگا کہ صائمہ نے اس شادی میں اپنی پوری تنخواہ کا ایک حصہ ڈالا تھا۔ سروس سیکٹر کی نوکری تھی، مہینے کے آخر میں حساب کتاب سیدھا پیٹ سے نکلتا تھا۔ صبح سے وہ حنا آپا کے بھیجے ہوئے فہرست نامے کے پیچھے بھاگتی رہی تھی—مہندی والے کو رقم، دلہن کی خالہ کے لیے دوپٹہ، فوٹوگرافر کی ایڈوانس۔ اور اب، جب اصل دروازہ آیا، اسے کنارے لگا کر حنا آپا نے اپنی بھابھی اور کزنوں کو آگے کر دیا۔

صائمہ نے رسید تہہ کر کے بیگ میں رکھی۔ "بعد میں نہیں آؤں گی، ابھی آئی ہوں۔ اگر راستہ یہی ہے تو میں یہی کھڑی رہوں گی۔"

یہ پہلا چھوٹا سا دراڑ تھا۔ وردی والا لڑکا ایک لمحہ رکا، مگر حنا آپا نے فوراً اس کی آنکھ پکڑ لی۔ "ادھر، ادھر۔ پہلے خالہ شمائلہ کو لے جاؤ۔" پھر وہ اونچی آواز میں بولیں، "آج کل کچھ لوگ دو بار چائے پلانے سے اپنے آپ کو گھر کی بڑی بہو سمجھنے لگتے ہیں۔"

قریب کھڑی دو عورتوں نے گردن موڑ کر صائمہ کو دیکھا۔ ایک کے ہاتھ میں کپ تھا، چائے ٹھنڈی ہو کر اوپر باریک تہہ باندھ چکی تھی۔ دروازے کے اندر استقبالی میز کے کنارے پر پھولوں کے پن، ٹیپ، اور مہمانوں کی فہرست کے کاغذ گڈمڈ پڑے تھے۔ منیجر نما آدمی نے اسی بھاگ دوڑ میں صرف وہی پڑھا جو سب پڑھ رہے تھے: جسے حنا آپا پیچھے کر رہی ہیں، وہی پیچھے کی ہے۔

ریحان اسی وقت اندر سے نکلا، فون کان اور ماتھے پر جلدی کا پسینہ۔ اس نے صائمہ کو دیکھا بھی، مگر اسی لمحے حنا آپا اس کے بازو سے لگ گئیں۔ "تم ذرا ابو کے دوستوں کو لے لو، یہاں میں دیکھ رہی ہوں۔" ریحان نے فون ہٹائے بغیر صرف اتنا کہا، "صائمہ، ایک منٹ..." اور وہ منٹ سب کے سامنے صائمہ کے درجے کا فیصلہ بن گیا۔

اب ترتیب جسموں سے بن رہی تھی۔ ایک رسی نما قطار دائیں کو موڑی گئی، مہمان بائیں سے اندر جا رہے تھے، اور صائمہ کو عمداً اس جگہ کھڑا کر دیا گیا جہاں آنے والی گاڑیوں کے دروازے کھلتے تو اسے خود پیچھے ہٹنا پڑتا۔ ایک چھوٹا ملازم اس کے سامنے سے ٹرے لے کر گزرا، کندھا تک نہ جھکایا۔ خالہ شمائلہ نے آتے ہی حنا آپا سے پوچھا، "یہ بچی کس کے ساتھ ہے؟" اور جواب بھی وہی دیا گیا، "بس جان پہچان کی ہے، ابھی اندر بھیج دیتے ہیں۔"

صائمہ نے ریحان کی طرف دیکھا۔ اسے صرف ایک جملہ کہنا تھا۔ ایک۔ مگر وہ پہلے اپنے تایا کو سنبھالنے گیا، پھر دولہے کے دوستوں کو۔ اس تاخیر نے حنا آپا کے جھوٹ کو لباس پہنایا۔ صائمہ کے سینے میں غصہ ٹھنڈا ہو کر سخت ہونے لگا۔ وہ بھاگنے والوں میں سے نہیں تھی۔ اس نے آگے بڑھ کر اپنی گاڑی کی چابی خود دربان کی ہتھیلی پر نہیں رکھی؛ واپس مٹھی میں بند کر لی۔ "میری گاڑی کوئی اور پارک نہیں کرے گا۔"

دربان چونکا۔ یہی لمحہ تھا جب منیجر کی نظر دوبارہ اس پر پڑی۔ وہ استقبالی میز سے پھسلتا ہوا آیا، ہاتھ میں مہمانوں کی فہرست والا بورڈ۔ "معاف کیجیے... آپ صائمہ صاحبہ ہیں؟"

حنا آپا نے بیچ میں کہا، "نہیں، آپ پہلے اوپر والوں کو—"

مگر منیجر نے ان کی بات کاٹ دی، اور پہلی بار آواز بدلی۔ "صائمہ صاحبہ، آپ ذرا اِدھر۔" اس نے بورڈ اپنے سینے سے لگایا، پھر وردی والے لڑکے کو ہاتھ سے اشارہ کیا۔ "رستہ کھولیں۔ یہ آگے جائیں گی۔"

صرف ایک جملہ، اور ہوا کی سمت بدل گئی۔ وہی لڑکا جو ابھی کندھا سیدھا کیے گزر گیا تھا، اب رسی اٹھا رہا تھا۔ دروازے کی طرف بنا ہوا رخ صائمہ کی سمت کٹ گیا۔ حنا آپا کے چہرے پر ایک لمحے کو وہی کھنچاؤ آیا جو تب آتا ہے جب کسی نے آپ کے ہاتھ سے مائیک لے لیا ہو۔ خالہ شمائلہ نے پلکیں جھپک کر صائمہ کو دوبارہ دیکھا، اس بار اوپر سے نیچے نہیں، ٹھیک سامنے سے۔

"کیوں؟" حنا آپا کی آواز نیچی مگر کڑی تھی۔ "کس بنیاد پر؟"

منیجر نے احتیاط سے کہا، "جناب ریحان نے پہلے سے ہدایت دی تھی کہ جب یہ آئیں تو انہیں سیدھا فیملی لاؤنج کے راستے لایا جائے۔ اور..." اس نے ایک لمحہ توقف کیا، جیسے سب کے سننے لائق لفظ چن رہا ہو، "ان کی جگہ محفوظ رکھی جائے۔"

یہ مکمل فتح نہیں تھی، مگر دراڑ اب سب کو دکھ رہی تھی۔ صائمہ اندر بڑھ سکتی تھی۔ پھر بھی حنا آپا نے جلدی سے قدم ملا کر اس کے سامنے آدھا راستہ روک لیا۔ "ایک محفوظ جگہ سے کوئی رشتہ ثابت نہیں ہوتا۔ آج ہر چیز کی وجہ ہوتی ہے۔ کچھ انتظامی سہولتیں بھی ہوتی ہیں۔" انہوں نے اتنی زور سے کہا کہ قریب کے رشتے دار سن لیں۔ "اور ویسے بھی، دولہے کی پھوپھی کی گاڑی ابھی آنی ہے۔ پہلے اُنہیں لیا جائے گا۔"

یہ آخری دھکا تھا۔ وہ ایک خاص اعزازی استقبال اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی تھیں—پھول، جھکا ہوا دربان، کھلتا ہوا مرکزی دروازہ—اور اسی کے ذریعے سب کے سامنے ترتیب واپس اپنی مرضی سے لکھ دینا چاہتی تھیں۔ عین اسی وقت سیاہ گاڑی آ کر رکی۔ دو ملازم سیدھے اس کی طرف لپکے۔ حنا آپا کے چہرے پر واپس اختیار آیا۔ "جلدی، پھوپھی جان آگئی ہیں!"

ریحان نے پہلی بار فون جیب میں ڈالا۔ وہ تیز قدموں سے آیا، مگر حنا آپا نے موقع نہ چھوڑا۔ "تم خود جاؤ، پھوپھی جان کو اتارو۔ اور صائمہ کو بعد میں بھیجا جا سکتا ہے۔ سب دیکھ رہے ہیں، کوئی تماشا نہ ہو۔"

صائمہ نے اس کی طرف دیکھا۔ نہ التجا، نہ شکوہ۔ صرف سیدھی نگاہ۔ "اگر مجھے بعد میں بھیجنا ہے تو ابھی کہہ دو۔ میں خود چلی جاؤں گی۔"

یہ جملہ اتنا صاف تھا کہ آس پاس کی کھسر پھسر رک گئی۔ منیجر ہاتھ باندھے کھڑا رہا؛ اس کے لیے خطرہ سیدھا تھا، جسے ریحان نام دے گا وہی ترتیب بنے گی۔ دربان آدھا جھکا، آدھا رکا۔ گاڑی کا دروازہ بند تھا، اندر سے سایہ ہلا، اور ساری لین ایک سانس پر ٹھہر گئی۔

ریحان نے حنا آپا کے ہاتھ سے پھولوں کی ٹوکری لے لی۔ "پھوپھی جان کو میں سلام بعد میں کر لوں گا۔" پھر وہ صائمہ کے سامنے آ کر صاف آواز میں بولا، اتنی بلند کہ خالہ شمائلہ، منیجر، دربان، سب سن لیں، "پہلے صائمہ کو لیں۔ یہ میری مہمان نہیں، میری طرف کی پہلی وصولی ہیں۔ ان کی جگہ کوئی اور نہیں لے گا۔"

حنا آپا کا رنگ ایک دم بدلا۔ "ریحان!" اس ایک لفظ میں ڈانٹ بھی تھی، ڈر بھی۔ "تمہیں اندازہ ہے—"

"جی، ہے۔" اس نے ان کی بات کاٹ دی، مگر نظر صائمہ سے نہ ہٹائی۔ "اور جو نہیں سمجھا گیا تھا، وہ اب سب کے سامنے سمجھا جا رہا ہے۔"

منظر اسی لمحے کٹ گیا۔ منیجر نے بورڈ بغل میں دبایا اور دونوں ہاتھوں سے راستہ کھولا۔ "صائمہ صاحبہ، اِدھر تشریف لائیں۔" وردی والا لڑکا سیاہ گاڑی کی طرف بڑھتے بڑھتے رکا، پھر پلٹ کر صائمہ کے لیے دروازہ کھولنے دوڑا۔ دوسرے ملازم نے قطار کی رسی ایک طرف سے اٹھائی اور جسموں کی لکیر مڑ گئی؛ جو ابھی تک حنا آپا کے اشارے پر سیدھی تھی، اب صائمہ کے قدم کے لیے خم کھا رہی تھی۔

یہ صرف الفاظ نہیں تھے۔ حنا آپا نے پھولوں کی ٹوکری دوبارہ پکڑنا چاہی، مگر ریحان نے وہ خالہ شمائلہ کے ہاتھ میں دے دی۔ ان کی انگلیاں ہوا میں خالی رہ گئیں۔ خالہ شمائلہ، جو تھوڑی دیر پہلے پوچھ رہی تھیں "یہ بچی کس کے ساتھ ہے"، اب خود ایک قدم پیچھے ہٹ گئیں تاکہ صائمہ گزر سکے۔ حنا آپا نے منیجر کو حکم دینے کے لہجے میں پکارا، "آپ غلط سمجھ رہے ہیں—" مگر لہجہ آدھے راستے میں بیٹھ گیا، کیونکہ منیجر پہلے ہی "جی باجی" ان سے ہٹا کر "جی صاحبہ" صائمہ کی طرف موڑ چکا تھا۔

صائمہ نے حرکت تب کی جب سب کا رخ بدل چکا تھا۔ یہی اس کی جیت تھی۔ وہ لپکی نہیں۔ اس نے اپنے بیگ کا پٹا کندھے پر درست کیا، چابی منیجر کے سامنے بڑھائی اور پھر واپس لے لی۔ "پارکنگ بعد میں۔ پہلے اندر۔" منیجر نے فوراً ساتھ چلنے کے لیے پہلو کھولا۔ ریحان ایک قدم پیچھے رہا، ساتھ مگر تابع نہیں؛ اعلان کر چکا تھا، اب جگہ صائمہ کی تھی۔

حنا آپا نے آخری وار کیا۔ "تو اب ایک نام لے دینے سے سب بدل جائے گا؟ بزرگ کیا کہیں گے؟"

صائمہ رکی۔ مڑی نہیں، بس اتنا کہ اس کی آواز سیدھی پیچھے جائے۔ "جو بھی کہیں، یہ آج دروازے پر کہا جائے گا، کچن میں نہیں۔ اور میری جگہ اگر بنانی تھی تو مجھ سے چھپا کر نہیں بنتی۔" پھر اس نے پہلی بار ریحان کی طرف دیکھا۔ "اب اگر تم ساتھ چل رہے ہو تو میرے پیچھے نہیں، میرے ساتھ چلو۔"

ریحان نے ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا۔ "جی۔" بس ایک لفظ۔ مگر اسی لفظ کے ساتھ اس نے خود کو حنا آپا اور صائمہ کے درمیان نہیں، صائمہ کے برابر لا کر کھڑا کر دیا۔ حنا آپا کے پاس اب صرف دیکھنا بچا تھا، حکم دینا نہیں۔ پیچھے سیاہ گاڑی کا دروازہ ابھی تک بند تھا، اور اس میں بیٹھی پھوپھی جان کو پہلی بار انتظار کرنا پڑا۔

فیملی لاؤنج کے دہانے تک پہنچ کر صائمہ نے قدم سستے کیے۔ اندر سے قورمے، عطر اور گرم روشنی کی ملی ہوئی بو آ رہی تھی۔ کسی میز پر رکھی چائے کے کپ کے نیچے نمی کا گول نشان بن چکا تھا۔ ریحان نے آہستہ سے کہا، "میں پہلے بول دیتا تو—"

"ابھی نہیں۔" صائمہ نے اس کی بات وہیں کاٹ دی۔ "جو کہنا تھا، تم کہہ چکے۔ باقی بعد میں بھی رہ سکتا ہے۔ یہ نہیں رہ سکتا تھا۔"

واپس باہر، آمدی لین میں ایک اور گاڑی آ کر رکی۔ دربان پہلے پرانی قطار کی طرف مڑا، پھر اس کی نظر صائمہ پر پڑی۔ اس نے فوراً رخ بدلا، دروازہ اسی طرف کھولا جہاں وہ کھڑی تھی، اور انتظار کرتی لکیر اس کے راستے کے گرد ہلکے خم سے مڑ گئی۔ صائمہ نے بغیر جلدی کیے گاڑی کے کنارے سے گزر کر اپنا قدم پہلے رکھا۔