سب کے سامنے میرا نام اوپر چلا گیا
“حیا، اِدھر نہیں۔” صائمہ خالہ نے سیڑھی کے نیچے لگے سنہری رسی والے راستے پر ہاتھ پھیرا اور میری کلائی کے آگے ہوا میں رکاوٹ کھینچ دی، “اوپر والے ڈائننگ فلور پر صرف اپنے لوگ پہلے جائیں گے۔ تم کیٹرنگ والوں کے ساتھ سائیڈ سے آ جاؤ۔”
میری انگلیوں میں لٹکی چابی کی چھوٹی گچھڑی دیر سے واپس کی گئی امانت کی طرح ٹھنڈی تھی۔ یہ اسی دفتر کی چابیاں تھیں جہاں پچھلے آٹھ مہینے میں میں نے زین کے ابّا کے سروس سیکٹر والے اکاؤنٹس سنبھالے، سپلائرز کو منایا، اور اس منگنی نما خاندانی-کاروباری دعوت کا آدھا بوجھ اپنے کندھے پر اٹھایا تھا۔ مگر دروازے پر، رسی کے اِس پار، میں اچانک “کیٹرنگ والوں کے ساتھ” ہو گئی تھی۔
میں نے ایک لمحہ صائمہ خالہ کے پیچھے رکھے سفید کارڈ دیکھے۔ ہر کارڈ پر نام سیاہ روشنائی سے لکھا تھا۔ سامنے کی قطار: دادی جان، حاجی فاروق، زین، مہک۔ میری جگہ؟ نہ میز پر، نہ اوپر کے راستے میں۔ نیچے اسٹاف ٹیبل کے پاس ایک فولڈنگ کرسی کی پشت پر مارکر سے لکھا تھا: “حیا—کوآرڈینیشن۔”
میں نے چابیوں کا حلقہ صائمہ خالہ کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔ “یہ دفتر کی چابیاں ہیں۔ کوآرڈینیشن بھی آپ ہی کر لیجیے۔”
ان کے منہ کے کونے کھنچے۔ غالباً وہ توقع کر رہی تھیں میں مسکرا کر گھٹ جاؤں گی۔ مگر میں رسی سے ہٹ کر سیدھی لابی کے ستون کے ساتھ جا کھڑی ہوئی، جہاں لفٹ کے دھندلے آئینے پر انگلیوں کے پرانے نشان جمے تھے۔ میرا میٹرو کارڈ پرس سے ذرا باہر نکلا ہوا تھا، کنارے سے گھسا ہوا، جیسے روز کی دوڑ نے اسے نرم کر دیا ہو۔ میں نے اسے اندر دھکیلا اور فون کی مدھم روشنی ہتھیلی میں دبا لی۔ اوپر سے برتنوں کی آواز، نیچے رجسٹر ٹیبل پر نام پکارنے والا لڑکا، اور درمیان میں صائمہ خالہ کی باریک مگر دور تک جانے والی آواز، “مہک بیٹا، تم زین کے ساتھ اوپر جاؤ۔”
مہک نے نرم رنگ کا دوپٹہ سنبھالتے ہوئے ایسا قدم رکھا جیسے وہ پہلے سے یہی جگہ لے کر آئی ہو۔ دو خالائیں اس کے کان کے پاس جھک کر بولیں، “بس اللہ خیر کرے، اب اعلان بھی ہو جائے۔” گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا کہ زین اور میرا معاملہ یوں بےنام نہیں تھا؛ مگر پتہ ہونا اور عزت سے مان لینا دو الگ چیزیں تھیں۔ آج وہ فرق رسی، کارڈ اور سیڑھی کے پہلے موڑ پر کھڑا تھا۔
عثمان، جو دفتر کے پرانے منیجر تھے، رجسٹر ہاتھ میں لیے میری طرف آیا۔ آہستہ بولا، “بی بی، اوپر مہمانوں کی فہرست میں آپ کا نام بعد میں ڈالنے کو کہا گیا ہے۔ پہلے خاندان، پھر سرمایہ کار، پھر باقی۔” اس نے نظریں چرا کر رجسٹر بند کیا۔ اس کے لیے یہ صرف ڈیوٹی نہ تھی؛ غلط نام غلط جگہ رکھ دینے کی قیمت نوکری تھی۔
میں نے رجسٹر کی سرخ جلد پر انگلی رکھی۔ “کس نے کہا؟”
“صائمہ باجی نے۔ اور… زین صاحب نے کچھ نہیں کہا۔”
یہ “کچھ نہیں” سینے میں کیل کی طرح لگا، مگر میں نے چہرہ نہیں بدلا۔ اوپر والی سیڑھی تنگ تھی، بیچ میں سوئچ بیک لینڈنگ، جہاں ایک وقت میں دو سے زیادہ لوگ پھنس جاتے۔ اسی جگہ آج ترتیب پڑھی جانی تھی: کون پہلے چڑھے گا، کون راستہ دے گا، کون کنارے پر رکے گا۔
میں نے عثمان سے رجسٹر لے لیا۔ اس نے ہچکچایا، پھر چھوڑ دیا۔ “میں نام دیکھ رہی ہوں، چوری نہیں کر رہی۔” میں نے صفحہ کھولا۔ اوپر نشستوں کی ترتیب صاف لکھی تھی۔ زین کے دائیں مہک، بائیں ایک خالی جگہ، مگر اس خالی جگہ کے کارڈ پر نام نہیں تھا؛ صرف “ریزرو”۔ نیچے آخر میں میرا نام، پھر کوآرڈینیشن، پھر اسٹاف ٹیبل۔ منصوبہ یہ تھا کہ مجھے کام میں لگا کر، عزت کے بغیر حاضر رکھا جائے۔
“حیا، رجسٹر واپس کرو۔” صائمہ خالہ اب میرے بالکل سامنے تھیں۔ “تم حد سے نکل رہی ہو۔”
“حد آپ نے بنائی ہے، خالہ۔ میں صرف پڑھ رہی ہوں کہ کس کو کہاں چھپایا گیا ہے۔”
ان کی آواز اونچی ہوئی تاکہ آس پاس کے لوگ سنیں۔ “چھپایا نہیں گیا، بچی۔ جس رشتے کی ابھی باضابطہ حیثیت نہیں، اسے بڑوں کے آگے جگہ نہیں دی جاتی۔ اپنے مقام میں رہنا سیکھو۔”
یہ پہلا زخم تھا، اور انہوں نے جان بوجھ کر مجمع کے بیچ لگایا۔ دو ویٹر ٹرے لے کر رک گئے۔ دادی جان اوپر والی لینڈنگ سے نیچے دیکھنے لگیں۔ مہک نے پلکیں جھکائیں مگر قدم پیچھے نہ لیا۔ زین ابھی تک نظر نہیں آیا تھا۔
میں نے رجسٹر بند کیا اور عثمان کو واپس نہ دیا۔ “اگر میرا مقام صرف کام ہے، تو میں کام چھوڑ رہی ہوں۔ اور اگر یہ محفل صرف آپ کے اپنے لوگوں کی ہے، تو میرا نام نیچے سے بھی کاٹ دیجیے۔”
میں نے صفحے کے کونے میں لگی کلپ نکال کر اپنے نام والی چھوٹی پرچی آزاد کر لی۔ کاغذ کی خشک سی آواز ہوئی۔ یہ کوئی بڑی بغاوت نہیں تھی، بس ایک چھوٹا سا ثبوت کہ میں خود کو فولڈنگ کرسی سے باندھنے نہیں دوں گی۔ صائمہ خالہ کا ہاتھ جھپٹا، مگر میں پرچی اپنی مٹھی میں لے چکی تھی۔
اسی وقت اوپر سے زین اترا۔ گہرے سبز کُرتے پر ابھی استری کی سِلیں سیدھی تھیں، جیسے اسے اوپر الگ کمرے میں تیار کیا گیا ہو اور نیچے کی گندگی سے بچا کر رکھا گیا ہو۔ اس نے ایک نظر صائمہ خالہ کو، ایک مجھے، اور ایک میرے ہاتھ میں دبی پرچی کو دیکھا۔ پھر بہت غلط وقت پر بہت نرم لہجے میں بولا، “کیا ہو رہا ہے؟”
صائمہ خالہ نے فوراً جواب دیا، “وہی جو ہونا چاہیے۔ تم اوپر چلو۔ مہک انتظار کر رہی ہے۔ حیا نیچے انتظام دیکھ لے گی، جب تک باضابطہ بات نہیں ہوتی، حدود رہنی چاہییں۔”
زین کے جبڑے میں ہلکی جنبش آئی، مگر وہ چپ رہا۔ اور وہی خاموشی ان سب کو جرأت دے گئی۔ مہک ایک سیڑھی نیچے آئی، زین کے بازو کے قریب ٹھہری، جیسے خالی جگہ قدرتی طور پر اسی کے لیے رکھی گئی ہو۔ نیچے رجسٹر ٹیبل پر بیٹھا لڑکا اگلا نام پکارنے لگا۔
میں نے اس ایک لمحے میں سمجھ لیا: اگر میں ہٹی، تو یہی نقشہ سچ بن جائے گا۔ بعد میں چاہے ہزار وضاحتیں ہوں، سب کے ذہن میں یہی رہے گا کہ میں نیچے والی لڑکی تھی جو کام کے لیے ٹھیک، نام کے لیے نہیں۔
میں نے سیدھا اوپر جانے والی سنہری رسی پکڑی، ہک سے نکالی، اور رسی ایک طرف کر دی۔ راستہ درمیان سے کھل گیا۔ ٹرے اٹھائے ویٹر ایک دم رکے، مہک کا پاؤں درمیان ہوا میں معلق رہ گیا، عثمان نے رجسٹر سینے سے لگا لیا۔ میں نے بغیر اجازت مانگے پہلا قدم سیڑھی پر رکھا اور لینڈنگ کی طرف بڑھ گئی۔
“حیا!” صائمہ خالہ کی آواز پھٹ گئی، “پیچھے ہٹو۔ یہ جگہ تمہارے لیے نہیں۔”
میں نہ رکی۔ تنگ موڑ پر مجھے گزرنے کے لیے مہک کو دیوار سے لگنا پڑا۔ اس کے چوڑے کنگن پلستر سے چھنے۔ زین خود ایک قدم سائیڈ ہوا۔ یہی درمیانی الٹ تھا: جو راستہ میرے لیے بند کیا گیا تھا، وہ میرے چلنے سے کٹ کر نیا بن رہا تھا، اور دوسروں کو رکنا پڑ رہا تھا۔
لینڈنگ پر آ کر میں اس خالی کرسی کے پاس کھڑی ہو گئی جس کے سامنے “ریزرو” رکھا تھا۔ نیچے سے سب کو اب صاف دکھ رہا تھا: ایک نشست جان بوجھ کر بےنام رکھی گئی تھی تاکہ وقت پر کسی اور کو دے دی جائے۔ میں نے اپنی مٹھی کھولی، نیچے سے نکالی ہوئی پرچی سیدھی کی، اور “ریزرو” کے اوپر رکھ دی۔ حیا۔
کمرے میں ایک ہلکا سا شور اٹھا، جیسے لوگ ابھی فیصلہ کر رہے ہوں اسے بےادبی کہیں یا حقیقت۔ دادی جان اپنی چھڑی کے ساتھ اوپر والی طرف سے آگے آئیں۔ “یہ کیا ڈرامہ ہے؟” ان کی آواز کمزور نہ تھی۔ “لڑکی، اگر بڑوں نے کہا ہے تو پیچھے ہٹ جاؤ۔ عزت مانگنے سے نہیں ملتی۔”
وہ جملہ بہتوں کے لیے حکم تھا۔ میرے لیے پھندا۔ اگر میں اب ہٹتی، تو میری اپنی انگلیوں سے رکھا ہوا نام میرے ہی ہاتھوں اتارا جاتا۔ میں نے دادی جان کی آنکھوں میں دیکھا اور آہستہ کہا، “میں عزت مانگ نہیں رہی۔ اپنی جگہ سے ہٹنے سے انکار کر رہی ہوں۔”
صائمہ خالہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر لینڈنگ تک پہنچیں۔ سانس تیز، مگر لہجہ اب بھی حاکمانہ۔ “یہ جگہ مہک کے لیے رکھی گئی ہے۔ خاندان کی عزت سمجھو۔ نیچے جاؤ۔ ابھی کے ابھی۔”
مہک بھی پیچھے تھی، مگر اب اس کے قدم میں یقین نہیں رہا تھا۔ اس نے پہلی بار زین کی طرف دیکھا، جیسے کہے، اب بولو۔ ویٹر ہاتھوں میں سوپ کے پیالے لیے جم گئے۔ عثمان نے رجسٹر کھول رکھا تھا مگر قلم آگے نہیں بڑھا رہا تھا۔ پورا مسئلہ اب صرف رشتے کا نہ رہا تھا؛ کس کا نام کہاں لکھا جائے گا، کس کے سامنے تھال پہلے رکھے جائیں گے، کون میز کے سرے سے اندر آئے گا — سب یہی دیکھ رہے تھے۔
زین نے اب تک ایک لفظ نہیں کہا تھا۔ وہ لینڈنگ کے نچلے موڑ پر کھڑا تھا، ایک ہاتھ ریلنگ پر، دوسرا بند۔ نیچے سے دو ماموں اوپر چڑھتے ہوئے آدھے قدم پر رک گئے۔ اگر وہ پھر بھی خاموش رہتا، تو صائمہ خالہ جیت جاتیں۔ خاموش مردوں کی آڑ میں ایسی عورتیں برسوں تختیاں بدلتی رہتی ہیں۔
صائمہ خالہ نے آخری دھکا دیا۔ “حیا، تم خود کو کیا سمجھتی ہو؟ عارضی انتظام کو بہو کا درجہ نہیں ملتا۔ راستہ چھوڑو۔”
یہ اتنا اونچا کہا گیا کہ نیچے والے ہال تک سنا گیا۔ لفظ “عارضی” نے میرے چہرے پر نہیں، ان کے اپنے منصوبے پر کالک ملی؛ کیونکہ اب ہر سننے والا جان گیا کہ مجھے رکھا بھی گیا، روکا بھی گیا، اور استعمال بھی کیا گیا۔ میں نے کرسی کی پشت پکڑی۔ “تو پھر سب کے سامنے کہہ دیجیے کہ جن حسابوں پر دستخط آپ نے میرے بنائے ہوئے نمبروں سے کیے، جن مہمانوں کو میں نے بلایا، جس محفل کو میں نے کھڑا کیا، اُس میں میرا نام صرف کام کے کاغذ تک تھا۔ کہہ دیجیے۔”
صائمہ خالہ کا رنگ بدلا۔ یہ دوسرا زخم تھا: دکھائی دینے والا نقصان۔ نیچے دو سپلائر، جنہیں میں نے خود فون کر کے منایا تھا، ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ عثمان نے بےاختیار رجسٹر بند کر لیا، جیسے لکھا ہوا جھوٹ اب زیادہ دیر سامنے نہیں رکھا جا سکتا۔
زین نے اسی لمحے حرکت کی۔ تیز، سیدھی، بلا کسی تمہید کے۔ وہ دو دو سیڑھیاں چڑھتا ہوا لینڈنگ پر آیا، صائمہ خالہ کے آگے سے گزرا، اور “ریزرو” کا کارڈ اٹھا کر ایک طرف پھینک دیا۔ کاغذ ہوا میں مڑا اور نیچے والی سیڑھی پر جا گرا۔
اس نے عثمان کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ “رجسٹر۔”
عثمان نے فوراً بڑھا دیا۔
زین نے صفحہ کھولا، قلم نکالا، اور اوپر والی ترتیب کے سامنے زور سے لکھا: “حیا زین کے ساتھ۔” پھر اس نے اتنی بلند آواز میں کہا کہ دادی جان، ویٹر، ماموں، سپلائر، سب سن لیں، “پہلا نام یہی پڑھے گا۔ اوپر میرے دائیں یہی بیٹھے گی۔ اور کھانا اسی کے آگے پہلے رکھا جائے گا۔”
صائمہ خالہ نے جیسے اپنی آواز واپس پانے کی کوشش کی۔ “زین، تم حد پار کر رہے ہو—”
“حد آپ نے پار کی تھی، خالہ۔” اس نے پہلی بار ان کی طرف دیکھا، سیدھا، سخت۔ “جس کو گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہو، جس نے اس محفل کا بوجھ اٹھایا ہو، اُس کو دروازے پر اسٹاف کے ساتھ کھڑا نہیں کیا جاتا۔ آج کے بعد نہیں۔”
یہ تیسرا وار تھا، اور سب سے زیادہ تکلیف دہ: طاقت کی سیدھی الٹ۔ صائمہ خالہ نے مہک کو آگے کرنے کی کوشش میں ہاتھ بڑھایا، مگر مہک خود آدھا قدم پیچھے ہٹ گئی۔ اس کا دوپٹہ سیڑھی کے کونے میں اٹکا، اس نے جھٹکے سے چھڑایا، اور پہلی بار اس کے چہرے پر یہ خوف آیا کہ شاید اسے وہاں کبھی ہونا ہی نہیں تھا۔ دادی جان نے چھڑی زمین پر ٹکائی، کچھ کہنا چاہا، مگر زین پہلے ہی کرسی کھینچ چکا تھا۔
“حیا، بیٹھو۔”
میرے لیے یہی کافی ہو سکتا تھا، مگر اگر میں صرف بیٹھ جاتی، تو بات پھر بھی اُس کی دی ہوئی جگہ رہتی۔ مجھے اپنی مہر خود لگانی تھی۔ میں نے رجسٹر اس کے ہاتھ سے لیا، نیچے والی فہرست پر اپنے نام کے آگے لکھا “کوآرڈینیشن” ایک لکیر سے کاٹا، اور وہ صفحہ عثمان کی طرف موڑ دیا۔ “آج سے میرے نام کے آگے یہ نہیں جائے گا۔”
پھر میں نے کرسی کو میز کے بالکل ساتھ سیدھا کیا، تاکہ دائیں طرف کی جگہ کسی سمجھوتے جیسی نہ لگے بلکہ مقررہ نشست لگے۔ ویٹر اب بھی جمے ہوئے تھے۔ میں نے ان میں سے ایک کو دیکھا۔ “پہلی پلیٹ یہاں۔”
لڑکے نے فوراً ٹرے موڑی۔ سوپ کا پہلا پیالہ میرے سامنے رکھا گیا، دوسرا زین کے، اور مہک کے لیے بڑھا ہاتھ ہوا میں رکا رہ گیا۔ نیچے سے ایک سانس جیسی آواز آئی، مگر کسی نے تالیاں نہیں بجائیں، کسی نے مبارک نہیں دی۔ یہی سب سے سخت چیز تھی: کمرہ بغیر لفظوں کے ترتیب بدل رہا تھا۔
صائمہ خالہ نے آخری ہتھیار نکالا، وہی جو ایسی مجلسوں میں عورتوں کے خلاف اکثر کام آتا ہے۔ “لڑکی کو کچھ شرم ہونی چاہیے۔ اپنے لیے خود جگہ بنا کر بہو نہیں بنتے۔”
میں نے بیٹھے بیٹھے اس کی طرف دیکھا۔ “دروازے پر ذلیل کر کے بھی کوئی خالہ نہیں رہتی۔”
یہ مختصر تھا، مگر کاٹ گہری تھی۔ ان کے ہونٹ کھلے رہ گئے۔ دادی جان نے نگاہ موڑ لی۔ عثمان نے رجسٹر میں اوپر والی سطر پر انگلی پھیر کر نام سیدھا کیا۔ اب پرچی نہیں، تحریر بول رہی تھی۔
کھانا شروع ہونے سے پہلے زین نے اپنی پلیٹ کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا۔ اس نے صرف اتنا کیا کہ پانی کا گلاس میری طرف پہلے سرکایا۔ میں نے لیا، مگر نظریں میز پر نہیں جھکائیں۔ اوپر والا فلور روشن تھا، مگر فضا میں ابھی بھی تانبے کے برتنوں، عطر، اور ذرا سی جلی ہوئی عزت کی ملی جلی بو تھی۔ نیچے سے آنے والے ہر نئے مہمان کو لینڈنگ پر رک کر یہی نقشہ پڑھنا پڑ رہا تھا: نام بدل گیا ہے، جگہ بدل گئی ہے، اور جسے نیچے رکھا گیا تھا وہ اوپر دکھ رہی ہے۔
کھانے کے بعد نیچے اترنے کا وقت آیا تو سیڑھی پھر تنگ ہو گئی۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں آتے وقت مجھے روکا گیا تھا۔ اب زین آگے بڑھا، مگر اس نے پہلے میرا ہاتھ نہیں پکڑا۔ اس نے ریلنگ پر ہاتھ رکھا اور بس ایک قدم پیچھے ہو کر راستہ میرے لیے کھولا۔ یہ نجی تسلی نہیں تھی؛ یہ وہی عوامی ترتیب تھی، دوسری بار، اور زیادہ صاف۔
صائمہ خالہ، مہک، دادی جان، سب پیچھے اسی سوئچ بیک لینڈنگ پر جمع تھے۔ جگہ اتنی تھی کہ اگر میں رکی رہتی تو سب اٹک جاتے، اور اگر میں چلتی تو سب کو ٹھہرنا پڑتا۔ میں نے اپنے پرس سے وہ گھسا ہوا میٹرو کارڈ نکالا، ایک لمحہ انگلیوں میں گھمایا، پھر واپس رکھا۔ نیچے کی منزل کی روشنی سیڑھی کے کنارے سے آ رہی تھی۔ میں سیدھی اتری، ریلنگ کے پاس پہنچ کر ایک لمحے کو ہاتھ رکھا، اور بغیر پیچھے دیکھے اگلا قدم نیچے کی سیڑھی پر رکھ دیا۔