Fast Fiction

پورا منظر اسی کے خلاف پلٹ گیا

سحر نے نکلتے ہوئے ٹرالی کے آگے ہاتھ رکھ دیا تو لوہے کا پہیہ چیخ کر رک گیا، اور کامران صاحب نے رجسٹر کی کھلی جلد پر انگلی مار کر کہا، “یہ کمی تمھارے شفٹ کوڈ میں نکلی ہے، سحر۔ دروازہ تبھی کھلے گا جب تم وصولی اپنے نام پر لو گی۔” لوڈنگ بے کی زرد بتیوں میں اس کے مڑے ہوئے شناختی فیتے پر پرانی سیاہی کا داغ صاف دکھ رہا تھا، جیسے روز کے لمس نے کپڑے اور وقار دونوں گھس دیے ہوں۔ دو کارٹن کم تھے، مہنگا مال تھا، اور رات کی روانگی روکی گئی تو کل کی سپلائی لائن بھی اسی کے کھاتے میں لکھی جا سکتی تھی۔ عدنان، جو گیٹ اسکنر کے پاس کھڑا تھا، ایک بار اس کی طرف دیکھ کر پھر نظریں چرا گیا۔ یہاں جھوٹ صرف کاغذ پر نہیں لگتا تھا؛ کراچی میں سروس سیکٹر کی نوکری پر لگا دھبہ شام کے کھانے کی میز تک جاتا ہے، پھر خالہ، ماموں، رشتے والی خالہ ناہید سب کے کان تک۔

“میں نے یہ پیلیٹ بند نہیں کی تھی،” سحر نے سیدھا رجسٹر دیکھا، “میری مہر آخری گنتی پر نہیں ہے۔” کامران صاحب ہنسے نہیں، بس اتنی دیر رکے کہ آس پاس والے سن لیں۔ “تم ہر بار یہی کہتی ہو۔ ابھی قبول کرو، پھر اندر جا کر دیکھ لیں گے۔ انکار کرو گی تو رپورٹ بنے گی۔ رپورٹ گئی تو اگلی ماہانہ تجدید بھی یاد رکھنا۔ اور ہاں، کل تمھاری خالہ ناہید نے تمھارے لیے کیا کہا تھا؟ ‘لڑکی محنتی ہے، بس کام میں کوئی داغ نہ ہو۔’ داغ لگے گا تو گھر بھی سنے گا۔”

یہ آخری جملہ اس نے ہلکے سے کہا، مگر بے کے کنارے کھڑے پیکر، ہیلپر، اور وہ ڈرائیور جو چائے کے کپ کے ساتھ انتظار کر رہے تھے، سب نے سن لیا۔ ذلت کو آہستہ بولا جائے تو وہ اور دور جاتی ہے۔ سحر کی کمر میں پورے دن کی شفٹ کی سختی جمی ہوئی تھی، آستین کہنی پر شکن دار ہو گئی تھی، مگر اس کی آواز نہیں ہلی۔ “طریقہ کار میں پہلے آخری دستخط دیکھے جاتے ہیں، الزام بعد میں لگتا ہے۔ رجسٹر مجھے دیں۔”

کامران صاحب نے رجسٹر اپنی طرف کھینچ لیا۔ “نہیں، ابھی نہیں۔ پہلے یہ متبادل حوالگی فارم بھرو۔” انہوں نے نیلی کاربن والی ایک شیٹ نکالی؛ اوپر لکھا تھا فوری ذمہ داری منتقلی۔ یہ وہ کاغذ تھا جس پر نیچے والے سے غلطی اپنے نام لگوا کر اوپر والا صاف نکل جاتا تھا۔ “بس ایک دستخط۔ تمھارا کام بچ جائے گا۔”

سحر نے فارم کی اوپری سطر پڑھی، پھر عدنان کو دیکھا۔ “فوری ذمہ داری منتقلی؟ لوڈنگ کے بعد؟” عدنان نے ہونٹ بھیچ لیے۔ اس کے ہاتھ میں اسکینر تھا، مگر اس کی دلچسپی اچانک اپنے ناخن میں اٹکی دھول میں بڑھ گئی۔ “ڈرائیور کھڑا ہے، گاڑی کھڑی ہے، سب تمھارے انتظار میں ہیں،” کامران صاحب نے زور سے کہا تاکہ گواہ بڑھیں، “اور تم ایک سطر پڑھنے کا ناٹک کر رہی ہو۔ جس کے دل میں کھوٹ نہ ہو، وہ دستخط سے نہیں ڈرتا۔”

یہی ان کا پہلا دھکا تھا، اور اسی میں چھپا ہوا پہلا سوراخ بھی۔ سحر نے شیٹ کے نچلے حصے کی باریک سطر پکڑی: ذمہ داری آخری مجاز دستخط کنندہ پر نافذ ہو گی، بشرطیکہ فوری حوالگی اسی کے حکم پر ہو۔ اس نے آہستہ سانس لی۔ پرانی سیاہی کے داغ والی اپنی انگلی سے سطر پر ٹپکی دی۔ “اس پر مجاز دستخط کنندہ کون ہے؟”

“میں ہوں، تو؟” کامران صاحب نے جھنجھلا کر کہا۔ “پھر آپ حکم لکھیں۔ زبانی نہیں۔” “تم مجھے طریقہ سکھاؤ گی؟” “نہیں۔ بس وہی مانوں گی جو لکھا جائے۔”

بے کے اوپر لگے پنکھے کی گھرگھراہٹ اور برقی بتی کی ہلکی بھنبھناہٹ کے درمیان دو لمحے لٹکے رہے۔ کامران صاحب کو عادت تھی نیچے والے صرف دباؤ سمجھیں، متن نہ پڑھیں۔ مگر اب آس پاس لوگ کاغذ کی طرف دیکھ رہے تھے۔ وہ پیچھے نہیں ہٹ سکتے تھے۔ انہوں نے جھٹکے سے بورڈ لیا، فارم کے حکم والے خانے میں لکھا: فوری حوالگی میری ہدایت پر، موجودہ حالت میں، ابھی۔ نیچے اپنے دستخط کیے، تاریخ ڈالی، مہر لگائی، پھر کاغذ سحر کے سامنے پھینکا۔ “لو۔ اب بہانے ختم۔ گاڑی نکالو۔”

سحر نے کاغذ اٹھایا نہیں۔ اس نے دونوں کارٹن گن کر ایک خالی جگہ پر نگاہ ٹکائی، پھر عدنان سے کہا، “اسکین روکو۔” عدنان چونکا۔ “مگر…” “روکو۔ حکم میں موجودہ حالت میں لکھا ہے۔ موجودہ حالت یہی ہے: کمی کے ساتھ۔ جب آخری مجاز دستخط کنندہ نے اسی حالت میں فوری حوالگی اپنے حکم پر منظور کی ہے، تو نظام میں ذمہ داری انہی کی کھلے گی۔ اسکین روکو اور وصولی کال کرو۔”

کامران صاحب نے فوراً مداخلت کی۔ “میں نے صرف روانگی بچانے کو دستخط کیے ہیں، الزام لینے کو نہیں۔” “کاغذ نے کچھ اور کہا ہے،” سحر نے پہلی بار فارم ہاتھ میں لیا اور وہ سطر سیدھی کر کے عدنان کے سامنے کر دی۔ “پڑھ لو۔ اسی حالت میں۔ اپنی ہدایت پر۔ آخری مجاز دستخط کنندہ۔”

عدنان نے ایک قدم پیچھے ہٹ کر ریسیوونگ ڈیسک کو فون ملا دیا۔ اس کے لہجے میں وہ احتیاط آ گئی جو آدمی اپنی جان بچانے کے لیے اختیار کرتا ہے۔ “جی، بے سات… ہاں، فوری حوالگی فارم پر مجاز دستخط ہو چکے… جی نہیں، کمی نوٹڈ ہے… جی، نام؟” اس نے گردن اٹھا کر دیکھا، پھر بہت صاف کہا، “کامران صاحب۔”

کامران صاحب کا چہرہ ایک دم نہیں بدلا؛ پہلے صرف جبڑا سخت ہوا، پھر انہوں نے دائیں ہاتھ سے رجسٹر بند کرنا چاہا۔ سحر نے رجسٹر ان کی گرفت سے پہلے اپنی طرف کھینچ لیا۔ جلد کے کنارے سے گرد اڑی۔ “رجسٹر کھلا رہے گا۔ ابھی اندراج پورا ہوگا۔” “تم حد سے بڑھ رہی ہو۔” “نہیں۔ حد آپ نے لکھی ہے۔”

ٹرالی اب بھی رکی ہوئی تھی۔ ڈرائیور نے کپ نیچے رکھ دیا۔ ہیلپر نے وہ کارٹن، جو پہلے بے دھیانی سے دھکیل رہا تھا، ہاتھ ہٹا کر سیدھا کھڑا کر دیا۔ منظر میں شور کم ہوا تو ہر حرکت اور صاف سنائی دینے لگی: پلاسٹک ریپ کی سرسراہٹ، بارکوڈ اسکینر کی ایک ادھوری بیپ، دور راہداری میں جنریٹر جیسی مسلسل سانس۔ کامران صاحب نے دروازے کے مقناطیسی لاک کی طرف اشارہ کیا۔ “دروازہ کھولو۔ میں خود گاڑی کے ساتھ جا رہا ہوں۔ راستے میں دیکھ لیں گے۔”

“نہیں جا سکتے،” سحر نے کہا۔ یہ سن کر ایک ہنسی کسی کے گلے میں اٹک کر مر گئی۔ نیچے درجے کی لڑکی، اوپر درجے کے منیجر کو، وہ بھی گودام کے پچھلے حصے میں، سب کے سامنے روک رہی تھی۔

کامران صاحب نے کندھے سے اسے ہٹانے کی کوشش کی۔ “ہٹو۔” سحر ہٹی نہیں۔ اس نے کھلے رجسٹر کے اوپر وہی دستخط شدہ حکم رکھ دیا اور عدنان سے کہا، “سائیڈ خارجی دروازہ بھی بند رکھو۔ جب تک کمی کی حامل حوالگی کے دستخط کنندہ جسمانی طور پر موجود نہ ہوں، روانگی مکمل نہیں ہوتی۔ تم جانتے ہو۔” عدنان جانتا تھا۔ اسی لیے اس نے جواب میں بحث نہیں کی، بس جیب سے چابی نکالی اور سائیڈ خارجی دروازے کی اوپری کنڈی چڑھا دی۔ طاقت پہلے بولتی ہے، طریقہ کار بعد میں؛ مگر جب طریقہ کار لکھا ہوا ہو اور گواہ دیکھ رہے ہوں، طاقت کی آواز اچانک بھاری پڑ جاتی ہے۔

“میں تمھیں معطل کرا دوں گا،” کامران صاحب نے آہستہ کہا، اتنا آہستہ کہ دھمکی ذاتی لگے۔ “پہلے اپنی موجودگی درج کرائیں،” سحر نے جواب دیا۔ “کمی کے ساتھ مال آپ کی ہدایت پر نکل رہا ہے۔ وصولی پر اعتراض آیا تو جواب آپ دیں گے۔ اگر آپ جا رہے ہیں تو پہلے ذمہ دار افسر کی جگہ کسی اور کا نام لکھیں۔” “میں کیوں لکھوں؟” “کیونکہ آپ نے فوراً نکلوانے کا حکم دیا ہے۔”

وہ ایک لمحے کو خاموش رہے۔ یہی وہ شگاف تھا جہاں آدمی سمجھتا ہے کہ اب بھی گھما لے گا۔ انہوں نے جھٹ سے دوسرا کاغذ مانگا۔ “دے دو۔ میں نوٹ لکھ دیتا ہوں کہ سپروائزر دیکھ لے گا۔” “سپروائزر کون؟” “جو بھی موجود ہو۔” “نام کے بغیر دروازہ نہیں کھلے گا۔”

یہ بحث نہیں تھی، بندش تھی۔ وہ جتنی نئی راہ نکالتے، وہ کاغذ کی لکھی ہوئی اینٹ سے بند ہو جاتی۔ عدنان نے فون کان اور کندھے کے بیچ دبایا ہوا تھا۔ دوسری طرف سے شاید سوال آیا، اس نے فوراً کہا، “جی، دستخط صاف ہیں۔ مہر بھی لگی ہے۔ نہیں، سحر نے نہیں، سر نے خود کیا ہے۔”

یہ سن کر کامران صاحب نے غصے میں وہ بورڈ چھیننا چاہا جس پر فارم کلپ ہوا تھا۔ کلپ ٹوٹ کر ایک طرف جا گری۔ فارم مگر سحر کے ہاتھ میں آ چکا تھا۔ اس نے اسے موڑا نہیں، چھپایا نہیں؛ سیدھا کھولا اور اونچا نہیں، بس اتنا رکھا کہ پڑھا جا سکے۔ “آپ نے حکم دیا، آپ موجود رہیں گے۔” “میں تمھارا ماتحت نہیں ہوں۔” “کاغذ ہے۔”

وہ سیدھے مڑ کر مین گزرگاہ کی طرف بڑھنا چاہتے تھے، شاید سامنے کے دفتر سے کسی اور کو لا کر شور بدل دیں۔ سحر ان سے دو قدم پہلے سائیڈ خارجی دروازے تک پہنچی۔ وہاں راہداری کی بتی مسلسل بھنبھنا رہی تھی، سفید روشنی میں دیوار کا پپڑا اور لوہے کے فریم کی زنگ آلود لکیریں اور نمایاں تھیں۔ اس نے دروازے کے ہینڈل کے آگے ہاتھ رکھا، دوسرے ہاتھ میں کھلا حکم نامہ۔ “یہ راستہ تب کھلے گا جب وصولی کال کے مطابق آپ خود مال کے ساتھ درج ہوں گے یا اپنی جگہ باقاعدہ نامزد افسر لکھیں گے۔ زبانی نہیں۔ ابھی۔”

کامران صاحب نے پہلی بار کاغذ کو اپنے خلاف چیز کی طرح دیکھا۔ اس پر ان کے دستخط صرف نام نہیں رہے تھے؛ لوہے کی سلاخ بن گئے تھے۔ انہوں نے ہاتھ بڑھا کر پرچہ پکڑنا چاہا۔ سحر نے ایک انچ پیچھے کھینچ لیا۔ “مت چھوئیں۔ یہ اب ریکارڈ ہے۔” “تم سمجھتی کیا ہو اپنے آپ کو؟” “جس پر آپ الزام ڈال رہے تھے، وہی۔ فرق بس یہ ہے کہ میں نے پڑھ لیا۔”

ان کے پیچھے ٹرالی وہیں رکی تھی، آدھا راستہ گھیرے ہوئے۔ ڈرائیور نے انجن بند کر دیا؛ شور کٹتے ہی راہداری کی بھنبھناہٹ زیادہ صاف ہو گئی۔ عدنان کی آواز فون پر اور دب گئی، “جی، جی، سر سائیڈ ایگزٹ پر موجود ہیں… نہیں، ریلیز ابھی رکی ہے… جی، دستخط کی وجہ سے۔”

کامران صاحب نے ایک آخری حرکت کی، وہی جو پرانے اختیار والے کرتے ہیں جب حکم ان کے ہاتھ سے نکلتا محسوس ہو: “دروازہ کھولو، یہ میرا حکم ہے۔” سحر نے کھلے حکم نامے پر انگلی رکھ کر ان کے دستخط کے نیچے لکھی سطر پڑھ دی، لفظ بہ لفظ، بغیر اونچی آواز کیے: “فوری حوالگی میری ہدایت پر، موجودہ حالت میں، ابھی۔” پھر اس نے وہی کاغذ سائیڈ خارجی دروازے کے شیشے کے سامنے کر دیا، تاکہ سفید بتی میں ان کا نام، مہر، تاریخ سب صاف رہے، اور کنڈی پر ہاتھ جما کر کہا، “اب یہی حکم آپ کو باہر نہیں جانے دے گا۔”