جعلی چلانے والا وہیں کھل گیا
کاؤنٹر کے شیشے پر ایک ساتھ تین ہاتھ پڑے، پرچیوں کا گچھا پھسلا، اور دانش نے گھبرا کر غلط بس کا نام پکار دیا۔ کراچی کے صدر والے نجی بس ٹرمینل میں عصر کے بعد کی بھیڑ پہلے ہی سوجی ہوئی تھی؛ مہرین اپنے پرانے، کُھردرے فیتے والے بیج کو سینے سے لگائے سائیڈ میں کھڑی تھی اور سامنے اس کی جگہ دانش کرسی پر پھیلا ہوا بیٹھا تھا، جیسے صرف اونچی آواز ہی کاؤنٹر چلا لیتی ہو۔ فریحہ آپا نے رجسٹر اپنے پاس دبا رکھا تھا اور مہرین کی طرف دیکھے بغیر بولی، “تم بس ٹوکن الگ کرو۔ سامنے دانش بیٹھے گا۔ آج مہمان لوگ آ رہے ہیں، شکل بھی دیکھی جاتی ہے۔”
مہرین نے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ اس کے آستین پر پورے دن کی شکنیں تھیں، کندھے میں شفٹ کے آخر والی سختی بیٹھی ہوئی تھی، اور نیچے اسٹول کے پاس رکھا اس کا کھانے کا ڈبہ ٹھنڈا ہو کر چپٹا پڑا تھا۔ مگر اس نے خاموشی سے ایک موٹا بنڈل کھینچ کر منزل کے حساب سے الگ کیا اور اتنا ضرور کیا جو فریحہ آپا نے نہیں چاہا تھا: اس نے خالی دوسری کرسی کو اپنے پاؤں سے کاؤنٹر کے قریب کر لیا، اتنا قریب کہ اگر ہاتھ بڑھانا پڑے تو اسے کسی سے اجازت نہ لینی پڑے۔
قطار سے ایک بوڑھا آدمی جھک کر بولا، “بیٹی، شکارپور والی رات کی کوچ؟ پچھلی بار بھی تم نے ہی بٹھایا تھا ہمیں۔” فریحہ آپا نے اس کی بات کاٹ دی، “آج دانش دیکھ رہا ہے۔ ایک ہی آدمی سے کام نہیں چلتا دنیا میں۔” بوڑھے نے مہرین کو پہچان لیا۔ یہی مسئلہ تھا۔ اس سروس سیکٹر میں چہرے بھی حساب میں آتے تھے، اور جسے لوگ کام سے پہچان لیں، اسے پیچھے دھکیلنا آسان نہیں رہتا، اس لیے ذلت اور بھی ضروری بنائی جاتی تھی۔
پانچ منٹ میں دانش نے دو ٹکٹوں پر ایک ہی نشست لکھ دی، ایک مسافر سے اضافی سامان کی رقم لے کر پرچی دینا بھول گیا، اور بورڈنگ والے دروازے پر کھڑے حمّال نے اندر سے آواز لگائی کہ لوڈ شیٹ کے بغیر ایک بھی بیگ نیچے نہیں جائے گا۔ مہرین نے رجسٹر کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ فریحہ آپا نے سب کے سامنے اس کا ہاتھ تھپک کر ہٹا دیا، “تمہیں کہا نا، پیچھے رہو۔ ہر چیز میں آگے آنے کی عادت اچھی نہیں ہوتی۔”
یہ جملہ زور سے بولا گیا تھا تاکہ قطار سنے۔ پیچھے کھڑی عائشہ خالہ نے فوراً چہرہ اوپر کیا۔ وہ مہرین کی ماموں زاد کی ساس کی جاننے والی تھی، ان عورتوں میں سے جو محلے سے ٹرمینل تک خبر کو سانس کی طرح لے جاتی ہیں۔ اس نے ہلکی سی بھنویں چڑھائیں۔ “ارے، یہی تو لڑکی ہے نا جس کے بارے میں گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہے کہ پورا کاؤنٹر یہ سنبھالتی ہے؟”
فریحہ آپا نے بنا پلک جھپکائے جھوٹ کو عزت کی چادر دی۔ “کام تو سب سیکھتے ہیں، خالہ۔ مگر سامنے بیٹھنے کو رکھ رکھاؤ چاہیے۔” پھر دانش سے کہا، “جلدی کرو، لوگوں کو روکو مت۔”
روک تو وہی رہا تھا۔ ایک نوجوان جوڑا، ساتھ میں دو بچے اور ہاتھ میں شادی کا سرخ کپڑے والا گفٹ بیگ لیے، حیدرآباد والی بس کے لیے چیخنے لگا۔ ان کا ایک ٹرنک لوڈ لائن میں پھنس گیا تھا کیونکہ دانش نے ان کے سامان پر غلط کوڈ لگا دیا تھا۔ دروازے سے آواز آئی، “یہ بیگ اندر نہیں جائے گا، لسٹ میں نام ہی اور ہے!” بچے کی ماں کا دوپٹہ کندھے سے پھسل گیا، وہ تقریباً رو پڑی، “بھائی ہماری بارات میں جانا ہے، بس نکل گئی تو ختم ہو گیا سب۔”
مہرین نے سیدھا حمّال کی طرف دیکھا، پھر قطار، پھر رجسٹر۔ “لوڈ شیٹ دو۔” فریحہ آپا آگ کی طرح لپکی، “کس نے کہا؟ تم حکم نہیں دو گی۔” “پھر آپ دیں،” مہرین نے بےآواز سختی سے کہا، “اور صحیح دیں۔”
دانش نے رجسٹر کھولا، صفحہ الٹا، پھر الٹے صفحے پر ہی انگلی رکھ کر رک گیا۔ اس ایک سیکنڈ نے پورا ہال ننگا کر دیا۔ پنکھوں کی بھنبھناہٹ، باہر کوچ کے انجن کی گرج، اور اندر بڑھتی بددعا ایک ساتھ سنائی دینے لگی۔ حمّال پھر چیخا، “نام بتاؤ! کس گاڑی میں ڈالنا ہے؟ لائن رکی ہوئی ہے!”
مہرین نے کاؤنٹر کے آگے جھک کر، بغیر اجازت کے، ایک جملہ پھینکا جو حکم بھی تھا اور حل بھی۔ “سلمان، سرخ گفٹ بیگ والے خاندان کا ٹرنک پہلے بائیں لائن میں ڈال، کوچ ستائیس حیدرآباد، اور باقی اضافی سامان والی ٹوکری پیچھے کر۔ نیلا ٹوکن میرے ہاتھ میں دو۔” سلمان نے ایک لمحہ فریحہ آپا کی طرف دیکھا، پھر مہرین کی طرف۔ مہرین نے دوسری بات کہی، “بوڑھے بابا اور دو خواتین، شکارپور والی فہرست سے نکالو، ان کی نشستیں تین اور چار خالی ہیں۔ دانش، ہاتھ روکو۔”
کمرے نے دلیل نہیں سنی؛ اس نے روانی سنی۔ سلمان نے وہی کیا۔ نیلا ٹوکن شیشے کے نیچے سے مہرین کی طرف سرکا۔ حمّال نے ٹرنک اٹھایا اور بائیں لائن کھل گئی۔ وہ نوجوان باپ فوراً بچے کو پکڑ کر ایک طرف ہٹا۔ بوڑھا آدمی آگے بڑھ آیا۔ دانش کے ہاتھ رجسٹر پر ہی رہ گئے، مگر صفحہ اب بھی اس کے بس میں نہیں آ رہا تھا۔
فریحہ آپا نے آواز سخت کی، “سب اپنی جگہ پر رہیں! ایک دم سے کوئی اصول نہیں بدلتا۔” لیکن اسی وقت اس نے خود غلطی کی۔ اس نے بوڑھے آدمی کو روکا اور کہا، “پہلے یہ شادی والے جائیں گے۔” مہرین نے بنا سر اٹھائے جواب دیا، “نہیں۔ پہلے وہ جائیں گے جن کی نشست بلاک ہو چکی ہے۔ شادی والوں کا لوڈ چل پڑا ہے، ان کے پاس دو منٹ ہیں۔ بابا ابھی نہ نکلے تو دروازہ بند ہو جائے گا۔” پھر اس نے شیشے پر دو بار انگلی ماری، “بابا، شناختی کارڈ۔ خالہ، عورتوں کو دائیں دروازے پر لے جائیں۔”
عائشہ خالہ جو ابھی تک صرف تماشا دیکھ رہی تھی، فوراً حرکت میں آ گئی۔ یہی اصل ذلت تھی: بات عمر کی نہیں، کام کی مانی جا رہی تھی۔ قطار میں دو آدمیوں نے اپنی پرچیاں دانش کی طرف بڑھانے کے بجائے مہرین کی طرف کر دیں۔ ایک کالج کا لڑکا، جو پہلے بڑبڑا رہا تھا، بولا، “بی بی اسی کو دو، ورنہ بس نکل جائے گی۔”
فریحہ آپا نے جھٹکے سے رجسٹر اپنی طرف کھینچا۔ “میں کہہ رہی ہوں نا، اس کے ہاتھ مت دو!” رجسٹر کا اوپر والا کونا مڑا، اندر دبے دو ٹوکن نیچے گر گئے، اور جس شادی والے خاندان کا کرایہ پہلے ہی لیا جا چکا تھا ان کی رسید گم ہو گئی۔ لڑکی کی ماں چیخ اٹھی، “ہم نے پیسے دیے تھے! اب کہہ رہے ہو ثبوت دو؟” دانش نے رسیدیں الٹ پلٹ کر دیکھیں، پھر بےوقوفی میں کہا، “شاید آپ نے دوسری کھڑکی پر—” “یہی کھڑکی ہے،” تین آوازیں ایک ساتھ آئیں۔
اب نقصان سب کے سامنے تھا: لوڈ رکا ہوا، رسید گم، نشستیں الجھی ہوئی، اور غلط آدمی کرسی پر۔ فریحہ آپا نے آخری بار اپنا رعب آزمایا۔ اس نے مہرین کے سامنے بازو پھیلا کر راستہ روکا، “تم حد سے بڑھ رہی ہو۔ میں سپروائزر ہوں۔” مہرین نے پہلی بار اس کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر کہا، “تو پھر لائن چلا کر دکھا دیں۔” اس نے سائیڈ کی کرسی پوری طرح کاؤنٹر کے ساتھ جما دی اور خالی کھانے کے ڈبے کو پاؤں سے پیچھے دھکیل دیا، جیسے بےکار نرمی کے لیے بھی جگہ نہیں بچی۔
دروازے کے اندر سے ڈپو مینیجر باہر نکلا، ماتھے پر پسینہ اور آواز میں وہی گھبراہٹ جو صرف اس وقت آتی ہے جب بھیڑ کمپنی کی ساکھ کو نگلنے لگے۔ “یہاں کیا ہو رہا ہے؟ کوچ ستائیس کیوں کھڑی ہے؟” جواب دینے کو فریحہ آپا نے منہ کھولا مگر اسی لمحے حمّال نے اونچی آواز میں کہا، “سر، جب تک مہرین بی بی لسٹ نہ دیں، ایک بھی بیگ سیدھا نہیں جا رہا۔ غلط کوڈ لگے ہوئے ہیں۔” دوسرا لڑکا، جو گیٹ پر بورڈنگ کاٹ رہا تھا، اندر جھانک کر بولا، “نام پکارنے ہیں تو انہی سے پوچھو۔ ادھر سب الٹا ہو گیا ہے۔”
یہ وہ لمحہ تھا جہاں عزت بچانے کے لیے جھوٹ کم پڑ جاتا ہے۔ مینیجر کی نظر رجسٹر، گرائے ہوئے ٹوکن اور رکتی کوچ کے درمیان گھومی، پھر سیدھی فریحہ آپا کے ہاتھ پر جا رکی جس میں مہرین کا کام رکا ہوا تھا۔ “بیج دو اسے۔ ابھی۔ اور سائیڈ والا رجسٹر بھی۔”
فریحہ آپا ایک پل جمی رہی۔ وہ پل لمبا اس لیے لگا کہ قطار دیکھ رہی تھی۔ پھر اس نے وہی کیا جو ہار ماننے سے زیادہ برا تھا: اس نے بیج کا کلپ کھولا مگر ہاتھ فوراً نہ بڑھایا، جیسے تھوڑا سا اختیار بچا لے گی۔ مہرین نے ہاتھ آگے نہیں کیا۔ صرف کہا، “سامنے رکھ دیں۔” یہ جملہ نرم نہیں تھا۔ یہ حد تھی۔ فریحہ آپا نے بیج کاؤنٹر پر رکھا۔ ساتھ ہی ورکنگ رجسٹر دھکیلا۔ دانش خود کرسی سے ہٹ گیا؛ اس کے ہٹنے میں کسی نے حکم نہیں دیا، ضرورت نے دیا۔
مہرین نے بیج اٹھا کر سینے سے لگایا، رجسٹر کھولا، اور اسی سانس میں اگلا کیس پکارا۔ “شادی والا خاندان، رسید دوبارہ میرے سامنے۔ پیسے دئیے جا چکے ہیں، اندراج یہاں ہے۔ سلمان، ان کا دوسرا بیگ ابھی چڑھاؤ۔ بابا، آپ کے تین کارڈ۔ عائشہ خالہ، عورتوں کو دروازے سے گزارو۔ دانش، جو رسیدیں گری ہیں وہ نمبر کے حساب سے اٹھاؤ، بولنا مت۔” ایک ایک ہدایت کٹی ہوئی، صاف، اور فوراً قابلِ عمل تھی۔
کام نے جواب دیا۔ سرخ گفٹ بیگ والی عورت کے چہرے پر اٹکی ہوئی گھبراہٹ ڈھیلی پڑی جب مہرین نے مڑی ہوئی رسید رجسٹر کے اندر سے نکال کر شیشے کے نیچے سرکائی۔ بوڑھے آدمی کے انگوٹھے نے کارڈ کے کونے کو پکڑتے ہوئے کانپنا چھوڑ دیا۔ گیٹ والے لڑکے نے نام پکارنا شروع کر دیے۔ بائیں لوڈ لائن میں پہلے رکا ٹرنک اندر گیا، پھر دوسرا، پھر نیلے ٹوکن والی ٹوکری۔ کوچ ستائیس کے انجن کی آواز لمبی ہوئی اور رکی نہیں۔
فریحہ آپا نے ایک بار پھر مداخلت چاہی۔ “پہلے وی آئی پی مسافر—” مہرین نے اس کی طرف دیکھے بغیر سامنے والے مسافر سے کہا، “اگلا۔” وہ “اگلا” فریحہ آپا کے لیے تھا، قطار کے لیے نہیں۔ ایک موٹا آدمی، جو ابھی تک سپروائزر کی طرف جھکا ہوا تھا، اپنی پرچی موڑ کر سیدھا مہرین کے سامنے لے آیا۔ فریحہ آپا کا ہاتھ ہوا میں رہ گیا۔ اس ہاتھ کا یوں معلق رہ جانا دانش کی کسی غلطی سے زیادہ رسوا کن تھا۔
اب دباؤ الٹا بہہ رہا تھا۔ تین رکی ہوئی فائلیں چل پڑیں، دو بلاک نشستیں کھل گئیں، اضافی سامان کی رقم درست درج ہو گئی۔ دانش جھک جھک کر گری ہوئی رسیدیں اکٹھی کرتا رہا، جیسے اپنا ہی نام زمین سے چن رہا ہو۔ فریحہ آپا ایک بار مینیجر کے قریب جا کر کچھ سمجھانے لگی، مگر مینیجر نے اسے نہیں، مہرین کو پوچھا، “اگلی کوچ کتنی دیر میں صاف ہو گی؟” مہرین نے صفحہ پلٹتے ہوئے کہا، “سات منٹ اگر گیٹ نمبر دو پر بھی میرا ٹوکن چلے۔” “چلے گا،” مینیجر نے فوراً کہا۔
یہی اصل واپسی تھی: تقریر نہیں، سیدھا اختیار۔ مہرین نے دوسری کرسی پوری طرح اپنی طرف کھینچی، رجسٹر اپنے بائیں رکھا، نقدی کی ٹرے دائیں، اور سامنے کھڑے مسافروں کو ایک قطار میں کاٹ دیا۔ “جس کا اندراج ہو چکا ہے، دائیں۔ جس کا سامان رکا تھا، پرچی اوپر۔ بغیر کارڈ والے پیچھے۔” لوگ بحث نہیں کر رہے تھے۔ وہ مان رہے تھے، کیونکہ اب دیر کی قیمت سب دیکھ چکے تھے۔
جب آخری رکا ہوا لوڈ بھی نکل گیا اور دروازے کے پاس کی بھیڑ کھلنے لگی، مہرین کاؤنٹر سے باہر آئی۔ بیج اس کے سینے کے بیچ سیدھا ٹکا تھا، وہی پرانا فیتہ مگر اب کسی اور کے ہاتھ میں نہیں۔ ورک لین کے بیچ میں سپلائی کارٹ آڑی کھڑی تھی، ایک پہیہ بار بار ٹیڑھا مڑ رہا تھا کیونکہ اسے جلدی میں دھکیلا گیا تھا۔ مہرین نے دونوں ہاتھ ہینڈل پر رکھے، وزن سیدھا کیا، اور کارٹ کو ایک ہموار دھکے سے بائیں لائن میں اتارا؛ اس کے پہیے آخرکار سیدھے چلنے لگے۔