جو جال میرے لئے تھا، وہ اسی کو لے ڈوبا
“بیج رکھیے، میڈم۔ بیک گیٹ سے اندر جانے کا آپ کو اختیار نہیں۔” ثاقب صاحب نے اس کے گلے میں پڑی پرانی، مڑی ہوئی فیتے والی شناختی پٹی دو انگلیوں سے اٹھا کر ایسے چھوڑ دی جیسے وہ کوئی بے کار رسید ہو۔ ٹرن اسٹائل کے آگے قطار رک گئی۔ پیچھے کھڑے برتن والے لڑکے، پھول سجاوٹ کی دو عورتیں، اور خالہ شمائلہ کے ساتھ آئی دو رشتے دار لڑکیاں ایک ساتھ مہرین کی طرف دیکھنے لگیں۔ اوپر سروس لفٹ کے دھندلے اسٹیل پر پرانے ہاتھوں کے نشان چمک رہے تھے۔ دائیں طرف فولڈنگ میز پر چائے کا کپ ٹھنڈا ہو کر کناری پر بھوری جھلی باندھ چکا تھا۔
مہرین نے ہاتھ آگے بڑھا کر اپنا کارڈ واپس لیا۔ “میری ٹیم اندر ہے۔ کولڈ ڈیزرٹ کی ترسیل میرے سائن کے بغیر کچن تک نہیں جائے گی۔”
“آپ کی ٹیم؟” ثاقب صاحب ہنسے نہیں، بس منہ کے ایک کنارے کو اوپر کیا۔ “باہر کے سپلائر بہت خود کو کچھ سمجھنے لگے ہیں۔ یہاں شادی ہے، گودام نہیں۔ اور ویسے بھی” — انہوں نے ذرا آواز اونچی کی تاکہ خالہ شمائلہ سن لیں — “لڑکیوں کا سروس انٹری پر چڑھ دوڑنا اچھا نہیں لگتا۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہو تو اور بھی احتیاط کرنی چاہیے۔”
یہ جملہ سیدھا چہرے پر نہیں، عزت پر لگا۔ عمر کا نام کسی نے نہیں لیا، مگر سب کو پتہ تھا۔ منگنی ابھی نہیں ہوئی تھی، بس دونوں گھروں میں بات چل رہی تھی۔ اور آج کی یہ تقریب عمر کے ماموں زاد کی تھی۔ اس دروازے پر روکے جانے کا مطلب صرف کام کا نقصان نہیں تھا؛ یہی وہ لمحہ تھا جسے لوگ بعد میں کھانے کی میز پر نمک لگا کر سناتے۔
مہرین نے مختصر سانس لی۔ “قواعد نامہ دکھا دیجیے۔”
ثاقب صاحب نے میز پر پڑی پلاسٹک شیٹ والی فہرست گھمائی۔ “نیا ضابطہ۔ بیک گیٹ سے صرف وہی شخص داخل ہوگا جس کے نام پر اس وقت کا فعال کنٹرول سلپ ہو۔ ایک شخص، ایک سلاٹ، تین منٹ۔ دیر ہوئی تو رسائی خود بخود بند۔” انہوں نے ندیم، سکیورٹی سپروائزر، کی طرف دیکھے بغیر کہا، “ٹائمر آن کرو۔ اگر میڈم اتنی ہی ضروری ہیں تو پہلے ثبوت دیں کہ کنٹرول سلپ انہی کے نام ہے۔ نہیں تو اگلا۔”
ندیم نے ہچکچاتے ہوئے پینل پر سرخ بٹن دبایا۔ بیپ کی آواز شروع ہوئی۔ ثاقب صاحب نے ایک اور وار کیا، “اور ان کی جگہ متبادل اندر بھیج دو۔ فرحاں کچن فلور سنبھال لے گا۔ تقریب رکے گی نہیں۔”
یہ پہلی دراڑ تھی۔ مہرین نے فرحاں کو دیکھا؛ وہی لڑکا جو دو مہینے پہلے تک اس کی نگرانی میں پیکنگ کرتا تھا، اب نظریں چرا کر آدھا قدم پیچھے ہٹ گیا۔ قطار میں کسی نے سرگوشی کی، “کام ہاتھ سے گیا سمجھو۔” خالہ شمائلہ نے دوپٹہ درست کیا اور ایسے منہ پھیر لیا جیسے انہوں نے کچھ سنا ہی نہ ہو، مگر یہ منہ پھیرنا ہی اصل گواہی تھا۔
مہرین نے بیگ سے ایک آدھی تہہ کی ہوئی رسید نکالی، پھر موبائل۔ “کنٹرول سلپ اپڈیٹ ہوئی ہے۔ سات بج کر چالیس منٹ پر۔”
ثاقب صاحب نے فوراً ہاتھ اٹھا دیا۔ “زبان سے نہیں، سسٹم سے۔ یہاں ہر بات کاغذ اور وقت سے چلتی ہے۔ آپ لوگوں کی عادت ہے آخری وقت پر نام بدلوانے کی، پھر اندر جا کر کہانی سنانے کی۔” انہوں نے ندیم کو صاف حکم دیا، “ان کا کارڈ ہولڈ پر رکھو جب تک تصدیق نہ ہو۔ اور اگلا ٹرالی اندر بھیج دو۔”
بیپ… بیپ… بیپ… تین منٹ کو جیسے سب کی آنکھوں کے سامنے دھکیل دیا گیا۔ اگر ہولڈ لگ گیا تو نہ وہ اندر جا سکتی تھی، نہ اس کے دستخط کے بغیر وہ مہنگا ڈیزرٹ اسٹاک کچن کو منتقل ہوتا۔ دیر ہوتی تو آئس کریم بیس بیٹھ جاتا، حساب اس کے سر آتا، اور خاندان والوں کے سامنے یہی ثابت ہوتا کہ وہ بس شور کرتی ہے، کام نہیں سنبھالتی۔
مہرین نے عمر کو نہیں دیکھا، حالانکہ وہ سیڑھی کے موڑ پر کھڑا تھا۔ دوسری زندگی میں — وہ مختصر، سڑی ہوئی یاد جسے وہ خواب نہیں مانتی تھی — یہی غلطی کی تھی۔ وہ پہلے اس کی طرف دیکھ کر مدد مانگ بیٹھی تھی۔ عمر نے چپ رہ کر اس کی بے عزتی بچانے کی بجائے اپنی خالہ کے گھر کا سکون بچایا تھا۔ آج اسے کسی آدمی کے چہرے سے نہیں، صرف طاقت کے راستے سے جواب دینا تھا۔
اس نے ایک نمبر ملایا۔ “جہان آرا صاحبہ، بیک گیٹ۔ آپ کی نور کی کھیپ باہر کھڑی ہے۔ کنٹرول سلپ پرانے نام پر روکی جا رہی ہے۔” دوسری طرف کی آواز تیز تھی، مصروف بھی۔ مہرین نے صرف اتنا کہا، “فیصلہ ابھی چاہیے۔ اندر پانچ سو مہمان کے ڈیزرٹ کا معاملہ ہے۔”
ثاقب صاحب نے ہاتھ باندھ کر طنزیہ سکون سے کھڑے رہنے کی کوشش کی، مگر جب مہرین نے فون ندیم کی طرف بڑھایا تو ان کے جبڑے نے ایک بار سختی سے حرکت کی۔ “کس سے بات ہے؟”
“مالکانہ دفتر سے،” مہرین نے کہا، “آپ سن لیجیے۔”
ندیم نے کان سے فون لگایا، دو لفظ سنے، پھر سیدھا کھڑا ہو گیا۔ “جی، جی، ابھی۔” اس نے فوراً ڈیوٹی رجسٹر کھینچا۔ “کنٹرول سلپ سات چالیس پر منتقل ہوئی ہے… نام مہرین بانو… مرکزی دستخطی اختیار بھی انہی کے پاس…” اس کی آواز دب گئی۔ وہ ثاقب صاحب کی طرف دیکھ رہا تھا، مگر آنکھوں میں وہ پرانی جھجھک نہیں رہی تھی۔
“غلط دیکھ رہے ہو،” ثاقب صاحب نے جھپٹ کر شیٹ پکڑی۔ “یہ پرانی لسٹ ہے۔ نئی میرے پاس ہے۔”
“نئی لسٹ یہی ہے، صاحب۔ ابھی اپڈیٹ آئی ہے۔” ندیم نے دوسری فائل نکالی، مہر لگی ہوئی۔ “اور ضابطہ بھی یہی کہتا ہے: فعال کنٹرول سلپ والا شخص پہلے گزرے گا۔ باقی سب، چاہے داخلی عملہ ہی کیوں نہ ہو، اس وقت تک رکے گا جب تک وہ ہینڈ اوور مکمل نہ کرے۔”
ایک لمحے کے لیے کوئی کچھ نہ بولا۔ پھر وہی بیپ چلتی رہی، مگر اب اس کی آواز کا رخ بدل چکا تھا۔ ثاقب صاحب کے ہاتھ میں جو عارضی پاس تھا، اس پر بھی اسی سلاٹ کا نمبر درج تھا۔ انہوں نے خود پورا راستہ اس قاعدے سے بند کیا تھا؛ اب وہی قاعدہ کہہ رہا تھا کہ مہرین پہلے اندر جائے گی، اور وہ تب تک نہیں، جب تک وہ جس ہینڈ اوور کی مالک ہے، اسے مکمل نہ کرے۔
خالہ شمائلہ نے پہلی بار صاف دیکھا۔ “اچھا… اختیار اس کے پاس ہے؟” سوال ہوا میں نہیں، ثاقب صاحب کے مرتبے پر لگا۔ سیڑھی پر کھڑا عمر ایک قدم نیچے آیا، مگر مہرین نے ادھر نظر تک نہ کی۔
ندیم نے ٹرن اسٹائل کھولا۔ “مہرین بانو، راستہ دیجیے۔” پھر باقاعدہ بازو پھیلا کر ثاقب صاحب کی طرف دیکھا۔ “صاحب، آپ ذرا پیچھے۔ فعال سلاٹ روکنے کا حق صرف کنٹرول ہولڈر کو ہے۔”
جس دروازے پر ابھی مہرین کو اس کی “اوقات” سمجھائی جا رہی تھی، وہی دروازہ اب جسموں کی ترتیب بدل رہا تھا۔ قطار دو حصوں میں بٹ گئی۔ پھول والی عورت نے اپنی ٹوکری سینے سے لگا کر مہرین کے لیے جگہ بنائی۔ برتن والا لڑکا، جو ابھی تک تماشہ دیکھ رہا تھا، ٹرالی ایک طرف کھینچ کر کھڑا ہو گیا۔ ثاقب صاحب نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو ندیم نے ان کے سامنے ہاتھ رکھ دیا۔ “صاحب، آپ کی شناختی پٹی عارضی ہولڈ میں ہے۔”
“تم مجھے روکو گے؟” آواز اونچی ہوئی، مگر اس میں پچھلے جیسا وزن نہ تھا۔
“ضابطہ یہی ہے جو آپ نے ابھی نافذ کروایا ہے،” ندیم نے کہا۔ “کنٹرول مکمل ہونے تک آپ انتظار کریں گے۔”
مہرین ٹرن اسٹائل کے سامنے رکی۔ اس نے جان بوجھ کر جلدی نہیں کی۔ اپنا کارڈ سکین کیا، سبز روشنی جلی، دھاتی بازو نے راستہ دیا۔ وہ ایک قدم اندر گئی، پھر مڑی۔ ثاقب صاحب نے اس طرف دیکھا جیسے اب بھی آخری بات ان ہی کی ہوگی۔
“فرحاں کو بھیج دو،” انہوں نے جلدی سے کہا، “ہینڈ اوور وہ لے لے گا۔ یہی مناسب ہے۔”
یہ وہ ایک قدم تھا جو زیادہ تھا۔ ابھی تک وہ صرف اس کی توہین کر رہے تھے؛ اب وہ اس کے اختیار کو اس کے سامنے کسی ماتحت کے نام منتقل کرنے کا حکم دے رہے تھے، جیسے مہرین خود ایک غلطی ہو جسے درستی چاہیے۔
مہرین نے ندیم سے پینل منگوایا۔ بیک گیٹ کی دیوار سے جڑا چھوٹا سا ٹائمر پینل، جس کے نیچے سرخ سوئچ اور ایک باریک سی مہر کی جگہ تھی۔ ثاقب صاحب نے خود اس پر ابتدائی ہولڈ لگوایا تھا تاکہ “ثبوت” تک رسائی بند رہے۔ مہرین نے فون دوبارہ کان سے لگایا۔ “جہان آرا صاحبہ، کنٹرول ہینڈ اوور میں غیر مجاز مداخلت کی کوشش ہو رہی ہے۔ میں مالکِ سلاٹ کی حیثیت سے موجودہ ہولڈ برقرار رکھ رہی ہوں۔” دوسری طرف سے مختصر جواب آیا۔ “جی۔ ریکارڈ کر لیجیے۔”
اس نے ندیم کی طرف دیکھا۔ “درج کرو۔ عارضی مداخلت، غیر مجاز حکم، ہولڈ برقرار۔” پھر ثاقب صاحب کی شناختی پٹی اس پینل کے نیچے چھوئی گئی۔ سرخ نشان جل اٹھا۔ سکرین پر ایک مختصر الٹی گنتی نمودار ہوئی۔
ثاقب صاحب کے چہرے سے خون ایک ہی بار میں نہیں اترا؛ پہلے ان کی پیشانی چمکی، پھر ہونٹوں کی سخت لکیر ٹوٹنے لگی۔ “مہرین، یہ حرکت مت کرو۔ تقریب چل رہی ہے۔ تم سمجھ نہیں رہیں۔”
“میں بہت اچھی طرح سمجھ رہی ہوں۔” اس کی آواز بلند نہیں تھی۔ “جس ضابطے سے آپ نے میرا راستہ روکا، اسی ضابطے کے تحت غیر مجاز مداخلت پر ہولڈ لگتا ہے۔”
عمر اب بالکل قریب تھا۔ “مہرین، ایک منٹ، بات سنو—”
“نہیں۔” اس نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا، اور یہ ایک لفظ اتنا سیدھا تھا کہ وہیں گر کر رہ گیا۔ پھر اس نے ندیم کو ٹھنڈے لہجے میں ہدایت دی، “کولڈ ڈیزرٹ کی ٹرالی نمبر تین میرے ساتھ۔ فرحاں باہر انتظار کرے گا۔ ہینڈ اوور اندر میرے دستخط سے ہوگا، کسی اور کے نہیں۔”
پھول والی عورت نے فوراً اپنی ساتھی کو آواز دی۔ برتن والا لڑکا ٹرالی سیدھی کرنے لگا۔ جن لوگوں کو ابھی تک لگ رہا تھا کہ ثاقب صاحب کا حکم ہی اصل دروازہ ہے، وہ اب ہاتھوں سے راستہ اسی کے لیے بنا رہے تھے جسے چند لمحے پہلے روکا گیا تھا۔ یہی سب سے سخت بات تھی: کسی نے نعرہ نہیں لگایا، کسی نے انصاف کا اعلان نہیں کیا، بس کام کا بہاؤ اس کے گرد دوبارہ ترتیب پا گیا۔
ثاقب صاحب نے ٹرن اسٹائل کے کنارے کو پکڑا اور آگے گھسنے کی کوشش کی۔ ندیم نے فوراً بازو جما دیا۔ “صاحب، ہولڈ کے دوران کوشش کی تو خودکار لاک مکمل ہو جائے گا۔”
“تو کھولو اسے!” ثاقب صاحب کے لہجے میں اب حکم سے زیادہ جلدی تھی۔ “میں کہہ رہا ہوں کھولو۔”
مہرین نے ایک بار پینل کی سکرین دیکھی۔ الٹی گنتی چل رہی تھی۔ اگر وہ چاہتی تو مالکِ اختیار کی حیثیت سے اسی لمحے ہولڈ ہٹا سکتی تھی، ایک نرم سا راستہ نکال سکتی تھی، کسی بزرگ کی عزت، کسی ممکنہ رشتے، کسی بےکار امن کے لیے۔ دوسری زندگی میں اس نے یہی کیا تھا۔ پھر الزام بھی اسی کے حصے آیا تھا کہ وہ اصول توڑتی ہے، موقع پر پگھل جاتی ہے، اور مردوں کے بنائے کھیل میں ان ہی کے خلاف گواہی نہیں دیتی۔
اس نے انگوٹھا سرخ سوئچ پر رکھا، ایک لمحہ دبائے رکھا تاکہ اندراج مکمل ہو، پھر ہٹا لیا۔ “ہولڈ برقرار رہے گا۔”
وہ مڑی، ٹرن اسٹائل سے اندر گزری، اور اپنی ٹرالی کے ساتھ لفٹ کی طرف بڑھ گئی۔ پیچھے دیوار میں جڑا ٹائمر پینل جلتا رہا؛ اس پر اس کے انگوٹھے کی نمی کا ایک ہلکا سا نشان رہ گیا، جیسے سٹیل کے دھندلے آئینے پر انگلی پھری ہو۔ بازو کے پار ثاقب صاحب ابھی بھی باہر تھے۔ سرخ سوئچ کے اوپر گنتی سکڑی، بیپ چھوٹی ہوئی، پھر صفر پر جا کر آواز ایک دم مر گئی۔