Fast Fiction

جو جال میرے لیے تھا، وہی پلٹ گیا

فیصل صاحب نے چیک لسٹ مریم کے سینے سے ٹکرا دی۔ کاغذ کی کڑک دار آواز لوہے کے شٹر، پلاسٹک لپٹے پیلیٹوں اور ریورس ہوتی وین کے بیپ بیپ میں الگ سے سنائی دی۔ “یہ تین کارٹن کم ہیں، اور تم نے ریلیز مارک کر دیا؟” اس نے اتنا اونچا کہا کہ دروازے کے کنگرے پر رکی شازیہ خالہ بھی سن لیں۔ مریم کی انگلیوں میں بس کارڈ کا گھسا ہوا کنارا ابھی تک دبا تھا؛ وہ ابھی بس سے اتر کر سیدھی receiving lane میں پہنچی تھی۔ دوپہر کا ٹھنڈا ہو چکا کھانے کا ڈبہ اس کے لاکر کے پاس پڑا رہ گیا تھا۔ آج غلطی صرف غلطی نہیں تھی۔ آج شام حارث کی امی کے گھر دسترخوان پر اس کے نام کا ذکر ہونا تھا، اور گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والے رشتے میں ایسی ذلت سیدھی لڑکی کے حصے آتی ہے، لڑکے کے نہیں۔

شازیہ خالہ دروازے کی چوکھٹ پر آ کر ٹھہر گئیں، آدھا قدم اندر، آدھا باہر۔ وہ حارث کی خالہ بھی تھیں اور اسی کمپنی کے مالک حاجی نعیم کی پرانی جاننے والی بھی۔ فیصل صاحب نے انہیں دیکھ کر لہجہ اور صاف کر لیا۔ “میں نے پہلے بھی کہا تھا، bay release کوئی محلے کی دکان نہیں۔ جسے ترتیب نہیں آتی، وہ فرنٹ ڈیسک پر بیٹھے۔” ساتھ کھڑا لوڈر ریحان فوراً پیچھے ہٹا۔ ایک فہرست فیصل کے ہاتھ میں تھی، ایک مریم کے ہاتھ میں؛ دونوں ایک جیسی دکھتی تھیں، مگر مریم کی نظر پہلے ہی نیچے لگے اضافی خانے پر جا چکی تھی، وہی خانہ جو کل تک فارم میں تھا ہی نہیں: “اوور رائیڈ پر براہِ راست ذمہ داری۔”

“سر، اصل گنتی پہلے pallet count سے ملائی جاتی ہے، پھر seal نمبر—” مریم نے کہا۔

“بس۔” فیصل نے ہاتھ اٹھا کر کاٹ دیا۔ “ابھی کے ابھی تم خود یہ late handoff لے کر جاؤ۔ مالک کے دستخط والی خصوصی پرچی ہے۔ اگر گاڑی رکی تو ذمہ داری تمہاری۔ اگر مال غلط نکلا تو بھی تمہاری۔ سب کے سامنے صاف کر دو۔” اس نے جیب سے چابی نکال کر فورک لفٹ کی طرف نہیں، side cage کے گیٹ کی طرف اچھالی، جہاں high-value cartons بند تھے۔ چابی فرش پر گھومتی ہوئی مریم کے جوتے سے آ لگی۔ ذلت کو اس نے طریقہ بنا رکھا تھا؛ چیز بھی پھینکتا تھا، حکم بھی۔

مریم نے جھک کر چابی اٹھائی مگر gate نہیں کھولا۔ “خصوصی پرچی دکھا دیں۔” اس کی آواز نہ اونچی تھی نہ نرم۔ بس سیدھی۔

فیصل صاحب نے کاغذ اس کی طرف کھول دیا۔ اوپر حاجی نعیم کے دستخط تھے، نیچے جلدی میں لگے تین نشان، اور آخری سطر میں ہدایات: “اگر dispatch supervisor غیر حاضر ہو تو bay handoff on-duty receiving officer کے دستخط پر ہو گا۔” مریم کی پلک ایک بار ہلی۔ dispatch supervisor آج صبح کس نے “بیرونی وزٹ” پر بھیجا تھا، سب جانتے تھے۔ on-duty receiving officer آج کون تھی، یہ بھی سب جانتے تھے۔ فیصل نے شاید آخری سطر پڑھی نہیں تھی، یا پڑھی تھی اور اپنے زور پر بھروسا زیادہ تھا۔

پہلا چھوٹا سا انعام اسی وقت کاغذ میں کھل گیا، مگر فیصل نے اسے دیکھا نہیں۔ اس نے سمجھا، اس نے مریم کے گلے میں پھندا ڈال دیا ہے۔ “لے جاؤ cage تک، نشان خود لگاؤ، پھر release دو۔ اگر ہمت ہے تو۔” وہ دروازے میں اس طرح کھڑا ہو گیا کہ شازیہ خالہ کی نظر سیدھی مریم کے ہاتھ پر رہے۔ اجتماعی نگاہ سے بڑا ہتھیار کراچی کے اس سروس سیکٹر میں کوئی نہیں تھا؛ جہاں اجرت کم، گواہ زیادہ، اور زبانیں فرصت میں رہتی ہیں۔

مریم نے gate کھولا۔ اندر stacked cartons پر shipment code لکھا تھا۔ اس نے پہلے code ملایا، پھر seal نمبر۔ تین کارٹن کم نہیں تھے؛ تین ایک دوسرے pallet پر shift کیے گئے تھے، جان بوجھ کر، تا کہ پہلی نظر میں کمی لگے۔ ریحان نے بےاختیار کہا، “باجی، یہ تو—” فیصل کی ایک نگاہ پر اس کی بات گلے میں اٹک گئی۔ مریم نے چیک لسٹ کے اس خانے پر انگلی رکھی جہاں count کے سامنے پہلے سے ہلکی سی پنسل کی لکیریں تھیں، جیسے بعد میں پکا نشان بنانا ہو۔ جال بچھایا جا چکا تھا؛ بس اب اسے کس پر بند ہونا ہے، یہ لمحہ باقی تھا۔

“نشان لگاؤ، مریم۔” فیصل صاحب آگے بڑھا۔ “وقت نکل رہا ہے۔”

“جی، آپ کہہ رہے ہیں تو آپ کے سامنے ہی لگاؤں گی۔” اس نے مخصوص خانے خالی چھوڑ کر پہلے وہ سطر پڑھی جو نیچے دستخط کے ساتھ جڑی تھی۔ پھر زور سے نہیں، اتنا پڑھا کہ دروازے پر کھڑی شازیہ خالہ اور پاس والا guard سن لیں: “اوور رائیڈ صرف on-duty receiving officer کی تصدیق کے بعد مؤثر ہو گا۔” اس نے اپنا نام والے خانے پر قلم رکھا، مگر نشان count پر نہیں لگایا؛ “condition verified” پر لگایا، جہاں اصل حالت لکھنی تھی۔ پھر اس نے سادہ لکھا: “تین کارٹن secondary pallet پر منتقل پائے گئے۔ original shortage false.” اس کے نیچے اپنے دستخط کر دیے۔

فیصل صاحب کے ماتھے کی رگ ذرا ابھری۔ یہ وہ حرکت تھی جو اس نے نہیں چاہی تھی۔ “میں نے تم سے verification note نہیں مانگا۔ release tick مارو۔”

“release tick آپ کے order سے نہیں، protocol سے لگے گا۔” مریم نے کاغذ موڑنے کے بجائے اور کھول دیا۔ نیچے حاجی نعیم کے دستخط صاف تھے، اور ان کے نیچے چھپی سطر اب سب کی آنکھ میں آ رہی تھی۔ “اگر supervisor غیر حاضر ہو تو handoff on-duty receiving officer کے دستخط پر ہو گا۔ supervisor absent کس کے حکم سے ہے، یہ آپ بہتر جانتے ہیں، سر۔”

اس نے فوراً ہاتھ بڑھا کر کاغذ چھیننا چاہا۔ یہی وہ اضافی قدم تھا۔ مریم ایک انچ پیچھے ہٹی نہیں؛ اس نے صرف کاغذ اوپر کر دیا۔ فیصل کا ہاتھ خالی ہوا اور guard ندیم نے چونک کر اپنی رجسٹر والی میز سے سر اٹھا لیا۔ gate کے پاس کھڑا driver وین کا دروازہ بند کرتے بند کرتے رک گیا۔ شازیہ خالہ کی چوکھٹ والی خاموشی اور تنگ ہو گئی۔

“ندیم بھائی، owner line ملائیں،” مریم نے اسی لمحے کہا۔ “signed override پر release dispute ہے۔ دستخط موجود ہیں، on-duty authority بھی موجود ہے، مگر false shortage ڈال کر forced release کروائی جا رہی ہے۔”

فیصل صاحب ہنسنا چاہتا تھا، مگر ہنسی خشک نکلی۔ “تم owner line پر بات کرو گی؟”

مریم نے اس کی طرف دیکھا ہی نہیں۔ “جی، چونکہ signed order یہی کہتا ہے۔” اس نے کاغذ کی آخری سطر پر ناخن رکھ دیا۔

ندیم نے پہلے فیصل کی طرف دیکھا، پھر کاغذ کی طرف۔ guard لوگ عام دنوں میں طاقتور کے ساتھ ہوتے ہیں؛ مگر رجسٹر، فون اور دستخط ان کے ایمان ہوتے ہیں۔ اس نے فون ملا دیا۔ “حاجی صاحب، bay پر override dispute ہے… جی… جی، کاغذ آپ کے دستخط والا… جی، on-duty receiving officer مریم…”

فیصل نے فوراً بات سنبھالنے کو قدم بڑھایا۔ “فون مجھے دو۔ یہ معمولی matter ہے۔ dispatch delay ہو رہی ہے۔”

مریم نے پہلی بار راستہ روکا۔ جسم سے نہیں، طریقے سے۔ اس نے cage کی چابی ندیم کی رجسٹر میز پر رکھ دی، سب کے سامنے، جیسے دیر سے لوٹائی جانے والی امانت آخر اپنے اصل وزن کے ساتھ رکھی جاتی ہے۔ “چابی اب owner-side hold میں رہے گی جب تک release واضح نہ ہو۔ میں disputed stock ہاتھ سے نہیں نکلنے دوں گی۔”

یہ سیدھا وار تھا۔ فیصل نے اختیار دکھا کر اسے نیچا کرنے کی کوشش کی تھی؛ مریم نے اختیار کی چیز، چابی، اس کے ہاتھ سے نکال کر کاغذ کے تابع کر دی۔ ریحان نے بےاختیار ایک قدم مریم کی طرف لے لیا۔ اس کے لیے یہ صرف تماشا نہیں تھا؛ غلط release پر اس کی تنخواہ کاٹتی تھی۔ شازیہ خالہ نے چوکھٹ نہ چھوڑی، مگر اب ان کی نگاہ فیصل سے ہٹ کر کاغذ پر آ گئی۔

ندیم نے سپیکر نہیں کیا، مگر حاجی نعیم کی بھاری آواز اتنی بلند تھی کہ ٹکڑے سنائی دے گئے۔ “جس نے false shortage لکھوائی… اس کا نام…” پھر وقفہ۔ “کاغذ پڑھ کے سناؤ۔” ندیم نے آخری سطر پڑھی۔ پھر مریم کی لکھی سطر۔ پھر اوپر وہ خانہ، جہاں پہلے پنسل کی ہلکی لکیر تھی اور ابھی تک اصل release tick خالی تھا۔

فیصل نے جلدی میں وہی کیا جس سے سب کچھ بند ہو گیا۔ “Tick میں لگا دیتا ہوں، dispatch روکو مت۔” اس نے قلم جھپٹ کر خالی release خانے میں نشان مار دیا، جیسے اپنے زور سے حقیقت بدل دے گا۔ اسی خانے کے نیچے چھپا جملہ تھا: “release tick signer’s clearance certifies physical count verified.” اس کے ہاتھ کے نیچے حاجی نعیم کے دستخط پہلے ہی موجود تھے؛ اب false shortage والی اوپر کی لکیر، مریم کی correction note، اور اس کا تازہ tick ایک ہی کاغذ پر سیدھ میں آ گئے۔

ندیم نے فون کان سے ہٹائے بغیر سیدھا کہا، “حاجی صاحب، فیصل صاحب نے physical count verify کیے بغیر release tick مار دیا ہے… جی، correction note کے بعد…” پھر اس کا چہرہ بدل گیا۔ “جی، ابھی.” اس نے فون نیچے نہیں رکھا۔ “حکم ہے: فیصل صاحب فوراً bay authority سے ہٹیں۔ cage key owner-side hold میں رہے گی۔ handoff مریم کرے گی۔ اور dispute copy ابھی office میں پہنچے گی۔”

اس ایک جملے کے بعد bay کی ہوا بدلنے کی آواز سنی جا سکتی تھی۔ وین کا driver جس پاؤں سے step board پر چڑھ رہا تھا، وہ وہیں رکا رہ گیا۔ ریحان نے بغیر حکم کے secondary pallet آگے کھینچنا شروع کر دیا۔ شازیہ خالہ نے اپنی چادر کا پلو درست کیا، جیسے اب دیکھنے کی چیز الگ ہو۔ فیصل صاحب نے کاغذ کی طرف دیکھا، پھر اپنے ہی لگائے tick کی طرف، پھر مریم کے لکھے correction note کی طرف۔ اس کے چہرے پر پہلی بار وہ خالی پن آیا جو ان لوگوں کے پاس آتا ہے جو سمجھتے ہیں کہ دستخط صرف دوسروں کو باندھتے ہیں۔

“یہ تم نے—” وہ بولا، مگر جملہ پورا نہ ہوا۔

مریم نے اسے پورا کرنے نہیں دیا۔ “ندیم بھائی، dispute copy پر وقت بھی درج کر دیں۔ false shortage call کے بعد correction، correction کے بعد forced tick.” اس نے وین والے کو ہاتھ سے اشارہ کیا۔ “seal دوبارہ ملاؤ۔ secondary pallet سے تین کارٹن اس لائن پر لاؤ۔ handoff اب protocol سے ہو گا۔”

فیصل آگے بڑھا، شاید آخری بار حکم چلانے کو، مگر ریحان نے اسی لمحے pallet jack اس کے راستے میں موڑ دیا۔ جان بوجھ کر نہیں، ضرورت سے؛ مگر ضرورت کبھی کبھی سب سے بڑا فیصلہ ہوتی ہے۔ چکنے فرش پر پہیے کی چررر ہوئی، اور فیصل کو ایک قدم پیچھے ہٹنا پڑا۔ اس کا “میں supervisor ہوں” والا جملہ ہونٹوں تک آیا، مگر ndim پہلے ہی owner line پر دوسرا حکم سن رہا تھا: “جی… access card بھی collect؟ … جی، ابھی.”

ندیم آگے آیا۔ “سر، کارڈ۔” بس دو لفظ۔ کوئی تقریر نہیں۔ فیصل نے پہلے سنا نہیں، پھر سنا تو جیب پر ہاتھ رکھا، پھر گردن گھما کر شازیہ خالہ کو دیکھا۔ یہی فوری قیمت تھی۔ اس نے مریم کے لیے جو منظر بنایا تھا، اسی threshold پر اس کی اپنی جگہ ہل گئی۔ وہ جو دروازے میں کھڑا ہو کر راستہ روکتا تھا، اب اس سے کارڈ مانگا جا رہا تھا۔ اس نے کارڈ نکالا تو پلاسٹک کا کنارا اس کی انگلی سے پھسلا اور فرش پر جا گرا۔ ندیم نے جھک کر اٹھایا نہیں۔ مریم نے بھی نہیں۔ کارڈ خود ہی الٹ کر سیاہ پٹی اوپر لے آیا۔

مریم نے owner copy، dispatch copy اور bay copy الگ کیں۔ correction note کے ساتھ release اب اس کے دستخط پر بندھا تھا، فیصل کے tick نے اس کی خلاف ورزی کو کاغذ میں کھول دیا تھا۔ اس نے وین کا seal چیک کیا، تین منتقل کارٹن اپنی جگہ رکھوائے، پھر آخری سطر کے نیچے اپنا حتمی دستخط کیے۔ “اب نکالو۔”

وین آہستہ سے پیچھے ہٹی، پھر سیدھی ہو کر گیٹ کی طرف بڑھ گئی۔ فیصل وہیں کھڑا رہا، ہاتھ خالی، جیب ہلکی، آواز بےوقت۔ شازیہ خالہ نے اس سے کچھ نہیں پوچھا۔ انہوں نے صرف مریم کو ایک نظر دیکھا، وہ نظر جس میں رشتہ طے نہیں ہوتا مگر انکار بھی نہیں رہتا۔

مریم side exit کی طرف مڑی۔ شور پیچھے رہ گیا، مگر کاغذ کی خشکی اس کے ہاتھ میں تھی۔ باہر کی تنگ گلی میں نمی اور ڈیزل کی بو ملی ہوئی تھی۔ اس نے signed order ایک بار سیدھا کیا؛ اوپر حاجی نعیم کے دستخط، بیچ میں اس کی correction، نیچے فیصل کا جلدباز tick—سب نشان اب ایک دوسرے کے خلاف نہیں، ایک ہی سچ کے حق میں پڑھے جا رہے تھے۔ مریم نے side exit کے پاس لٹکے چابیوں کے بورڈ میں خالی hook پر cage کی چابی ٹانگی، signed order اپنی مٹھی میں رکھا، اور باہر نکل گئی۔