بند دروازہ اسی پر کھلا
مومنہ نے کاغذ کے کپ کو گرنے سے پہلے دونوں ہاتھوں سے تھام لیا، چائے اس کی آستین پر چھلکی اور حرا نے بغیر پلٹے بس اتنا کہا، “پلیز یہ صاف کر دو، سعد کی امی آ رہی ہیں۔”
کینٹین کے شیشے والے دروازے کے باہر شام کا کراچی گاڑیوں کے شور میں بج رہا تھا، اندر یونیورسٹی سوسائٹی کے فنڈ ریزر کی افراتفری تھی۔ میز پر سموسوں کے ڈبے، چندہ لکھنے والی رجسٹر، آدھے کھلے ربن، اور ایک کپ کے نیچے بن گیا ہلکا سا چائے کا دائرہ۔ مومنہ نے جلدی سے ٹشو کھینچے، گرے ہوئے قطرے پونچھے، اور وہ رسید بھی اٹھا لی جو حرا کے پرس سے نکل کر گیلی ہو رہی تھی؛ آدھی تہہ شدہ، بار بار کھلنے بند ہونے سے نرم پڑی ہوئی۔ وہ جانتی تھی اس رسید میں کھانے کے پیسے تھے جو حرا نے ابھی تک واپس نہیں کیے تھے۔ حرا نے پھر حکم دیا، “اور پلیٹیں بھی لگا دو۔ تم تو ویسے بھی ان چیزوں میں اچھی ہو۔”
یہ “اچھی ہو” تعریف نہیں تھی۔ یہ وہ جملہ تھا جس سے اسے ہر بار میز کے اِس طرف دھکیل دیا جاتا تھا۔ وہ اسی یونیورسٹی میں میڈیا سائنس کی طالبہ تھی، اسی فنڈ ریزر کے لیے اپنی شامیں دے رہی تھی، مگر حرا کے لیے وہ سوسائٹی ممبر کم، خالی جگہ بھرنے والی لڑکی زیادہ تھی۔ اوپر سے دو مہینے سے مومنہ رات کو سروس سیکٹر کی کال شفٹ بھی کر رہی تھی تاکہ گھر کے کرائے اور چھوٹے بھائی کی کوچنگ کا خرچ پورا ہو۔ پھر بھی یہاں، سب سے پہلے اسی کے ہاتھ گیلا کپڑا پکڑتے تھے۔
دروازے کے شیشے میں اسے ایک دھندلا سا عکس نظر آیا۔ لفٹ کے آئینے جیسی دھاری دار میل، انگلیوں کے پرانے نشان۔ اس عکس کے پیچھے سعد تھا، ہاتھ میں فون نیچے کیے ہوئے، ہتھیلی میں دبا ہوا مدھم سا اسکرین کا اُجالا۔ اس نے ایک نظر مومنہ کی آستین پر پڑی چائے پر ڈالی، پھر حرا کی طرف دیکھا۔ “میں نئے کپ لے آتا ہوں،” اس نے کہا۔
حرا نے ہنس کر گردن جھٹکی۔ “آپ رہنے دیں۔ مومنہ ہے نا۔ اس کو عادت ہے سب سنبھالنے کی۔” پھر آواز نیچی کر کے، مگر اتنی نہیں کہ مومنہ نہ سن سکے، بولی، “اور ویسے بھی گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہو تو لڑکی کو تھوڑا سلیقہ دکھانا چاہیے۔”
سعد کے چہرے پر ایک لمحے کو سختی آئی، مگر اس کی ماں واقعی آنے والی تھیں؛ وہی اس تقریب کے بڑے عطیہ دینے والوں میں تھیں۔ مومنہ نے فوراً کپڑے سے میز خشک کی، نئی پلیٹیں لگائیں، اور سعد کے لیے ایک خالی کرسی میز کے اندر کی طرف کھینچ دی، جہاں حرا پہلے اپنی دوپٹہ رکھ کر جگہ گھیر رہی تھی۔ یہ چھوٹی سی حرکت تھی، مگر اس نے سعد کو ایک پل کے لیے باہر کھڑے رہنے سے بچا لیا۔ سعد نے کرسی کی طرف دیکھا، پھر مومنہ کی طرف۔ “شکریہ،” اس نے آہستہ سے کہا۔ حرا نے سن لیا، مگر ایسے منہ بنایا جیسے یہ بھی مومنہ کا فرض تھا۔
پندرہ منٹ بعد سعد کی امی، خالہ نسرین، دو دوسری خواتین کے ساتھ آئیں۔ سونے کی باریک چوڑیاں، استری شدہ دوپٹہ، نظریں سیدھی میز پر۔ حرا فوراً ان کے ساتھ لپک گئی۔ “خالہ، آپ ادھر بیٹھیں۔ سب انتظام ہو گیا ہے۔” پھر مومنہ کی طرف دیکھے بغیر انگلی سے اشارہ کیا، “رجسٹر لے آؤ، اور جو عطیے والے لفافے ہیں نا، وہ بھی۔”
مومنہ نے رجسٹر اٹھایا، نقدی والے لفافے سیدھے کیے، اور مسکراتے ہوئے خالہ نسرین کے سامنے رکھ دیے۔ خالہ نے ایک سرسری نگاہ اس پر ڈالی۔ “یہ کون ہے؟” سوال حرا سے تھا، جواب بھی حرا نے دیا۔ “بس، ہماری سوسائٹی میں بہت ہاتھ بٹاتی ہے۔” بس۔ نہ نام، نہ تعارف، نہ یہ کہ اسی نے اسپانسرز کو کالیں کیں، پوسٹر چھاپے، بکنگ رکھی۔ ہاتھ بٹاتی ہے۔ جیسے وہ خود کوئی مستقل شے نہ ہو، صرف دوسرے لوگوں کے کام کا اضافہ ہو۔
مومنہ نے پلک نہیں جھپکائی۔ اس نے رجسٹر کھولا تو آدھی تہہ شدہ رسید دوبارہ نیچے گر گئی۔ خالہ نسرین کی نظر اس پر پڑی۔ “یہ کیا ہے؟ حساب الگ نہیں رکھا تم لوگوں نے؟”
حرا کے چہرے کا رنگ ایک دم بدلا۔ یہ وہی رسید تھی جس میں پچھلے ہفتے کے پندرہ ہزار کے اسنیکس تھے، جو اس نے سوسائٹی کے نام پر منگوا کر اپنی کزن کی منگنی میں بھیج دیے تھے۔ اگر خالہ نسرین کو پتہ چلتا تو نہ صرف سوسائٹی میں بلکہ سعد کے گھر میں بھی بات خراب ہوتی؛ حرا اور سعد کا تعلق ابھی اسی نازک درجے میں تھا جہاں گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تو تھا، مگر عزت اسی میں تھی کہ لڑکی صاف ستھری لگے، لالچی یا بے ترتیبی والی نہیں۔
حرا نے فوراً جھوٹ باندھا۔ “اوہ وہ؟ مومنہ نے الگ سے کچھ رکھا ہوگا۔ اسے عادت ہے رسیدیں مکس کرنے کی۔”
جھوٹ سیدھا مومنہ کے منہ پر پھینکا گیا۔ خالہ نسرین کی بھنویں ذرا اٹھیں۔ سعد نے سر موڑا۔ اس ایک سانس بھر وقت میں مومنہ کے پاس دو راستے تھے: رسید کھول کر سب کے سامنے حرا کو ننگا کر دے، یا پھر ایک بار پھر کسی اور کی عزت بچا لے۔ اس نے رسید اٹھائی، اپنی مٹھی میں موڑی، اور بے آواز کہا، “میری غلطی ہے، میں ابھی الگ کرتی ہوں۔”
خالہ نسرین کی توجہ دوبارہ لفافوں پر چلی گئی۔ حرا نے سکون کا سانس لیا، مگر اس سکون کی قیمت مومنہ کی گردن پر آن پڑی۔ وہ میز سے ہٹ کر کاؤنٹر کے پاس گئی، جہاں کچرے کے ڈبے کے اوپر زرد بتی جل رہی تھی۔ رسید اس کے ہاتھ میں بھیگے کاغذ کی طرح نرم تھی۔ وہ اسے پھاڑ سکتی تھی، مگر اس نے نہیں پھاڑی۔ بس تہہ کر کے اپنے بیگ میں رکھ لی۔
“تم نے کیوں لیا اپنے اوپر؟” سعد اس کے پیچھے آ کھڑا ہوا۔
مومنہ نے پلٹے بغیر کہا، “کیونکہ تمہاری امی سامنے بیٹھی ہیں۔ اور کیونکہ اگر یہیں تماشا ہوتا تو قصور پھر بھی میرا ہی نکلتا۔” اس نے کاؤنٹر پر پڑا ٹھنڈا ہو چکا چائے کا کپ ہٹایا؛ اوپر پتلی جھلی بن چکی تھی۔ “تم واپس جاؤ۔ تمہارا نام لگے گا، میرا نہیں۔”
سعد کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے پہلی بار حکم کے لہجے کے بغیر کہا، “تم گھر کیسے جاؤ گی؟”
“بس سے۔ جیسے روز جاتی ہوں۔”
“رکو۔” اس نے اپنی جیب سے ایک چھوٹی چابی نکالی، پھر فوراً مٹھی بند کر لی، جیسے ابھی وقت نہیں۔ “بعد میں بات کرتا ہوں۔”
مومنہ نے اس کی طرف دیکھا تک نہیں۔ “بعد میں سب کو اپنی ضرورت کے مطابق بات کرنا یاد آتا ہے۔”
تقریب ختم ہوتے ہوتے رات ہوگئی۔ حرا کی ہنسی تھک کر تیز ہو گئی تھی، جیسے سارا دن چمکنے کے بعد بھی اسے ڈر ہو کہ کہیں کوئی دھبہ نظر نہ آ جائے۔ باہر پارکنگ میں خالہ نسرین گاڑی کے پاس کھڑی تھیں۔ حرا ان کے ساتھ لگی ہوئی تھی، مگر ایک مسئلہ رہ گیا تھا: سعد کو شہر کے دوسری طرف اپنے چھوٹے فلیٹ جانا تھا جہاں وہ پڑھائی کے دنوں میں رہتا تھا، اور خالہ نسرین چاہتی تھیں کہ وہ آج ان کے ساتھ گھر چلے تاکہ رشتے داروں کے سامنے رہے۔ حرا نے فوراً مومنہ کو دیکھا۔ “تم سعد کے فلیٹ سے فائلیں اٹھا لانا۔ کل کی پریزنٹیشن بھی وہاں ہے۔ ویسے بھی تمہیں راستہ معلوم ہے نا؟ میں خالہ کے ساتھ جا رہی ہوں۔”
یہ نئی بے شرمی تھی۔ سعد کے فلیٹ کی چابی بھی شاید مومنہ کے ہاتھ میں تھموا دیتی، صرف اس لیے کہ وہ رات کے گیارہ بجے کسی لڑکی کو اکیلا بھیج کر خود عزت والی جگہ پر کھڑی رہ سکے، اور کل اگر کسی کو خبر ہوتی تو کہتی، مومنہ تو ویسے ہی ہر کام کر دیتی ہے۔
سعد نے فوراً کہا، “نہیں۔”
حرا نے چونک کر اسے دیکھا۔ “نہیں کیا؟ صرف فائلیں تو—”
“میں نے کہا نہیں۔” سعد کی آواز اونچی نہیں تھی، مگر گاڑی کے دروازے پر ہاتھ رکھے رکھے اس کی انگلیاں سخت ہو گئیں۔ “مومنہ کہیں نہیں جائے گی میرے کام سے۔”
خالہ نسرین کی نظر دونوں پر آئی۔ “بات کیا ہے؟”
حرا نے ہنسنے کی کوشش کی۔ “کچھ نہیں خالہ، بس کل کی چیزیں—”
“کل کی چیزیں کل۔” سعد نے جیب سے چابی نکالی۔ دھات کی ہلکی سی آواز رات میں صاف سنائی دی۔ اس نے مومنہ کی طرف مڑ کر چابی اس کے سامنے کھولی ہوئی ہتھیلی پر رکھ دی۔ “یہ رکھو۔ اوپر والے فلیٹ کی۔ میری امی کے گھر مت جانا اگر دل نہیں۔ ہاسٹل واپس جانے کی ضرورت بھی نہیں اگر گیٹ بند ہو گیا ہو۔ آرام کر کے صبح جانا۔”
حرا کی مسکراہٹ وہیں اٹک گئی۔ “سعد!” یہ احتجاج بھی تھا، یاد دہانی بھی، کہ خالہ نسرین سامنے کھڑی ہیں، کہ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہونے کے باوجود حدیں ہوتی ہیں، کہ ایک لڑکی کو رات میں کسی لڑکے کے فلیٹ کی چابی دینا سماجی قیمت رکھتا ہے۔
سعد نے ماں کی طرف دیکھا۔ “امی، نیچے والی خالہ سحر کے پاس دوسرا کمرہ خالی ہے، آپ جانتی ہیں۔ مومنہ پہلے بھی ان کے پاس نوٹس لینے گئی ہے۔ اوپر کی چابی اس کے پاس رہے گی۔ آج اس کو بس یہ نہیں کرنا کہ سب کا بوجھ اٹھا کر پھر سڑکوں پر پھرے۔”
یہ مکمل سچ نہیں تھا، مگر اتنا سچ تھا کہ ماں کے سامنے کھڑا رہ سکے۔ خالہ نسرین نے مومنہ کو غور سے دیکھا۔ اس کی آستین پر چائے کا داغ اب ہلکا بھورا پڑ چکا تھا، بیگ کی زپ سے رسید کا کنارہ جھانک رہا تھا، اور آنکھوں کے نیچے رات کی شفٹوں کے نیلگوں سائے تھے۔ “تم ٹھیک سے پہنچ جاؤ گی؟” انہوں نے سیدھا مومنہ سے پوچھا، پہلی بار۔
مومنہ کی انگلیاں چابی کے گرد بند ہوگئیں۔ حرا بیچ میں بولی، “خالہ، لوگ کیا کہیں گے—”
“لوگ تب کہاں تھے جب تم اس سے سارا کام لے رہی تھیں؟” سعد نے پہلی بار اس کی بات کاٹ دی۔ پھر فوراً ماں کی طرف دیکھ کر لہجہ نرم کیا، “امی، میں ابھی اوپر جا کر دروازہ کھول دیتا ہوں۔ مومنہ چاہے تو اندر جا کر آرام کرے، چاہے تو نیچے خالہ سحر کے پاس چلی جائے۔ چابی اسی کے پاس رہے گی۔”
بات اب اعلان نہیں، دروازے کی ترتیب بن چکی تھی۔ یہی اسے وزنی بنا رہی تھی۔ حرا نے آگے بڑھ کر چابی واپس لینے جیسا ہاتھ بڑھایا، “کم از کم مجھے دے دو، میں کل—”
مومنہ ایک قدم پیچھے ہوئی۔ “نہیں۔” لفظ چھوٹا تھا، مگر پہلی بار اس کے ہاتھ کسی اور کے نقصان کو چھپانے کے لیے نہیں، اپنے حصے کی حد باندھنے کے لیے بند ہوئے تھے۔ “کل اگر فائل چاہیے ہوگی تو میں خود دے دوں گی۔ رات کو میں کسی کے بھی کہنے پر کہیں نہیں جاؤں گی۔”
سعد نے گاڑی بند کر دی۔ خالہ نسرین خاموش رہیں، مگر انہوں نے حرا کو دوبارہ نہیں ٹوکا، نہ مومنہ سے چابی مانگی۔ بس ڈرائیور کو چلنے کا اشارہ کیا۔ حرا نے جاتے جاتے ایک آخری نظر ڈالی؛ وہی نظر جو کسی ایسے شخص کو دی جاتی ہے جسے ہمیشہ نیچے رکھنا ممکن نہ رہے۔
بلڈنگ زیادہ دور نہیں تھی۔ سڑک کے کنارے نہاری والے کے دیگچے سے بھاپ اٹھ رہی تھی، موٹر بائکیں تنگ گلی میں ایک دوسرے کے بازو چھوتی نکل رہی تھیں۔ مومنہ نے سارا راستہ چابی ہتھیلی میں دبا کر رکھی، جیسے یہ دھات نہیں، اپنے وزن کا ثبوت ہو۔ اوپر پہنچ کر سعد نے پہلے دروازہ کھولا، پھر ایک طرف ہٹ گیا۔ فلیٹ چھوٹا تھا: ایک میز، کتابوں کی شیلف، دیوار کے ساتھ رکھا بیڈ، کھڑکی کے پاس کپ میں خشک ہو چکی چائے کی لکیر، جیسے کسی نے بیٹھے بیٹھے پڑھتے پڑھتے اسے بھلا دیا ہو۔
“میں نیچے والے کمرے میں سو جاؤں گی،” مومنہ نے فوراً کہا۔ عادت ابھی پوری مری نہیں تھی؛ نرم جگہ دیکھ کر بھی وہ خود کو اس سے ایک قدم دور رکھتی تھی۔
سعد نے سر ہلایا۔ “نیچے خالہ سحر اپنی بہن کے ہاں گئی ہوئی ہیں۔ کمرہ بند ہے۔” پھر وہ دروازے کے پاس کھڑا رہا، اندر نہیں آیا۔ “یہاں پانی ہے۔ غسل خانے میں نیا تولیہ رکھا ہے۔ میں سامنے والے اسٹڈی روم میں ہوں گا۔ اگر تم چاہو تو دروازہ اندر سے بند کر لو۔ چابی تم رکھو۔”
یہ وہ لمحہ تھا جہاں عزت اور پناہ ایک دوسرے کے مقابل کھڑی تھیں۔ اگر وہ چابی واپس کر دیتی تو سب کچھ پھر پرانے نقشے پر لوٹ جاتا: وہ کام کی لڑکی، دوسرے اندر کے لوگ۔ اگر لے لیتی تو رات، تھکن، اور ساری ذلت کے بعد پہلی بار کسی جگہ اس کا داخلہ عاریتاً نہیں، باقاعدہ ہوتا۔
اس نے بیگ کندھے سے اتارا، اندر قدم رکھا، اور مڑ کر دروازہ اپنے ہاتھ سے بند کیا۔ پھر چابی گھما دی۔
باہر سے سعد کی آواز آئی، بہت ہلکی، “آرام کر لو، مومنہ۔ صبح جلدی نہیں جگاؤں گا۔”
مومنہ نے جواب نہیں دیا۔ وہ جواب سے زیادہ مہنگا کچھ کر چکی تھی: اس نے اندر رہنا قبول کیا تھا۔ اس نے بیگ کرسی پر رکھا، آستین کا خشک داغ دیکھا، اور آہستہ سے بیگ کی زپ کھول کر وہ آدھی تہہ شدہ رسید نکالی۔ ایک لمحہ اسے دیکھا، پھر میز کے کونے پر رکھ دی، جیسے کسی اور کے بوجھ کو آخرکار اپنے جسم سے الگ کر رہی ہو۔ غسل خانے سے واپس آئی تو کمرے کی پیلی روشنی ابھی بھی جل رہی تھی، نرم اور ساکت۔
وہ بیڈ کے پاس جا کر رکی، جوتے اتارے، اور آخرکار بیٹھ گئی۔ دروازہ بند تھا، چابی اندر تھی، اور کسی نے اس سے یہ نہیں کہا تھا کہ پہلے کچرا پھینکو، پہلے حساب لکھو، پہلے کسی اور کی عزت سمیٹو۔ یہ خاموشی خالی نہیں تھی؛ اس میں جگہ بنائی گئی تھی۔
بیڈ کے کنارے روشنی جلتی رہی، اور ساتھ ہی تہہ کیا ہوا کمبل سیدھا پڑا تھا، کپڑا ہموار، جیسے دیر سے کسی کے آنے کے لیے خاموشی سے انتظار کر رہا ہو۔