Fast Fiction

فہرست میں اس کا نام نیچے تھا، بلایا سب سے پہلے گیا

"صائمہ کا نام مہمانوں کی فہرست میں نہیں، اسے پیچھے والے راستے سے بھیج دو۔" ماہم باجی نے دروازے کے پاس رکھی رجسٹر میز پر انگلی ٹکائی اور سفید کارڈوں کی قطار میں سے ایک سنہری پرچی اٹھا کر دوسری لڑکی کے ہاتھ میں دے دی۔ "یہ اندر والی نشست کے لیے ہے۔ تم"—اس نے صائمہ کو سر سے پیر تک دیکھا—"کچن سائیڈ سے جاؤ۔"

صائمہ نے جواب میں بس اپنا بیگ کندھے سے اتارا اور رجسٹر کے کنارے رکھ دیا۔ دوپٹے کے نیچے اس کے کندھے میں سروس سیکٹر کی لمبی شفٹ کی اکڑن ابھی بھی بیٹھی ہوئی تھی، آستینوں پر دن بھر کی تہہ جمی تھی، اور پرس میں بس کارڈ کا کونا گھس گھس کر نرم ہو چکا تھا۔ وہ سیدھی ماہم کی آنکھوں میں دیکھتی رہی، پھر میز پر پڑا قلم اٹھا کر فہرست کے نیچے خالی جگہ میں اپنا نام خود لکھ دیا: صائمہ ندیم۔ لکھائی ٹھہری ہوئی، بے لرزش۔ دروازے کے پاس کھڑے دو کزن ایک دوسرے کو کہنی مار کر دیکھنے لگے۔

ماہم کے ہونٹ تن گئے۔ "نام خود لکھ لینے سے رشتہ نہیں بن جاتا۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہونا اور بات ہے، بزرگوں کے سامنے مقام اور چیز ہے۔" اس نے فوراً دروازے کے اسسٹنٹ کو اشارہ کیا، "اگلی گاڑی والی فیملی کو لے جاؤ۔ پہلے انہیں اندر بٹھاؤ۔"

اسی وقت چمکتی مہندی اور بھاری غرارے میں ایک دور کی رشتے دار لڑکی آ پہنچی۔ اس کے لیے دروازہ دونوں پٹوں سمیت کھل گیا، اس کے باپ کو سلام ہوا، اور ایک لڑکا دوڑ کر ان کے آگے آگے اندر چلا۔ صائمہ وہیں رجسٹر میز کے پاس کھڑی رہ گئی، جیسے وہ مہمان نہ ہو، اضافی بوجھ ہو۔ صحن کے پار روشنیوں کے نیچے حارث کھڑا تھا؛ اس نے صائمہ کو دیکھا، پہچانا، مگر بس اپنی کلائی کی گھڑی سیدھی کی اور ماموں کے ساتھ بات کرتا رہا۔ یہی سب سے بدتر تھا۔ غلط ترتیب کو کسی نے غلط نہیں کہا۔

صائمہ نے بیگ سے چھوٹا سا ڈبہ نکالا۔ دوپہر کے بچے ہوئے چاول تھے، ٹھنڈے، دبے ہوئے؛ وہ دفتر سے سیدھی یہاں آئی تھی اور کھانے کا وقت راستے میں کہیں گر گیا تھا۔ اس نے ڈبہ واپس رکھا، رجسٹر میز سے اپنی انگلی اٹھائی اور ایک قدم ہٹ گئی، مگر پیچھے نہیں گئی۔ "میں کچن کے دروازے سے نہیں جاؤں گی،" اس نے آہستہ کہا، اتنا آہستہ کہ ماہم کو جھکنا پڑا۔ "یا تو سامنے سے، یا پھر بالکل نہیں۔"

ماہم نے تیز ہنسی ہنسی۔ "ڈرامہ مت کرو۔ تمہارا بلایا ہوا نام نہیں آیا۔"

"تو میرا لایا ہوا امانت نام لے کر آیا ہے۔"

یہ سن کر قریب کھڑا اسسٹنٹ چونکا۔ صائمہ نے بیگ سے مخملی نیلا لفافہ نکالا، وہی جسے وہ پورا دن سینے سے لگائے پھرتی رہی تھی۔ اس پر چاندی کے ابھار میں خالد صاحب کے دفتر کی مہر تھی۔ ماہم نے ہاتھ بڑھایا، "مجھے دو۔" صائمہ نے لفافہ اس کے ہاتھ تک جا کر واپس کھینچ لیا۔

اسی لمحے اندر والے برآمدے سے ایک ادھیڑ عمر منتظم تیزی سے صحن میں اترا۔ سفید شلوار قمیص، کان میں وائرلیس، سانس کچھ پھولی ہوئی۔ اس نے پہلے ماہم کو دیکھا، پھر صائمہ کے ہاتھ میں لفافہ، پھر سیدھا صائمہ کی طرف آیا۔ "معاف کیجیے، یہ خالد صاحب کے لیے ہے؟"

ماہم فوراً درمیان میں آ گئی۔ "میں گھر کی طرف سے دیکھ رہی ہوں۔ مجھے دے دیں، میں پہنچوا دوں گی۔"

منتظم نے اس کی بات سنی مگر قدم نہیں روکا۔ اس کا جسم صائمہ کی طرف مڑ چکا تھا۔ "آپ تشریف لائیں، میں لے چلتا ہوں۔" اس نے ہاتھ سے راہ کھولی، جیسے صحن کی پوری لکیر اچانک نئی بن گئی ہو۔ دروازے کا اسسٹنٹ، جو ابھی تک دوسروں کو اندر لے جا رہا تھا، بےاختیار ایک طرف ہٹ گیا اور پٹ کھول کر صائمہ کے لیے سیدھا کھڑا ہو گیا۔

صحن میں پہلی بار ٹھہراؤ آیا۔ دو چچیاں جو ابھی تک ماہم کی طرف جھک جھک کر احوال پوچھ رہی تھیں، اب اپنی نظریں صائمہ پر جما کر دیکھنے لگیں۔ ماہم کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے خالی پن آیا، پھر اس نے جلدی سے سنبھال لیا۔ "لفافہ پہنچانا الگ بات ہے۔ اندر بزرگوں کے حلقے میں بیٹھنے کا فیصلہ میں کروں گی۔ ہر آنے والا سامنے سے نہیں بٹھایا جاتا۔"

حارث تب حرکت میں آیا۔ وہ برآمدے سے نیچے اترا، لیکن اس کے قدموں میں عجیب سی دیر تھی، جیسے وہ دونوں طرف کا نقصان ناپ رہا ہو۔ "صائمہ، تم پہلے مجھے بتا دیتیں تو—"

"کیا؟" صائمہ نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا۔ "کہ دروازے پر میرا مقام طے ہو چکا ہے؟"

ماہم نے اس جملے کو فوراً لپکا۔ "بس یہی مسئلہ ہے۔ بات کو مقام تک لے آتی ہے۔ ایسے گھر بنتے نہیں۔ آج منگنی ہے، کوئی دفتر نہیں جہاں فائل اٹھا کر اندر چلے جاؤ۔ دیر سے آئی ہیں، ہاتھ میں لفافہ ہے، اس سے رسم نہیں بدلتی۔" اس نے اونچی آواز میں آخری لفظ کہا تاکہ برآمدے میں بیٹھے بزرگ سن لیں۔ "اور کچھ رشتے صرف باتوں میں ہوتے ہیں، ان کے لیے اندر والی نشست نہیں رکھی جاتی۔"

یہ وار کھلا تھا۔ اب بات دروازے سے بڑھ کر عزت اور موزونیت پر آ گئی تھی۔ خالد صاحب، جو ابھی تک اوپر والی سیڑھی کے موڑ پر کسی مہمان کے ساتھ کھڑے تھے، اس بلند جملے پر رک گئے۔ ان کے ساتھ دو بزرگ اور ایک مولوی صاحب بھی تھے۔ سب کی نظر ایک ساتھ نیچے اتر آئی۔ ماہم نے موقع دیکھ کر رجسٹر میز سے سنہری کارڈ اٹھایا اور حارث کے برابر آ کھڑی ہوئی۔ "حارث، مہمانوں کی ترتیب خراب نہ کرو۔ پہلے اندر والے خاندان جائیں گے۔"

صائمہ نے اب پہلی بار حارث کو پوری طرح دیکھا۔ اس کی خاموشی میں مصلحت تھی، اور مصلحت ہمیشہ دوسرے کو سستا ثابت کرتی ہے۔ اس نے مخملی لفافہ دونوں ہاتھوں سے سیدھا کیا، پھر ایک قدم آگے بڑھ کر اتنی صاف آواز میں بولی کہ صحن کے کونے تک سنائی دے: "خالد صاحب، یہ آپ کے لیے آپ کی والدہ کی امانت ہے۔ اور اگر میرے لیے اس گھر میں جگہ پچھلے دروازے کی ہے، تو یہ امانت بھی وہیں سے منگوا لیجیے۔"

لفافہ ہوا میں نہیں لہرا، بس اس کے ہاتھ میں سیدھا رہا۔ مگر صحن کی ساری گردنیں ایک ساتھ اوپر سیڑھیوں کی طرف اٹھ گئیں۔ خالد صاحب نے اپنے ساتھ کھڑے آدمی کی بات درمیان میں چھوڑ دی۔ وہ آہستہ نہیں اترے؛ ایک ایک سیڑھی ناپتے ہوئے سیدھے نیچے آئے، جیسے اب کسی اور کی ترتیب چلنے والی نہیں۔ نیچے پہنچ کر انہوں نے ماہم کے ہاتھ سے سنہری کارڈ لیا، ایک نظر دیکھا، اور بغیر کچھ کہے اسے رجسٹر میز پر الٹا رکھ دیا۔

"امّی نے کہا تھا،" انہوں نے صائمہ کے سامنے رکتے ہوئے کہا، "جس لڑکی کے ہاتھ یہ لفافہ ہو، اسے میرے پاس سیدھا لایا جائے۔" پھر انہوں نے سر موڑ کر اسسٹنٹ سے کہا، "آپ سن نہیں رہے؟ صائمہ بی بی کو اندر لے جائیے۔ سامنے والے برآمدے میں، میری دائیں طرف نشست لگے گی۔"

ماہم کی انگلیاں خالی ہوا میں رہ گئیں۔ "خالد بھائی، آپ شاید پورا معاملہ—"

انہوں نے اس کی بات کاٹ دی۔ "پورا معاملہ یہی ہے کہ آپ نے جسے پچھلے راستے پر بھیجنا چاہا، وہ میری والدہ کی منتخب کردہ امانت لے کر کھڑی ہے۔" ان کی آواز بلند نہیں ہوئی، مگر ہر لفظ پتھر کی طرح سیدھا پڑا۔ "اور ایک بات سب سن لیں۔ حارث کے نکاح کے لیے جس نام پر گھر میں آخری مشورہ ہونا تھا، وہ یہی ہے۔ اس کا نام کسی فہرست کے نیچے نہیں جائے گا۔ پہلے اسی کو لے جائیں۔"

سنہری کارڈ ابھی تک میز پر الٹا تھا۔ اسسٹنٹ نے گھبرا کر اسے اٹھایا، مگر خالد صاحب نے ہاتھ سے منع کیا۔ "وہ نہیں۔ سامنے والی پہلی قطار کا کارڈ لاؤ۔" اندر سے دو لڑکے دوڑے۔ ایک نے برآمدے کے پاس لگی نشستوں میں سے سب سے آگے والی کرسی کا نامی کارڈ اٹھایا، دوسرے نے راستہ صاف کیا۔ اب راستہ لفظوں سے نہیں، جسموں سے بدل رہا تھا۔ برآمدے کی طرف جانے والی قطار دو حصوں میں ٹوٹ گئی؛ جو خاندان ابھی تک پہلے جا رہے تھے وہ بےاختیار ایک طرف سرک گئے۔ ایک چچی نے اپنا پرس سمیٹ کر پیچھے کیا، ایک ماموں نے ہاتھ باندھ کر راستہ چھوڑا، اور دروازے کے دونوں پٹ اس بار پورے کھلے رہے۔

حارث کے چہرے پر رنگ آیا اور گیا۔ "ابو، بات اس طرح—"

"تم بعد میں بات کرو گے۔" خالد صاحب کی نظر اس پر ٹکی بھی نہیں۔ یہی اصل چوٹ تھی۔ حارث، جو ابھی تک صحن میں اپنی جگہ سے چیزیں چلوا رہا تھا، یکایک غیرضروری ہو گیا۔ اس نے ماہم کی طرف دیکھا جیسے وہاں سے سہارا ملے گا، مگر ماہم خود اپنی آواز ڈھونڈ رہی تھی۔ "میں تو بس گھر کی عزت—"

"گھر کی عزت دروازے پر لوگوں کو پرکھنے سے نہیں بنتی،" خالد صاحب نے کہا، "اور نہ ہی منتخب شخص کو نوکروں کے راستے بھیجنے سے۔"

"منتخب شخص؟" ماہم کے منہ سے بےاختیار نکلا، جیسے لفظ ہی اس کے لیے زیادہ ذلیل کن تھا۔

صائمہ نے وہیں اس لمحے اپنی آخری حد خود کھینچی۔ اس نے لفافہ خالد صاحب کو دیا۔ "یہ امانت آپ کی۔" پھر اس نے سب کے سامنے، اسی صحن میں، حارث کی طرف دیکھ کر کہا، "اور میرا نام آپ کے گھر میں اگر آج لیا جائے گا تو میرے سامنے لیا جائے گا، میرے اوپر نہیں۔"

خالد صاحب نے لفافہ لیا، مگر اگلا اشارہ بھی صائمہ کے مطابق ہوا۔ "اسے لے چلو۔ پہلے۔" اسسٹنٹ، جو شروع میں اسے پچھلے راستے کی طرف موڑ رہا تھا، اب اس کے آدھے قدم آگے، آدھے قدم ایک طرف چل رہا تھا، جیسے اسے محفوظ رکھتے ہوئے راستہ دے رہا ہو۔ ایک لڑکی نے جلدی سے سامنے والے برآمدے کی کرسی سے دوسرا نامی کارڈ ہٹایا اور نیا رکھ دیا۔ سب نے دیکھا۔ کسی نے سمجھانے کی کوشش نہیں کی؛ حکم جسموں میں اتر چکا تھا۔

ماہم نے آخری کوشش میں آگے بڑھ کر کہا، "کم از کم پہلے اندر والے بزرگ بیٹھ جائیں، پھر—"

"نہیں،" صائمہ نے پہلی اور آخری بار اسے سیدھا جواب دیا۔ اس کی آواز ٹھنڈی تھی، تھکی ہوئی نہیں۔ "میں اب پیچھے انتظار نہیں کروں گی۔"

اور وہ چل دی۔ صحن کی اینٹیں روشنی میں ہلکی سنہری لگ رہی تھیں، جیسے ابھی ابھی ان پر پانی چھڑکا گیا ہو۔ برآمدے کے ستونوں کے پاس سے گزرتے ہوئے اس نے ایک لمحے کو شیشے والے لفٹ دروازے میں اپنا عکس دیکھا؛ دھندلے شیشے پر پرانے ہاتھوں کے نشان تھے، اور انہی دھبوں کے بیچ اس کا چہرہ صاف نظر آیا۔ سیدھا۔ بےمعذرت۔

اوپر کی طرف جانے والی سیڑھیوں پر پہلے اسسٹنٹ چڑھا، پھر صائمہ۔ نیچے حارث، ماہم اور باقی لوگ ایک ساتھ بڑھے، مگر خالد صاحب کی ایک جنبش پر رک گئے۔ سیڑھی کے موڑ پر پہنچ کر صائمہ نے ریلنگ پر اپنا ہاتھ رکھا۔ نیچے والی سیڑھی پر پوری قطار ٹھہر گئی۔ اس نے سر اٹھایا، اگلا قدم رکھا، اور لینڈنگ پار کر گئی۔