سامان کی لائن اچانک پلٹ گئی
فراز نے مہرین کے ہاتھ سے گیٹ پاس کھینچ کر رجسٹر میز پر الٹا رکھ دیا اور دربان سے کہا، “اسے سائیڈ پر رکھو، یہ وصولی لائن میں نہیں کھڑی ہوگی۔” شادی ہال کے باہر کراچی کی نم شام چپکی ہوئی تھی؛ گاڑیوں کے دروازے دھڑ دھڑ کھل رہے تھے، پھولوں کی مہک میں ڈیزل کی کڑواہٹ ملی ہوئی تھی، اور خالہ شمیم اپنی سہیلیوں کے ساتھ اسی طرف دیکھ رہی تھیں جہاں مہرین کو ایک قدم پیچھے دھکیلا گیا تھا۔
مہرین نے کچھ نہیں کہا۔ اس کی انگلیوں میں پرانا کارڈ دبا تھا، کنارے سے گھسا ہوا، جیسے روزانہ بس کے سفر اور بےشمار جیبوں نے اسے بار بار رگڑا ہو۔ اس نے اسی کارڈ سے تین ہفتے تک سامان کی آمد، کولڈ اسٹوریج، برف، مٹھائی، سجاوٹ، سب کی ترسیل سنبھالی تھی۔ ہال کے دفتر میں اس کی چائے ٹھنڈی ہو کر پیالی کے نیچے بھورا حلقہ چھوڑ چکی تھی، مگر آج وصولی کے وقت فراز نے اسے یوں ہٹا دیا جیسے وہ کرائے کی عام مزدور ہو۔ سامنے دولہے کے ماموں، پیچھے دلہن کے کزن، اور سب کو معلوم تھا کہ یہ رشتہ ایسا نہیں جس پر پردہ ہو؛ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا کہ مہرین ہی نے اس تقریب کی سپلائی اپنے رابطوں سے کھڑی کی ہے۔
“فراز بھائی، آئس کریم وین کھڑی ہے، ڈرائیور پوچھ رہا ہے کہاں اتاریں؟” ایک لڑکے نے دوڑتے ہوئے کہا۔
فراز نے مہرین کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا، “پہلے اندر والے سٹور کا دروازہ کھولو۔ اور اسے” — اس نے ٹھوڑی سے مہرین کی طرف اشارہ کیا — “مہمانوں کے داخلی حصے میں نہ آنے دینا۔ عورتوں میں بیٹھے۔”
“مجھے وصولی سلپ دو،” مہرین نے سیدھا کہا۔
فراز ہنسا نہیں؛ اس سے زیادہ بدتر کیا۔ اس نے آس پاس کے لوگوں کے سننے کے لیے آواز ذرا اونچی کی۔ “سلپ ہر ایک کے ہاتھ نہیں دی جاتی۔ یہاں خاندان کی عزت کا معاملہ ہے، کمپنی کا نہیں۔ تم نے سامان منگوایا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ دہلیز بھی تمہاری ہوگئی۔”
اس ایک جملے نے کام بھی روکا اور تماشا بھی بنایا۔ آئس کریم وین پچھلی گاڑی کے ہارن میں پھنس گئی، سجاوٹی لائٹوں والا منی ٹرک موڑ پر اٹک گیا، اور یوسف ڈرائیور نے کھڑکی سے بازو نکال کر آواز دی، “باجی، رسید پر دستخط کون کرے گا؟” مہرین نے قدم بڑھایا ہی تھا کہ دربان نے لکڑی کی رکاوٹ اس کے سامنے آڑی کر دی۔ فراز نے رجسٹر اپنی کہنی کے نیچے دبا لیا، جیسے وہ کتاب نہیں، پورا دروازہ ہو۔
خالہ شمیم آگے بڑھیں، مگر مہرین تک نہیں، فراز تک۔ “بیٹا، بات بڑھاؤ مت، لوگ دیکھ رہے ہیں۔ لڑکی کا نام بھی تمہارے ساتھ جڑا ہوا ہے، تھوڑی نرمی—”
“نرمی تب ہوتی جب حد نہ بھولی جاتی، خالہ۔” فراز نے فوراً کہا۔ “اگر آج اس کو یہاں کھڑا کر دیا تو کل ہر ڈرائیور اسی سے پوچھے گا۔ پھر میں کیا منہ دکھاؤں؟”
منہ وہ اپنا بچا رہا تھا، قیمت دوسروں سے وصول کروا رہا تھا۔ ایک اور گاڑی آ کر curb کے ساتھ رکی؛ اس کے اندر منجمد گوشت کے ڈبے تھے، وقت سے نہ اترتے تو خراب ہونے کا خطرہ تھا۔ ڈرائیور نے موبائل ہلا کر کہا، “کوڈ مانگ رہے ہیں۔ ریلیز کوڈ کس کے پاس ہے؟” فراز نے ہاتھ بڑھایا، “میرے پاس دو۔” مگر ڈرائیور نے سر ہلایا۔ “نام مہرین بانو لکھا ہے۔ اسی کے نمبر پر او ٹی پی جا رہا ہے۔”
یہ پہلی دراڑ تھی، چھوٹی مگر سب کے سامنے۔ فراز نے فوراً جیب سے اپنا فون نکالا، “اسے دو، میرے فون پر فارورڈ کر دے گی۔” پھر مہرین کی طرف مڑا، آواز میں حکم، “بھیجو۔ ابھی۔”
مہرین نے فون دیکھا، پھر بند کر کے دوپٹے کے پلّو میں رکھ لیا۔ “سامان میرا منگوایا ہوا ہے۔ وصولی بھی میں کروں گی۔”
فراز ایک قدم قریب آیا۔ “یہ ڈھٹائی یہاں نہیں چلے گی۔”
“تو پھر خراب ہوتا گوشت تم سمجھاؤ اندر والوں کو۔” مہرین نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔ “میں تمہارے ہاتھ او ٹی پی نہیں دوں گی۔”
آس پاس کے چہروں پر وہ خاص قسم کی جنبش آئی جو امیر دعوتوں کے باہر کھڑے لوگوں کو فوراً سمجھ آ جاتی ہے: جس کے پاس سامان رکا ہو، فی الحال اختیار اسی کے پاس ہے۔ لیکن فراز نے آخری چال رجسٹر سے کھیلی۔ اس نے دربان سے کہا، “اس کا نام کٹوا دو۔ آج سے اس کا داخلہ مہمان حصے تک محدود ہے۔ وصولی میں نہیں آئے گی۔”
مہرین نے کوئی جھگڑا نہیں کیا۔ اس نے بس اپنے بیگ کی سامنے والی جیب سے آدھی تہہ شدہ رسید نکالی۔ کناروں سے نرم ہو چکی تھی، بار بار کھلنے بند ہونے سے۔ اس کے پیچھے نمبر لکھا تھا۔ اس نے ایک ہی کال ملائی۔
“دانش بھائی۔” اس کی آواز نہ اونچی تھی نہ شکایتی۔ “آپ کے ساؤتھ زون کنسائنمنٹ کے تین لوڈ ہال کے باہر کھڑے ہیں۔ جس آدمی کو آپ نے عارضی وصولی دی تھی، وہ میرے نام کی ریلیز روک رہا ہے۔ جی، ابھی curb پر۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو مرکزی اجازت اپڈیٹ کر دیں۔”
دوسری طرف خاموشی بہت کم رہی۔ “فون یوسف کو دو۔”
مہرین نے فون کھڑکی کی طرف بڑھایا۔ یوسف ڈرائیور نے گھبرا کر لیا، دو لفظ سنے، فوراً گاڑی سے اتر کر سیدھا کھڑا ہوگیا۔ اس نے اپنی شرٹ جھاڑی، پھر فراز کے بجائے مہرین کے سامنے آ کر کہا، “باجی، اصل اجازت آپ کے نام منتقل ہوگئی ہے۔ وہ نیلا پاس کہاں ہے؟ گیٹ والا پاس۔”
فراز نے ہاتھ بڑھا کر روکنا چاہا۔ “ایک منٹ، یہ کیا مذاق ہے؟”
مذاق نہیں تھا۔ پچھلے دروازے سے ہال کا اکاؤنٹس کلرک دوڑتا آیا، ہاتھ میں نئی مہر لگی پرچی۔ “مرکزی دفتر سے ہدایت آئی ہے۔ وصولی اور اتارنے کی ذمہ داری مہرین بانو کے نام۔ کسی اور کے دستخط معتبر نہیں ہوں گے۔” وہ پرچی سیدھی مہرین کی طرف بڑھا رہا تھا، فراز کی طرف نہیں۔
مہرین نے نیلا پاس نکالا۔ وہی گھسا ہوا کارڈ، بس اب اس کے ساتھ سرخ مہر والی پرچی تھی۔ اس نے یوسف سے کہا، “پہلے گوشت والے ڈبے سائے میں لو۔ آئس کریم وین پیچھے والی ریمپ پر جائے گی۔ پھولوں والا منی ٹرک ابھی نہیں کھلے گا، پہلے کولڈ چین سیدھی کرو۔”
ایک لحظہ ایسا آیا جب فراز نے بولنے کے لیے منہ کھولا، مگر اس سے پہلے ہی دو مزدور اس کے پاس سے کٹ کر مہرین کی طرف مڑ گئے۔ ایک نے پوچھا، “باجی، ہینڈ ٹرالی کدھر سے لائیں؟” دوسرے نے کہا، “اندر والا فریزر خالی کرا دیں؟”
یہی اصل جھٹکا تھا۔ ابھی پانچ منٹ پہلے یہی جگہ تھی جہاں اسے رکاوٹ کے پیچھے کیا گیا تھا؛ اب وہی ہاتھ حکم لینے کے لیے اس کے قریب جھک رہے تھے۔ فراز نے تیزی سے کہا، “میں نے کہا تھا پھول پہلے—”
یوسف نے اس کی بات کاٹ دی۔ “معاف کریں جی، نام جس کا ہے، ہدایت اسی کی چلے گی۔” اس نے ہاتھ کے اشارے سے وین کو پیچھے کی ریمپ کی طرف موڑ دیا۔ ٹائر نے curb کے پاس گیلے پھولوں کے پتے پیس دیے۔
خالہ شمیم کی سہیلیوں میں سے ایک نے آہستہ سے دوپٹہ درست کیا اور نظریں ہٹا لیں۔ دلہن کا کزن جو ابھی تک فراز کے بازو کے پاس کھڑا تھا، رجسٹر چھوڑ کر ٹرالی کھینچنے لگا۔ دربان نے لکڑی کی رکاوٹ سائیڈ کی، مگر اس بار مہرین کے لیے۔ فراز نے اسے گھورا تو اس نے نظریں جھکا کر صرف اتنا کہا، “اوپر سے حکم آیا ہے، صاحب۔”
ہال کے اندر راہداری کی ٹیوب لائٹ ہلکی بھنبھناہٹ کے ساتھ جل رہی تھی۔ وہی جگہ جہاں مہرین پچھلے ہفتے گھنٹوں بیٹھ کر آمد و خرچ ملاتی رہی تھی، اور جہاں چائے کے کپ کا حلقہ میز پر رہ گیا تھا۔ اب وہ رجسٹر میز کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے پر کھسکایا گیا؛ کلرک نے اسے مہرین کی طرف کر دیا۔ فراز نے ہاتھ رکھا تو کلرک نے نرمی سے مگر صاف کہا، “یہ اب ان کے دستخط کے لیے ہے۔”
“مہرین، بات سنو۔” فراز کی آواز پہلی بار خاندان کے بڑے لڑکے والی نہیں، پھسلتی ہوئی لگی۔ “تم جانتی ہو اندر کتنے لوگ بیٹھے ہیں۔ اگر تم نے یہ تماشا یہاں—”
“تماشا تم نے شروع کیا تھا،” مہرین نے رجسٹر پر دستخط کرتے ہوئے کہا۔ “میں صرف مال خراب نہیں ہونے دوں گی۔”
اسی وقت سب سے بڑی گاڑی مڑی۔ سفید باڈی والا ٹرک، جس میں مہندی سٹیج کے پینل، جنریٹر کے اسپیر پارٹس، خشک میوہ جات کے کریٹ اور imported چاکلیٹ کے بند ڈبے تھے۔ یہی اصل لوڈ تھا؛ یہی جس کے لیے loading slot خالی رکھا گیا تھا۔ ڈرائیور نے کھڑکی سے سر نکال کر پوچھا، “کس سائیڈ اتارنا ہے؟ لائن بائیں ہے یا دائیں؟ بغیر پاس میں گاڑی نہیں سیدھی کروں گا۔”
فراز تقریباً لپک کر آگے آیا۔ “دائیں سائیڈ، ہال کے اپنے سٹور میں—”
“رکو۔” مہرین نے پاس اوپر اٹھایا۔ نیلا کارڈ، سرخ مہر، اور اس کے نام کی تازہ پرچی ایک ساتھ نظر آئیں۔ اس نے ایک قدم painted line کے اس پار رکھا، جہاں loading slot کی سفید لکیر دھندلی پڑ چکی تھی۔ “یہ گاڑی بائیں ریمپ لے جاؤ۔ عارضی سٹاک میرے حصے میں اترے گا۔ اندر تقسیم بعد میں میرے حساب سے ہوگی۔ جب تک میں نہ کہوں، ایک کریٹ بھی دائیں سائیڈ نہیں جائے گا۔”
ڈرائیور نے پاس دیکھتے ہی سٹیئرنگ موڑ دیا۔ ٹرک کی باڈی چرمرائی، ریورس الارم بجا، اور پورا لوڈ فراز کی بتائی ہوئی سمت سے کٹ کر مہرین کی طرف آنے لگا۔ فراز نے ہاتھ پھیلایا، “یہ ہال کی چیز ہے، تم اپنے پاس کیسے—”
“ہال کی تقریب میری کنسائنمنٹ پر چل رہی ہے،” مہرین نے اس کی طرف دیکھے بغیر کہا۔ “اور ریلیز میرے نام ہے۔”
اس نے آخری کوشش کی۔ “میں اندر والوں کو ابھی فون کرتا ہوں۔ دولہے کے والد—”
“کیجیے۔” مہرین نے ٹرالی والے کو اشارہ دیا۔ “پہلے خشک میوہ کے تین کریٹ بائیں۔ پھر جنریٹر پارٹس دیوار کے ساتھ۔ چاکلیٹ اوپر مت پھینکنا، مہر ٹوٹے گی۔”
فراز وہیں کھڑا رہ گیا، فون کان تک لے جا کر بھی کسی سے پہلے جملہ نہ بن سکا۔ اس کے پیچھے جمع دو لڑکے جو ہر حکم پر “جی بھائی” کہتے تھے، اب کریٹ گننے لگے۔ ایک مزدور نے دائیں سائیڈ کی جگہ پر رکھا ہوا خالی پیلیٹ اٹھایا اور بائیں گھسیٹ دیا۔ سفید لائن کے دونوں طرف فرق اچانک آنکھوں میں چبھنے لگا؛ اختیار اب آواز میں نہیں، مال کی سمت میں تھا۔
“یہ کم از کم سٹیج والا سامان تو ادھر دو،” فراز نے آخری بار کہا، اب لہجہ نرم نہیں، بےترتیب تھا۔ “مہمان آنے والے ہیں۔”
مہرین نے پاس اس کی پہنچ سے باہر رکھتے ہوئے صرف اتنا کہا، “جو چیز وقت پر وصولی سے روکی جاتی ہے، وہ پہلے محفوظ ہوتی ہے، بعد میں دکھائی جاتی ہے۔”
پہلا کریٹ دھپ سے بائیں طرف اترا۔ پھر دوسرا۔ پھر خشک میوہ کے ڈبے، پھر چاکلیٹ کے کارٹن۔ یوسف نے مارکر سے بائیں حصے کے اوپر چھوٹا سا نشان لگایا اور مہرین کی طرف دیکھا۔ اس نے سر ہلایا۔ مزدوروں نے آخری بڑے ڈبے کو اٹھا کر سفید لکیر کے اس پار نہیں، اسی کے کنارے مہرین والی سائیڈ پر جما دیا۔ انجن ابھی دھیمی گھرگھراہٹ میں چل رہا تھا۔ مہرین نے نیلا پاس انگلیوں میں الٹا سیدھا کیا، loading slot کی لکیر کے ساتھ کھڑی ہوئی، اور کہا، “باقی سب بھی یہیں اتارو۔”