اسپاٹ لائٹ اچانک اس پر مڑ گئی
فراز نے مہوش کے ہاتھ سے ریکٹ لے کر اپنے شٹل بیگ کے اوپر رکھ دیا اور اعلان کرنے والے لڑکے سے کہا، “جوڑی بدل دو۔ یہ وارم اَپ کروا دے گی، شوکیس میں میں جاؤں گا۔”
کھلے صحن نما کورٹ کے گرد پلاسٹک کی کرسیاں آدھی بھری تھیں، آدھی پر دوپٹے، پانی کی بوتلیں اور بچوں کے جوتے پڑے تھے۔ اوپر لڑیوں کی لائٹ ابھی پوری نہیں جلی تھی مگر سب کی نظریں بیچ کے نیلے میٹ پر تھیں۔ مہوش نے اپنی کالی آستین کہنی سے اوپر کی، جس میں سارا دن کی ڈیوٹی کی شکنیں ابھی تک جمی تھیں؛ گردن میں لٹکا کلب کا پرانا کارڈ بار بار مڑ کر پلٹ جاتا تھا۔ وہ صبح سے سروس سیکٹر والی اپنی نوکری کے بعد سیدھی بس سے اتری تھی، پھر موٹر سائیکل پر حمزہ اسے یہاں لایا تھا، اور اب اس کے لیے جگہ بس کورٹ کے کنارے بچی تھی، جیسے وہ کھلاڑی نہیں، کسی اور کے لیے شٹل پکڑنے آئی ہو۔
اعلان کرنے والا لڑکا مائیک پر ہنسا، “آج کے فیملی ڈے چیلنج میں فراز بمقابلہ شہر کے بہترین جونیئرز۔ مہوش بہن سپورٹ پر رہیں گی۔” چند لڑکوں نے گردن موڑ کر اسے دیکھا، پھر فوراً فراز کی طرف۔ پہلا انعام ابھی دیا نہیں گیا تھا، مگر راستہ، روشنی، مائیک، سب اس کے نام ہو چکے تھے۔
مہوش نے بس ایک قدم آگے بڑھایا۔ “میرا نام رجسٹر میں سنگلز کے لیے ہے۔”
فراز نے ہلکے سے مسکرا کر ریکٹ کے گرِپ پر اپنی انگلیاں مزید جما دیں، جیسے مالکیت دکھا رہا ہو۔ “رجسٹر میں بہت کچھ ہوتا ہے۔ شو تو وہی کرے گا جس پر لوگ رکیں۔ تم بعد میں بچوں کے ساتھ ڈراپ شاٹ دکھا دینا۔” پھر اس نے اتنی آواز میں کہا کہ پہلی قطار تک جائے، “ہر چیز مقابلہ نہیں ہوتی۔ کچھ چیزیں پریزنٹیشن بھی ہوتی ہیں۔”
خالہ روبینہ اسی وقت مہوش کے پاس آ کھڑی ہوئیں۔ ساٹن کے دوپٹے کے نیچے ان کی پیشانی پر پسینہ چمک رہا تھا؛ وہ منتظمین میں تھیں، اور ان کا چہرہ ایسا تھا جیسے کسی ایک غلط جملے سے پورا خاندان بیچ صحن میں ننگا ہو جائے گا۔ انہوں نے مہوش کی کلائی پکڑی، نرم نہیں، روکنے کے لیے۔ “بس ابھی نہیں۔ سب کو پتہ ہے تم کھیلتی ہو، مگر آج مہمان بھی آئے ہیں۔ فراز کا نام چل رہا ہے۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ والی بات الگ ہوتی ہے، مجمعے میں ضد الگ لگتی ہے۔”
مہوش نے ہاتھ نہیں چھڑایا، صرف اپنی کلائی سیدھی کی۔ کرسی کے ایک کونے سے اس کی پنڈلی لگی؛ سستی پلاسٹک نے چرچراہٹ کی۔ پاس رکھی اس کی ٹھنڈی پڑی ہوئی کھانے کی ڈبی سے دھنیا اور ٹھنڈے پراٹھے کی باسی خوشبو اٹھی۔ اسے یکدم یاد آیا کہ اس نے دوپہر سے کچھ نہیں کھایا، مگر بھوک بھی کبھی کبھی ذلت جیسی ہو جاتی ہے؛ گلے میں اٹک جاتی ہے، نیچے نہیں اترتی۔
“میں ضد نہیں کر رہی،” اس نے آہستہ کہا، مگر وہ آہستگی کٹی ہوئی تھی۔ “میں کھیلنے آئی ہوں۔”
“اور تم کھیلو گی بھی، اگر ضرورت ہوئی تو۔” خالہ روبینہ نے جملہ اس طرح باندھا جیسے احسان لکھ رہی ہوں۔ “ابھی ماحول خراب نہ کرو۔”
یہی پہلا دراڑ والا لمحہ تھا۔ حمزہ، جو کنارے پر شٹل ٹیوب سیدھی کر رہا تھا، آگے آیا اور فراز کے ہاتھ سے اضافی شٹل لے کر مہوش کے پاس رکھ گیا۔ کچھ نہیں بولا۔ بس شٹل اس کے جوتے کے پاس سیدھی کھڑی چھوڑ دی، جیسے کہہ رہا ہو: تم باہر نہیں ہو۔ دو بچوں نے یہ حرکت دیکھی اور اپنی کرسیاں موڑ کر پہلی بار مہوش کی سمت بیٹھ گئے۔ اتنا ہی کافی تھا کہ ناانصافی صرف ہوا میں نہ رہے، چیزوں میں نظر آنے لگے۔
فراز کورٹ میں اترا تو اس کے ساتھ اعلان، ہنسی، فون کے کیمرے اور خوداعتمادی بھی اترے۔ وہ ہر شاٹ سے پہلے گردن ہلاتا، کف سیدھا کرتا، شٹل کو دو بار اچھالتا، پھر کھیلتا؛ کھیل کم، دکھاوا زیادہ۔ شروع کے چند شاٹس خوبصورت لگے بھی، کیونکہ مخالف لڑکے دبے ہوئے تھے اور مائیک ہر پوائنٹ سے پہلے اس کا نام دہرا رہا تھا۔ مہوش کنارے پر کھڑی اپنی ایڑیوں کا وزن بدلتی رہی۔ کندھوں کی سختی سے معلوم ہو رہا تھا کہ تھکن اب بھی جسم میں اٹکی ہے، مگر آنکھیں خالی نہیں تھیں۔ وہ صرف دیکھ رہی تھی کہ فراز کہاں دیر کرتا ہے، کس شاٹ کے بعد سانس پھولتی ہے، بیک ہینڈ پر کلائی کتنی بند ہو جاتی ہے۔
تیسرے ریلے میں ایک جونیئر نے اچانک اس کے پیچھے گہرا کلیئر پھینکا۔ فراز دو قدم دیر سے مڑا، پھر بھی ہنس کر بچانے گیا، جیسے مسئلہ کچھ نہیں۔ شٹل فریم سے ٹکرائی، اوپر گئی، نیٹ کو چھوا، اور مردہ ہو کر اسی کی سائیڈ گر گئی۔ مائیک پر بیٹھا لڑکا “واہ فرا—” کہتے کہتے رک گیا۔ جملہ بیچ میں ٹوٹا۔ پہلی قطار میں ایک بچہ، جو ابھی تک ساری توجہ فراز کی کلائی پر رکھے تھا، اس نے چونک کر مہوش کی طرف دیکھا۔ مہوش نے بےاختیار آہستہ سے کہا، “پاؤں پہلے کھولو، پھر کندھا موڑو۔”
قریب کھڑے دو لڑکوں نے سن لیا۔ ایک نے فوراً فراز کی طرف دیکھا، جیسے جانچ رہا ہو کہ وہ خود یہ جانتا بھی ہے یا نہیں۔
فراز نے اگلا پوائنٹ جلدی میں شروع کیا، اب ہنسی کم تھی۔ اس نے ایک اور اسمیش کی تیاری کی، مگر جسم پیچھے سے نہیں آیا، صرف بازو گیا۔ شاٹ لائن سے باہر نکلا اور سفید ٹیپ کے پار جا لگا۔ اس بار کسی نے شور نہیں کیا۔ خاموشی شور سے زیادہ سخت ہوتی ہے؛ خاص کر جب کھلے صحن میں بچے بھی ایک دم اچھلنا چھوڑ دیں۔ مہوش نے شٹل ٹیوب سے ایک پنکھ والی گیند نکالی، انگلیوں میں گھمائی، اور حمزہ سے بغیر دیکھے کہا، “یہ ہلکی ہے، اس کو نمبر دو دو۔ ہوا کراس میں ہے۔”
حمزہ نے فوراً دوسری شٹل نکال دی۔ اس ایک حرکت سے آدھے دائرے کی نظریں مائیک سے ہٹ کر مہوش کے ہاتھ پر آ گئیں۔
فراز نے سن لیا۔ “تم باہر کھڑے ہو کر کوچنگ نہ دو۔” آواز اونچی تھی مگر اس میں وہی بھاری پن نہیں رہا تھا جو شروع میں تھا۔ “میں سنبھال رہا ہوں۔”
مہوش نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں سیدھا دیکھا۔ “تو سنبھالو۔ بیک لائن تم سے چھوٹ رہی ہے۔”
یہ جملہ بحث نہیں، تشخیص تھا۔ اس لیے زیادہ لگا۔ فراز نے اگلا سرو جلدی میں کیا، مخالف نے فوراً نیٹ کے پاس نرم ڈراپ چھوڑا۔ فراز لپکا، گھٹنا جھکا، ریکٹ نیچے آیا مگر وقت پر نہیں؛ شٹل اس کے فریم کے کنارے سے اڑ کر سائیڈ نیٹ میں الجھ گئی۔ اس کے بعد وہ سیدھا کھڑا ہوا تو اس کی سانس مائیک کے بغیر بھی سنائی دی۔ پہلے جو لوگ اس کے پاس کھنچے کھڑے تھے، اب دو قدم دور ہو گئے، صرف دیکھنے کے لیے نہیں، بچنے کے لیے۔ مالک کی جگہ پر کھڑے آدمی کے اردگرد جب خالی دائرہ بننے لگے تو اس کا حکم پہلے گر جاتا ہے، جسم بعد میں۔
خالہ روبینہ جلدی سے اعلان والے میز کی طرف بڑھیں۔ “بس، اتنا کافی ہے، اگلا سیگمنٹ—”
“نہیں خالہ۔” فراز نے کہا، مگر پھر خود ہی رکا، کیونکہ جونیئر لڑکے نے نیٹ پار سے اونچی آواز میں پوچھا، “اگر شوکیس ہے تو مکمل چیلنج کریں؟ کراس-کورنر، ڈراپ، اسمیش، تینوں۔”
مجمعے نے یہ سوال سنا، اور سوال نے پورا نقشہ بدل دیا۔ اب صرف فراز کے کھیلنے یا نہ کھیلنے کی بات نہیں تھی۔ اب معلوم ہونا تھا کہ اصل میں کون جانتا ہے۔ منتظمین کی کرسیوں سے لوگ سیدھے ہو کر بیٹھے۔ ایک بزرگ انکل، جو ابھی تک صرف سر ہلا رہے تھے، اپنی لاٹھی کے سرے پر جھک گئے۔ خالہ روبینہ نے مہوش کو دیکھا، پھر فراز کو، پھر واپس مہوش کو۔ دیر سے دی جانے والی اجازت ہمیشہ کمزور لگتی ہے۔
“مہوش، تم ایک راؤنڈ دکھا دو،” انہوں نے کہا، جیسے عنایت کر رہی ہوں۔
مہوش نے فوراً ہاتھ نہیں بڑھایا۔ ریکٹ ابھی تک فراز کے پاس تھا۔ سب سے دکھنے والی چیز وہی تھی۔ اس نے آگے جا کر بغیر ایک لفظ کہے ریکٹ کے ہینڈل پر انگلیاں رکھیں۔ فراز نے پہلے چھوڑا نہیں۔ ایک لمحے کے لیے دونوں کے ہاتھ ایک ہی گرِپ پر تھے، بیچ صحن، سب کے سامنے۔ پھر مہوش نے صرف اپنی گرفت سخت کی اور سیدھا کھینچا۔ ریکٹ اس کے ہاتھ میں آ گیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب پہلی قطار کے تین فون ایک ساتھ اس کی طرف مڑے۔
وہ کورٹ میں اتری تو اس کے جوتے کی رگڑ میٹ پر صاف سنائی دی۔ حمزہ نے شٹل اس کی طرف اچھالی۔ جونیئر لڑکا سامنے تیار کھڑا ہو گیا، مگر اس کی ٹھوڑی اب فراز کی طرف نہیں، مہوش کی طرف تھی۔ فراز کنارے پر کھڑا رہا، جیسے اب بھی کچھ بول کر ترتیب واپس لے آئے گا۔ “بس سادہ رکھنا، بچوں کے سامنے—”
مہوش نے اس کی طرف دیکھے بغیر پہلی سرو ماری۔ ہائی سرو نہیں، جانچنے والی۔ شٹل مخالف کے بیک ہینڈ کارنر میں گری، اتنی گہری کہ لڑکا پیچھے ہٹتے ہٹتے لائن پر پہنچا۔ اس نے کلیئر واپس بھیجا۔ مہوش پہلے ہی مرکز میں لوٹ آئی تھی۔ دوسرا شاٹ اس نے کراس ڈراپ میں توڑا؛ نرم نہیں، کٹا ہوا، نیٹ سے ایک بالشت اوپر۔ لڑکا لپکا، بس پہنچا، شٹل کسی طرح اوپر گئی۔ مہوش پیچھے نہیں ہٹی۔ ایک قدم اندر آئی، کندھا موڑا، کلائی کھولی، اور اسمیش سیدھا خالی کونے میں گڑا دیا۔ سفید پنکھ دیوار سے نہیں، فرش سے ٹکرائی؛ آواز چھوٹی تھی مگر کمرے بھر کی سانس اس کے ساتھ نیچے گری۔
کسی نے واہ نہیں کہا۔ بس اعلان کرنے والے لڑکے کے مائیک سے خشک سی سانس نکلی، اور وہ بھی الفاظ کے بغیر۔
“پھر۔” مہوش نے شٹل اٹھائے بغیر کہا۔
اب یہ شو نہیں، قبضہ تھا۔ دوسری بار اس نے مخالف کو خود زاویہ چننے دیا، پھر اس کا راستہ کاٹ لیا۔ لڑکے نے نیٹ پر چھیڑا، مہوش نے برش شاٹ سے شٹل کو اتنا باریک چٹخایا کہ وہ نیٹ چھو کر مرنے کے بجائے سامنے کھلے حصے میں پھسل گئی۔ بزرگ انکل اپنی جگہ سے آدھے اٹھ گئے۔ فراز نے آگے بڑھ کر کچھ کہنا چاہا، “یہ تو—” مگر اس کا جملہ پورا ہونے سے پہلے جونیئر نے خود کہا، “بھائی، یہی اصل شاٹ ہے۔ دوبارہ وہی کریں۔”
بھائی۔ مگر اب کس کے لیے؟ سوال ہوا میں صاف کھڑا تھا۔
مہوش نے تیسری بار اسے مشکل بنایا۔ اس نے حمزہ سے اشارہ لے کر دو شٹل مانگیں۔ ایک ہاتھ میں ایک۔ مجمعہ اور اندر جھک آیا۔ فراز نے فوراً ہنسنے کی کوشش کی، “سرکس نہ بناؤ۔” مہوش نے ایک شٹل نیچے گرائی، دوسری اوپر اچھالی، پہلی سے پاؤں ہٹاتے ہی اوپر والی پر جمپ اسمیش کھیلا، پھر اترتے اترتے زمین سے اچھلی نیچی شٹل کو بیک ہینڈ لفٹ میں زندہ رکھا۔ یہ کھیل نہیں، قابو تھا؛ جسم، وقت، زاویہ، سانس، سب ایک لکیر میں۔ سامنے والا لڑکا ہکا بکا رہ گیا، شٹل اس کے کندھے کے پاس سے نکل گئی۔ اس بار جو چیز بدلی وہ شور نہیں تھا، راستہ تھا۔ کورٹ کے دائیں کنارے پر کھڑے چار لوگ خودبخود ایک طرف ہٹ گئے تاکہ دیکھ سکیں۔ بائیں طرف بیٹھی خواتین نے گردنیں موڑیں۔ خالہ روبینہ کی انگلیاں دوپٹے کے کونے پر جمی رہ گئیں۔ فراز اب میٹ کے کنارے کے باہر تھا، مگر پہلی بار واقعی باہر نظر آیا۔
اس نے آخری بار بچانے کی کوشش کی۔ “ایک غلطی سے کچھ نہیں ہوتا۔ میں بھی کر کے دکھاتا ہوں۔” وہ اندر قدم رکھنے لگا۔
مہوش نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔ نہ چیخ کر، نہ جھگڑے سے۔ بس ہاتھ۔ پھر اس نے جونیئر کو کہا، “فل فُٹ ورک۔ جہاں چاہو ڈالو۔”
پہلا شاٹ گہرا بیک کورٹ۔ مہوش پیچھے تیر کی طرح گئی، ایڑی نہیں گھسیٹی۔ دوسرا فوراً فرنٹ کورٹ ڈراپ۔ وہ نیٹ تک ایسے آئی جیسے پہلے ہی جانتی ہو۔ تیسرا سیدھا جسم پر۔ اس نے ریکٹ زاویے سے لگا کر شٹل کو سائیڈ لائن پر پھسلا دیا۔ اب ریلے لمبا ہو گیا؛ چار، پانچ، چھ رابطے۔ ہر واپسی پر فراز کی بےچینی کنارے سے نظر آتی رہی؛ کبھی وہ “لیو اٹ” کہتا، کبھی “پش”، جیسے حکم ابھی بھی اس کے پاس ہو۔ مگر جونیئر لڑکے نے ایک بار بھی اس کی طرف نہیں دیکھا۔ وہ صرف مہوش کے پاؤں دیکھ رہا تھا، جہاں ہر قدم پہلے سے رکھا ہوا لگتا تھا۔
پھر فیصلہ کن شاٹ آیا۔ لڑکے نے کراس کلیئر بہت اونچا ڈالا، ہوا کے ساتھ۔ شٹل کورٹ کے اوپر چھوٹی سی سفید مچھلی کی طرح تیرتی رہی۔ مہوش پیچھے ہٹی، رک گئی، ایک دل کی دھڑکن جتنا ساکت کھڑی رہی۔ پورا صحن اسی ایک ساکت پل میں لٹک گیا۔ فراز نے شاید سمجھا وہ لیٹ ہو گئی ہے، اس نے آدھا قدم اندر رکھا۔ اگلے ہی لمحے مہوش نے بدن کھولا، بائیں پاؤں سے زور لیا، اور جمپ اسمیش کو سیدھا نہیں، ترچھا کٹ کیا۔ شٹل لائن کے اندر، فراز کے قدم کے قریب، ایسے گری جیسے وہ اسی جگہ کی مالک ہو۔ فراز پیچھے ہٹا۔ واقعی پیچھے ہٹا۔ اس کی ایڑی کورٹ کے کنارے سے اٹکی، توازن بگڑا، اور وہ ایک گھٹنے پر نیچے آ گیا۔
یہی چوٹ تھی۔ یہی الٹ تھی۔ یہی ٹوٹنا تھا۔
مہوش نے گیند خود اٹھائی، نیٹ کے پاس آ کر کھڑی ہوئی، پھر پلٹ کر بیچ نشان پر اپنا ریکٹ سیدھا رکھا۔ کسی سے اجازت نہیں مانگی۔ کسی کے اعلان کا انتظار نہیں کیا۔ اس ایک سیدھی رکھی ہوئی گرِپ نے بتا دیا کہ اب کورٹ کس کے نام ہے۔ اس کے بعد ہی اعلان کرنے والے لڑکے نے بہت دھیمی آواز میں مائیک کے قریب منہ لایا، مگر لفظ اس سے پہلے ہی غیرضروری ہو چکے تھے۔
مہوش ایک قدم ہٹ کر مانیٹر ویج کے کنارے آ کھڑی ہوئی۔ اس کے سینے کی سانس آہستہ آہستہ سیدھی ہوئی۔ ہاتھ ابھی بھی ریکٹ پر تھا۔ اس نے مائیک کو دو انگلیوں سے نیچے کر کے بند کیا تو مردہ فیڈبیک ایک پتلی سی چیخ میں ٹوٹا، پھر راہداری میں پھیل کر چپ ہو گیا۔