سب نے غلط لڑکی کو روکا
نائلہ بھابھی نے دروازے کے پاس حرا کے ہاتھ سے چاندی رنگ کی ٹرے جھٹکے سے موڑی اور کہا، “ادھر نہیں۔ یہ سامنے والی قطار گھر والوں کے لیے ہے، تم جوس اندر والے راستے سے دو۔” ٹرے میں رکھے کپ ایک دوسرے سے ٹکرائے اور آواز اتنی صاف اٹھی کہ احاطے میں داخل ہوتے دو ماموں اور ایک خالہ نے پلٹ کر دیکھ لیا۔ حرا نے ٹرے کو گرنے سے بچایا، کلائی پر پرانا نیلا قلمی نشان ایک لمحے کو اور نمایاں ہو گیا، پھر وہ سیدھی کھڑی ہو گئی۔ اس کی آستینوں میں دن بھر کی دوڑ دھوپ کی شکنیں جمی تھیں؛ صبح سروس سیکٹر کی اپنی شفٹ کے بعد وہ سیدھی یہاں آئی تھی، اور یہ وہ تقریب تھی جس کے بارے میں گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہونے کے باوجود اسے آج بھی دہلیز پر روکا جا رہا تھا۔
صحن کی روشنیوں کے نیچے فرشی گملوں اور کرائے کی سنہری کرسیاں اس طرح رکھی گئی تھیں کہ آنے جانے والا ہر شخص پہلے اسی کھلے حلقے سے گزرتا۔ مردوں کی طرف سے ہنسی کا ایک چھوٹا سا جھونکا آیا، پھر تھم گیا۔ نائلہ نے اپنی دوپٹہ کی پلّو ٹھیک کرتے ہوئے قریب کھڑی لڑکی کو اشارہ کیا، “شازیہ، دلہن کے پاس لے جاؤ پھول۔ یہ”—اس نے حرا کی طرف دیکھے بغیر کہا—“چائے اور جوس دیکھ لے گی۔ ہاتھ ویسے بھی خالی نہیں رہنے چاہییں اس کے۔”
حرا نے فوراً پیچھے نہیں ہٹی۔ دروازے کی چوکھٹ کے نصف سائے میں ایک مختصر سا ٹھہراؤ پیدا ہوا، اتنا کہ دیکھنے والوں کو فرق محسوس ہو۔ اس نے ٹرے سنبھالی اور پرسکون لہجے میں پوچھا، “جوس کدھر رکھوں؟ وہی میز جہاں عامر نے کہا تھا، یا آپ جہاں مناسب سمجھیں؟” عامر کا نام آتے ہی نائلہ کی گردن ذرا اکڑی۔ پہلا باریک شگاف یہی تھا؛ ابھی کچھ دیر پہلے تک حکم صرف اس کا چل رہا تھا، اب ایک دوسرا نام بیچ میں آ گیا تھا جسے وہ فوراً کاٹ نہ سکی۔
“عامر ابھی مہمانوں میں مصروف ہے،” نائلہ نے جلدی سے کہا، “اور اسے ہر چیز کا علم ہونا ضروری نہیں۔ تم بس اندر چلو۔” پھر اس نے اونچی آواز میں ایک بوڑھی خاتون کو خوش آمدید کہا، گویا گفتگو ختم ہو چکی ہو۔ لیکن وہ بوڑھی خاتون، خالہ صبیحہ، گزرتے ہوئے حرا کے چہرے پر ذرا دیر کو ٹھہریں۔ وہ جانتی تھیں کہ پچھلے آٹھ مہینوں سے عامر اور حرا کے بارے میں گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہے، اگرچہ نام لے کر کبھی کسی نے اعلان نہیں کیا تھا۔ یہی خاموشی نائلہ بھابھی کی سب سے بڑی پناہ تھی۔
حرا اندر کے تنگ راستے میں مڑ گئی جہاں باورچی خانے سے صحن تک برتن اور کھانے آ جا رہے تھے۔ ایک طرف کڑاہی کی بھاپ، دوسری طرف مصنوعی پھولوں کی مہک۔ اس نے دو بار جوس کے کپ، ایک بار چائے کی پیالیوں کی ٹرے، اور پھر سموسوں کی پلیٹیں اٹھائیں۔ ہر دفعہ جب وہ کھلے حصے کی طرف بڑھتی، نائلہ کسی نہ کسی کو خاندان کے قریب والی نشستوں تک اپنے ہاتھ سے لے جاتی—“ادھر آئیے، آپ خاص ہیں”—اور حرا کو مڑ کر سائیڈ والے راستے میں دھکیل دیتی۔ چند نوجوان لڑکیاں، جو پہلے اسے پہچان کر مسکرائی تھیں، اب اسے اسی انداز سے دیکھ رہی تھیں جیسے ہال والے لڑکے یا برتن اٹھانے والی عورت کو دیکھا جاتا ہے: ضروری، مگر مرکز سے باہر۔
تیسری بار چائے لے جاتے ہوئے حرا کے سامنے والی میز پر ایک کپ سے ہلکی سی چائے چھلک گئی اور سفید میز پوش پر بھورے دائرے کا نشان بن گیا، جیسے انتظار میں ٹھنڈی پڑی چائے کا حلقہ۔ نائلہ فوراً آ پہنچی۔ “دیکھا؟ اسی لیے کہتی ہوں سامنے نہ آیا کرو۔” اس نے اپنی آواز اتنی اونچی رکھی کہ قریب بیٹھے دو کزن سن سکیں۔ “اگر کام کرنا ہے تو کام کی جگہ پہ رہو۔ تقریب کسی اور کی ہے، اپنے لیے منظر مت بناؤ۔”
حرا نے کپ سیدھا کیا۔ اس کی ہتھیلی جل رہی تھی، مگر اس نے صرف اتنا کہا، “میں منظر نہیں بنا رہی۔ راستہ آپ بار بار بدل رہی ہیں۔”
“اوہ، تو اب تم مجھے سکھاؤ گی؟” نائلہ کے ہونٹوں پر ایسی مسکراہٹ آئی جو دوسروں کے سامنے نرم لگتی تھی مگر قریب سے نوکیلی۔ “تمہیں کس نے کہا تھا یہاں، اس طرف، کھڑے ہونے کو؟”
یہ سوال صحن کے بیچوں بیچ پھینکا گیا۔ سامنے سے آتے دو بزرگ رک گئے۔ پھولوں والی لڑکی بھی سست پڑ گئی۔ حرا نے پہلی بار ٹرے نیچے میز پر رکھ دی۔ اس نے سیدھا نائلہ کی آنکھوں میں دیکھا اور اسی ہموار آواز میں پوچھا، “اور آپ کو کس نے کہا تھا کہ مجھے روکا جائے؟”
ایک لمحے کو نائلہ کی انگلیاں اپنے دوپٹے کے کنارے میں اٹک گئیں۔ وہ جواب کے لیے اتنی تیار نہیں تھی، اتنے لوگوں کے سامنے تو بالکل نہیں۔ “میں… میں گھر کی بڑی بہو ہوں۔ انتظام دیکھ رہی ہوں۔”
“انتظام یا فیصلہ؟” حرا نے وہییں سے وار کیا۔ “میری جگہ کس نے آپ کو بتائی؟ نام لیجیے۔”
یہ ٹھوکر چھوٹی تھی مگر سیدھی گھٹنے پر لگی۔ نائلہ نے اردگرد دیکھا، جیسے کسی بڑے کی طرف سے فوری تائید مل جائے گی۔ مگر خالہ صبیحہ نے نگاہیں ہٹا لینے کے بجائے وہیں جما دیं۔ مردوں کی طرف سے آتے ہوئے عامر کے دو دوست دروازے پر رک گئے۔ اب سوال صرف حرا کے کھڑے ہونے کا نہیں رہا تھا؛ سوال یہ ہو گیا تھا کہ نائلہ کس اختیار کے سہارے کسی کو نیچا دکھا رہی ہے۔
“تم حد سے بڑھ رہی ہو،” نائلہ نے آواز میں سختی بھرنے کی کوشش کی، مگر آخری لفظ میں ہلکی کپکپاہٹ آ گئی۔ “یہ منگنی ہے، دفتر نہیں کہ ہر چیز کی رسید مانگی جائے۔”
“تو پھر مجھے ملازمہ کی طرح کیوں گھمایا جا رہا ہے؟” حرا نے کہا۔ “اگر میں گھر کی نہیں، تو یہ بات بھی کھل کر کہہ دیں۔ اور اگر ہوں، تو ہاتھ میں ٹرے دے کر دروازے پر روکنے سے بات چھپتی نہیں، بس بدصورتی بڑھتی ہے۔”
کھلے حلقے میں گزرنے والوں کی رفتار بدل گئی۔ کچھ لوگ اب اندر نہیں جا رہے تھے؛ وہ بہانے سے پانی اٹھا رہے تھے، موبائل دیکھ رہے تھے، مگر ان کی نظریں اسی طرف تھیں۔ اسی وقت بیرونی گیٹ کے قریب موٹربائیک کی آواز رکی، پھر عامر صحن میں داخل ہوا۔ اس کے ماتھے پر ہلکا پسینہ تھا، قمیص کی آستین کہنی تک چڑھی ہوئی، جیسے پارکنگ اور انتظام دونوں دیکھ کر آیا ہو۔ وہ عام طور پر سیدھا مردوں والی طرف مڑتا، مگر اس بار اس کی نظر پہلے حرا پر گئی—میز کے پاس کھڑی، خالی ہاتھ نہیں، مگر پیچھے بھی نہیں ہٹی ہوئی۔
نائلہ نے موقع سنبھالنے کے لیے فوراً اس کی طرف قدم بڑھائے۔ “عامر، تم کہاں تھے؟ ادھر بہت کام—”
عامر نے سنا مگر رکا نہیں۔ وہ سیدھا حرا کی طرف آیا۔ یہی وہ چلنا تھا جسے سب نے دیکھا: اونچی نشستوں، بزرگوں، اور نائلہ کے گھیرے کو چھوڑ کر وہ صحن کے کنارے، اس سروس والے راستے کے دہانے کی طرف جا رہا تھا جہاں ابھی تک حرا کو دھکیلا جا رہا تھا۔ نائلہ تیزی سے اس کے ساتھ آ لگی۔ “میں بس ترتیب ٹھیک کر رہی تھی۔ کچھ لوگ اپنی حد—”
“کون سی حد؟” عامر نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا۔ آواز اونچی نہیں تھی، مگر اتنی صاف تھی کہ پاس کھڑی خالہ، سامنے والے کزن، اور دروازے پر رکھی دو عورتوں تک پہنچ گئی۔
نائلہ نے جلدی سے کہا، “میں نے صرف یہ کہا کہ سامنے والی جگہ گھر والوں کے لیے ہے۔ یہ ٹرے اٹھائے ادھر ادھر—”
“یہ؟” عامر نے لفظ کاٹ کر دہرایا۔ پھر اس نے حرا کی طرف رخ کیا، جیسے باقی سب بس پس منظر ہوں۔ “ٹرے مجھے دو۔”
حرا نے ایک لمحہ اس کے چہرے کو پڑھا۔ وہاں نرمی نہیں تھی، کم از کم وہ نرمی نہیں جو کونے میں لے جا کر دی جاتی ہے تاکہ اصل ذلت وہیں کی وہیں رہ جائے۔ وہاں فیصلہ تھا۔ اس نے ٹرے اس کے حوالے نہیں کی؛ بس اپنی گرفت ہلکی کی اور کہا، “پہلے بات پوری ہو جائے۔”
یہ اس کا اپنا قفل تھا۔ اگر وہ اسی لمحے ٹرے چھوڑ دیتی تو منظر عامر کے رحم پر چلا جاتا۔ نائلہ نے فوراً خلا پکڑنا چاہا۔ “دیکھا؟ اسی لیے تو کہہ رہی ہوں۔ میں نے پہلے دن سے کہا تھا، جب تک بڑے لوگ رسمی بات نہ کریں، اتنا آگے لانا مناسب نہیں۔ لوگ کیا کہیں گے؟”
“لوگ ابھی سن لیں،” عامر نے کہا۔
وہ ایک قدم اور آگے بڑھا، اتنا کہ اب وہ اور حرا صحن کے بیچ بنے کھلے دائرے میں تھے۔ پیچھے روشنیوں کی زنجیر، ایک طرف سنہری کرسیاں، دوسری طرف باورچی خانے کا راستہ۔ اس نے اپنے ہاتھ سے ٹرے کے کنارے کو نیچے تھاما، مگر وزن حرا کے ہاتھ سے مکمل نہیں لیا۔ پھر اس نے سب کے سامنے، بغیر گھما پھرا کے کہا، “حرا کو کس صف میں کھڑا ہونا ہے، یہ نائلہ بھابھی طے نہیں کریں گی۔”
نائلہ کا چہرہ ایک دم ساکت ہوا، پھر سرخی اوپر چڑھی۔ “عامر، میں صرف گھر کی عزت—”
“گھر کی عزت اسی میں ہے کہ جو بات گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہے، اسے تمہاری سہولت کے لیے نوکرانی کے کام میں نہ چھپایا جائے۔” عامر نے اب آواز ذرا بلند کی۔ دور کھڑے اس کے والد بھی متوجہ ہوئے۔ “میں صاف کہہ رہا ہوں: حرا میری منگیتر ہے۔ آج کی تقریب کے بعد یہ بات چھپی ہوئی نہیں رہے گی، اور اس کی جگہ دروازے کے سائیڈ والے راستے میں نہیں، ہمارے ساتھ ہے۔”
لفظ “میری منگیتر” صحن میں ایسے گرے جیسے کسی نے لوہے کی چیز ماربل پر رکھ دی ہو۔ ایک سخت، اٹل آواز۔ سامنے بیٹھی دو عورتوں نے ایک دوسرے کو دیکھا، مگر اس بار نگاہ حرا پر اوپر سے نیچے نہیں پھسلی؛ سیدھی ٹھہری۔ خالہ صبیحہ نے اپنی نشست سے اٹھنے کی بجائے وہیں بیٹھے بیٹھے جگہ بنائی، جیسے پہلے سے مخصوص ہو۔ نائلہ نے کچھ کہنا چاہا، مگر جو بھی جملہ اس کے پاس تھا وہ اب شکایت لگتا، اختیار نہیں۔ اس کا “میں نے تو…” آدھا ہی نکلا۔
حرا نے تب پہلی بار ٹرے اس کے اور اپنے درمیان سے نکال کر سائیڈ میز پر رکھی۔ اس کی کلائی میں تھکن تھی، کندھوں میں شفٹ کے اختتام والی بھاری سختی، مگر اس کا سر سیدھا تھا۔ نائلہ نے آخری کوشش کی۔ “عامر، کم از کم بڑوں سے پوچھ تو لیتے۔ یہ انداز—”
“میں بتا رہا ہوں، پوچھ نہیں رہا۔” عامر نے کہا۔ پھر، جیسے نائلہ کی نہیں بلکہ پورے مجمع کی غلط قرأت درست کر رہا ہو، اس نے حرا کی طرف ہلکا سا ہاتھ بڑھایا۔ “حرا، آؤ۔ امی کے پاس بیٹھو۔”
یہ دعوت نہیں، اعلان تھا۔ اور اصل مہر اس وقت لگی جب حرا نے فوراً اس کا ہاتھ نہیں لیا۔ اس نے خود ایک قدم آگے بڑھ کر کھلے حلقے کے درمیان اپنی جگہ لی اور صاف آواز میں کہا، “میں آؤں گی۔ مگر پہلے یہ طے رہے: آئندہ مجھے کسی ٹرے کے پیچھے چھپانے کی کوشش نہیں ہوگی۔ اگر میری جگہ ساتھ ہے تو ساتھ، ورنہ بالکل نہیں۔”
عامر نے ایک لمحہ اسے دیکھا، پھر سر ہلایا۔ “کسی کو اجازت نہیں ہوگی۔”
نائلہ نے اب اردگرد دیکھا تو کوئی فوری پناہ نہ ملی۔ جن بزرگوں کے نام کے سہارے وہ ابھی تک چل رہی تھی، وہ اب اسی غلطی کے گواہ تھے۔ اس کے ہاتھ میں پکڑا موبائل پھسل کر تقریباً گر گیا؛ اس نے جلدی سے سنبھالا۔ آواز میں پہلی بار صفائی آگئی، حکم نہیں۔ “میں نے تو صرف تقریب سنبھالنی تھی… مجھے کیا معلوم تھا تم ایسے—”
“آپ کو اتنا معلوم تھا کہ مجھے کس دروازے سے اندر بھیجنا ہے،” حرا نے کہا۔ “باقی اب واضح ہے۔”
یہی دوسرا پلٹا تھا۔ جواب میں چیخ یا آنسو نہیں، سیدھا حساب۔ نائلہ پیچھے ہٹی تو ایک کزن لڑکی، جو اب تک اس کے اشارے پر دوڑ رہی تھی، بےاختیار راستے سے ہٹ گئی تاکہ حرا گزر سکے۔ صحن کی ترتیب کاغذ پر نہیں بدلی تھی، مگر چلنے والوں کی سمت بدل گئی تھی۔
عامر نے ٹرے اٹھا کر ایک طرف رکھ دی، پھر اپنی ماں کی نشست کی طرف راستہ کھولا۔ مگر حرا وہیں لمحہ بھر کو ٹھہری، جیسے اپنے لیے کھلی ہوئی جگہ کو خود آنکھ سے ناپ رہی ہو۔ یہ وقفہ چھوٹا تھا، مگر اتنا کافی کہ سب دیکھ لیں: اسے اندر لایا نہیں جا رہا، وہ داخل ہو رہی ہے۔
پھر وہ مڑی۔ سروس والے راستے کے موڑ پر ابھی ایک اور ٹرے رکھی تھی، جس میں چائے کے چھ کپ ہلکے ہلکے کانپ رہے تھے کیونکہ ایک چھوٹی لڑکی ڈر کے مارے اسے ٹھیک سے سنبھال نہیں پا رہی تھی۔ حرا نے بغیر کچھ کہے اس کے ہاتھ سے ٹرے لے لی۔ اب صحن کا راستہ بدل چکا تھا؛ دو عورتیں خود بخود ایک طرف ہٹ گئیں، ایک لڑکا جو جلدی میں تھا، قدم روک کر پیچھے ہوا۔ حرا نے موڑ پر پہنچ کر ٹرے کو دونوں ہاتھوں میں برابر کیا۔ کپوں کی رن رن آہستہ ہوئی، پھر تھم گئی۔