آخر میں اندر جانے کی منت بھی انہیں ہی کرنی پڑی
“نام کس کا ڈالوں؟” کاؤنٹر والے لڑکے نے رجسٹر پر انگلی رکھی ہی تھی کہ حارث نے ماہرہ کے ہاتھ سے فائل کھینچ کر شیشے کے نیچے سرکا دی۔ “میرا۔ اور ایک اٹینڈنٹ پاس میری امی کے لیے۔” پھر اس نے ماہرہ کی طرف دیکھے بغیر کہا، “آپ ذرا پیچھے ہو جائیں، بھیڑ نہ کریں۔ کمرہ بھی ہم دیکھ لیں گے۔”
ماہرہ ایک قدم پیچھے نہیں ہٹی، مگر لائن نے اسے پیچھے دھکیل دیا۔ شفقات آپا اسٹریچر پر سانس کھینچتے ہوئے اندر ایمرجنسی کی طرف جا چکی تھیں، اور یہاں، وزٹنگ پاس اور کمرہ الاٹمنٹ کے کاؤنٹر پر، فیصلہ اس شخص کے ہاتھ میں جا رہا تھا جس نے ایک گھنٹہ پہلے تک فون پر کہا تھا، فکر نہ کرو، میں سب سنبھال لوں گا۔ ماہرہ کی ہتھیلی میں آدھی مُڑی ہوئی رسید پسینے سے نرم ہو چکی تھی؛ صبح کی لیب فیس، دوائیں، ایمبولینس۔ اس کے انگوٹھے پر نیلی سیاہی کا پرانا داغ تھا، دفتر کے رجسٹر بھر بھر کے لگا رہنے والا۔ حارث نے وہی ہاتھ ہٹا دیا جیسے وہ رکاوٹ ہو۔
“رشتے میں کون لگتی ہیں آپ؟” لڑکے نے اوپر دیکھ کر پوچھا۔
“میں بھانجی ہوں، ساتھ میں—” ماہرہ نے کہنا چاہا۔
حارث نے بیچ میں کاٹ دیا۔ “گھر کی بات ہے۔ منگنی طے ہے، گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہے۔ ان کا نام ابھی نہ ڈالیں۔ ایک ہی اٹینڈنٹ رکھنا ہے، پالیسی ہے نا؟ بعد میں اگر ضرورت ہوئی تو دیکھ لیں گے۔ پہلے امی جائیں گی اندر۔”
یہ “بعد میں” ایسے بولا گیا جیسے اندر جانے کا دروازہ بھی اس کی جیب میں ہو۔ کاؤنٹر والے نے سر ہلا کر ایک پلاسٹک پاس نکالا، مارکر سے نام لکھا، اور شیشے کے نیچے سے حارث کی طرف دھکیل دیا۔ ماہرہ نے صرف اتنا دیکھا کہ جس راستے کے لیے وہ صبح سے دوڑ رہی تھی، اس کا پہلا نشان کسی اور کے ہاتھ میں چلا گیا۔
اس کے پیچھے کھڑے ایک آدمی نے آہستہ سے اپنی بیوی سے کہا، “جس کے پیسے، اس کی بات بھی نہیں چل رہی۔” آواز دبی ہوئی تھی، مگر کراچی کے اس بڑے نجی ہسپتال کے کاؤنٹر پر دبی ہوئی باتیں بھی چبھتی تھیں۔ فلور پر جراثیم کش دوا کی بو تھی، اوپر سکرین پر ٹوکن نمبر بدل رہے تھے، اور ماہرہ کی کمر میں رات بھر کی دوڑ دھوپ کی اکڑن ایسی تھی جیسے قمیص کی سلوٹیں بھی تن گئی ہوں۔
حارث اب مڑ کر سیدھا اس سے مخاطب ہوا۔ “دیکھو ماہرہ، جذباتی مت بنو۔ کمرہ پرائیویٹ چاہیے تو ڈپازٹ ابھی لگے گا۔ تم نے پہلے ہی خالہ کی دوا اور ٹیسٹوں میں سب اڑا دیا۔ شادی سر پر ہے، ہر چیز میں ہیرو بننے کی ضرورت نہیں۔ باہر بیٹھو، میں اور امی بات کر لیتے ہیں۔”
“خالہ میری بھی ہیں،” ماہرہ نے کہا۔
“ہاں، مگر خرچ اٹھانا اور نام لگوانا الگ بات ہے۔” اس نے آواز اتنی اونچی رکھی کہ پیچھے والے دو لوگ سن لیں۔ “کل کو یہی لوگ کہیں گے لڑکی کو حساب نہیں آتا۔ گھر بسانا ہے، ہسپتال نہیں چلانا۔”
یہ ضرب سیدھی وہیں لگی جہاں وہ چاہتا تھا: رشتہ، خرچ، عزت—سب ایک جملے میں۔ حارث کی ماں، جو اب تک موبائل کان سے لگائے کھڑی تھیں، آگے بڑھیں۔ “بیٹا، ابھی ضد کا وقت نہیں۔ عورتیں ایسے کاؤنٹر پر دھکا نہیں دیتیں۔ جو کام مرد کے نام سے آسان ہو، وہی ہونے دو۔ لوگوں کی نظر ہوتی ہے۔”
لوگوں کی نظر تھی۔ لائن کے سرے پر ایک بوڑھا شخص رجسٹر کے اوپر سے جھانک رہا تھا۔ ایک نرس رکی، پھر آگے نکل گئی۔ ماہرہ نے شیشے کے اس پار اپنا عکس دیکھا؛ لفٹ کے دھندلے آئینے پر رہ جانے والی انگلیوں جیسی لکیر اس کے سامنے تھی، بس اس بار دھبہ شیشے پر نہیں، اس کی حیثیت پر تھا۔ اس نے فائل دوبارہ سیدھی کی۔ “شفقات آپا کے شناختی کاغذ واپس دیں۔”
حارث ہنس کر نہیں، بلکہ اس سے بھی برا، مصروف لہجے میں بولا، “پہلے میں ڈپازٹ کی بات ختم کر لوں۔ تم ہر چیز میں بیچ میں آ جاتی ہو۔” پھر لڑکے سے، “کمرہ جنرل میں رکھو فی الحال، پرائیویٹ ہم ایک گھنٹے میں کروا دیں گے۔ اور نام میرے نمبر پر ڈال دو۔ کال مجھے آئے۔”
ماہرہ کی پلک تک نہ جھپکی۔ “کال میرے نمبر پر آئے گی۔”
“آپ کے نمبر پر کیوں آئے گی؟” لڑکے نے اُکتائے ہوئے لہجے میں پوچھا۔ “جو گارنٹر اور مجاز رابطہ ہوگا، سسٹم اسی پر جائے گا۔ پہلے اندراج ہو چکا تو پھر—”
“پھر بدل بھی سکتا ہے،” ماہرہ نے کہا، اور اپنے بیگ سے وہ کارڈ نکالا جسے اس نے اب تک صرف اس لیے نہیں دکھایا تھا کہ شروعات عزت سے ہو جائے۔ کمپنی کا میڈیکل کارڈ، کنارے سے گھسا ہوا، مگر فعال۔ “کارپوریٹ علاجی منظوری اس کیس پر میری ملازمت کے ذریعے چلتی ہے۔ فعال کوڈ میرے نام سے ہے۔ شفقات آپا بطور منحصر درج ہیں۔ آپ تصدیق کر لیجیے۔”
حارث کا چہرہ ایک لمحے کو خالی ہوا، پھر فوراً بھڑک اٹھا۔ “یہ پھر وہی دفتر والی بات؟ دو ماہ پہلے تو تم کہہ رہی تھیں ابھی تجدید لگی ہے۔”
“لگی تھی۔ آج صبح منظور ہوئی۔” ماہرہ نے فون شیشے کے قریب رکھا۔ اسکرین پر پیغام کھلا ہوا تھا؛ مختصر، بے رحم، واضح۔ منظوری نمبر، مریض کا نام، مجاز رشتہ دار: ماہرہ فاطمہ۔ “چاہیں تو آپ خود کال ملا لیں۔”
کاؤنٹر والے لڑکے نے پہلی بار سیدھا ہو کر کارڈ لیا۔ پاس کھڑی سپروائزر عورت، جو اب تک دوسرے کھڑکی والے معاملے میں الجھی تھی، ادھر آ گئی۔ “کوڈ پڑھیں۔” اس نے مانگ کر سسٹم میں کچھ ڈالا، پھر کمپنی ہیلپ لائن پر مختصر تصدیقی کال کی۔ ماہرہ نے صرف چھوٹے چھوٹے جملے سنے: “جی، مریضہ شفقات بی بی… جی… منحصر… جی، فعال… مجاز جاری کنندہ؟” وقفہ آیا۔ پھر سپروائزر نے ماہرہ کی طرف دیکھا، اس لہجے سے بالکل الگ جس میں اب تک اسے ہٹایا جا رہا تھا۔ “جی، ماہرہ صاحبہ، آپ ایک منٹ۔”
حارث فوراً جھکا۔ “دیکھیں، گھر کا معاملہ ہے، اندراج تو میں کروا رہا تھا—”
“سر، ذرا ایک طرف ہو جائیں۔” سپروائزر نے اس کی بات کاٹ دی۔ “فعال منظوری ان کے نام سے ہے۔ بغیر ان کی ہدایت کے کمرہ ترجیح، اٹینڈنٹ پاس اور رابطہ نمبر بند نہیں ہو سکتا۔”
یہی وہ موڑ تھا جہاں ہوا نے رخ نہیں بدلا، بس کاغذ بدل گیا۔ لڑکے نے رجسٹر گھما کر شیشے کے نیچے سے ماہرہ کی طرف کر دیا۔ وہی رجسٹر، وہی قلم، مگر اب قلم اس کی انگلیوں کے نیلے داغ کے نیچے آ گیا۔ حارث کے ہاتھ میں پکڑا پلاسٹک پاس سپروائزر نے مانگ لیا۔ “یہ عارضی اندراج روکیے۔ دوبارہ جاری ہوگا۔”
پہلی بار حارث کو واقعی پیچھے ہٹنا پڑا۔ لائن نے اس کے لیے جگہ نہیں بنائی؛ اسے خود کنارے ہونا پڑا۔ اس کے جبڑے کی لکیر سخت ہوئی۔ “ماہرہ، ڈرامہ مت کرو۔ امی اندر جائیں گی۔ اور میں بھی۔ خالہ کی حالت خراب ہے، وقت ضائع ہو رہا ہے۔”
ماہرہ نے فارم پر دستخط کیے، پھر رسیدوں کا آدھا مُڑا بنڈل کھولا۔ “وقت آپ نے ضائع کیا تھا جب میرے ہوتے ہوئے میرا نام کٹوایا۔” اس کی آواز اونچی نہیں ہوئی۔ “مریضہ کے لیے نیم نجی کمرہ۔ مجاز اٹینڈنٹ ایک: صفیہ خالہ۔ رابطہ نمبر میرا۔”
حارث کی ماں فوراً بولیں، “میں بہن ہوں، میرا حق پہلے ہے۔”
“آپ جائیں گی،” ماہرہ نے رجسٹر سے نظر اٹھائے بغیر کہا، “اگر ڈاکٹر اوپر ایک ہی اٹینڈنٹ کی اجازت دے تو پہلے آپ۔”
حارث نے فوراً سانس لی جیسے بات اس کے حق میں پلٹی ہو، مگر اگلا جملہ اسی سانس میں پھنس گیا۔
“اور حارث کے لیے پاس ابھی نہیں۔”
کاؤنٹر پر ایک لمحے کو صرف کی بورڈ کی ٹک ٹک سنائی دی۔ سپروائزر نے تصدیق کے لیے دہرایا، “سر کے لیے پاس روک دوں؟”
“جی۔” ماہرہ نے اسی ترتیب سے کاغذ سیدھے کیے جیسے دفتر میں دن کے آخر میں کرتی تھی۔ “جب تک وہ مریضہ کی فائل، ادائیگی کی رسیدیں اور اندراج کے کاغذ واپس میرے سامنے ترتیب سے نہیں رکھتے، اور آئندہ مریضہ کے بارے میں کاؤنٹر پر خود کو مجاز نہیں بتاتے، ان کے نام پاس جاری نہ کریں۔ نوٹ لکھ دیں۔”
یہ درخواست نہیں تھی؛ ہدایت تھی۔ سپروائزر نے سسٹم میں کچھ درج کیا۔ لڑکے نے اسکرین دیکھ کر حارث کی طرف پہلی بار “سر” کے بغیر کہا، “آپ کا اندراج روک دیا گیا ہے۔ بعد میں منظوری کے بعد ہوگا۔ ابھی صرف ایک پاس نکلے گا۔”
حارث کے چہرے پر غصہ کھلا، مگر اس سے زیادہ خطرناک چیز بھی: بےیقینی۔ “تم مجھے باہر رکھو گی؟ میری ہونے والی—”
“یہ لفظ کاؤنٹر پر نہ بولیں،” ماہرہ نے کہا۔ “یہاں مریضہ کا نام چل رہا ہے، آپ کا نہیں۔”
پیچھے کھڑی عورت نے اپنے بچے کا ہاتھ زور سے پکڑ لیا، جیسے اس نے سامنے کوئی گرنے والی چیز دیکھ لی ہو۔ حارث نے شیشے پر ہتھیلی ماری نہیں، بس ٹکا دی، مگر اتنی زور سے کہ پلاسٹک پاسوں کی ڈبی ہل گئی۔ “ماہرہ، ایک منٹ کے لیے عقل سے کام لو۔ میں اندر نہ گیا تو امی اکیلی کیا کریں گی؟”
“جیسے میں کر رہی تھی، جب آپ نے مجھے لائن سے باہر کیا تھا۔”
سپروائزر نے نیا پاس مشین سے نکالا۔ سفید پٹی، نیلا بارکوڈ، اوپر مریضہ کا نام اور نیچے اٹینڈنٹ۔ “کس کے نام؟”
“صفیہ خالہ۔” ماہرہ نے کہا۔ پھر شیشے کے نیچے اپنے شناختی کارڈ کی نقل سرکائی۔ “اور کمرے کے لیے ریلیز نوٹ میرے فون پر بھیج دیں۔”
حارث تیزی سے جھکا۔ “میری بات سنو، امی جذباتی ہو جاتی ہیں۔ میں بس اندر پہنچا دوں، پھر پاس رکھ لو۔”
“آپ نے بھی تو یہی کہا تھا، پہلے اندر جانے دو، بعد میں دیکھ لیں گے۔” ماہرہ نے پاس اٹھایا، ہاتھ کی پشت پر سیاہی کا داغ اور پلاسٹک کی چمک ایک ساتھ دکھائی دیے۔ “بعد میں آ گیا ہے۔”
انہیں لفٹ لابی کے پاس والے گیٹ تک پہنچنے میں چند ہی قدم لگے، مگر ہر قدم میں وہ سارا فاصلہ تھا جو صبح سے اس پر لادا گیا تھا۔ دروازے کے آگے دھاتی بیریر تھا، ایک تنگ سی گیٹ لین، ساتھ سکیورٹی گارڈ کے ہاتھ میں اسکینر۔ شفقات آپا اوپر منتقل ہو چکی تھیں۔ صفیہ خالہ آنچل سنبھالتی ہوئی ماہرہ کے بالکل ساتھ آ کھڑی ہوئیں۔ حارث ان دونوں کے پیچھے، اب پہلی بار خاموش نہیں بلکہ جلدی میں تھا۔
“پاس دکھائیں،” گارڈ نے کہا۔
ماہرہ نے پاس صفیہ خالہ کے ہاتھ میں نہیں دیا۔ پہلے گارڈ کی طرف بڑھایا، بارکوڈ اسکین ہونے دیا، پھر صفیہ خالہ کی طرف موڑ کر ان کی انگلیوں میں ٹکایا۔ “آپ جائیں۔ سیدھا ساتویں منزل، وارڈ ڈیسک پر نام بتا دیجیے گا۔”
حارث فوراً آگے آیا۔ “میں ساتھ ہوں۔ ایک منٹ، بس اندر تک—”
گارڈ نے اس کی طرف ہاتھ اٹھایا۔ “سر، آپ کا پاس؟”
“یہ میرے ساتھ ہیں،” حارث نے صفیہ خالہ کی طرف اشارہ کیا، پھر ماہرہ کی طرف مڑ کر اتنی دھیمی آواز میں بولا کہ التجا چھپ سکے، “پاس دے دو۔ بعد میں لڑ لینا۔”
ماہرہ نے دوسرے ہاتھ میں وہ فعال پاس رکھ لیا جو ابھی اسکین ہو کر واپس آیا تھا۔ اسی ہاتھ میں آدھی مُڑی رسید بھی دب گئی، جیسے حساب ابھی مکمل ہو رہا ہو۔ “نہیں۔ آپ وہیں رکیں جہاں آپ نے مجھے کھڑا کیا تھا۔”
اس نے پاس صفیہ خالہ کی پشت کی طرف ہلکا سا بڑھایا۔ گارڈ نے بیریر کھولنے کا بٹن دبایا۔ صفیہ خالہ گیٹ لین میں قدم رکھ کر آگے بڑھیں، اور ماہرہ نے پاس اپنی طرف واپس کھینچ لیا۔ دھاتی بازو ایک صاف حرکت سے گھوما، راستہ بند ہوا، اور بیریر حارث کے سامنے آ کر ٹھک سے رک گیا۔