جو گڑھا میرے لیے کھودا تھا، خود گر گئے
پہلی گاڑی کے دروازے پر ہاتھ رکھتے ہی صائمہ خالہ نے مہرین کی کلائی جھٹک کر نیچے کر دی۔ “یہ پھول اوپر والی لائن کے لیے ہیں، تم سوٹ کیس پکڑو۔” ان کے دوسرے ہاتھ میں کلپ بورڈ تھا، سفید کاغذ پر نیلی سیاہی کا دستخط چمک رہا تھا۔ ڈراپ آف لین میں گاڑیاں قطار باندھے کھڑی تھیں، ہارن دبے ہوئے غصے کی طرح پھنسے تھے، اور مہرین کے قدموں کے پاس ایک گلابی ربن والا گفٹ باکس جھک کر گرنے ہی والا تھا۔ راشد ڈرائیور نے آہستہ سے کہا، “باجی، نام بولوں تو آپ سامان ادھر رکھو؟” مہرین نے باکس سنبھالا، سوٹ کیس کھینچا، اور دستخط شدہ فہرست پر اپنی ہی تحقیر کو صاف لفظوں میں دیکھا: استقبالی قطار—صائمہ خالہ، فہد، دلہن کی پھوپھی، خاص مہمان۔ نیچے چھوٹے حروف میں: مہرین—سامان، پانی، فوری دوڑ دھوپ۔
ایک ہفتہ وہ اسی شادی پر لگی رہی تھی۔ ہال کی بکنگ سے لے کر مہندی والے کی ایڈوانس تک، سروس سیکٹر کی اپنی نوکری سے چھٹی لے کر، راتوں کو ٹھنڈی ہوتی چائے کے کپ چھوڑ کر، ایک ایک چیز جوڑی تھی۔ گھر والوں اور دوستوں کو پتہ تھا کہ فہد اور مہرین کی بات چل رہی ہے، مگر رسمی اعلان صائمہ خالہ کے ہاتھ میں تھا؛ اسی لیے آج یہ ڈراپ آف لین صرف گاڑیوں کی جگہ نہیں، عزت کی سرحد تھی۔ پھر بھی اس کے ہاتھ میں پھول نہیں، سوٹ کیس تھا۔
“اور سنو۔” صائمہ خالہ نے کلپ بورڈ اس کے سامنے یوں کیا جیسے حکم نامہ دکھا رہی ہوں۔ “مین دروازے کے پاس مت کھڑی ہونا۔ ماموں اسلام آباد سے آ رہے ہیں، ان کے سامنے تم بس کام والی لگو، سمجھیں؟ بعد میں اندر آ جانا۔” قریب کھڑے دو کزن ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر چپ ہو گئے۔ دروازے کے منیجر نے گردن موڑی، کاغذ پر دستخط دیکھے اور سیدھا صائمہ خالہ کی طرف ہو لیا۔ پہلا وار یہی تھا: مہرین کو صرف پیچھے نہیں کیا جا رہا تھا، اسے استقبالی منظر سے مٹا دیا جا رہا تھا۔
مہرین نے کلپ بورڈ کے کنارے پر پرانا نیلا قلمی نشان پہچانا۔ وہی نشان جو اس کے اپنے دفتر کے فولڈر پر برسوں سے پڑا تھا؛ دوپہر کو صائمہ خالہ نے “بس نام ٹھیک کرنے ہیں” کہہ کر اس سے یہ پرنٹ نکلوا لیا تھا۔ اس نے کچھ نہیں کہا۔ بس کاغذ ایک لمحہ زیادہ دیکھا، پھر راشد سے سوٹ کیس لے کر وہیں رکھ دیا جہاں وی آئی پی مہمانوں کی گاڑیوں کے سامنے خالی راستہ بنتا تھا۔ “نام پہلے بولنا، سامان بعد میں اترے گا،” اس نے ہلکی آواز میں کہا۔ راشد نے چونک کر اس کی طرف دیکھا؛ پھر سر ہلا دیا۔ یہ پہلا باریک سا انحراف تھا، اتنا چھوٹا کہ صائمہ خالہ نے اسے محض فرمانبرداری سمجھا۔
فہد سیڑھیوں کے موڑ پر آ کر رکا۔ دروازے کے فریم میں آدھا چھپا، آدھا نظر آتا۔ “مہرین، خالہ کہہ رہی ہیں پانی کی ٹرے بھی تم ہی دیکھ لو۔” اس کی آواز میں وہی پرانی نرمی تھی جو ہمیشہ آخری لمحے ڈھیل چھوڑ دیتی تھی۔ مہرین نے سیدھا اس کی آنکھوں میں نہیں دیکھا۔ “جو کاغذ انہوں نے سائن کیا ہے، اسی کے مطابق ہوگا۔” فہد نے شاید جواب سوچا، مگر اسی وقت ایک سفید پراڈو اندر مڑی اور صائمہ خالہ لپک کر آگے بڑھ گئیں۔
“جلدی کرو!” صائمہ خالہ نے ہاتھ ہلا کر پکارا۔ “اور جب خالہ زاد بھائی آئیں تو ان کے جوتوں کے کور بھی تم دو گی۔ لائن میں نہیں کھڑی ہونا۔ تمہارا نام کسی نے نہیں پوچھنا۔” آخری جملہ جان بوجھ کر اونچا کہا گیا تھا۔ دلہن کی پھوپھی نے لب سکیڑے، جیسے یہ انتظامی بات ہو، ذلت نہیں۔ مہرین کے اندر کچھ ٹھنڈا ہو گیا۔ ایک اضافی حکم، ایک اضافی دھکا—اور وہ بھی سب کے سامنے، تاکہ بعد میں انکار کی گنجائش نہ رہے۔
وہ جھکی، پانی کی کریٹ کھولی، پھر سیدھی ہو کر دروازے کے منیجر کے پاس جا پہنچی۔ “یہ فہرست آپ کے پاس بھی گئی ہے نا؟” اس نے پوچھا۔ منیجر نے فوری احتیاط سے جواب دیا، “جی، جس پر دستخط ہیں، اسی کے مطابق استقبالی ترتیب لگنی ہے۔” “اور گاڑیاں؟” “جو نام پہلے سے نشان زد ہیں، ان کے لیے لین خالی رکھنی ہے۔” مہرین نے انگلی سے نیچے والی سطر چھوئی، جہاں خاص مہمانوں کے نام کے ساتھ چھوٹا سا نوٹ تھا: پہلی وصولی صرف مجاز فرد کرے گا؛ غلط وصولی پر ذمہ داری اسی دستخط کنندہ پر ہوگی۔ اس نے منیجر کو کچھ نہیں سمجھایا۔ بس کہا، “یہ نوٹ مت بھولیے گا۔”
اگلی گاڑی ویسی نہ تھی جیسی صائمہ خالہ نے سوچ رکھی تھی۔ کالے شیشوں والی بڑی گاڑی کے پیچھے ایک سادہ سی سلور کرولا آ کر رکی، اور اس سے پہلے راشد نے دروازہ کھولا۔ “حاجی سلیم صاحب کی گاڑی پیچھے ہے، یہ ان کے بڑے بھائی ہیں، نام یہی ہے؟” اس نے زور سے پوچھا۔ مہرین نے فوراً فہرست دیکھی، نام پکارا، اور آگے بڑھ کر بزرگ آدمی کو سہارا دیا۔ ان کے ساتھ ایک اور خاتون تھیں جنہوں نے اترتے ہی کہا، “بچی، ہم غلط جگہ تو نہیں اتر گئے؟” مہرین نے ہلکا سا جھک کر راستہ دکھایا۔ پیچھے صائمہ خالہ ایک لمحے کے لیے ٹھٹک گئیں؛ وہ سمجھ رہی تھیں پہلی وصولی انہی کے ہاتھ سے ہوگی، مگر فہرست کے نشان زدہ نام کے مطابق مہرین پہلے ہی حرکت کر چکی تھی۔
“ارے نہیں، یہ میرے مہمان—” صائمہ خالہ کی بات ادھوری رہ گئی کیونکہ منیجر نے فوراً کہا، “جی، نشان زد وصولی ہو چکی ہے، آگے لے چلیں۔” بزرگ آدمی نے صائمہ خالہ کو بس سرسری نظر دی، پھر مہرین سے پوچھا، “بیٹا، نماز کا کمرہ کس طرف ہے؟” یہ سوال کافی تھا۔ استقبالی اختیار، جو ابھی تک صرف رشتہ داری کے زور پر تھا، ایک دم کام جاننے والے ہاتھ میں آ گیا۔ صائمہ خالہ کے ہونٹ کھلے رہ گئے، مگر ان کے اپنے دستخط والے کاغذ نے ان کی بات کا وزن کم کر دیا۔
پھر گاڑیاں تیز آنے لگیں۔ دروازے کھلتے، نام پکارے جاتے، راشد گاڑی آگے بڑھاتا، اور ہر نشان زدہ اندراج پر منیجر مہرین ہی کی طرف دیکھتا۔ “چوہدری افتخار صاحب—” “ادھر، سیدھا لان کے راستے۔” “دلہا کے ماموں—” “جی، ویل چیئر یہاں ہے۔” صائمہ خالہ دو بار بیچ میں گھسیں، ایک بار پھولوں کی ٹوکری لے کر، ایک بار فہد کو ساتھ کھینچ کر، مگر دونوں دفعہ گاڑی کے کھلے دروازے، بلند پکارے گئے نام، اور دستخط شدہ فہرست نے راستہ ان کے ہاتھ سے لے لیا۔ جو رشتہ دار انہیں دیکھ کر متاثر ہونا تھے، وہ اسی سے راستہ پوچھ رہے تھے جسے وہ کام والی ثابت کرنا چاہتی تھیں۔
فہد اب پوری طرح سیڑھیوں سے اتر آیا تھا۔ “مہرین، بس اب چھوڑو، خالہ ناراض ہو رہی ہیں۔” اس نے بہت آہستہ کہا۔ مہرین نے ایک معمر خاتون کے لیے شال سنبھالتے ہوئے جواب دیا، “میں کچھ پکڑ نہیں رہی، صرف وہی کر رہی ہوں جو تم لوگوں نے لکھ کر دیا ہے۔” فہد کے پاس کہنے کو کچھ نہ رہا۔ اس کی انگلیاں موبائل پر بے معنی ہلتی رہیں، جیسے کوئی راستہ ڈھونڈ رہی ہوں جو عزت بھی بچا لے اور فیصلہ بھی نہ کرنا پڑے۔
صائمہ خالہ کا صبر اسی وقت ٹوٹا جب لاہور سے آنے والے دلہا کے تایا کی گاڑی رکی۔ یہ وہ چہرہ تھا جس کے سامنے وہ خود کو اس پورے انتظام کی مالک دکھانا چاہتی تھیں۔ انہوں نے تیزی سے مہرین کے ہاتھ سے پانی کی ٹرے چھین کر اس کے سینے سے لگا دی۔ “اب بہت ہو گیا۔ تم پیچھے جاؤ۔ جوتوں کے کور دو، اور اگر ایک قدم بھی استقبالی لائن میں رکھا تو اسی وقت نام کٹواؤں گی۔ فہد، کہو اسے۔ آج کے بعد دروازے پر اس کی کوئی جگہ نہیں۔”
یہ آخری قدم تھا۔ بہت چھوٹا، مگر حد سے باہر۔ مہرین نے ٹرے واپس نہیں لی۔ اس نے آہستگی سے صائمہ خالہ کے ہاتھ سے کلپ بورڈ پکڑا، اس کاغذ کو اس طرح پلٹا کہ منیجر، راشد، فہد، اور گاڑی سے اترتے تایا سب دیکھ سکیں۔ نیچے چھپا ضمیمہ سامنے آیا؛ وہی جو صائمہ خالہ نے جلدی میں ساتھ سائن کر دیا تھا: “آمد و رفت کنٹرول—روٹ سوئچ اور لین ترجیح کا اختیار آپریشن نگران کے پاس ہوگا: مہرین فاروق۔ غلط مداخلت یا مجاز وصولی میں رکاوٹ پر دستخط کنندہ کی استقبالی رسائی فوری منجمد ہوگی۔” صائمہ خالہ کے چہرے سے خون کھنچ گیا۔ انہوں نے کاغذ چھیننے کو ہاتھ بڑھایا، مگر مہرین ایک قدم ہٹ گئی۔
“منیجر صاحب۔” مہرین کی آواز بلند نہیں تھی، مگر سیدھی تھی۔ “دستخط شدہ حکم کے مطابق مجاز وصولی میں رکاوٹ درج ہو گئی۔ صائمہ خالہ کی استقبالی رسائی ابھی منجمد کیجیے۔ ان کا پاس واپس لیجیے۔” ایک لمحہ کسی نے سانس بھی پورا نہیں لیا۔ پھر منیجر نے وہی کیا جس کے لیے سارا شامیہ کھڑا تھا: اس نے صائمہ خالہ کے گلے میں لٹکا سنہری کارڈ دونوں ہاتھوں سے اتار لیا۔ راشد نے فوراً بیرونی لین کی چابی ان کی طرف بڑھانے کے بجائے مہرین کی طرف کر دی۔ سامنے کھڑے تایا نے بھنویں سکیڑ کر پوچھا، “کس کے پاس اختیار ہے؟” منیجر نے سیدھا جواب دیا، “مہرین صاحبہ کے پاس۔”
صائمہ خالہ نے پہلی بار حکم کے بجائے التجا کی آواز نکالی۔ “یہ غلط فہمی ہے، میں دلہن کی خالہ ہوں، یہ لڑکی—” مہرین نے ان کی بات کاٹ کر کوئی وضاحت نہیں دی۔ اس نے بس تایا کے سامنے کھلتے دروازے کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ “جی، آپ کا استقبال ادھر سے ہوگا۔” تایا اندر بڑھ گئے۔ فہد نے ایک قدم ماں کی طرف، ایک قدم مہرین کی طرف لیا، پھر وہیں رک گیا۔ صائمہ خالہ نے اس کا نام لیا مگر اس نام میں اب حکم نہیں تھا، صرف پھسلتی ہوئی گھبراہٹ تھی۔
“تم ایسا نہیں کر سکتیں!” وہ منیجر پر چڑھیں۔ “میرا خاندان، میری تقریب—” “دستخط آپ کے ہیں،” مہرین نے پہلی بار ان کی طرف دیکھ کر کہا، اور راشد کی ہتھیلی سے چھوٹی دھاتی چابی لے لی۔ “اور سوئچ بھی۔”
ڈراپ آف لین کے کنارے نصب ٹائمر پینل پر سرخ ہندسے دوڑ رہے تھے؛ وی آئی پی لین کا مختصر رسائی وقت، جو ہر گاڑی کے بعد ری سیٹ ہوتا تھا۔ صائمہ خالہ نے اسی نظام سے سب کو نچانے کی کوشش کی تھی—کس گاڑی کو کتنی دیر رکنا ہے، کون پہلے دکھے گا، کون پیچھے ہٹے گا۔ مہرین نے پینل کے نیچے لگی چھوٹی سی چابی گھمائی، پھر ٹائمر سوئچ نیچے دبا دیا۔ سرخ ہندسے ایک ایک کر کے گھٹے۔ بیپ کی آواز چھوٹی، پھر اور چھوٹی ہوئی۔ صفر روشن ہوا، اور قطار میں کھڑی گاڑیوں کے بیچ پھیلی سرد ہوا میں آواز کٹ گئی۔