Fast Fiction

اپنا ہی دانہ نگل گیا

سرفراز بھٹی نے لوڈنگ بے کے کنارے دھاری دار کلپ بورڈ مریم کے سینے سے ٹکرا کر روکا اور اونچی آواز میں کہا، “چیک لسٹ یہی پر پڑھے گی، ابھی۔ گاڑی دروازے پر کھڑی ہے، اور اگر ایک خانہ بھی خالی نکلا تو رکا ہوا مال تمہارے نام لگے گا۔” پیچھے لوہے کے شٹر آدھے اٹھے ہوئے تھے، ٹرالیوں کے پہیے چِھلتی سی آواز کر رہے تھے، اور مریم کے گلے میں لٹکا پرانا، مڑا تڑا شناختی فیتہ پسینے سے گردن سے چپکا ہوا تھا۔ اس کے ٹفن کا ڈبہ چیک لسٹ میز کے نیچے ٹھنڈا پڑا تھا؛ صبح کی روٹی ویسی ہی بند۔ آج غلطی صرف غلطی نہیں بنتی تھی۔ خالہ نسرین نے کل رات کھانے پر صاف کہہ دیا تھا کہ “دانش کے گھر والوں کو پتہ ہے تم دونوں کا، اب ذرا بھی بدنامی ہوئی تو بات وہیں رک جائے گی۔”

مریم نے کلپ بورڈ پکڑا، نظریں کاغذ پر جمائیں۔ تین پیلیٹ، دو مہریں، دروازہ نمبر چار، درجہ حرارت کا خانہ، وزن کی تصدیق۔ سب معمول کے لفظ تھے، مگر ترتیب معمول کی نہیں تھی۔ آخری رکاوٹ والا خانہ اوپر کھینچ کر بیچ میں لا دیا گیا تھا، اور نیچے باریک قلم سے “فوری اجرا” کے سامنے وہ ابتدائی نشان لگا تھا جو صرف ڈسپیچ سپروائزر ڈالتا تھا۔ یہ وہ نشان تھا جس کے بعد رہائی کا اختیار اوپر والے نام پر بندھ جاتا تھا۔ سرفراز نے جان بوجھ کر اس ترتیب کو یوں پھیرا تھا کہ اگر وہ عادت کے مطابق نیچے سے اوپر پڑھے تو قصور اس کے ہاتھ میں آئے۔

“زور سے پڑھو،” سرفراز نے کہا، اتنا زور سے کہ گیٹ کلرک اشفاق بھی کھڑکی سے گردن نکال کر دیکھنے لگا۔ ایک ڈرائیور نے سگریٹ جوتے تلے کچلا، دوسرا اپنی رسیدی فائل بغل میں دبا کر رک گیا۔ بے کے اندر مسلسل بَجتی ٹیوب لائٹ کی بھنبھناہٹ میں سرفراز کی آواز اور سخت سنائی دے رہی تھی۔ “سب کے سامنے۔ بعد میں یہ مت کہنا کہ تمہیں بتایا نہیں گیا۔”

مریم نے پہلا خانہ پڑھا، پھر دوسرا۔ تیسرے پر آ کر اس نے انگلی روکی نہیں، صرف اتنا کیا کہ کلپ بورڈ کو ذرا سا جھکا کر دیکھ لیا۔ نیلے کاربن کی ہلکی چھاپ نیچے والے صفحے تک گئی ہوئی تھی۔ اوپر والے “فوری اجرا” کے خانے میں ابتدائی نشان تو سرفراز کا تھا، مگر اس کے نیچے موجود “روکِ رہائی در صورتِ عدم مطابقت” والی سطر اب اسی ترتیب سے جڑی ہوئی تھی۔ اس نے آواز برابر رکھی۔ “اگر کسی خانے میں فرق نکلے تو روک اسی نام پر لگے گی جس کے ابتدائی نشان فوری اجرا کے سامنے ہوں۔”

دو سیکنڈ کو سرفراز کی پلک ہلی، پھر وہ ہنسا، “اچھا، تو اب تم مجھے طریقہ سکھاؤ گی؟ پڑھتی جاؤ۔ وقت نہیں ہے۔” اس نے ہاتھ اٹھا کر دروازہ نمبر چار کی طرف اشارہ کیا، جہاں اسٹیل کے ڈبوں سے لدا ٹرک الٹا لگا تھا۔ “وہ پارٹی اگر واپس ہوئی نا، تو تمہاری تنخواہ سے کٹوتی الگ، اور میں خود تمہاری رپورٹ اوپر بھیجوں گا۔ یہ سروس سیکٹر ہے، مدرسہ نہیں۔”

دانش اسی وقت اندرونی راہ داری سے تیز قدموں آیا۔ آستینیں کہنی تک چڑھی ہوئی تھیں، چہرے پر وہی تھکن تھی جو شام کی شفٹ کے بعد کندھوں میں جم جاتی ہے۔ وہ اکاؤنٹس سے متعلق کاغذ لے کر آیا تھا مگر سرفراز نے اسے دیکھتے ہی آواز بلند کر دی، “اچھا ہوا تم آ گئے۔ اپنے گھر میں بھی سمجھا دو۔ یہاں مہربانی سے نوکری نہیں چلتی۔ جس لڑکی کے بارے میں گھر والوں اور دوستوں کو پتہ ہو، اسے اور بھی سنبھل کر چلنا چاہیے۔ ایک داغ لگا تو لوگ دفتر کی بات گھر تک لے جاتے دیر نہیں کرتے۔”

یہ وار سیدھا مریم کے منہ پر نہیں، اس کی کھڑی ہوئی عزت پر تھا۔ اشفاق نے کھڑکی کے باہر سے نظریں ہٹا لیں جیسے وہ دیکھ کر بھی نہ دیکھ رہا ہو۔ دانش کا جبڑا سخت ہوا مگر وہ کچھ بولا نہیں؛ اس خاموشی میں ہی گواہی تھی کہ سب سمجھ گئے ہیں بات کام سے زیادہ کہاں ماری جا رہی ہے۔ سرفراز نے موقع بھانپا اور کلپ بورڈ کی طرف انگلی ٹھونکی۔ “آخری تصدیق ابھی۔ تمہاری آواز میں۔ پھر دستخط۔ اگر انکار کیا تو میں لکھ دوں گا کہ عملے نے رہائی روکی۔”

مریم نے دستخط والی لائن نہیں چھوئی۔ “آپ کہہ رہے ہیں سب کے سامنے ترتیب پڑھی جائے؟” اس نے پوچھا۔

“ہاں، یہی کہہ رہا ہوں۔” سرفراز بے کے دہانے تک آگیا۔ “اور اشفاق! تم بھی سنو۔ بعد میں کوئی چوں چرا نہ ہو۔” اس نے کلپ بورڈ اس کے ہاتھ سے تقریباً کھینچ کر چیک لسٹ میز پر پھیلا دیا، وہی چھوٹی سی دھاتی میز جہاں ربر کی مہر، ٹوٹا ہوا پین، اور مریم کا ٹھنڈا ٹفن رکھا تھا۔ “اوپر سے نیچے۔ ایک ایک خانہ۔ ابھی۔”

یہی وہ دھکا تھا جو اسے چاہیے تھا۔

مریم نے کاغذ دونوں کناروں سے سیدھا کیا اور بلند آواز میں اوپر سے نیچے پڑھنا شروع کیا، ویسے ہی جیسے وہ خود چاہتا تھا۔ “فوری اجرا—ابتدائی نشان: سرفراز بھٹی۔ عدم مطابقت کی صورت میں رہائی روکنے کی ذمہ داری اور جواب دہی: وہی دستخط کنندہ جس نے فوری اجرا دیا ہو۔” اس نے اگلا خانہ پڑھا، “درجہ حرارت کی مہر باقی۔” پھر اگلا، “وزن کی ثانوی تصدیق نہیں لگی۔” نیلے کاربن کی کاپی پر وہی باریک قلم کی ترمیم صاف دکھ رہی تھی جس سے ترتیب بدلی گئی تھی۔ اشفاق کھڑکی چھوڑ کر میز کے قریب آگیا۔ ایک ڈرائیور نے فائل بغل سے نکال کر کاغذ کی طرف جھکائی، جیسے اپنی باری کا حساب اسی ورق میں ڈھونڈ رہا ہو۔

سرفراز نے فوراً ہاتھ بڑھایا، “یہ مجھے دو۔ پڑھائی ختم۔ باقی میں دیکھ لوں گا۔”

مریم نے کاغذ نہیں چھوڑا۔ “دو خانے نامکمل ہیں۔ آپ کے ابتدائی نشان فوری اجرا کے سامنے ہیں۔” اس کی آواز میں کوئی اونچا پن نہیں تھا، صرف اتنی صفائی تھی کہ سننے والا پیچھے نہ ہٹ سکے۔ اس نے میز پر پڑے لینڈ لائن کا ریسیور اٹھایا، اندرونی نمبر ملایا اور کہا، “رہائی بند۔ بے نمبر چار۔ چیک لسٹ میں عدم مطابقت ہے، اور فوری اجرا سپروائزر کے نشان سے جاری ہوا ہے۔ نام درج کریں: سرفراز بھٹی۔” پھر ریسیور اشفاق کی طرف کر دیا۔ “آپ وقت لکھ دیں۔”

سرفراز کے چہرے سے رنگ یوں نہیں اترا کہ ڈراما بنے؛ بس اس کی ناک کے پاس کی جلد کھنچی اور آواز کی پٹڑی ٹوٹ گئی۔ “فون رکھو، مریم۔ حد میں رہو۔ میں کہہ رہا ہوں گاڑی نکالو۔” اس نے دروازے کی طرف مڑ کر چلانے کی کوشش کی، “ٹرالی آگے کرو، دیر ہو رہی ہے!” مگر ٹرالی والا لڑکا وہیں رک گیا۔ ضابطے کے بعد کوئی پہیہ اپنی مرضی سے نہیں گھومتا۔ شٹر آدھا اٹھا رہ گیا، ڈرائیور نے انجن بند کر دیا، اور بے کی مشینی بھنبھناہٹ کے بیچ ایک رکی ہوئی محنت کی بو پھیل گئی۔

اشفاق نے وقت لکھ دیا۔ “دو بج کر سترہ منٹ، رہائی معطل، نام درج،” اس نے خشک لہجے میں کہا۔ وہ مریم کی طرف نہیں، رجسٹر کی طرف دیکھ رہا تھا، جیسے اپنے آپ کو بچا رہا ہو۔ دانش ایک قدم پیچھے ہوا مگر گیا نہیں؛ وہ اب کاغذ نہیں، سرفراز کے ہاتھ دیکھ رہا تھا۔ سرفراز نے اپنی جیب سے فون نکالا، کسی کو ملایا، پھر کاٹ دیا۔ اوپر شکایت کرنے کے لیے جو بھی لفظ چاہیے تھے، اس سے پہلے یہی رکاوٹ اس کے نام سے بند چکی تھی۔ اس نے کلپ بورڈ کے اوپر اپنا ہاتھ رکھ کر چھپانے کی کوشش کی، مگر کاربن کی نیلی دبیز لکیر نیچے کے صفحے تک جا چکی تھی۔

“میں سپروائزر ہوں،” اس نے دانت بھینچ کر کہا، “میں زبانی حکم دے رہا ہوں۔ مال نکالو۔ بعد میں کاغذ پورا ہو جائے گا۔”

مریم نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں سیدھا دیکھا۔ “زبانی حکم اس کاغذ کے بعد نہیں چلتا۔” اس نے ریسیور واپس کریڈل پر رکھا، پھر چیک لسٹ میز کو دونوں ہاتھوں سے اپنی طرف کھینچ لیا، اتنا کہ دھاتی پائے فرش پر رگڑ کھا کر تیز آواز کریں اور سرفراز کا ہاتھ خودبخود اوپر اٹھ جائے۔ ڈرائیور اب پوری طرح دیکھ رہے تھے۔ ایک کی ڈیوٹی کا وقت گزر رہا تھا، دوسرے کی ڈیلیوری لیٹ ہو رہی تھی؛ ان کی دلچسپی تماشے میں نہیں، اس بات میں تھی کہ رکاوٹ کس کے نام پر بندھی ہے۔

سرفراز نے آخری زور لگایا۔ “میں کہہ رہا ہوں، ابھی کے ابھی دروازہ کھلواؤ!” وہ آگے بڑھا اور کلپ بورڈ اپنی سمت کھینچنے کو ہاتھ بڑھایا۔

مریم نے اس سے پہلے کاغذ اٹھایا، ایک ہموار حرکت سے اسے پلٹ کر چیک لسٹ میز پر اس کی طرف رکھا، اور نشان لگے خانے اس طرح موڑ دیے کہ اوپر والی روشنی سیدھی انہی پر پڑے۔ پھر اس نے اپنی انگلی “فوری اجرا” کے سامنے سرفراز کے ابتدائی نشان پر رکھی، نیچے “عدم مطابقت” والے خانے تک سیدھی لکیر میں لے گئی، اور آخر میں کاغذ اس کے ہاتھ کے نیچے دھکیل دیا۔ “اب رہائی آپ کے تسلسل پر بند ہے، بھٹی صاحب۔ آپ کے دستخط کے بغیر نہیں کھلے گی، اور آپ کے دستخط کے ساتھ آپ کے نام سے کھلے گی۔”

اس کے بعد اس نے کچھ نہیں کہا۔ دھاتی میز پر مڑا تڑا کلپ بورڈ سرفراز کے رکے ہوئے ہاتھ کے نیچے پڑا تھا؛ چیک مارک اب گواہوں کی طرف مڑے ہوئے تھے، اور نیلی کاربن کی نقل میں اس کے اپنے ابتدائی نشان سے جڑی رکاوٹ صاف پڑھی جا سکتی تھی۔